السبت، 20 صَفر 1441| 2019/10/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 14 جون 2019

 

-پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت امریکا کے حکم پر جارح بھارت سے امن کی بھیک مانگ رہی ہے

-خلافت فوجی بجٹ میں اضافہ کرے گی 

-استعماری طاقتوں اوران کے اداروں سے حاصل کردہ قرضوں کو ادا کرنا پاکستان کے مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں

تفصیلات:

 

پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت امریکا کے حکم پر جارح بھارت سے امن کی بھیک مانگ رہی ہے

 

7 جون  2019 کو پاکستان نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور دہشت گردی سمیت متنازع  امور پر ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تا کہ خطے میں امن کو بحال اور دونوں ممالک کے عوام کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ یہ دعوت وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں دی ہے جس میں حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد دوسری بار وزیر اعظم بننے پر مودی کومبارکباد  پیش کی گئی۔

 

بھارت کے حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے فوری طور پر 23 مئی 2019 کو اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے مودی کو مبارکباد پیش کی تھی ۔ اس کے بعد 26 مئی 2019 کو عمران خان نے ٹیلی فون کر کے مودی کو مبارک پیش کی  اور اب خطے لکھ کر مودی کو  20 دنوں میں تیسری بار مبارک باد پیش کی ہے۔  پاکستانی قیادت کا مسلمانوں کی کھلی دشمن بھارتی قیادت کو جھک جھک کر بار بار مبارک باد پیش کرنا دراصل اس امریکی پالیسی کے مطابق ہے جس کے تحت پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو  اس کی خواہش کے عین مطابق "نارملائز" کرنا ہے۔   اس بات کا ثبوت وائٹ ہاوس کا وہ بیان ہے جو ان کے ترجمان نے اس ہفتے بھارتی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا جس میں امریکا نے پاکستان سے کہا کہ وہ خطے میں عسکریت پسندی کے خاتمے کی کوشش کے ذریعے   بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لیے مسلسل اور ناقال واپسی اقدامات اٹھائے۔

( https://www.dawn.com/news/1487238/us-urges-pakistan-to-improve-ties-with-india)

   

پاکستان میں سیاسی قیادت میں تبدیلی کے باوجود بھارت سے تعلقات کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  بلکہ اس تبدیلی سرکار نے تو بھارت کے مطالبے پر اس سے بات چیت کرنے کے لیے دہشت گردی کے موضوع کو بھی متنازعہ امور میں شامل کرلیا ہے جبکہ یہ حقیقت سب پر آشکار ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک مزاحمت کو "دہشتگردی"کہتا ہے اور اس طرح پاکستان کی موجودہ سیاسی وفوجی قیادت نے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں سے بے وفائی بلکہ غداری کی ہے  ۔ جارح دشمن کے سامنے جھکتے چلے جانے کی یہ پالیسی پاکستان کو مزید کمزور کردے گی کیونکہ دشمن پر یہ ثابت ہورہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت  کے لیےاسلام،مسلمانوں اور پاکستان کا مفاد کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ امریکا کا حکم اور خوشنودی اہمیت رکھتی ہے، لہٰذا اس کی جارحانہ پالیسی میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا۔      یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جمہوریت و فوجی آمریت دونوں ہی امریکی احکامات کے تابع ہیں  کیونکہ حکمرانی کی بنیاد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی نہیں  ہوتی ۔ صرف نبوت کے طریقے پر خلافت ہی بھارت کے ساتھ وہ رویہ اپنائے گی جو ایک جارح دشمن کے خلاف اپنایا جانا چاہیے اور جس کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ حکم دیتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ 

"جو تمہارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے تو تم بھی اس پر حملہ کرو جیسا کہ انہوں نے تم پر حملہ کیا"(البقرۃ:194)۔

 

خلافت فوجی بجٹ میں اضافہ کرے گی

 

 11جون 2019کی خبر کے مطابق  مالی سال 2019-2020  میں پاکستان کے دفاعی بجٹ کوروپے کی قدر میں کمی کے باوجود منجمد رکھا  گیا ہے۔  یہ اعلان ایسے موقع پر ہوا ہے جب حال ہی میں پاکستان اور بھارت جنگی تناؤ کی صورتحال سے گزر ے ہیں۔ اس کے علاوہ  بھارت ہر سال اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور وہ پاکستان پر حملہ کرنے کے  بہانے ڈھونڈ تا رہتا ہے۔

 

پاکستان کی دفاعی بجٹ میں کمی کی پالیسی، امریکا کی ہمارے خطے کے لیےموجودہ  پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس کے تحت وہ بھارت کو ایک علاقائی طاقت بنا نا  اور  پاکستان کا کردار نیپال، بھوٹان یا  سری لنکا جیسی ماتحت ریاست کے برابر کرنا چاہتا ہے۔مگرآج تک بھارت اپنی فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان کے مقابلے میں واضح اورفیصلہ کُن برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور 27 فروری 2019 کو ہونے والے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی طیاروں کی جھڑپ  نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے۔ چنانچہ اب آئی ایم ایف  اور پاکستان کی معاشی صورتحال کے تناظرمیں پاکستان کی فوجی طاقت پرضرب لگانے  کا  بہانہ تراشہ جا رہا ہے ۔ اس طرح سے آنے والے وقتوں میں پاکستان کے حکمرانوں کو بھارتی جارحیت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کا یہ جواز میسر ہوگا کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ  بھارت کا مقابلہ کرسکیں  جیسے ماضی قریب میں پاکستانی سرحدوں کے اندر امریکی جارحیت پر یہ جواز پیش کیا جاتا تھا۔

 

اس  صورتحال سے نکلنے کا حل اپنے دین کی طرح واپس لوٹنا اور اسلام کے نظام کوقائم کرنا ہے جس  کے اندر محصولات کے وہ ذرائع میسر ہوں گے کہ ریاست  کو نہ ہی کسی بیرونی استعماری کافرادارے کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑے گا اور نہ ہی اپنے دفاع اور جہاد کوکمزور کرنا پڑے گا ،جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

"اور تم ان کے خلاف بھر پور تیاری کرو ، قوت اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، جن کے ذریعے تم اپنے اور اللہ کے دشمنوں پر دھاگ بٹھا سکو اور اُن پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے لیکن اللہ جانتا ہے۔ اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا" (الانفال 8:60)۔

 

استعماری طاقتوں اوران کے اداروں سے حاصل کردہ قرضوں کو ادا کرنا پاکستان کے مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں

 

11 جون 2019 کو ڈان اخبار نے یہ خبر شائع کی پاکستان کا ہر فرد ایک لاکھ 64ہزار 9سو22روپے  کا مقروض ہے۔ یہ بات اس بنیاد پر کہی گئی کیونکہ پاکستان کے قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم  35 کھرب یعنی 35 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے ۔ قرضوں کا یہ حجم پچھلے 6 سال میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے اور یہ  پاکستان کی کل ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 91فیصد ہےجواس وقت  38.558کھرب روپے ہے۔

 

یہ بات وقتاً فوقتاً میڈیا میں دوہرائی جاتی ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ مقروض پیدا ہوتا ہے جس سے یہ تائثر ابھرتا ہے کہ یہ قرض ادا کرنا پاکستان کے عوام کی ذمہ داری ہے ۔ پاکستان کی حکومت کا پیش کردہ حالیہ بجٹ بھی اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو جیسے تیسے اس قرض کو ادا کرنا ہے خواہ انہیں فاقے کرنے  پڑیں اور اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننا پڑے۔ حالیہ بجٹ میں حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے تقریباً 3000 ہزار ارب روپے( 2891.4ارب روپے) مختص کیے ہیں ، جس میں سے تقریباً 360 ارب روپے(359.764ارب روپے)محض قرضوں پر عائد ہونے والے سود کی ادائیگی کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ حکومت ان قرضوں کی ادائیگی کو ممکن بنانے کے لیے اس سال 1500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کر رہی ہے۔بجٹ20-2019میں اس شخص پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کی تنخواہ 50ہزار روپے ماہانہ ہے۔

 

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے مسلمان یک زبان ہو کر اس بات کا اعلان کریں کہ وہ یہ قرض ادا کرنے کے لیے قربانی کا بکرا بننے کے لیے ہرگز تیار نہیں کیونکہ یہ قرض ان کی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔ یہ قرض پاکستان کے کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے ایسی پالیسیاں نافذ کیں جو پاکستان کی معیشت کا گلہ گھونٹتی رہیں ۔  ان حکمرانوں نے مالیاتی خسارے کو کم کرنے  کے لیے بے دریغ قرضے لیے، اور کئی مواقعوں پر یہ قرضے ایسے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے جنہوں نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔   پس یہ قرضے ان حکمرانوں سے اور ان کی حکمرانی سے فائدہ اٹھانے والے ان کے حواریوں اور رشتے داروں سے ہی وصول کیے جائیں خواہ انہیں ان قرضوں کو ادا کرنے کے لیے اپنے تمام تر اثاثہ جات کو فروخت کرناپڑے۔

Last modified onجمعہ, 14 جون 2019 03:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک