الإثنين، 12 ربيع الثاني 1441| 2019/12/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية
سوال کا جواب: قتل خطاء کی دیت

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال کا جواب:

قتل خطاء کی دیت

حمزة شحادةکا سوال

 

سوال:

السلام علیکم، میرا ایک سوال ہے: کتاب نظام العقوبات میں ہے کہ قتل کی چار قسمیں ہیں،  چوتھی قسم وہ ہے جو خطاء کی طرح ہے،  اس کو ایسا قتل سمجھا جاتا ہے جس میں قاتل کا ارادہ قتل کا  نہیں تھا۔  اگر ارادہ نہیں تھا تو دیت(خون بہا) کیوں ادا کرے گا،  جبکہ حدیث شریف میں ہے کہ میری امت کی خطاء پر مواخذہ نہیں؟

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبر کاتہ

آپ جس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اس کے بارے میں نظام العقوبات یوں ہے:

اور قتل کی چار صورتیں ہیں: عمد، شبہ عمد، خطاء  اور جو خطاء کی طرح ہو۔ قتل عمد  تو اللہ کے اس قول سے واضح ہے: ومن یقتل مومنا متعمدا "اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے"(النساء:93)۔

شبہ عمد اس روایت سے واضح ہو جاتا ہے جوکہ  عبد اللہ بن عمرو بن العاص  کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الا ان دیۃ الخطاء شبہ العمد ما کان بالسوط مائۃ من الابل اربعون فی بطونھا اولادھا "ایسے قتل خطاء کی دیت جس میں عمد کا شبہ ہو  ،سو(100) ایسے اونٹ ہیں جن میں سے چالیس  کے پیٹ میں بچہ ہو"۔

جہاں تک قتل خطاء کا تعلق ہے تو یہ اللہ کے اس فرمان سے واضح ہے : وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطاء "کوئی مومن کسی مومن کو خطاء سے ہی قتل کر سکتا ہے"(النساء:92)۔

اور جو خطاء  کا قائم مقام ہے وہ  خطاء کی قسم ہے مگر قتل خطاء کی تعریف  اس پر لاگو نہیں ہوتی اور اس کی حقیقت خطاء کی حقیقت سے مختلف ہے،  کیونکہ خطاء  میں فعل برائے فعل کا ارادہ ہو تا ہے مگر  فعل کے واقع ہونے کی سمت میں غلطی ہو جاتی ہے، جبکہ جو خطاء کا قائم مقام ہے  اس میں فعل کا ارادہ بالکل نہیں ہو تا،  فعل بالکل غیر ارادی طور پر ہو جاتا ہے ،  اس لیے اس کی حقیقت خطاء کی حقیقت سے مختلف ہے۔۔۔اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی سویا ہوا شخص کسی شخص پر گرے اور اس  کو مار دے،  یا بلندی سے  کسی پر گر کر اس کو قتل کرے،   یا بے ہوش ہو کر کسی پر گرے اور اس کو قتل کردے۔۔۔لہذا اس کا حکم خطاء کی پہلی قسم کی طرح ہے ،  یعنی اس میں دیت میں سو اونٹ فرض ہیں  اور اس میں غلام بھی کفارے میں آزاد کیا جائے گا، اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے گا۔ختم شد

اب ہم اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں جو آپ نے کیا ہے :

وہ حدیث جس کو ابن حبان نے ابن عباس سے روایت کی ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عليه» " اللہ  میری امت کی خطاء، بھول اور مجبوری میں کیے گئے اعمال سے درگزر کر تا ہے"،  یہ حدیث جو آپ کہہ رہے ہیں اس پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ حدیث کا معنی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ غلطی ،بھول اور زبردستی کی صورت میں مواخذہ نہیں کر تا یعنی ایسی صورت میں کوئی کام کرنے پر گناہ نہیں بلکہ اللہ درگزر کرتا ہے۔

وہ جو غلطی سے کسی کو قتل کرتا ہے جب وہ گولی تو پرندے پر چلاتا ہے  مگر وہ کسی شخص کو لگتی ہے جس پر وہ شخص شرعا گناہ گار نہیں ہوتا  اسی طرح  جو کسی کو خطاء کے قائم مقام فعل سے قتل کرتا ہے جیسے بلندی سے کسی پر گرجاتا ہے اور اس کو قتل کر دیتا ہے  وہ بھی شرعا ًگناہ گار نہیں ہو تا  کیونکہ دونوں صورتوں میں  حدیث اس پر لاگو ہو تی ہے، اس کام کو کرنے والے سے گناہ ساقط ہے۔۔۔ایسا لگ رہا ہے کہ  جس چیز نے آپ کو سوال پر مجبور کیا  وہ  دیت کی ادائیگی ہے جو کہ قاتل کے فعل کی سزا ہے حالانکہ فعل اس کے ارادے سے نہیں ہوا بلکہ مجبوری میں ہوا   اس لیے آپ نے پوچھا کہ پھر اس کو سزا کیوں دی جائے؟

صحیح بات یہ ہے کہ خطاء  اور خطاء کے قائم مقام  قتل کے فعل میں دیت سزا نہیں ہے۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہو تی ہے کہ یہ دیت  اس قاتل کے  "العاقلۃ" (رشتہ داروں)کے مال سے ادا کی جائے گی جو کہ اس کے بھائی، چاچے اور ان کی اولاد ہیں چاہے مزید نیچے ہوں۔۔۔ اگرچہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے، اوریہ دیت قاتل کے مال سے دینا فرض نہیں  جس نے قتل کیا ہے۔۔۔ اگر یہ سزا کے طور پر ہوتی تو خطاء سے قتل کرنے والے کے مال سے دیت دی جاتی جیسا کہ قتل عمد میں قاتل کے مال سے دیت دی جاتی ہے۔۔۔

جہاں تک ان شرعی دلائل کی بات ہے جو کہتی ہیں کہ قتل خطاء میں دیت  قاتل کے مال سے نہیں اس کے رشتہ داروں کے مال سے ہو گی وہ یہ ہیں :

ابن ماجہ نے اپنے سنن میں مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے کہ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ" رسول اللہ ﷺ نے رشتہ داروں کے مال سے دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا"۔

میں  ان فقہاء کا نام آپ کے لیے ذکر کرتا ہوں جنہوں نے اسی حکم کو اختیار کیا :

ابویوسف ،جو ابو حنیفہ کے ساتھی ہیں، اپنی کتاب "الآثار" میں کہتے ہیں کہ :" اور قتل خطاء جو یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ  کسی اور کو جا لگے تو اس میں دیت اس کے رشتہ داروں پر ہے۔۔۔"۔

البیھقی کے سنن الکبری میں ہے کہ: " شافعی رحمۃ اللہ نے فرمایا :  میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس سے اختلاف کیا ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے دیت رشتہ داروں کے مال سے ادا کرنے کا فیصلہ سنایا، اور یہ خاص حدیث سے زیادہ ہے  ہم نے اس کو خاص حدیث میں ذکر کیا ہے "۔ اسی طرح شافعی کی کتاب "الام" میں ہے کہ :" دیت دو ہیں ایک عمد  کی دیت ہے جو قاتل کے اپنے مال سے ادا کی جائے گی اس کے رشتہ داروں کے مال سے نہیں چاہے کم ہوں یا زیادہ اور دوسری قتل خطاء کی جو رشتہ داروں کے مال سے ادا کی جائے گی کم ہو یا زیادہ"۔

ابن قدامہ نے المغنی میں کہا ہے کہ :" ابن المنذر نے کہا ہے: ہم جتنے اہل علم کو جانتے ہیں ان سب نے اس پر اجماع کیا ہے کہ  قتل خطاء یہ ہے کہ مارنے والا کسی چیز پر پھینکے اور وہ جاکر کسی اور کو لگے، میں اس میں کسی اختلاف کو نہیں جانتا۔  عمر بن عبد العزیز،قتادہ، النخعی، الزھری، ابن شبرمہ، ثوری، مالک، شافعی اور اصحاب رائے سب اس بات پر متفق ہیں ۔ اس  غلطی کی دیت قاتل کے رشتہ داروں پر فرض ہے  اور قتل عمد میں دیت خود قاتل کے مال میں سے فرض ہے، ہمیں اس میں کسی اختلاف کا کوئی علم نہیں"۔

خلاصہ یہ ہے کہ  قتل خطاء میں دیت قاتل کی سزا نہیں  یعنی وہ قتل کی وجہ سے گناہ گار نہیں  ورنہ دیت اس کے اپنے مال سے ہوتی  اس کے رشتہ داروں کے مال سے نہیں جنہوں نے کوئی قتل نہیں کیا ہے،  اس لیے غلطی سے قتل کرنے والا قتل خطاء پر گناہگار نہیں اور  اسی طرح خطاء کے قائم میں بھی نہیں  اور حدیث شریف اس پر لاگو ہے۔

رہی یہ بات کہ خطاء اور قائم مقام خطاء میں قتل کی دیت کیوں قاتل کے رشتہ داروں پر فرض ہے اس کی حکمت کو شرع نے ہمیں نہیں بتا یاہے اس لیے اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہی حکمت والا ہے۔

 

آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

22 جمادی الاول 1437

2 مارچ 2016

Last modified onہفتہ, 01 اکتوبر 2016 16:45

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک