السبت، 28 ربيع الأول 1439| 2017/12/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

جمہوریت: ہم تنگ آچکے ہیں!

 

کینیا کے 2017 کے عام انتخابات میں ابھی دومہینے باقی ہیں۔ یہ انتخابات بارہویں پارلیمنٹ کو وجود میں لانے کے لئے منعقد کیے جا رہے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی جماعتوں کے چھتری تلے کئی قبائلی اتحاد وجود میں آچکے ہیں۔ان اتحادوں کےسربراہان رقوم تقسیم کرتے ہوئے عوام کو دھوکے میں مبتلا کر کے انتخابات میں شمولیت اختیار کرنے کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ انتخابات کے آنے سے قبل ہی پارٹیوں میں جمہویت کی گندگی ظاہر ہو چکی ہے اور وہ ہر نوع کے فساد ،قتل وغارت گری اور انارکی پھیلانے پر اتر آئے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ یہ جمہوریت کی سیاہ کاریاں ہی ہیں کہ یہ لوگ نہ صرف معاشرے کو متحد رکھنے میں ناکام ہو چکے ہیں بلکہ لالچ ،کرپشن اور قبائلی تعصب کی سیاست کو بھی رواج دیا ہے۔

 

               یہ انتخابات مسلمانوں کے خلاف چندسالہ ظالمانہ پولیس آپریشن کے بعد عمل میں آرہے ہیں ،جس میں مسلم اکثریتی علاقوں جیسا کہ (coast) ساحلی اور شمال مشرقی خطے کو نشانہ بناتے ہوئے پولیس فورس کے ہاتھوں مسلم نوجوانوں کو ریاستی طور پر اغوا کر کے تختہ مشق بنایا گیا ۔اسی طرح شہر نیروبی میں بھی نام نہاد آپریشن usalama watch کی آڑ میں eastleigh کے باسیوں کو شدید سردی کے موسم میں جبراً   ان کے گھروں سے نکال کر kasarani اسٹیڈیم لے جایا گیا۔مزید برآں ایجنٹ حکومت، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مغربی ریاستوں کی دباؤ پر بے شمار گھناؤنے حربے استعمال کر رہی ہے۔

 

             یہ انتخابات ایک ایسے وقت پرہو رہے ہیں کہ کینیا کے مسلمان اپنے مستقبل کے بارے میں کئی سوال اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ کئی مسلم رہنما ایسے بھی ہیں جو لوگوں کو اس کفریہ جمہوری نظام میں شرکت کرنے اور ووٹ ڈالنے کی پُرزور ترغیب دیتے ہیں لیکن درحقیقت ان کی پکار کو مسلمانوں کی غالب اکثریت کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے جوکہ حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں نشانہ بنے۔علاوہ ازیں سیاسی جماعتیں اور ان سے وابستہ مسلمان نمائندے اپنے کئے ہوئے وعدوں پر پورا نہ اتر سکے اور نہ ہی مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لئے قابلِ قدرجدوجہد کر سکے یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو مزید ابتر صورتحال سے دوچار محسوس کرتے ہیں۔

 

         اگرچہ انتخابات ہونے میں ابھی کئی مہینے باقی ہیں لیکن اس کی گہما گہمی زور و شور سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اور چونکہ یہ انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو اس کے سامنے ہر معاملے کی اہمیت یا تو ختم ہو کے رہ گئی ہے یا پھر نسبتاً کم اہمیت اختیار گئی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ تمام اہم مسائل چاہے وہ معاشی اور معاشرتی ہوں یا تعلیمی اور طبی ہوں یہاں تک کہ قحط ،سیلاب اور بد امنی جیسے بڑے مسائل کو بھی ثانوی حیثیت دے کر پسِ پشت ڈالا جا چکا ہے۔اور یہ تمام حربے صرف ووٹ جیتنے کے چکرمیں زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنےکے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

           اگرچہ یہ سب وہ لاحاصل سر گرمیاں ہیں جو ہر الیکشن سے قبل دوہرائی جاتی ہیں۔سو آخر کار ہم سمجھتے کیوں نہیں ؟ ۔ ہم یہ سوال اٹھاتے کیوں نہیں کہ ہم آخر کیوں اس مردہ جمہوری نظام کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو ہماری بربادی کی اصل وجہ ہے۔جس نے ہمیں الیکشن سے پہلے ،الیکشن کے دوران اور الیکشن کے بعد بھی مفلوج کر کے رکھا ہوا ہے ۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ جوں جوں وقت گزرتا جا تا ہے ایک عام آدمی کے لیے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں؟۔اگرچہ وہ تبدیلی کی امیدلے کر ہی اس نظام میں حصہ لیتا ہے۔

 

       ہم ہر الیکشن میں خوف اور امید کی بنیاد پر شرکت کرتے ہیں۔یا تو ہمیں خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ ہماری شرکت نہ کرنے سے حالات مزید ابتر ہو جائیں گےیا پھر ہمیں یہ جھوٹی اور لاحاصل امید ہوتی ہےکہ ہماری شرکت کرنے سے کوئی تبدیلی واقع ہو جائے گی!

 

 

﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنْ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ

“کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہے؟ یہ بات ایسی قوم کے لئے ہے جو یقین رکھتی ہے”(المائدہ:50)۔

 

       جہاں تک جمہوری نظام میں شرکت اختیار کرنے کا تعلق ہے تو حزب التحریر کینیا نے ہمیشہ اسلام سے دلیل کی بنیاد پر لوگوں پر یہ امر واضح کر دیا ہے ۔اور ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس فرض کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اس شرعی اسلامی حکم کو لوگوں کے سامنےپیش کرنے کے فریضےسے کبھی تھک کر دستبردار نہیں ہونگے ، اگرچہ کچھ لوگوں نے اس پیغام سے منہ موڑا ہوا ہے اور جان بوجھ کر اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔اس کفریہ جمہوری نظام میں حصہ لینے کی حرمت اللہ کے دئیے ہوئے دینِ اسلام میں بالکل واضح ہے۔اس کفریہ جمہوری نظام میں حصہ لینے کی حرمت مسلمانوں پر واضح ہونا لازمی ہے،وہ یہ کہ اس نظام میں ووٹ ڈال کر شرکت کرنا اس لئے حرام ہےکہ اس کے ذریعے ایک ایسے حکمران کویا پھر ایک ایسے گروہ کو منتخب کیا جائے گا جو کفر کی بنیاد پر حکمرانی کرے گا ، جو اللہ کے مقابلے میں خود قانون سازی کرے گا۔جبکہ ہم مسلمانوں پر یہ امر روزِروشن کی طرح عیاں ہےکہ اسلام میں قانون سازی کا اختیار صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو حاصل ہے۔اور نوع انسان کو اپنی زندگیاں اللہ کے دیے ہوئے ان احکامات پر عمل کر کے ہی گزارنی چاہیے۔

 

﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾    

“اور حکم تو صرف اللہ ہی کے لیے ہے”(یوسف:40)۔

 

         اسلام میں انتخابات کی اجازت ضرور ہے مگر جب انتخابات اسلام کے عقیدے سے متصادم کسی اور نظام کے تحت کئے جائیں تو یہ صریح حرام ہے۔جمہوریت مغربی سرمایہ دارانہ نظام کا سیاسی نظام ہے جو کہ سیکولرازم کے عقیدے سے پھوٹا ہے ۔ سیکولرازم دراصل دین کو دنیاوی زندگی کے معاملات سے الگ کرنے کا نام ہے۔جب سے خالق اور اس کے نازل کردہ نظام کو انسانی زندگی کے معاملات سے جدا کر دیا گیا ہے، جو کہ دنیاوی زندگی میں اس کے لئے مشعلِ راہ ہے ،تب سے قانون سازی کا حق خالق سے چھین کر انسان کی محدود عقل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔لہٰذااس نظام میں  انسان اپنی محدود عقل کی بنیاد پر خود ہی نیکی و بدی اور نفع ونقصان کا فیصلہ اور انتخاب کرتا ہے۔ جبکہ نفع و نقصان کا پیمانہ درحقیقت زمان و مکان ، ماحول اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ ہی بدل جاتا ہے۔ایک چیز کو اگر حال میں نفع بخش تصور کیا جاتا ہےتو بعد میں وہی چیز زمان و مکان کی تبدیلی سے نقصان دہ بھی بن سکتی ہے،وبالعکس، کیونکہ اس آئیڈیالوجی میں مفاد ہی شرط اوّل ہے۔

 

جبکہ اس کے بر عکس اسلام میں حرام اور حلال کا تصور اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کے تابع ہے جو کہ دائمی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ احکام زمان و مکان کے تبدیلی کے لحاظ سے ہر گز تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ احکام پوری انسانیت کے مسائل کو احسن اور کامل طریقے سے حل کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی دور میں وقوع پذیر ہوں۔ اس کےبرعکس اگر قانون سازی کا اختیار انسان کو سونپ دیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے حاکمیت و اختیار کے بالکل برخلاف و منافی ہے۔ مزید برآں یہ سیکولر عقیدہ جس میں قانون سازی کا حق خالق سے چھین کر انسان کو سونپ دیا گیا ہے ،صریح کفر ہے۔ توپھر مسلمان کیسے ایک ایسے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں جس میں لوگ اللہ کے نازل کردہ احکامات کےبجائے کسی اورچیز کے ذریعے سے حکمرانی، اور شرع کی بجائے کسی اور چیز سے قانون سازی کریں؟۔جمہوری الیکشن میں کسی بھی تناظر میں شرکت کرنا انسان کی حاکمیت کو تسلیم کرنا ہےجو کہ صریحاًحرام ہے۔

 

       اے مسلمانو!

کیا آپ اس شریعت سے پہلو تہی اختیار کر رہے ہیں جو اللہ نے اپنے نبی پرنازل فرمائی ہے اور جو اپنی فطرت میں ایک مکمل اور کامل دین ہے یعنی دین ِ اسلام؟۔پھر آپ کیوں کچھ ایسے انسانوں کی محدود عقل پر انحصار کرتے ہیں جو حقیقتاً گمراہی پر بضد ہیں؟مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ ہم اسلام پر مکمل ایمان رکھیں اور اسے ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر اختیار کریں جو کہ تمام مسائل کا حل ہے۔اور مزید برآں اسے غیر مسلموں تک لے کر جائیں تا کہ اس کے ذریعے ان مصائب سے پوری انسانیت کی نجات ممکن بنائیں جس میں وہ گھری ہوئی ہے۔ یہ امر لازم ہے کہ ہم اسلام کو ایک درست دین کے طور پر اصل صورت میں اُن پر پیش کریں اور سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی اور جمہوریت جو کہ اس وقت دنیا پر غالب ہے، میں موجود مسائل ان پر افشاں کریں کیونکہ عوام دراصل اس نظام سے تنگ آچکے ہیں لیکن ان کو کسی متبادل نظام کا ادراک نہیں۔یہ بات برِاعظم افریقہ اور بالخصوص کینیا میں عیاں ہو چکی ہےکہ سرمایہ داریت نے اسے معاشی طور پر لو ٹ کر مفلس بنا دیا ہے ،با وجود اس کے کہ اس کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ امریکہ اور مغربی استعمار نے اپنے مفادات کے لیے اسے ایک نہ ختم ہونے والی قبائلی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔بے شک عوام اس ابتر صورتحال سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں کوئی متبادل بھی نظر نہیں آتا کیونکہ اسلام کی صورت پہلے ہی ان کے سامنے مسخ کی جا چکی ہے۔ لہٰذا یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر اسلام کو اس کی اصل صورت کے مطابق پیش کریں اور ان کے لیے ایک مثال قائم کریں۔تو پھر مسلمان کیسے اسلام کو چھوڑ کر اس مردہ جمہوری نظام میں شامل ہو سکتے ہیں؟ لہٰذا اس جمہوری نظام میں کسی بھی تناظر میں شرکت کرنا یا اس کی وکالت کرنا اسے اسلام کے خلاف مضبوط بنا دے گا۔کیا ہم غور نہیں کرتے کہ ہم نے اس معاملے کے بارے میں اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس روز جواب دینا ہے جس دن مال اور اولاد کسی کام نہیں آئے گی۔

 

   سرمایہ دارانہ آئیڈیالوجی اور اس کا جمہوری نظامِ حکومت جب سے افریقہ اور بالخصوص کینیا میں قائم ہوا ہے، اس سے عوام کے لئے کوئی خیر بر آمدنہیں ہوا بلکہ اسے برطانوی استعمار نے اس مقصد کے لئے جبراً   نافذ کیا تھا کہ مقامی آبادی کو غلام بنا کر اس کے وسائل لوٹ سکیں۔یہاں تک کہ برطانوی استعمار کے چلے جانے کے بعد بھی صورتحال تبدیل نہ ہو سکی کیونکہ انہوں نے مقامی باشندوں کو نام نہاد آزادی کا جھانسا دے کر دراصل ان پر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کو برقرار رکھا   ،تاکہ اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس طرح وہ مقامی باشندوں کو یہ فریب دینے میں کامیاب ہو گئے کہ ملکی سیاسی امور کی باگ ڈور دراصل ان کے اپنے ہی چنے ہوئے نمائندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ان کا یہ داؤ یقیناً کامیاب رہا یہاں تک کہ وہ عوام کو پُر فریب امیدوں کے بھنور میں پھنسا کر اس حد تک اندھا بنا گئے کہ وہ اس بات کا ادراک ہی نہ کر سکے کہ استعماریت دراصل ایک مختلف لباس میں ان پر مسلط ہو چکی ہے اور جس تبدیلی کی وہ آس لگا کر بیٹھے ہیں وہ کبھی حقیقت کا روپ دھار نہیں سکے گی کیونکہ سرمایہ داریت کا مبدا سوائےسراب کے کچھ نہیں۔

 

       اے مسلمانو!

استعماری سرمایہ دارنہ آئیڈیالوجی پوری دنیا میں ناکام ہو چکی ہے یہاں تک کہ ان ممالک میں بھی جو ترقی یافتہ کہلاتے ہیں ماسوائے ان گنے چنے مقتدر لوگوں کے لئے جو اس سے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز نے اسے کچھ سہارا دے رکھا ہے تو وہ اس کا جمہوری نظام ِ حکومت ہے جو عوام کو ہر الیکشن میں تبدیلی اور نئی صبح کا پُر فریب امید دلا کر اسے اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، جبکہ درحقیقت نظام جوں کا توں رہتا ہے جو کہ انسان تو درکنار ،جانوروں پر حکومت کرنے کے لائق بھی نہیں۔

 

             جبکہ ہم مسلمانوں کےپاس ایک متبادل کے طور پر اسلامی آئیڈیالوجی موجود ہے جس کا نظامِ حکومت خلافت ہے جو کہ وحیِ الہی پر مبنی ہے۔ایک ایسا عادلانہ نظام جو کہ انسانوں کے درمیان معاملات اور تعلقات کو اس خالق کے نازل کردہ احکامات کے مطابق قائم کرتاہے جس نے ہمیں پیدا کیااور جو ہمارے نفع و نقصان، ہماری ضروریات اور کمزوریاں بخوبی جانتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسلام کو سمجھ کر اسے ایک مکمل نظامِ زندگی کے طور پر اختیار کریں جو انسانیت کے تمام مسائل کا مکمل اور کامل حل فراہم کرتا ہے اور جو زمین پر سے سرمایہ داریت کا پھیلایا ہوا فساد اور کرپشن ختم کر کے خوشحالی لائے گا۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے ایسے خوش اسلوب طریقے سے پیش کریں کہ سرمایہ دارانہ پروپیگنڈے نے اسلام کے نشاتھ ثانیہ کے خوف سے ، ان کی نظروں میں اسلام کے خلاف جو دھول جھونکی ہوئی ہے، وہ رفع ہو سکے۔

 

           مغربی سرمایہ دارانہ نظام دراصل مردہ ہو چکا ہے، اب اسے آخری دھکا دے کر اسے انجام تک پہنچانے کے لئے اسلام کا باقاعدہ قیام ضروری ہے تا کہ لوگ خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر جاگ جائیں۔ ہمارے پاس اب کوئی عذر باقی نہیں رہا کہ ہم خاموشی اختیار کر کے حالات کی از خود تبدیلی کا انتظار کریں ،بلکہ یہ ہم پر لازم ہے کہ ہم جدو جہد کرکے نبوت کے نقشِ قدم پر تبدیلی لائیں وگرنہ ہم اس اذیت ناک صورتحال کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جائیں گے اور قیامت کے روز بھی ہمیں دردناک عذاب کا سامنا ہوگا۔

 

           حزب التحریر کینیا!

مسلمانوں کو پکارتی ہے کہ وہ حقیقی تبدیلی لانے کے لیے ہم سے قدم ملا کر چلیں تا کہ سرمایہ داریت کے پنجوں میں جکڑی ہوئی پوری انسانیت کو آزادی دلائی جا سکے۔ ہم امت میں موجود ہر ہوش مند شخص کو پکارتےہیں کہ وہ اپنا نقطہ نظر تبدیل کر کے اسلام کو ایک متبادل آئیڈیالوجی کے طور پر اپنائیں تا کہ جدوجہدکر کے انسانیت کو دائمی فلاح کی راہ پر گامزن کیا جاسکے، بجائے یہ کہ وہ ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھر اس انتخابی گرداب میں پھنس کر گردش کرتا رہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس نظام میں تبدیلی کےخواب ،سوائے سراب کے کچھ نہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى

“اور جس نے میرے ذکر (دین) سے منہ موڑا اس کی زندگی تنگ کر دی جائے گی اور قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ (طہٰ:124)

ہجری تاریخ :1 من شوال 1438هـ
عیسوی تاریخ : اتوار, 25 جون 2017م

حزب التحرير
کینیا

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک