الجمعة، 19 صَفر 1441| 2019/10/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ شام

ہجری تاریخ    27 من جمادى الأولى 1438هـ شمارہ نمبر: 012/1438
عیسوی تاریخ     جمعہ, 24 فروری 2017 م

شام کے جابر کے ساتھ تنازعے میں "ذلت سے بہتر موت" کے نعرے گونجتے ہیں جو حمائتیوں کی جانب سے دیے جانے والے گندے پیسے کی بد بو کو ختم اور سچے مخلص  کی مہک کو پھیلاتے ہیں

  

حمائتیوں کی جانب سے  دیے جانے والے پیسے نے حوران میں جنگ کی آگ کو بجھا دیا اور جنوب میں زیادہ تر علاقے میں  حکومت کے ساتھ  لڑائی رک گئی یہاں تک کہ حوران، جس کو کہ انقلاب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، نے انقلاب سے دستبرداری اختیار کر لی اور اپنے بھائیوں کی حمایت ترک کردی اور امریکی سیاسی حل کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مصالحت اس کا مقدر بن گئی۔۔۔۔

 

جنگ "ذلت سے بہتر موت" کا اعلان 12 فروری کو درعا میں کمرہ آپریشن البنيان المرصوص نے کیا اور اس اعلان نے گندے پیسے کے حامل حمائیتوں کی تدبیروں کو الٹا دیا اور مخلص جنگجو بڑی تعداد میں درعا میں داخل ہوئے اور اس جنگ میں شرکت کے لیے تیزی سے بڑھے جس کا بہت عرصے سے انتظار تھا۔  شام کے لوگ ایسی جنگ چاہتے تھے جس کا فیصلہ، اس کی تیاری وہ خود کریں اور صرف وہی اس کی پشت پناہی کریں  اور ان پر کسی "حمائتی" یا ان کے پروردہ کا کوئی کنٹرول نہ ہو۔

 

تو صورتحال ایسی پیدا ہوئی جسے بہت سے لوگوں نے دیکھا  کہ جنگجو اپنے لیڈروں کے خلاف کھڑے ہو گئے جن کے وہ حامی تھے اور انہوں نے حمائتیوں کی احکامات ماننے سے انکار کیا اور  یہ ثابت ہوا کہ ملک کے لوگ فیصلہ ساز ہیں ناکہ بیرونی ریاستیں اور ان کےآلہ کار اور پیسے۔

 

جہاں تک ریاستوں کی صورتحال ہے تو  ان کی اس جنگ سے نفرت اور عداوت تھی کہ انہوں نے اسے روکنے کی پوری کوشش کی جس کے نتیجے میں کئی مضبوط  گروہ جنگ سے پہلے پیچھے ہٹ گئے اور پھر  جنگ کو ناکام کرنے کے لیے انہیں مسلح ہونے سے روکنے کی بھی کوشش کی۔۔۔۔۔ اور اس جنگ کو روکنے کے لیے بھر پور دباؤ ڈالا۔ کئی لوگوں نے ان ریاستوں کے اعمال کا مشاہدہ کیا، اُس وقت اردن کی حکومت نے اس جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے سرحد بند کردی، انہیں علاج کی سہولتیں فراہم کرنے سے انکار کیا اور انہیں زخمی حالت میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جبکہ اسی دوران اردن کی حکومت نے اپنی فضائیں مجرم حکومت اور روس کے لیے کھول دیں کہ وہ آزادانہ نقل حمل کرسکیں اور حوران میں ہمارے لوگوں کو نشانہ بنا سکیں۔ ۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ مخلص لوگوں کے مسلسل لڑتے رہنے کے  ارادے کو کمزور نہ کرسکا، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں کامیابی سے نوازا۔ لہٰذا المنشيةکا زیادہ تر علاقہ آزاد کرالیا گیا جو  تضویراتی اہمیت کا حامل ہے اور جہاں حکومت اس کے بالکل بلمقابل اور نشانے کی زد میں  ہے، اس صورتحال نے حکومت کو پاگل کردیا اور اس نے اس علاقے پر تباہی  وبربادی مسلط کرنے کے لیے حملے تیز کردیے۔

 

جہاں تک حمائتیوں کے گندے پیسے کا تعلق ہے تو مجاہدین نے اسے مسترد کردیا ہے چاہے وہ بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہوا ور اس کی جگہ انہوں نے عوام کے اچھے پاک پیسے پر انحصار کیا چاہے وہ تھوڑا ہی ہو۔ عوامی حمایت میں اضافہ ہوا اور      لوگوں نے دل کھول کر اس جنگ کے لیے مال و دولت مجاہدین کے حوالے کی۔ اور اس بات کے باوجود کہ لوگوں کا یہ پیسہ قلیل ہے لیکن  ریاستوں کی جانب سے دیے جانے والے ان لاکھوں ڈالرز سے کہیں زیادہ  مبارک اور پاک ہے۔۔۔۔

 

شام کی سرزمین پر موجود عسکری گروہو: کتنے عرصے سے ہم آپ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حمائتی ریاستیں حکومت کے خلاف آپ کی کامیابی نہیں چاہتیں، نہ ہی اس کو گرانا چاہتی ہیں اور نہ ہی اس کی جگہ اسلام کی بنیاد پر ریاست کا قیام چاہتی ہیں۔۔۔۔ اور یہ ریاستیں آپ کو جو حمائت فراہم کرتی ہیں اس کا مقصد  یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لوگوں کو لے کر ان کے ساتھ چلیں اور انہیں اس قابل کردیں کہ اس قدر زبردست قربانیاں دینے کے بعد بھی وہ ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعے امریکی سیاسی حل کو نافذ اور  ایک مجرم حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں۔۔۔ لہٰذا ان کی حمائت سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور ان سے منہ موڑ لیں۔ آپ اور آپ کی عوامی حمائت کے درمیان جو تعلق موجود ہے اس کی اصلاح کریں اور ایک واحد سیاسی منصوبے کی پیروی کریں جو آپ کو ایک باخبر  اور  علم والی سیاسی قیادت کے پیچھے متحد کردے، جو اس حکومت کو گرانے اور اس کی جگہ اسلام کی ریاست قائم کرنے میں آپ کی قیادت کرے۔ اور اگر آپ ان ریاستوں کی چالاکی سے خوفزدہ ہیں تو آپ کے سامنے درعا کی مثال موجود ہے جسے حمائتیوں کی سازشیں ناکام نہ بنا سکیں۔

 

اے سرزمین شام کے مخلص جنگجووں: آپ یہ سمجھتے تھے کہ آپ حمائتیوں کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے،  آپ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے بغیر آپ محاذِ جنگ کھولنے کی طاقت نہیں رکھتےاور اب  آپ نے خود دیکھ لیا اور درعا کی جنگ نے آپ کے تصورات کو غلط ثابت کردیا۔۔۔۔ جب سے آپ  نے جہاد شروع کیا ہم نے آپ کو قیمتی نصیحتوں سے نوازا۔۔۔ اور اب ایک بار پھر آپ کے لیے دہرا رہے ہیں۔۔۔۔ اُن کے ہاتھوں میں ہاتھ دو جو آپ جیسے ہیں، اور ُان کو عسکری قیادت دو جو آپ میں سے اس کے قابل ہیں، اور اپنی عوامی حمائت پر صابر و شاکر رہیں، اور ریاستوں سے ہر قسم کا تعلق توڑ لیں، اور  حزب التحریر کے  سیاسی منصوبے کے لیے اس  کی قیادت کے پیچھے چلیں جو اللہ کے حکم سے  آپ کو ریاستوں کے دھوکے اور آپ کے خلاف اُن کی سازشوں سے آپ کو باخبر رکھے گی، اور آپ کو اس ہدف تک لے جائے گی جس کے لیے آپ باہر آئے ہیں یعنی حکومت کو گرانا اور اس کے کھنڈرات پر اسلام کے نظام کا قیام۔

 

اے شام کے لوگو:  آپ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی استقامت سے اس  تمام عرصے کے دوران شاطر ریاستوں کی سازشوں کو ناکام بنایا، اور آپ ہی  گروہوں اور جنگجووں کے حمائتی ہیں جو آپ ہی کے بیٹوں میں سے ہیں۔  آپ نے ہی ان میں موجود ٹیڑھے پن کو درست کرنا اور انہیں حق کی راہ پر چلنے پر مجبور کرنا ہے، اور آپ ہی وہ حمائت ہیں جو اسلام نے جہاد کے لیے بتائی ہے۔  لہٰذا اپنے بیٹوں کو حمائتی ریاستوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکیں جو انہیں تباہی کے راستے پر لے جائیں گی، انہیں ایک دوسرے سے لڑائیں گی، انہیں کمزور کریں گی اور حکومت کو اس بات کا موقع فراہم کریں گی کہ وہ انہیں الگ الگ کردے۔ لہٰذا اپنے بیٹوں ، مخلص جنگجووں کے قریب ہو جاؤ،ا ور ان کے تحفظ کے لیے ان کے گرد اکٹھے ہو جاؤ ، ان کی  حمایت و  پشت پناہی کرو اور ان کا خیال رکھو ، اور ان کے ساتھ حزب التحریر کے منصوبے پر اس کی سیاسی قیادت کے پیچھے چلو تا کہ حکومت کو گرانے اور اسلام کی حکمرانی کا تمہارا ہدف حاصل ہو۔

﴿وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ

"اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں"(یوسف:21)

 

ولایہ شام میں حزب التحریر کا  میڈیا آفس        

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ شام
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: +8821644446132 Skype: TahrirSyria
www.tahrir-syria.info
E-Mail: media@tahrir-syria.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک