الإثنين، 10 ربيع الأول 1442| 2020/10/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    11 من محرم 1442هـ شمارہ نمبر: 11 / 1442
عیسوی تاریخ     جمعہ, 11 ستمبر 2020 م

پریس ریلیز

'واحد قومی نصاب 'مغربی ثقافتی اداروں کی سفارشات پرمبنی وہ گھناؤنا منصوبہ ہے

جو ہماری آئندہ نسلوں کی اسلامی شناخت پر وار کر رہا ہے

 

اسلامی ریاست  میں تعلیم کا مقصدمنفرداسلامی شخصیات بنانا اور زندگی سے متعلق علوم سکھانا ہے۔ تاہم 'واحد قومی نصاب ' کے پروجیکٹ کا مقصد یہ نہیں۔ چند آیات اور احادیث کو حفظ کرنے کے پیچھے چھپایا گیا 'واحد قومی نصاب' کا منصوبہ دراصل مغربی ثقافتی اداروں کی سفارشات کے مطابق ہماری نئی نسلوں کو شاہین کے بجائے چوزہ بنانے کا پروجیکٹ ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصدہماری آئندہ نسلوں کو پرائمری سے ہی دین حق اسلام، امت مسلمہ، ہماری عظیم الشان تاریخ اور اسلامی ہیروز کی بنیاد پرمبنی برتری کی سوچ سے ہٹا کر انھیں محض انگریزوں کی کھینچی گئی لکیروں کے اندر محدود جغرافیائی شناخت دینا ہے، تاکہ وہ  اپنے دین، تاریخ، اقدار اور ہیروز پر شرمندگی اور احساس کمتری کا شکار ہو کر حق پر ہونے کے احساس (Sense of Righteousness) سے محروم ہو جائیں۔  یہ حق  پر ہونے کا احساس ہی ہے جو ہمیں دنیا پر اللہ کے نازل کردہ کامل دینِ اسلام کی حاکمیت اور غلبے کیلئے اکساتا اور مجبور کرتا ہے۔ مثلاً اس نصاب کے رہنما اصول  بیان کرتے ہیں کہ تعلیمی مواد لازمی طور پر"ثقافتی غیر جانبداری" کا مظاہرہ کرے ، یعنی اسلام  اور اسلامی تہذیب دوسرے مذاہب اور دیگر کفریہ تہذیبوں سے برتر نہیں بلکہ انھی کی طرح ہیں ۔  اس نصاب کے مطابق سکولوں میں خلافت کے بجائے "جمہوریت کی برتری"  کو واضح کرنا ہو گا اور امت کے نظرئیے کے بجائے جغرافیائی شناخت یعنی  پاکستانیت پر فخر کو پروان چڑھانا ہو گا۔  مزید برآں یہ نصاب بچوں کو یہ پڑھائے گا کہ اسلامی اخلاقیات وحی کی بنیاد پر منفرد نہیں بلکہ عیسائی،یہودی، بدھ یا ہندو اخلاقیات  ہی کی طرح ہیں تاکہ اسلام کو بچوں کے ذہنوں میں دوسرے مذاہب کے برابرلا کھڑا کیا جائے۔   

 

ہرقوم کو اپنی نسل کو منفرد شخصیت کا حامل بنانے کیلئے ایک آئیڈیالوجی، تاریخ اور ہیروز کی ضرورت ہوتی ہے۔ پرائمری تعلیم کے درجے پر جب بچے کا ذہن سطحی لیول پر ہوتا ہے، تو  اسےمنفرد سانچے میں ڈالنے کیلئے آئیڈیالوجی، تاریخ اور ہیروز کے مثبت پہلوؤں کو آسان انداز میں اجاگر کیا جاتاہے، تاکہ بچہ اس قوم کا ایک مخصوص فرد بن سکے ، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے درجے پر اس فہم میں گہرائی لائی جاتی ہے،  جس میں حقیقی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور پیچیدگی سکھائی جاتی ہے، تاکہ میچوریٹی  کو حاصل کیا جا سکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں تمام معاشرتی نظام بدرجہ اتم اپنے کمال پر وحی کے ذریعے عطا کر دئیے ہیں، جو ہر دور اور ہر معاشرے کیلئے تا قیامت آئیڈیل ہیں۔ پس یہ رہنمائی وہ ناقابل تبدیل رہنمائی ہے جس میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں۔  اسلئے اسلام ثقافتیاور قانونی اور تجرباتی علوم یعنی سائنس میں فرق کرتا ہے اور Critical Thinking کومجموعی طور پر تجرباتی علوم (Science) تک محدود رکھتا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا،

إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَىْءٍ مِنْ رَأْىٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ

"میں ایک انسان ہی ہوں. جب میں تمھیں دین کے بارے کوئی حکم دوں، تو اطاعت کرو، لیکن جب میں تمہیں اپنی رائے دوں (دنیاوی معاملات کے حوالے سے)، تو جان لو کہ میں ایک انسان ہی ہوں" (مسلم) ۔

 

تاہم 'واحد قومی نصاب' مغربی سیکولرزم کی سوچ کا عکاس ہے، جو اسلام کو بطور دین مسترد کرتا ہے۔ اسلئے یہ نصاب ثقافتی اور قانونی علوم میں بھیCritical Thinking  کے نام پر  progressive mentality بنانا چاہتا ہے، تاکہ ہم بھی اللہ کی وحی کو پرے دھکیل کر اپنے معاشروں کی تنظیم کیلئے مغربی تہذیب کی پیروی میںانسانی ذہن کو قانون سازی کا منبع بنا لیں اور شریعتِ اسلامی کو پسِ پشت ڈال دیں ۔

 

یہ وہ نصاب ہے جس کے ذریعے ہمارے بچوں کو وہ نظریات پڑھائے جائیں گے جس کے بعد ہمارے بچے غیر محسوس انداز میں محمد بن قاسم کی جگہ راجہ داہر اور محمود غزنوی کی جگہ آشوکا کو ہیرو سمجھیں گے۔ ان کی نظر میں مغربی غلیظ تہذیب انسانیت کی معراج جبکہ اسلام نعوذ باللہ  عقل و فکر پر قفل لگا کر ترقی کو روکنے والا مذہب ہو گا جو عیسائیتیایہودیت کی طرح محض ذاتی چوائسز کا نام ہو گا ۔   ہمیں ہماری جڑوں سے کاٹنے والا سیکولرزم میں ڈوبا یہ خنجر مغرب کی جانب سے خلافت کے قیام کو روکنے کی کوششوں کی کڑی ہے جس کا ہر اول دستہ باجوہ -عمران جیسے مسلم حکمران ہیں۔ یہ صرف خلافت کا تعلیمی نظام ہی ہو گا جو امام ابو حنیفہ اور امام شافعی جیسے علماء، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جیسے جرنیل اور ہارون الرشید اور سلیمان القانونی جیسے حکمران پیدا کرے گا  ،ایسے افراد  جو اسلامی تہذیب کے محافظ اورمنفرد اسلامی شخصیات ہوں گی۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک