الأحد، 14 ذو القعدة 1441| 2020/07/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

خبر اور تبصرہ

بزدل راحیل-نواز حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو ریاست کے مظالم کے خلاف صرف زبانی جمع خرچ کررہی ہے 

 

خبر: جمعہ 8 جولائی 2016 کو مجاہد برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں اب تک  درجنوں کشمیری مسلمان شہید اور  کئی رہنماوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا ہے۔ 14 جولائی 2016 کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے  راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو کشمیری عوام کی خواہشات اور آزادی کی جدوجہد کو تسلیم  اور کشمیر میں دائمی امن کے لئےاس پرانے مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ اسی طرح   15 جولائی 2016 کو وزیر اعظم نواز شریف نے لاہور میں کابینہ کے اجلاس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا اور یہ مشورہ دیا کہ پاکستان میں "یوم سیاہ" منایا جائے۔

 

تبصرہ:  بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں برہان وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر کے مسلمان بھارت کی وحشیانہ جارحیت کے خلاف زبردست مظاہرے کررہے ہیں اور اس مزاحمت کی شدت اتنی شدید ہے کہ مسلسل نو روز سے مظاہرے جاری ہیں جس کی وجہ سے بھارتی حکام کو کرفیو لگانا پڑا۔ ان مظاہروں کی شدت اس قدر زبردست  اور طاقتور ہے کہ پاکستان میں موجود وہ لوگ جو بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اگر مسئلہ کشمیر  مکمل بھلا دینا ممکن نہیں تو کم از کم  اس کو التواء میں ڈال دینے کا مشورہ  دیتے ہیں، انہوں نے بھی مسئلہ کشمیر کی سنگینی کو تسلیم کیا۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی امید کرنا چھوڑ دی ہے جبکہ پاکستان کے حکمرانوں نے ان کے ساتھ کھلی غداری کی ہے۔ ہر مظاہرے میں کشمیری مسلمان پاکستان کے جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنا مستقبل  پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے کہ کشمیر اور پاکستان کے مسلمان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ان کی منزل بھی ایک ہی ہے۔

 

لیکن جو بات انتہائی تکلیف دہ ہے وہ راحیل-نواز حکومت کا انتہائی کمزور موقف ہے جبکہ اس حکومت کے پاس مسلم دنیا کی سب سے طاقتور فوج موجود ہے۔ نہ صرف یہ کہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کے لئے افواج کو حرکت میں نہیں لایا گیا بلکہ اس حکومت نے صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی کوشش کی  اور پاکستان کے مسلمانوں کے گرم جذبات پر ٹھنڈا پانی ڈال کر منجمد کرنے کی کوشش کی۔ راحیل-نواز حکومت اس بزدل کی طرح ہے جو اپنا سینہ پیٹتا اور خوب چیختا ہے اور اپنی طاقت کی دھاک بیٹھانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس میں یہ ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ کام کو کرسکے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر صاحب عقل انسان یہ جانتا ہے کہ محض مذمت، بین الاقوامی برادری سے اپیلیں کہ وہ بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال کر مظالم بند کرائیں، یا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا نہ تو کشمیر کے مسلمانوں کی زندگی میں کوئی سکون لاسکتا ہے نہ ہی انہیں بھارتی قبضے سے نجات دلا کر پاکستان کا حصہ بنواسکتا ہے۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود راحیل-نواز حکومت نے صرف زبان ہلانے اور وہی پرانے ناکام  اعمال دہرانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں بھارتی قبضہ اور کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم  جاری رہتے ہیں۔

 

کشمیر کے مسلمانوں کو بین الاقوامی برادی سے اپنی جدوجہد کو تسلیم کرنے کا سرٹیفیکٹ یا راحیل-نواز حکومت کے "یوم سیاہ" نہیں چاہیے۔ انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ افواج پاکستان کو حرکت میں لایا جائے اور وہ ہندو فوج کو ایسا سبق سیکھائیں کہ وہ نہ صرف کشمیر سے نکل جائیں بلکہ آئیندہ کہیں بھی  مسلمانوں پر قبضہ اور ان پر مظالم ڈھانے  کا خواب میں بھی  سوچنے کی ہمت نہ کریں۔

 

لیکن بزدل راحیل-نواز حکومت یہ قدم کبھی نہیں اٹھائے گی کیونکہ ایسا کرنا اس کے آقا امریکہ کے مفاد میں نہیں جو بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ حکومت مضبوط اور کشمیر و پاکستان کے مسلمانوں سے مخلص ہوتی، جس کا یہ دعویٰ کرتی ہے ، تو جہاد کا اعلان کرچکی ہوتی۔  مسلمانوں کی حفاظت صرف ایک مخلص اور مضبوط قیادت کے تحت ہی ممکن ہے ، جو خلیفہ راشد ہوتا ہے کیونکہ وہ قرآن و سنت کے مطابق حکومت کرے گا، مسلم علاقوں  اور افواج کو یکجا کرے گا اور انہیں سرینگر کی جانب مارچ کرنے کا حکم دے گا تا کہ ہمیشہ کے لئے ہندو قبضے کو ختم اور کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کرائے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ جنہوں نے ہم سے لڑائی کی اور ہمیں ہمارے گھروں سے نکالا ان سے لڑو ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں،

 

إِنَّمَايَنْهَاكُمُٱللَّهُعَنِٱلَّذِينَقَاتَلُوكُمْفِىٱلدِّينِوَأَخْرَجُوكُممِّندِيَارِكُمْوَظَاهَرُواْعَلَىٰإِخْرَاجِكُمْأَنتَوَلَّوْهُمْوَمَنيَتَوَلَّهُمْفَأُوْلَـٰئِكَهُمُٱلظَّالِمُونَ

"اللہ تمہیں ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تمہارے دین کی وجہ سے تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو ان لوگوں سے دوستی کریں وہی ظالم ہیں"(الممتحنہ:09)

 

حزب التحریرکے مرکزی میڈیا آفس کے لیے لکھا گیا

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکے ڈپٹی ترجمان

Last modified onپیر, 12 ستمبر 2016 04:41

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک