السبت، 23 جمادى الأولى 1441| 2020/01/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

امریکہ اور کافر حربی ریاستوں سے قریبی تعلقات، پاکستان کے لیے ہمیشہ نقصان کا باعث بنے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم

تحریر: شہزاد شیخ
(ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان)
تاریخ: 17اکتوبر2013

خبر: 14اکتوبر 2013 بروز پیر امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے پاکستان و افغانستان جیمز ڈوبنز نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے ایک پریس ریزیں جاری کی گئی جس کے مطابق:"ڈوبنز نے پاک امریکہ تعلقات، خطے کے سلامتی امور اور افغانستان کے معاملات پر وزیر داخلہ چوہدری نثار ، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز اور چیف آف آرمی سٹاف اشفاق پرویز کیانی سے بات چیت کی"۔
تبصرہ: امریکی نمائندہ خصوصی جمیز ڈوبنز نے یہ دورہ اس وقت کیا ہے جب وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی 23 اکتوبر 2013 کو واشنگٹن میں امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات ہونے والی ہے۔ پاکستان میں بر سراقتدار آنے والا ہر حکمران اپنا سب سے پہلا غیر ملکی دورہ واشنگٹن یا لندن کا کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ پاکستان کے عوام کو یہ دِکھا سکے کہ وقت کی سپر پاور اور اس کےاتحادی ، اس کی حمائت کررہے ہیں اور اس کا قتدار مضبوط و مستحکم ہے۔ لیکن جہاں ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے بظاہر دوستانہ تعلقات استوار رکھنا کسی بھی پاکستانی حکمران کے کام نہیں آیا، کیونکہ جب بھی امریکہ نے یہ دیکھا کہ یہ حکمران مزید اس کے مفادات کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں رہا تو امریکہ نے ہمیشہ ان کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا، تو دوسری جانب امریکہ اور مغربی کافر حربی ریاستوں سے تعلقات کا پاکستان کو بھی فائدے سے زیادہ ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب جب پاکستان نے امریکہ و مغربی کافر حربی ریاستوں کی بات مانی یا ان پر بھروسہ کیا تو پاکستان کو ہمیشہ نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ 1948 میں جب افواج پاکستان اور مسلم مجاہدین، کشمیر کے محاظ پر بھارتی فوج کو شکست دیتے ہوئے سرینگر کی جانب پیشقدمی کررہے تھے تو بھارت بھاگا بھاگا اقوام متحدہ گیا اور پاکستان نے امریکہ اور کافر مغربی حربی ریاستوں کے دباؤ اور یقین دہانیوں پر یقین کرتے ہوئے جنگ بندی قبول کر لی ۔ لیکن اس کے بعد سے اب تک 65 سال گزر چکے ہیں اور پاکستان اور کشمیر کے مسلمان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا انتظار ہی کررہے ہیں۔ اسی طرح جب 1962 میں چین اور بھارت کی جنگ شروع ہوئی تو پاکستان کے پاس کشمیر کو آزاد کروانے کا ایک سنہری موقع تھا لیکن امریکہ اور کافر مغربی حربی ریاستوں نے مداخلت کی اورانکےمشورے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور کشمیر کی آزادی کا موقع گنوا دیا۔ پھر 1971 میں جب بھارت نے اس وقت کے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو باوجود اس کے کہ امریکہ کا دشمن سوویت یونین بھارت کی کھلم کھلا اور بھر پور مدد کررہا تھا اور امریکہ کا پاکستان کےساتھ دفاعی معاہدہ بھی تھا ، امریکہ پاکستان کی مدد کو نہیں آیا ۔ پاکستان آٹھویں امریکی بحری بیڑے کے آنے کا انتظار ہی کرتا رہ گیا اور مسلم تاریخ کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کیا جس میں تقریباً ایک لاکھ مسلم فوج کو بھارت نے جنگی قیدی بنالیا اور اب پچھلے بارہ سالوں سے خطے میں امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے پاکستان اس کی فرنٹ لائن سٹیٹ اور نان نیٹو اتحادی بن کر پچاس ہزار سے زائد شہریوں اور فوجیوں کا خون اور معیشت کو ستر ارب ڈالر کا نقصان اس جنگ کی بھینٹ چڑھا چکا ہے۔
لہٰذا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمیں امریکہ اور کافر مغربی حربی ریاستوں سے تعلقات کو ختم کرنا ہو گا تب ہی ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ اپنے معاملات میں آزادانہ فیصلے کرسکیں چاہے ان کا تعلق معیشت سے ہو یا خارجہ پالیسی سے ۔ لیکن ایسا صرف پاکستان میں خلافت کے قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کبھی بھی ایسے جرات مندانہ اقدام اٹھانے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ یہ خلافت ہی ہو گی جو تمام امریکی فوجیوں، نجی سیکورٹی اہلکاروں اور سفارت کاروں کو ملک بدر کردے گی۔ خلافت تمام امریکی اڈے بنداور نیٹو سپلائی لائن کو کاٹ دے گی اور خلافت کے افواج مخلص مجاہدین کے ساتھ اس خطے سے امریکہ اور کافر مغربی حربی ریاستوں کو مار بھگائے گی اور ان کی نجاست سے اس سرزمین کو پاک کردے گی۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک