’’امریکہ –ایران کی جنگ سے حاصل ہونے والے چار اہم سبق ‘‘!
- Published in آرٹیکل
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
’’امریکہ –ایران کی جنگ سے حاصل ہونے والے چار اہم سبق ‘‘!
’’امریکہ –ایران کی جنگ سے حاصل ہونے والے چار اہم سبق ‘‘!
سوال کا جواب: عراق اور ایران نواز دھڑوں کا انجام
آج سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع سے متعلق مکہ مکرمہ سربراہی اجلاس کا ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا
اسلام آباد، 31 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان "بورڈ آف پیس" کے تحت تخفیفِ اسلحہ کے عمل پر غزہ امن منصوبے کے مطابق عمل درآمد کی جانب ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کرتا ہے
شہروں اور دیہاتوں پر چھاپے اور یلغار، گھروں کی تلاشی، گرفتاریاں، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ اور کرفیو کا نفاذ؛ جگہ جگہ رکاوٹیں، راستوں کی بندش اور زمینوں پر قبضہ؛ آباد کاروں کے حملے، مویشیوں کی چوری اور فصلوں کو آگ لگانا اور انہیں تباہ کرنا؛ آباد کاروں کا مقابلہ کرنے اور اپنے اہل و عیال، مال اور جان کا دفاع کرنے والوں کا قتل، مار پیٹ اور ان پر تشدد؛ مسماری، زمین پر قبضے، گھروں کو ڈھانے اور رہائشیوں کو بے دخل کرنے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والے اسرائیلی پارلیمان (کنیست) کے قوانین اور عدالتی فیصلے... مغربی کنارے میں حالات و واقعات کی یہی سرخیاں ہیں جو چوبیس گھنٹے گردش کر رہی ہیں، بلکہ بسا اوقات یہ تمام مظالم ایک ہی وقت میں اکٹھے رونما ہوتے ہیں!
شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کا چھتیسواں سربراہی اجلاس 7 اور 8 جولائی 2026 کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے اعلامیہ میں اتحاد کی نام نہاد دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی وعدے شامل تھے، جن میں رکن ممالک کے دفاعی اخراجات کو ان کے بجٹ کے 5 فیصد تک بڑھانا بھی شامل تھا۔ اعلامیہ میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرے۔
یہودی وجود کے وزیراعظم نیتن یاہو نے 27 جولائی 2026 کو امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم کے جنازے میں شرکت کے لیے امریکہ کا دورہ کیا، جسے یہودی وجود اور اس کے جرائم کا سخت ترین حامی تصور کیا جاتا تھا۔ اگلے دن اس نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی؛ 2025 کے آغاز میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ ان کی آٹھویں ملاقات تھی، کیونکہ دونوں کے درمیان گہرے شیطانی تعلقات استوار ہیں۔
نام نہاد صدارتی قیادت کونسل کے رکن اور مأرب کے گورنر، میجر جنرل سلطان العرادہ نے "میدانِ جمہوریہ" کے قیام کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ "انقلاب کا ٹینک" وہاں منتقل کیا جا سکے، انہوں نے اس اقدام کے پیچھے موجود سیاسی مقاصد کو علامتی ناموں سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جمہوری نظام کی بحالی، اس کی حاکمیت کا قیام اور پورے ملک میں اس کا پرچم بلند کرنا ہے۔