الخميس، 18 صَفر 1441| 2019/10/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

  • سوال و جواب:
  • حدیث..تو میں اس کے بدلے ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔
  • غلام عورت (الأمة) کے پردے کے حوالے سے ہے..

سوال:
اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ
اے ہمارے معزز شیخ، اللہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہدایت کا رستہ آپ کے لئے روشن فرما دے۔
کتاب "اسلامی شخصیت" کی جلد نمبر 2 کے باب فوجی پالیسی کے صفحہ 192 کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس حدیث پر رکا،  (أما والذي أحلف به إن أظفرني الله بهم لأمثلن بسبعين مكانك) " وہ جس ذات کی میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تومیں اس کے بدلے ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔


جب میں نے اس حدیث  کی تحقیق کی تو  مجھے معلوم ہوا کہ یہ ضعیف ہے، اور اس کو کسی نے بھی صحیح کے درجے میں شامل نہیں کیا، نہ ہی کسی نے اس کو استعمال کیا۔ میں یہ جانتا ہوں کہ ہم ضعیف احادیث نہیں لیتے، تو اس حدیث کو ثبوت کے طور پر استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے؟ یا اس کو یہاں استعمال کرنے کی کوئی اور وجہ ہے؟  یا پھر میں یہ سمجھوں کے حکم حدیث سے نہیں بلکہ اس آیات کریمہ،وإن عاقبتم فعاقبوا.... " اور اگر(دشمن سے) بدلہ لینے لگو تو( اے ایمان والو)  اتنا ہی بدلہ لو۔۔۔"(النحل:126)،  کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے! براہِ مہربانی اس کی وضاحت فرما دیں کہ اس کو ثبوت کے طور پر کیوں استعمال کیا گیا۔
جزاک اللہ خیر


 اسی کتاب سے میرا ایک اور سوال غلامی (الاسترقاق) اور اس کے حکم کے حوالے سے ہے۔  مگر میرا سوال غلام عورت (الأمة) کے پردے کے حوالے سے ہے، چونکہ اس کے بارے میں کتاب میں کچھ درج نہیں تو کیا آپ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں، اور اس مسئلے نے بہت سی متنازعہ بحثوں کو جنم دیا ہے اور علماء میں بھی اس مسئلے کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ تو برائے مہربانی کیا آپ ہمیں سب سے مضبوط رائے کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟
جزاک اللہُ خیراً


جواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اول: آپ کا پہلا سوال : آپ نے کہا :
کتاب "اسلامی شخصیت" کی جلد نمبر 2 کے باب فوجی پالیسی کے صفحہ 192 کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس حدیث پر رکا،  (أما والذي أحلف به إن أظفرني الله بهم لأمثلن بسبعين مكانك) " وہ جس ذات کی میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تومیں اس کے بدلے ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔  


جواب : اس سوال کا موضوع اسلامی شخصیت کی جلد نمبر 2  کے صفحہ نمبر 192 پر ایسے درج ہے :


" اس آیت کا شان نزول یہ تھا کہ غزوہ احد کے دن مشرکین نے مسلمان شہدا کی میتوں کا مُثلہ کیا، ان کے پیٹ چیر دیے، اور ان کے ناک اور اعضائے مخصوصہ کاٹ دیے، انہوں نےحنظلہ بن الراحیب کے علاوہ کسی کو بھی مُثلہ کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ اللہ کے نبی ﷺ حمزہؓ کے سامنے کھڑے تھے جن کا مُثلہ ہوا تھا، نبی ﷺ نے اس برے منظر کو دیکھا کہ حمزہؓ کا پیٹ چاک تھا اور ناک کٹی ہوئی تھی اور فرمایا ،«أما والذي أحلف به إن أظفرني الله بهم لأمثلن بسبعين مكانك»  " وہ جس ذات کی میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر اللہ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تومیں اس کے بدلے ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔ طبرانی نے اس حدیث کو الکبیر میں روایت کیا ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔۔"

 

جی ہاں، کچھ محدیثین  نے اس حدیث میں ضعف کا اشارہ کیا ہے کیونکہ اس حدیث کی سند میں صالح المری موجود ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن کثیر نے کہا ہے کہ (2/152) : " اس حدیث کی سند میں صالح کی وجہ سے کمزوری ہے جو کہ ابن البشیر المری ہے جو کہ علماء کی نظر میں کمزور ہے"۔


تاہم دوسری طرف، ان مندرجہ ذیل چیزوں پر بھی غور کر سکتے ہیں:


1-   طبرانی کی الکبیر کے علاوہ صالح المری کی اس روایت کو حاکم نے مستدرک علی صحیحین میں تخریج کیا ہے اور حاکم کی روایت (11/225) کا متن یہ ہے(الشاملة میں اس کا ڈیجیٹل نمبر 4882 ہے): ۔  ابو بکر بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن احمد بن النضر سے سنا، انہوں نے خالد بن خداش سے سنا، انھوں نے صالح المری سے سنا، انہوں نے سلیمان التیمی سے سنا، انہوں نے ابو عثمان النھدی سے سنا، انہوں نے ابوہریرہؓ سے سنا کہ اُحد کے دن نبیﷺ نے حمزہؓ کو دیکھا جن کو قتل کرنے کے بعد ان کا مُثلہ کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے ایسا تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا منظر پہلے نہ دیکھا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا «رحمة الله عليك، قد كنت وصولا للرحم، فعولا للخيرات، ولولا حزن من بعدك عليك لسرني أن أدعك حتى تجيء من أفواه شتى » " اللہ آپ پر رحم کرے، میں یہ جانتا ہوں کہ آپ تو ہمیشہ صلہ رحمی کرنے والوں میں سے تھے اور ہمیشہ خیر کے کاموں میں لگے رہتے تھے، اگر مجھے آپ کے پیچھے رہ جانے والوں کے دکھ کا خیال نہ ہوتا تو میں آپ کو دفن کیے بغیر چھوڑ دیتا یہاں تک کہ  آپ کو (قیامت کے دن)مختلف (صحیح و سالم )چہرے کے ساتھ اٹھایا جاتا"۔  پھر اسی جگہ کھڑے کھڑے آپﷺ نے اللہ کی قسم کھائی  « والله لأمثلن بسبعين منهم مكانك » " اللہ کی قسم اس کے بدلے میں ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔  ابھی آپﷺ وہیں پر کھڑے تھے کہ قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾ "اور اگر(دشمن سے) بدلہ لینے لگو تو (اے ایمان والو)  اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے"  (النحل: 126)۔ جب سورۃ کا اختتام ہوا تو نبیﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اس کام سے رک گئے جس کا آپﷺ نے ارادہ فرمایا تھا۔
الحاکم اِس روایت پر خاموش ہیں ، نہ تو اِس کو ضعیف قرار دیا ہے اور نہ صحیح۔۔۔۔ البتہ اُنہوں نے اِس روایت کو المستدرک علی الصحیحین میں تخریج کیا ہے۔


2-    اس حدیث کو کچھ فقہاء نے اپنی کتب میں قبول کیا ہے۔
ا- ابوبکر الشافعی نے اپنی کتاب "الفوائد الشهير بالغيلانيات" میں اس کا ذکر کیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے شاگرد ابو طالب محمد بن غیلان کو اِس کی املا کروائی تھی۔۔۔۔
الذھبی نے اس کے بارے میں العبر "27" میں کہا ہے (اور ابن غیلان اس کے بارے میں کہتے ہیں، یہ وہ ہے جو کہ آسمان کی بلندیوں میں ہے) اور اس کے بارے میں الکتانی نے الرسالة المستطرفة "ص:93" میں کہا ہے کہ ( یہ ایک بہترین اور احسن حدیث ہے)
کتاب "الفوائد" میں یہ ایسے درج ہے :
(232- ابوبکر الشافعی نے 3 محرم 354 ہجری بروز جمعہ ہمیں املا کرواتے ہوئے کہا کہ حامد بن محمد سے روایت ہے کہ اس نے بشر بن الولید سے سنا، اس نے صالح المری سے سنا،اس نے سلیمان التمیی سے سنا ،اس نے ابو عثمان النھدی سے سنا اور اس نے ابوہریرہؓ سے سنا کہ نبیﷺ حمزہ بن عبدالمطلبؓ کے سامنے کھڑے تھے جب ان کو شہید کیا جا چکا تھا۔ آپ ﷺنے حمزہؓ کے مُثلہ جیسا تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا منظر پہلے نہ دیکھا تھا اور آپﷺ نے فرمایا:۔ «رحمة الله عليك فإنك كنت ما علمتك فعولا للخيرات وصولا للرحم، ولولا حزن من بعدي عليك لسرني أن أدعك حتى تحشر من أفواه شتى، أما والله مع ذلك لأمثلن بسبعين منهم »" اللہ آپ پر رحم کرے ، میں  یہ جانتا ہوں کہ آپ تو ہمیشہ صلہ رحمی کرنے والوں میں سے تھے اور ہمیشہ خیر کے کاموں میں لگے رہتے تھے، اگر مجھے آپ کے پیچھے رہ جانے والوں کے دکھ کا خیال نہ ہوتا تو میں آپ کو دفن کیے بغیر چھوڑ دیتا یہاں تک کہ  آپ کو مختلف(صحیح و سالم) چہرے کے ساتھ اٹھایا جاتا، اللہ کی قسم اس کے بدلے میں ان کے ستر کا مُثلہ کروں گا"۔   آپؓ نے فرمایا : ابھی نبی ﷺوہیں پر کھڑے تھے کہ جبریلؑ سورۃ النحل کی آخری آیات لے کر اترے : ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ﴾  "اور اگر بدلہ لینے لگو [دشمن سے، اے ایمان والو]  تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے"  (النحل: 126)۔ سورۃ کے اختتام پر آپﷺ کو صبر آ چکا تھا اور آپﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اس کام سے رک گئے جس کا آپﷺ نے ارادہ فرمایا تھا۔
ب- شرح الهداية کے مصنف ابو محمد الحنفی بدرالدین (متوفی 855 ہجری) نے ابوہریرہؓ سے ایک اور روایت کا ذکر کیا ہے:
(میں نے کہا :  اللہ تعالیٰ کا قول ہے : 'فَعَاقِبُوا' 'تو اتنا ہی بدلہ لو' ۔ ۔ ۔آیت ، طحاوی نے مقسم سے روایت کیا کہ اس نے ابن عباسؓ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہؓ سے سنا کہ جب حمزہ ؓکا قتل اور مُثلہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا کہ  «لئن ظفرت بهم لأمثلن بسبعين رجلا» "اور اگر اللہ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا، تومیں ستر مردوں کا مُثلہ کروں گا" اور روایت میں ہے کہ : «والله لأمثلن بسبعين رجلا منهم » "اللہ کی قسم میں ان کے ستر مردوں کا مُثلہ کروں گا"، اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہوئی ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ﴾ "اور اگر بدلہ لینے لگو[دشمن سے ،اے ایمان والو] "، (النحل :126)۔ پس رسول اللہ ﷺ نے صبر کیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آیت کس معنوں میں نازل ہوئی۔۔۔


ہم مندرجہ بالا سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں :
کتاب "اسلامی شخصیت" کی جلد دوم کے باب فوجی پالیسی میں حدیث کو جائز طور پرآیت کے شان نزول کی وجہ کے طور پر لیا گیا ۔

 

دوم:  دوسرا سوال غلام عورت( الأمۃ) کے ستر (پردے) کے حوالے سے:
سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گا، کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟ آج تو کوئی غلام عورتیں (إماء) موجود نہیں ہیں! بہرکیف نامحرم مرد کے سامنے غلام عورت کے ستر کے حوالے سے فقہاء میں اختلاف ہے۔ ان میں سے کچھ نے اسے آزاد عورت (الحرة) کے ستر جیسا پیش کیا ہے، اور کچھ نے اسے مرد (الرجل) کے ستر جیسا پیش کیا ہے، جبکہ کچھ نے اسے محارم کے سامنے عورت کے ستر جیسا پیش کیا ہے جو کہ احناف کی رائے ہے۔ ہر ایک کا اس میں اپنا اجتہاد ہے مگر میرا زیادہ جھکاؤ حنفی رائے کی طرف ہے جو یہ ہے کہ غلام عورت کا ستر نامحرم کے سامنے ویسا ہی ہے جیسے کسی عورت کا ستر اپنے محارم کے سامنےہوتا ہے۔اس کی تفصیل ہم نے معاشرتی نظام میں بیان کی ہے، جو یہ ہے کہ "بدن کے وہ حصے جن کی عام طور پر زینت نہیں کی جاتی :  سامنے کی طرف سے : گھٹنوں سے گردن کے نچلے حصے تک، اور پچھلی طرف: گھٹنوں سے لے کر عورت کی کمر کے اوپر تک" ۔ یہ سب غلام عورت کے لئے ستر ہے۔۔۔وہ اپنی پنڈلیاں، گردن، بال اور بازو دکھا سکتی ہے۔ سامنے کی طرف سے گھٹنوں سے لے کر گردن کے نچلے حصے تک، اور پچھلی طرف میں گھٹنوں سے لے کر گردن کے نچلے حصے کو دیکھنا جائز نہیں، لہٰذا اس کا سارا جسم ستر ہے سوائے اس کے بالوں، گردن، پنڈلیوں اور بازؤں کے۔ یہاں شرعی ادلہ کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ خلیفہ اس کے بارے میں اس شرعی رائے کی تبنی کرے گا جو اس کی نظر میں راجح ہو گی۔   اگر وہ تبنی کرے کہ اس کا ستر آزاد عورت جیسا ہوگا تو وہ اسے نافذ کرے گا اوراگروہ تبنی کرے کہ اس کا ستر محرم کے سامنے عورت کے ستر جیسا ہوگا جس کی طرف میرا بھی جھکاؤ ہے تو پھر وہ اسے نافذ کرے گا۔
اور اللہ سب سے بہتر جاننے والا اور بہترین حکمت والا ہے


آپ کا بھائی
عطاء بن خليل ابو الرَشتہ
24 شوال 1439 ہجری
8جولائی 2018 عیسوی

Last modified onمنگل, 13 نومبر 2018 03:54

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک