الأحد، 10 ربيع الأول 1440| 2018/11/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ اردن

ہجری تاریخ    18 من رمــضان المبارك 1439هـ شمارہ نمبر: 31/39
عیسوی تاریخ     بدھ, 06 جون 2018 م

 

 اردن کی حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)

  •  کا خبیث استعماری منصوبہ نافذ کرنے پر بےشرمی سے اصرار کر رہی ہے

ایک ایسے وقت میں جب اردن کے عوام اس تلخ حقیقت سے حقیقی نجات کے منتظر ہیں جس میں ان کی حکمرانی، ان کی زندگی اور ان کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں اللہ کی شریعت موجود نہیں ہے اور وہ جبر اور کشیدگی کی ایسی زندگی گزار رہے ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ ان ڈھیروں بانجھ اور بیہودہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو اس وقت سے نافذ ہیں جب اردن کے ادارے اور نظام برطانیہ کے ہاتھوں وجود میں آئے تھے، جو اس وقت کفر کا سربراہ تھا۔ اور یہ ان ظالم، غیر منصفانہ اور معذور قوانین کا نتیجہ ہے جن کو ایسے مفاد پرست سرمایہ دارانہ سیاسی اذہان نے تشکیل دیا ہے جو نہ صرف امت، اس کے احکام دینوی اور اس کی ثقافت سے کٹے ہوئے ہیں بلکہ بدبودار سرمایہ دارانہ فکر اور اس کے ظالم اور تباہ کن نظام کے زیراثر ہیں جس نے دنیا کے لوگوں کو بدترین نقصان پہنچایا ہے۔

 

یہ وہ پالیسیاں اور قوانین ہیں جنہوں نے لوگوں کی عزتوں کو برباد کر دیا ہے اور غربت، بےروزگاری اور جرائم کی شرح میں اضافہ کیا ہےاور مہنگائی میں اضافے کی وجہ بنے ہیں اور ظالم قوانین کے ذریعے سے مختلف ٹیکس لاگو کیے گئےہیں  ۔ یہی وہ پالیسیاں اور قوانین ہیں جنہوں نے چوروں کے لیے قانون سازی کے دروازے کھولے ہیں تاکہ وہ عوام کے اموال کو لوٹ سکیں اور دولت کو برباد اور ضائع کر سکیں۔ یہی وہ پالیسیاں اور قوانین ہیں جنہوں نے ملک کو بھاری قرضوں میں ڈبو دیا ہے اور ایسی کرپشن میں مبتلا کر دیا ہے جس نے ریاست اور حکومت کے ہر جوڑ میں اپنی جڑیں مستحکم کر لی ہیں اور اردن کی عوام پر کرپٹ عناصر اور ان کی حکومت کا تسلط مضبوط کر دیا ہے تاکہ وہ ان کی تقدیر،قوت اور وسائل کو اپنی گرفت میں رکھ سکیں۔

اور ایک ایسے وقت میں جب اس تلخ اور شرمناک حقیقت کو مسترد کرنے کے لیے احتجاج وسیع پیمانے پر پھیل گئے ہیں حکومت اپنے منصوبے کو مسترد کر دینے والے عوام سے قطع نظر کرتے ہوئے بےشرمی کے ساتھ اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے تشکیل دیئے گئے مہلک اور تباہ کن استعماری منصوبے کو جاری رکھے گی جو کہ دو نکاتی ہے۔ پہلانقطہ سیاسی ہے جس کے نفاذ کی ذمہ داری اس نے حکومتی رہنماؤں اور با اثر سیاسی شخصیات کے سپرد کی ہے اور دوسرا  نقطہ اقتصادی ہےجو امریکہ کے اقتصادی اور استعماری آلہ کار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے نافذ کیا جاتا ہے تاکہ اردن کی عوام کو مکمل طور پر داخلی سطح پر امریکی احکامات،اس کے سیاسی عزائم اور اس کے امن و امان اور فکری ایجنڈے کے تابع کیا جائے، علاقائی سطح پر یہودیوں کی حمایت پر مبنی نفرت انگیز منصوبوں کو تسلیم کروایا جائے اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے خلاف جاری جنگ پر خاموشی اختیار کروائی جائے۔

اور اس اصرار کی تصدیق حکومت کے سربراہ ھانی الملقی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ " وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے منسلک ہے لہذا ہ انکم  ٹیکس کے قانون کوختم نہیں کر سکتے" اس حالت بیداری سے بے خبر جس کے نتیجے میں اردن کے مسلمانوں کو یقین ہو گیا ہے کہ امریکہ ان کے دین، ان کی حرمتوں ان کی پر امن زندگی کو نشانہ بنائے ہوئے ہے جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو استعمال کرتا ہے تاکہ دوسرے ممالک اور عوام پر اپنی خواہشات اور مرضی کو نافذ کر سکے۔

اے لوگو:

سرمایہ ا دارانہ اقتصادی نظام ایسا فاسد نظام ہے جو صرف بحرانوں اور مالی اور اقتصادی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کی فطرت میں ہے کہ یہ لوگوں کو تنگ دست بناتا ہے اور ان کا خون چوستا ہے اور اس کی فطرت میں غریبوں کی غربت میں اضافہ کرنا ہے اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اور سرمایہ داروں اور حکمران طبقے کے مفاد کے لیے لوگوں پر ظلم اور ان کا استحصال کرتا ہے۔ لہٰذا ہمارے اوپر نافذ شدہ اس سرمایہ  دارانہ نظام سے نکلنے والے حل اردن میں ہماری اس خوفناک حقیقت سے نجات کا باعث نہیں بن سکتے بلکہ اس کے حل اور علاج ہمیں نقصان، افراتفری اور غلامی کی دلدل میں مکمل ڈبونے میں جلدی کریں گے اور استعماری قوتوں، جن کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ ملک اور عوام پر اپنی گرفت سخت کر سکیں۔

اے اردن کے لوگو:

بے شک وہ انقلابی حل اسلام، اس کے نظام اور اس کے احکامات میں موجود ہے جو آپ کو اس دردناک اور ذلت آمیز حقیقت سے نجات دلوائے گا، وہ اسلام جس نے زندگی کے ہر شعبے کو منظم کیا ہے اور معاشی مسائل کا بہترین علاج دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾

"اور ہم نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدات اور رحمت اور خوشخبری ہے"

(النحل: 89)۔

 

ہم حزب التحریر کئی دہائیوں سے امت کے ساتھ اور اس کے ذریعے دعوت دے رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کے احکامات اور اس کے نظام کے نفاذ کے ذریعے اسلامی زندگی کا احیاء کیا جائے جس میں اس تنگی اور روز بروز کی بڑھتی ہوئی مصیبتوں سے ہماری اور تمام انسانیت کی نجات ہے۔

اور ہم حزب  التحریر اس شرعی فرض کے قیام کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم سیاستدانوں، ماہرین اقتصادیات، مفکرین، عوامی معاملات میں دلچسپی رکھنے والوں اور رائے اور اثر و رسوخ رکھنے والوں کے سامنے اسلام کے نظام کو بیان کرنے اور اس کو نتیجہ خیز اور مؤثر سیاسی اور اقتصادی علاج اور حل کی وضاحت کرنے میں اللہ کے حکم سے ایک لمحہ بھی نہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوئے ہیں اور نہ کبھی ہوں گے۔ اسی کی طرف ہم انہیں بلاتے ہیں اور دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ اسے قبول کریں اگر وہ حقیقی طور پر اس تلخ حقیقت اور درد ناک تکلیف سے اپنی اور امت کی نجات چاہتے ہیں خاص طور پر جبکہ ہم حزب  التحریر اس بات پر بغیر کسی شک اور شبہ کے یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کو نظام حیات اور نظام حکومت کے طور پر اپنائے بغیر کوئی نجات نہیں ہیں۔ ان سیاسی اور اقتصادی مسائل سے دوری فائدہ نہیں دے گی اور عارضی پیچیدہ حل جلد ہی غائب ہو جاتے ہیں اور شگاف کو مزید وسیع کرنے میں جلدی کرتے ہیں لہٰذا غلامی، انحصار اور کرپشن کے بوجھ تلے اور سرمایہ دارانہ نظام کو ریاست کے اقتصادی نظام کے طور پر برقرار رکھنے کی وجہ سے چیزیں پہلے سے بھی زیادہ بری حالت میں پہنچ جائیں گیں۔

﴿ولَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ 

"اور اگر (ان) بستیوں کے باشندے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، سو ہم نے انہیں ان اَعمالِ (بد) کے باعث جو وہ انجام دیتے تھے (عذاب کی) گرفت میں لے لیا"

( الاعراف: 96)

 

ولایہ اردن میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ اردن
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک