الخميس، 23 ذو الحجة 1441| 2020/08/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

سلامتی کونسل کو خیر مقدم نہیں کہتے اور نہ ہی اس کی سزاؤں سے خوشی ہوئی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے حوالے سے منعقدہ خصوصی مشاورتی نشست کا اختتامی بیان جاری کردیا۔ یہ میٹنگ29 اگست 2014 کو کونسل کے صدر اوراقوام متحدہ میں برطانیہ کے مستقل نمائندے مارک لائل گرانٹ کی صدارت میں ہوئی ۔بیان میں تنبیہ کی گئی کہ سیاسی استحکام میں رکاوٹ بننے والوں، بالخصوص حوثیوں پر سزائیں عائد کی جائیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ: "سلامتی کونسل کو یمن میں امن وامان کی صورتحال پرگہرا افسوس ہے، جو عبد الملک الحوثی کی قیادت میں حوثیوں کی کاروائیوں کے باعث بگڑ چکی ہے اورحوثی لوگ عبد الملک کے ساتھ تعاون اس لئے کرتے ہیں تاکہ سیاسی حکومت کی منتقلی کو سبوتاژ کیا جائے اور یمن کے امن کو تہس نہس کردے"۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ : "سلامتی کونسل عبداللہ یحییٰ الحاکم (ابوعلی الحاکم ) کی امارت تلے حوثی فورسز کی کاروائیوں کی مذمت کرتی ہے، جس نے 8 جولائی کو یمن بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور عمران کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سلامتی کونسل حوثیوں کو دعوت دیتی ہے کہ :1۔ عمران سے اپنی فورسز نکال کر اس کو یمنی حکومت کے کنٹرول میں دیدیں، 2۔ یمنی حکومت کے خلاف جوف میں تمام معاندانہ مسلح کاروائیاں بند کردیں، 3۔ صنعاء اور اس کے اطراف میں قائم کئے گئے چیک پوائنٹ اور کیمپس ختم کردیں"۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ: "ایک اور پہلو سے، سلامتی کونسل تمام ممبر ممالک کو دعوت دیتی ہے کہ وہ یمن کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے اندر کشمکش بھڑکانے کے لئے مداخلت سے باز رہیں اور وہ سیاسی حکومت کی منتقلی میں تعاون کریں"۔
ہم پہلے ہی متعدد پریس ریلیز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ مغرب اور سلامتی کونسل کی آغوش میں اپنے آپ کو پھینک دینا خطرناک ہے ۔ اس کونسل کو اگر کسی چیز کی فکر ہے تو صرف یہ کہ وہ اس کے اندر موجود طاقتور ممالک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔ یہ کونسل لوگوں کو خائف کرنے، ملکوں کے ٹکڑے کرنے اور فتنے کھڑے کرنے کا ایک استعماری آلہ کار ہے جبکہ اس نےمسلمانوں کے کسی ایک مسئلے کی حمایت نہیں کی۔ اگر چہ کچھ لوگوں کو سلامتی کونسل کی کاروائیوں پر بظاہر ہمدردی کا دھوکہ ہوجاتا ہے مگر ایسی کاروائیاں اندرونی طورپر عذاب کا سامان لئے ہوئے ہوتی ہیں، یہ سراب ہوتی ہیں جس سے انسان کو دھوکہ ہوجاتا ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمارے لئے ان کے ذریعے طاقت حاصل کرنا حرام قرار دیا ہے بلکہ ہمیں ان کے بارے میں چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بتا یا ہے کہ یہ لوگ آپ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے دین وملت کو نہ اپنا لیں ۔ تو ان کا دین دھوکے اور فریب کا لباس پہن کر آرہا ہے یعنی جمہوریت اور سول وجمہوری حکومت جیسے شرع مخالف افکار اور نظام۔
ہم ریاست اورباہمی گفت وشنید کرنے والی قوتوں، بلکہ جنگجوؤں کو بھی یمن کے اندر ان مداخلتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان مداخلتوں پر دستخط ان ہی لوگوں نے کئے تھے بلکہ ان مداخلتوں کے لئے سرخ جھنڈا ان ہی لوگوں نے لہرایا تاکہ وہ یمن میں آکر اپنے اثر ونفوذ اور اس کے وسائل پر کشمکش اور لڑائی کا آغاز کریں ۔ ان کا مقصد صرف ان حقیر مقاصد کا حصول تھا جو خطے کے ان ممالک نے انہیں سمجھا دیے ہیں، جیسے سعودیہ اور ایران، جن کے مغرب کے ساتھ روابط ہیں۔ یہ ممالک استعماری منصوبے کا حصہ ہیں جن کے اندر سے مغرب یمن میں اپنے مفادات کے لئے کشمکش کے لئے راہ نکالتا ہے۔ یہ وہی اینگلو امریکی تنازعہ ہے جسے سیاست دان تو کیا عام لوگ بھی جانتے ہیں۔ بے شک سیاسی بے وقوفی یمن کی سیاسی طاقتوں کے لئے ایک مصیبت ہے کیونکہ یہ اب بھی اس گھمنڈ میں ہیں کہ وہ اچھا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ ہم سیاسی خود کشی کررہے ہیں۔ جب یہ بے وقوف ایسے کام کر ڈالتے ہیں کہ جن کے خطرناک نتائج کا انہیں کوئی ادراک نہیں ہوتا اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی کاروائیاں اس استعمار کے مفاد میں جارہی ہیں جس کو یہ لوگ طرح طرح کی گالیاں دیتے رہتے ہیں بلکہ کبھی کبھار یہ طاقتیں ایک طرف استعمار کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کرتی ہیں جبکہ دوسری جانب اسی استعمار کے ثقافتی باقیات اور نظام حیات کو اختیار کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو ملک کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کی طرف لے جارہے ہیں ۔ ایسا کرکے وہ مغرب کی خدمت ہی کرتے ہیں بلکہ مغرب کو اپنا دل دے بیٹھے ہیں اور مغرب کی مہرومحبت اور عنایات کے حصول کے لئے اس کی پسندیدہ اصطلاحات کو استعمال کرکے اس کی چاپلوسی کرنے سے نہیں شرماتے ، جیسے دہشت گردی، تکفیری یا شیعہ اور روافض وغیرہ جیسی اصطلاحات ؟ اور اللہ کے بندوں کو وہ نام دینے سے شرماتے ہیں جو اللہ نے ان کا رکھا ہے یعنی مسلمان، ﴿هو سماكم المسلمين﴾ "اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا" (الحج:78)۔
سلامتی کونسل کے بیان میں مضحکہ خیز بات یہ کہی گئی کہ "سلامتی کونسل تمام ممبر ممالک کو دعوت دیتی ہے کہ وہ یمن کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے اندر کشمکش بھڑکانے کے لئے مداخلت سے باز رہیں اور سیاسی حکومت کی منتقلی میں تعاون کریں"۔ کیا یہ مداخلتیں اس لئے نہیں ہورہیں کہ اس نے اپنے خوشامدیوں کو اس کے احکامات دیے ہیں تاکہ وہ یمن میں اپنے مفادات پر کشمکش شروع کریں ؟ پھر جب کشمکش کے طرفین (اینگلو امریکن) کسی مصالحت یا یمن کے وسائل میں شراکت پر متفق ہوجاتے ہیں تو یہ نوکر اپنے آقا کے اوامر کے خلاف قدم اٹھائیں گے۔ یہ بہت دور کی بات ہے ۔ تو ان تنظیموں سے وہی لوگ دھوکہ کھا جاتے جن کی سوچ غلاموں کی ہو کیونکہ ایسے لوگ اپنے مفادات خود حاصل نہیں کرسکتے ۔ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا اختیار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو ان کوسرمایہ فراہم کرتے ہیں۔
اے یمن والو! رسول اللہﷺ نے تمہارے جس ایمان اور حکمت کے بارے میں بتایا ہے اس کی رو سے تم پر لا زم ہے کہ اپنے مسائل کو اپنے پروردگار کی کتاب اور سنت رسولﷺ کی روشنی میں حل کرو اور استعماری کفار سے تقویت حاصل کرنا تمہارے اوپر حرام ہے، خواہ کسی بھی نوع کی ہو۔ تو کفار کو اپنے اوپر اختیار مت دو، اللہ سبحانہ فرماتے ہیں (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا) "اے ایمان والوں! مؤمنین کو چھوڑ کرکفار کو اپنا دوست مت بناؤ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم پر اللہ کی واضح حجت قائم ہوجائے؟" (النساء:144)۔ حزب التحریر تمہیں اس چیز کی طرف بلاتی ہے جس میں تمہارے لئے دنیا او ر آخرت کی خیر ہے ۔ یہ وہ حزب ہے جو اندھا دھند تعصب کرتی نہ ہی کسی کے ساتھ مخاصمت اس کو حکم شرعی کی مخالفت پر کھینچ لاسکتی ہے۔ یہ کبھی بھی اللہ کے غضب اور غصے پر خوش نہیں ہوتی۔ یہ حزب تمہیں ایک امت بنانے کی قابلیت رکھتی ہے اور یہ تمہارے درمیان اختلافات کو دوسری خلافت راشدہ کے سائے میں سدھار سکتی ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے، اور تمہارے نبیﷺ نے اس کی بشارت دی ہے ۔ ہم اسی کی طرف تمہیں بلاتے ہیں تاکہ اپنے حالات کو ٹھیک کرسکو ۔ اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہی تمہارا دوست اور کارساز ہے ۔

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک