الجمعة، 19 ذو القعدة 1441| 2020/07/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    28 من رمــضان المبارك 1441هـ شمارہ نمبر: 60 / 1441
عیسوی تاریخ     جمعرات, 21 مئی 2020 م

آئی ایم ایف کے منصوبے کے تحت اسٹاک مارکیٹ میں قرضوں کی تجارت ہماری معیشت کو غیر ملکی شکاری سرمایہ داروں کے حوالے کر دے گی جو ہمارا خون چوس کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں

 

20 مئی 2020 کو عمران خان  نے پر جوش انداز میں "تاریخی مالیاتی ایجاد" کا اعلان کیا، جس کے تحت حکومت پاکستان  نے 200 ارب روپے مالیت کے سودی سکوک بانڈز پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جاری کیے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں قرضوں کی مارکیٹ کے قیام کا مطالبہ آئی ایم ایف پچھلے کئی سال سے کر رہی تھی جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ دار حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے قرضوں پر مبنی بانڈز میں تجارت کریں گے۔ اور بالآخر آئی ایم ایف  کے سابق ملازم اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ گورنر رضا باقر اس منصوبے کو پاکستان میں نافذ کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ سرمائے کی مارکیٹ کے قیام اور پھر اس کو بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں سے منسلک کر دینا استعماری طاقتوں کے اہم ترین معاشی حربوں میں سے ایک حربہ ہے جس کے ذریعے وہ دوسری اقوام کے وسائل کا استحصال کرتے ہیں۔

 

سرمائے کی مارکیٹ کے قیام کے ذریعے سرمائے کی بلا روک ٹوک فراہمی کے نام پر غیر ملکی سرمائے کے آنے جانے میں رکاوٹ بننے والی تمام شرائط کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ دار، جن کا تعلق امیر ممالک سے ہوتا ہے، اس کھلے ماحول کا فائدہ اٹھا کر ترقی پذیر ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مالیاتی کاغذات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان ممالک کی معیشتوں کی قیمت پر آسانی سے پیسہ بناتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیات کی گلوبلائزیشن، جس میں سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں سب سے زیادہ نفع کی شرح ہو، اور نت نئے  ناموں کے ساتھ نئے مالیاتی کاغذات کی تخلیق، اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ استعماری ممالک کی اُس اشرافیہ کو بیرون ملک زبردست دولت کمانے کا موقع فراہم کیا جائے جن کے پاس سرمایہ موجود ہے۔ بہت سے مالیاتی کاغذات کی اصل حقیقت یہ ہے کہ  وہ سود کی بنیاد پر حکومت اور کارپوریٹ کمپینوں کو قرض فراہم کرتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سرمائے کی مارکیٹ کا قیام سرمایہ رکھنے والی اشرافیہ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جیسے ہی انہیں مقامی معیشت میں مشکل کی پہلی جھلک نظر  آئے وہ ان مالیاتی کاغذات کو فوراً فروخت کر دیں جس کے نتیجے میں ملک سے سرمایہ باہر جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سرمائے کی پرواز کی وجہ سے معیشت اور کرنسی پر شدید دباؤ پڑتا ہے جو معاشی بحران کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ غیر مستحکم سرمائے کی مارکیٹوں کو جانتے بوجھتے ایسے بنایا گیا ہے کہ جیسے ہی مقامی معیشت میں مشکلات پیدا ہونا شروع ہو تو سرمایہ دار اپنی سرمایہ کاری کو بغیر کسی نقصان کے باآسانی نکال کر  لے جائے۔

 

ہم اہل قوت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں کیسے فوری غیر ملکی سرمائے کی واپسی کی وجہ سے پاکستان کو نقصان پہنچا۔ مارچ 2020 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں  نے اچانک سودی ٹریژری بلز سے 1.28 ارب ڈالر نکلوا لیے جس کے نتیجے میں پاکستان کی کرنسی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یہ ہے مالیاتی شکار کرنے کا طریقہ کار۔ جن جن ممالک کو استعماری طاقتوں  نے نشانہ بنایا ہر جگہ یہی ایک کہانی دہرائی گئی۔ مارچ 2020 سے 30 ارب روپے سری لنکا کی بانڈ مارکیٹ سے نکلوا لیے گئے جس کی وجہ سے اس کی اسٹاک مارکیٹ 6 سے 20 مارچ کے درمیانی عرصے میں گر گئی، اور اسٹاک کی مالیت میں سے 355 ارب روپے ختم ہو گئے اور اسٹاک مارکیٹ کو بند کرنا پڑ گیا۔ غیر ملکی سرمائے کی پرواز کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ  نے سری لنکا کے روپے کو امریکی ڈالر کے سامنے ڈھیر کر دیا اور لوگوں پر غربت کا ایک نیا طوفان حملہ آور ہو گیا۔ لاطینی امریکا کی بدترین صورتحال ہمارے سامنے ہے جہاں قرض کے کاغذات کی  اسٹاک مارکیٹ میں تجارت کی روایت بہت پرانی ہے اور اسی وجہ سے لاطینی امریکا وال اسٹریٹ کے سرمایہ داروں کے لیے پیسہ بنانے کی ایک مشین بن چکا ہے جو بھرپور نفع کمانے کے بعد بڑے پیمانے پر سرمایہ نکال لیتے ہیں اور غریب لاطینی امریکیوں کو نقصان اٹھانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ ارجنٹینا کے مرکزی بینک نے بظاہر کچھ رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن اس کے باوجود اس مالیاتی سال میں ملک سے کارپوریٹ ڈالر کی پرواز میں اضافہ ہوا اور صورتحال 2001 میں پیدا ہونے والی بدترین معاشی بحران جیسی ہو گئی، مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا جس نے لوگوں کی کمر توڑ ڈالی ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو اور خصوصاً ہماری افواج!

اسلام میں کوئی سرمائے کی مارکیٹ نہیں ہوتی جہاں سرمائے کی تجارت کی جاتی ہو کیونکہ یہ سود ہے اور سود کی اسلام میں بہت سخت ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ اسلام مالیاتی مارکیٹس کی اجازت نہیں دیتا، جیسا کہ اسٹاک مارکیٹ، جن کے ذریعے کارپوریٹ کمپنیوں کے لیے سرمایہ جمع کیا جائے۔ بنیادی طور پر اسلام پبلک لیمیٹڈ کمپنی کو ہی تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے ان میں سرمایہ کاری کو تسلیم کرتا ہے۔ سرمایہ کاری پر اسلام کے احکامات مسلمانوں کو شراکت داری اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں جہاں سرمایہ کاری حقیقی معیشت میں کی جاتی ہے تاکہ حقیقی دولت پیدا ہو یعنی حقیقی معاشی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری  کر کے نفع کمایا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت نے ہمیں کمپنی ڈھانچے بتا دیے ہیں؛ الابدان، العنان، مضاربہ اور المفاوضہ، جو حقیقی معیشت یعنی صنعت، زراعت اور تجارت میں مضبوط اور یقینی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ کی قیاس آرائیوں کے ذریعے معیشت کو زبردست نقصان پہنچانے والے دروازے کو ہی بند کر دیتے ہیں۔

 

یقینی معاشی بحران سے بچنے کا واحد حل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی کا قیام ہے۔ یقیناً یہ خلافت کے قیام کا وقت ہے جو معیشت کو چلانے کے لیے اسلام کے احکامات کو نافذ کرے گی اور مسلم علاقوں کو ایک بار پھر معاشی خوشحالی سے مالا مال کر دے گی جیسا کہ اس سے پہلے کئی صدیوں تک مسلمانوں  نے اسلامی حکمرانی کے دور میں زبردست معاشی خوشحالی دیکھی تھی۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی کی بحالی کے لیے خلافت کے داعیوں کی جدوجہد کا حصہ بن جائیں۔ اور یہ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم افواج میں موجود اپنے والد، بھائیوں اور بیٹوں سے مطالبہ کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں جو اپنے عالمی رہنما اور سیاست دان شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی قیادت میں نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے تاکہ بغیر کسی مزید التواء کے اسلام کے احکامات کا عملی نفاذ شروع ہو سکے۔

 

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ

"اور جو (مال) تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی اللہ نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا " (القصص، 28:77)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک