السبت، 17 ربيع الثاني 1441| 2019/12/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    27 من شـعبان 1437هـ شمارہ نمبر: PR16034
عیسوی تاریخ     جمعہ, 03 جون 2016 م

 

قومی بجٹ:17-2016

 

پاکستان کا بجٹ آئی ایم ایف کا، آئی ایم ایف کے ذریعے اور آئی ایم ایف کے لئے ہے

 

3جون 2016 کو راحیل-نواز حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کا بجٹ 17-2016 پیش کیا۔ اس بجٹ اور اس سےپہلے پیش کیے جانے والے تمام بجٹ، چاہے وہ جمہوری حکومتوں نے پیش کیے تھے یا آمریت نے، سرمایہ دارانہ پالیسیوں پر مبنی بجٹ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ کا تقریباً ایک تھائی حصہ قرضوں اور قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہوجا تا ہے جبکہ استعماری ممالک کے ہاتھوں ظلم  کے شکار کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ان قرضوں کو کئی بار ادا کرچکا ہے لیکن پھر بھی سود کی وجہ سے اس جال میں پھنسا ہوا ہے۔قرض کا یہ جال  عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتے رہنے کے بوجود بڑھتا ہی جارہا ہے۔  اسی طرح یہ بجٹ بھی پچھلے تمام بجٹوں کی طرح استعماری ہدایات کے مطابق ہی بنایا گیا ہے۔ اس بات کا ثبوت حکومت پاکستان کا وہ لیٹر آف انٹنٹ ہے جو اس نے 10 مارچ 2016 کو آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کے نام لکھا ۔ اس خط میں راحیل-نواز حکومت نے آئی ایم ایف سے کہا کہ "جیسا کہ تمام آئی ایم ایف معاہدوں کا اصول ہے، ہم اس خط میں ذکر کیے گئے اقدامات میں تبدیلی یا نئے اقدامات اٹھانے سے قبل جو کہ پروگرام کے اہداف سے مختلف ہوں گے،آئی ایم ایف سے مشورہ کریں گے اور اس پروگرام کی نگرانی کے لئے درکار ضروری معلومات سے آئی ایم ایف کو آگاہ کریں گے"۔ اس خط کو پڑھنے سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ راحیل-نواز حکومت نے پاکستان کی اقتصادی خودمختاری آئی ایم ایف کی پاس گروی رکھ دی ہے اور بجٹ 17-2016 بھی آئی ایم ایف کا بجٹ، آئی ایم ایف کے ذریعے اور آئی ایم ایف کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔

 

راحیل-نواز حکومت نے معاشی ترقی  کے ثبوت کے طور پر اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی ترقی اور خاص طور پر پاک-چین معاشی راہداری کی بہت زیادہ تشہیر کر رہی ہے کہ یہ منصوبہ "کھیل بدل دے گا"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اسٹاک مارکیٹ کی ترقی اور بڑے سے بڑا معاشی منصوبہ صرف اور صرف حکمران اشرافیہ اور ان کے ساتھیوں کی دولت میں مزید اضافے کا ہی باعث بنتا ہے جبکہ عوام دو وقت کی روٹی کے لئے شدید جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس سے قبل جب پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچایا جارہا تھا تو یہی کہاں گیا تھا کہ "کھیل بدل دے گا"لیکن اس کے باوجود آج بھی پاکستان میں خود حکومتی اعدادوشمار کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح یہ حکومت  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو غربت کے خاتمے کے منصوبے کے طور پر پیش کررہی ہے جو کہ ایک دھوکہ ہے  کیونکہ  یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اس قسم کے منصوبوں سے  غربت ختم نہیں ہوتی۔ اس قسم کے منصوبے ایک بہت گہرے ، وسیع اور بہتے زخم پر چھوٹی سے پٹی رکھنے جیسا ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام مسلسل ملک کی دولت کو چند مخصوص طاقتور  لوگوں کے ہاتھوں میں جمع کرتارہتا ہے جن کی مالی بدعنوانی اس قدر زیادہ ہیں کہ اس دولت کو چھپانے کے لئے خفیہ ذرائع استعمال کرنے کے باوجود مختلف لیکس کے ذریعے میڈیا اور عوام کے سامنے آرہی ہیں۔

 

معاشی ترقی سرمایہ دارانہ بجٹ میں ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یہ نظام سودی قرضوں، عوامی و ریاستی املاک کی نجکاری اور غریب پر ٹیکس لگا کر   دولت کے ارتکاذ پر مبنی ہے۔ یہ تمام اقدامات استعماری طاقتوں کے مطالبات ہوتے ہیں جنہیں آئی ایم ایف کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے تا کہ پاکستان کبھی بھی بڑی طاقتوں کے لئے چیلنج نہ بن سکے۔   معاشی ترقی صرف اور صرف اسلام کے معاشی نظام کے نفاذ کے ذریعے ہی ممکن ہے جسے ریاست خلافت نافذ کرتی ہے۔ اسلام کا معاشی نظام دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو نہیں بلکہ اس کی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ اسلام  قرضوں پر سود کا خاتمہ کرتا ہے، صرف شرعی محاصل جس میں زکوۃ، عشر اور خراج شامل ہیں،کو وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے، تیل،گیس، بجلی اور معدنی ذخائر کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی   وسیع دولت کو عوامی ضروریات پر خرچ کرتا ہے، انکم ٹیکس و جنرل سیلز ٹیکس  جیسےغیر شرعی ٹیکسوں کی ممانعت کرتا ہے، اور ہنگامی ٹیکس صرف اس صورت میں لگاتا ہے جب اس کی ضرورت ہو اور وہ بھی  صرف امراء پر نا کہ تمام مسلمانوں پر اس بات کو دیکھے بغیر کہ اس سے ان پر کس قدر بوجھ پڑ جائے گا۔ لہٰذا جب تک نبوت کے طریقے پر خلافت کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا  اور اسلام کا معاشی نظام نافذ نہیں ہوتا ،پاکستان اور اس کے عوام اس حقیقی معاشی ترقی کی منزل کو حاصل نہیں کرسکتے جس کی وہ بھر پور استعداد رکھتے ہیں۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھی ہمیں اس بات سے خبردار کردیا ہوا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً

 

"اور جو میرے اس ذکر (قرآن) سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی "(طہ:124)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک