الثلاثاء، 30 ذو القعدة 1438| 2017/08/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بجٹ 18-2017: غریب لوگ سرمایہ دارانہ معیشت کا ظالمانہ بوجھ اُٹھائیں گے...

اورعوامی لیگ کے انتخابی بجٹ کے لئے بھاری قیمت ادا کریں گے

یکم جون،2017 کو بنگلا دیش کے وزیرِ خزانہ اما موحث نے پارلیمنٹ میں مالی سال 18-2017 کے لئے 4 ٹریلین ٹکا کا بجٹ پیش کیا، جس میں آمدنی میں 35 فیصد اضافے کے لئے VAT کے ذریعے وصولی پر زیادہ سے زیادہ انحصارکیا گیا ہے۔

 

Read more...

حزب التحریر اپنے شباب کے خاندان کی دو خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے

جیسور پولیس نے ایک بار پھر بے شرمی سے معصومہ اختر کو 29 مارچ 2017 کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ چھ ماہ قید کاٹنے کے بعد ضمانت پرجیسور جیل کے دروازے سے نکلی ہی تھیں۔ انہی

Read more...

حزب التحریر کے ایک کارکن کی بس میں عوامی تقریر کے باعث گرفتاری...

 ... یہ ثابت کرتی ہے کہ 'آزادی رائے' محض اسلام کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے لیکن جمہوریت کے فریب کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جاسکتی۔

Read more...

حسینہ کے غنڈوں کی جانب سے حزب التحریر کے شباب کا بزدلانہ اغوا اور وحشیانہ تشدد صرف اس کی فرعونی حکومت کے سقوط کو تیزی سے قریب کر رہا ہے

  اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والی حسینہ کے بے لگام غنڈوں نے  حزب التحریر کے 27 سالہ  بہادر رکن  اشرف کریم رقیب کو 23 دسمبر 2015 کو  اغوا کر لیا۔ صرف ایک بے ضرر داعی کو اغوا کرنے کے لئے  پولیس بیورو آف انوسٹی گیشن (بی۔پی۔آئی)کے بے شرم بیس سے زائد غنڈوں نےڈھاکہ کے علاقے دھان منڈی میں ان کےگھر پر حملہ کیا۔

Read more...

ایس پی جیسور اور اس کے غنڈوں کے لیے شرم کا مقام ہے ...

...جو کہ حزب التحریر کے شاب کے خاندان کو ہراساں اور انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں    

  جیسور کی ظالم پولیس نے28 اگست2016 کو ڈسٹرک کورٹس ڈھاکہ سے  تنجیب احمد کو دوبارہ گرفتار کر لیاجو کہ طویل مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے والے حزب التحریر کے بیس  سالہ شاب ہیں۔ عدالت پیشی کے وقت تنجیب کو گرفتار کرنے کے علاوہ انہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوے ان کی بڑی بہن معصومہ اختر کو بھی پکڑ لیا جو کہ ان کے ساتھ کورٹ کمپلیکس آئیں تھی۔

Read more...

سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے "اسلامی عسکری اتحاد "کو مسترد کردو کہ یہ ایک دھوکہ ہے

      سعودی عرب نے منگل 15 دسمبر 2015 کو عراق،شام،لیبیا،مصر ، افغانستان  اوردیگر اسلامی علاقوں میں  "دہشت گردی" کے خلاف جنگ کے لیے  34 اسلامی ممالک پر مشتمل  عسکری اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ بنگلا دیش کے امور خارجہ کے وزیرشہریار عالم نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ  بنگلا دیش نے بخوشی اس اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے،  کیونکہ یہ اتحاد" پرتشددانتہا پسندی" کو برداشت نہ کرنے کی بنگلا دیشی حکومت کی پالیسی  سے ہم آہنگ ہے، دوسرے لفظوں میں  یہ اعلان  سرکش حسینہ کا اسلام کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے عین مطابق ہے۔

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک