الخميس، 26 ربيع الأول 1439| 2017/12/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ٹرمپ  : نو آموز

 

امریکی صدر  ڈونلڈ  ٹرمپ  کےسات مسلمان ممالک کے مسلمانوں پر پابندی کی وجہ سےامریکہ میں مقیم مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ نام نہاد"دہشت گردی کے خلاف جنگ"(War on Terror) کا  ہی تسلسل ہے جو دراصل اسلام مخالفت پر مبنی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا مقصد موجودہ حالات کو سمجھنا اور پھر ان پر حکم شرعی کی روشنی میں عمل کرنا ہونا چاہیے، جیسے  مندرجہ تفصیل بیان کی گئی ہے۔

 

1۔  یہ واضح ہے کہ مسلمان "دھکیلو اور کھینچو (Push and Pull)" کی حکمتِ عملی  نشانہ بن رہے ہیں جس کے تحت مسلمانوں کو  ریپبلکنز  ڈیموکریٹس کی استقبالیہ بانہوں میں دھکیل رہے ہیں ۔ دونوں اطراف مسلمانوں کے مفاد کے برخلاف سرمایہ داریت کے نظریے کے حامی اور پیروکار ہیں ، جو  واضح طور پراسلام سے متضاد ہے۔

یاد کیجیے جب اسی طرح کی پیشکش قریش نے محمد ﷺ کو کی تھی کہ آپؐ اسلام کی دعوت کو چھوڑ دیجیے تب آپؐ اس کفر معاشرے کا حصہ بن جائیں گے، لیکن  آپ ﷺ کا ردِعمل واضح تھا:

 

﴿لَكُمْدِينُكُمْوَلِيَدِينِ

"تمہارے لیے تمہارا دین، اور میرے لیے میرا دین" (الکافرون: 6)

 

اور ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ہی بہترین نمونہ ہے۔

 

2۔  جب انسان کی رہنمائی خوف کرتا ہےتو اس کی جبلتیں ہی  اس  خوف کے راستے کا تعین  کرتی ہیں۔ حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالی ٰنے آزمائش ضرور رکھی ہے مگر توکل اور صبر کرکے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب  حاصل کر سکتے ہیں۔

اے مسلمانو، بیشک ہم پر مشکل وقت آئے گا:

 

﴿أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

"کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم (یونہی بلا آزمائش) جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر تو ابھی ان لوگوں جیسی حالت (ہی) نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے، انہیں توطرح طرح کی سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور انہیں (اس طرح) ہلا ڈالا گیا کہ (خود) پیغمبر اور ان کے ایمان والے ساتھی (بھی) پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ بیشک اﷲ کی مدد قریب ہے۔"

(البقرہ: 214)

 

ہم خوف کو اپنے آپ پر حاوی اور ہمارے طرزِعمل پر اثر انداز نہیں ہونے  دیں گے۔ اس کا یہی آسان مطلب  ہو گا کہ ہم نے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ کر  ان دشمنوں کی چال کے مطابق امت اور اسلام سے دوری کو اپنا لیا ہے،یہ مسلمان کا  کردار نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس  ہمیں خود پر اعتماد ہونا چاہیے کہ ہم اسلام پر قائم رہیں، اسلامی تشخص اور اقدار کی حفاظت کریں،  معاشرےکو اسلام کی دعوت پیش کریں، اور اپنی آنے والی نسل کے لیے ایک مثال قائم کریں- یہ تمام ذمہ داریاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم پر فرض  قرار دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تنبیہ کی :

 

﴿فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ

"پس لوگوں سے مت ڈرو، مگر مجھ سے ڈرو ۔۔۔" (المائدہ: 44)

 

3۔  تباہی اور افراتفری کا تسلسل ہی سرمایہ داریت کا  وطیرہ ہے۔ ریپبلیکن ہوں یا ڈیموکریٹ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پالیسی میں دونوں برابر ہیں، چاہے اوبامہ کے دورِ حکومت میں خفیہ ڈرون حملے ہوں یا ٹرمپ کی کھلے بے دھڑک  اندھا دہند حملے، سرمایہ داریت کے تحت چلنے والی پالیسی میں دونوں بے رحمی سے عمل پیرا ہیں۔

 

دو ملین سے زیادہ لوگوں کو ملک بدر کرنے کی پالیسی پر اوبامہ کے دور میں عمل درآمد کیا گیا، اور اب اسی پالیسی کے سہارےٹرمپ عالمی طور پررشتہ داروں کو جدا  اور تباہ کر رہا ہے۔

 

مزید براں پناہ گزینوں کابحران دراصل سرمایہ داریت کی ہی پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت سات مسلم ریاستوں کو بمباری اور  قبضے کا نشانہ بنایا گیا اور اب انہی کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پرپابندی عائد کی جا رہی ہے۔ یہ پالیسی امریکی بمباری سے بچ جانے والے لوگوں کے لئے  مزید  ذلت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ

"اور یہود و نصارٰی آپ سے (اس وقت تک) ہرگز خوش نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی اختیار نہ کر لیں، آپ فرما دیں کہ بیشک اللہ کی (عطا کردہ) ہدایت ہی (حقیقی) ہدایت ہے، (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا:) اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے اس علم کے بعد جو آپ کے پاس (اللہ کی طرف سے) آچکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کے لئے اللہ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔" (البقرہ: 120)

 

اے مسلمانو،  درحقیقت اسلام کی طرف رجوع کرنا ہی اصل معاملہ ہے؛ مسلمانوں کے مابین وفاداری  کو مضبوط کرنا، ہر حال میں اسلام  پر عمل پیرا ہو نے کو اپنا نا، دعوت کے علمبردار بن کراسلام کے بارے میں پائے جانے والی منفی سوچ کو بدلنا،  دوہرے معیار اور کرپشن پر مبنی مغربی خارجہ پالیسی کو بے نقاب کرنا، اسلام کے احکامات اور اعلیٰ اقدار کا برملا اظہار کرنا،اسلام کی ہمہ گیریت کو متبادل حل کے طور پر پیش کرنا، اور مسلمان علاقوں میں اسلام کے احیاء کے فرض یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کی حمایت کرنا۔

 

اے مسلمانو، ہم اپنے حقیقی مفاد  یعنی دنیا اور آخرت میں کامیابی کی امید صرف  شرعی احکامات کی پابندی کے ذریعے ہی لگا سکتے ہیں کیونکہ اسی بنا پر یومِ جزا میں  فیصلہ ہو گا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ارادےاور حکم کے بغیر کوئی ذات ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور ہم آپ کو اس چیز کی طرف مدعو کرتے ہیں جس کی طرف اللہ تعالیٰ  نےسب کو دعوت دی:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

"اے ایمان والو! جب (بھی) رسول ﷺ تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول ﷺ کو فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو ۔۔۔" (الانفال: 24)

ہجری تاریخ :6 من جمادى الأولى 1438هـ
عیسوی تاریخ : جمعہ, 03 فروری 2017م

حزب التحرير
امریکہ

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک