الجمعة، 18 ربيع الأول 1441| 2019/11/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

  • پاکستان کے حکمرانوں نے آئی ایم ایف(IMF) کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں
  • تا کہ ہمارےوسائل سے استعماری منصوبوں، کمپنیوں اور قرضے دینے والوں کےمفادات کو پورا کیا جائے

 

11جون 2019 کو وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے پی ٹی آئی حکومت کا قومی بجٹ پیش کیا جو عوام پر بجلی بن کر گرا۔ ایک ایسے وقت میں جب لین دین اور پیداوار پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے پہلے ہی معیشت کا گلہ گُھٹ چکا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(FBR) گذشتہ مالی سال 19-2018 میں 4150 ارب روپے محصولات کا نظرثانی شدہ ہدف بمشکل پوراکرسکا ہے ، ایف بی آر کواس مالی سال 5555 ارب روپے ٹیکس کا تاریخی ہدف حاصل کرنے کے لیے عوام کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ،جو پچھلے مالی سال کے محصولات کے ہدف سے 33 فیصد زائد ہے۔ آئی ایم ایف(IMF) سے 6 ارب ڈالر قرض کی پہلی قسط (تقریباً 900 ارب روپے) کے حصول کے لیے حکمرانوں نے ٹیکسوں کی سطح میں کمر توڑاضافہ کردیا ہے جبکہ جنرل سیلز ٹیکس (GST) اور انکم ٹیکس جیسے ظالمانہ سرمایہ دارانہ ٹیکس یہ دیکھ کرنہیں لگائے جاتےکہ ٹیکس ادا کرنے والے پر ذمہ داریوں کا بوجھ کتنا ہے اور وہ کس قدر مالی مشکلات سے دوچارہے۔

 

بے رحم حکمرانوں نے اُن لوگوں پربھی ٹیکس عائد کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی جن پر زکوٰۃ تک عائد نہیں ہوتی بلکہ جوزکوٰۃ لینے کےحقدار ہیں۔ علاوہ ازیں یہ حکمران اِن کمرتوڑ ٹیکسوں کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے یہ ظالمانہ ٹیکس ادا کرنا ایک فریضہ اور فخر وثواب کا کام ہے۔ حکمران غریب اور مشکلات میں مبتلا لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں جبکہ ہمارےعظیم دین اسلام میں محصولات ان لوگوں سے وصول کیے جاتے ہیں جو معاشی طور پر آسودہ ہوں جیسا کہ زکوٰۃ اُن لوگوں سے وصول کی جاتی ہے جن کے پاس نصاب سے زیادہ سونا چاندی، کرنسی، مالِ تجارت یا مویشی ہوں ، یا خراج اُن لوگوں سےلیا جاتا ہے جو زرعی زمین کے مالک ہوں۔ یہ حکمران لوگوں سے ظالمانہ ٹیکس اکٹھے کرتےہیں جبکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ (یعنی شرع)کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کی دو لت میں سے کچھ بھی لینا گناہ ہے ،اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والا اپنے اوپر اللہ کی سزاکو واجب کر لیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔

كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ

”ایک مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، اس کا مال،اور عزت و آبرو “(مسلم)۔

 

حکمران ریاستِ مدینہ بنانے کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سرمایہ دارانہ ٹیکسوں کے حصول کے لیے لوگوں کاخون نچوڑ رہے ہیں جبکہ ہمارے دین کا نفاذ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بھاری صنعتوں، توانائی اور معدنیات کے شعبوں کے ذریعے ریاست کے بیت المال کے پاس خاطر خواہ محاصل جمع ہوں۔ خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ معیشت کے اُن شعبوں میں جہاں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے ، جیسا کہ بھاری صنعتیں، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور ٹیلی کمیونی کیشن وغیرہ، ان شعبوں میں ریاست حاوی ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت عنان،ابدان اور مضاربہ کمپنیوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے جن کی وجہ سے نجی کمپنیوں کے لیے سرمایے کی دستیابی خود بخود محدود ہوجاتی ہے۔ خلافت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ توانائی کے شعبے اور معدنی ذخائرسے حاصل ہونے والے محاصل پورے معاشرے پر خرچ کیے جائیں نہ کہ ان کی نجکاری کی جائے کہ جس کے نتیجے میں صرف چند افراد ان وسائل سے فائدہ اٹھا کر ارب پتی بن جائیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔

الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ

”مسلمان تین چیزوں میں شراکت دار ہیں: پانی، چراہ گاہیں اور آگ (توانائی)“(مسنداحمد)۔

 

ایک ایسے وقت میں جب مودی کی قیادت میں ہندو ریاست نے پاکستان کے خلاف جارحانہ کاروائیوں اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف مظالم میں اضافہ کردیا ہے توپاکستان کے بصیرت سے عاری حکمرانوں نے دفاعی بجٹ کو 1150 ارب روپے کی سطح پر منجمد کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درحقیقت دفاعی بجٹ منجمد نہیں ہوا بلکہ پہلے سے کم ہوگیا ہے جو کہ ایک خطرناک عمل ہے کیونکہ اِس وقت امریکہ کی خواہش یہ ہے کہ پاکستان ہندو ریاست سے “نارملائزیشن” کے ذریعے خطے میں ہندو ریاست کی بالادستی کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے۔ غافل حکمران یہ قدم اٹھا رہے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسلمانوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی صلاحیت اور طاقت پر خاص توجہ دیں تاکہ دشمن کو حملہ یا کوئی سازش کرنے کی جرأت ہی نہ ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشادفرمایا:۔

وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

”اور تم ان کے خلاف بھر پور تیاری کرو ، قوت اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، جن کے ذریعے تم اپنے اور اللہ کے دشمنوں پر دھاک بٹھا سکو اور اُن پر بھی جنہیں تم نہیں جانتے لیکن اللہ جانتا ہے۔ اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا “(الانفال 8:60)۔

 

یہ گناہ گارحکمران پاکستان کے مسلمانوں کو ٹیکسوں کے حصول کے لیے نچوڑ رہے ہیں اور ان کی افواج کو درکار وسائل سے محروم رکھ رہے ہیں لیکن قرضوں پرسود کی ادائیگی کے لیے کھلے ہاتھوں سے 2891.4 ارب روپے خرچ کرنے جارہے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے:۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ – فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ

” مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو)”(البقرۃ 279-278)۔

 

اور استعمار کی خدمت گزاری کے لیے یہ سب کچھ کرنا کافی نہ تھا کہ حکومت ِپاکستان ہمارے وسائل اور عوامی اداروں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ملکیت میں دینے کی آئی ایم ایف کی پالیسی کی مکمل حمایت کر رہی ہے جس کے نتیجے میں مقامی معیشت پر استعماری کمپنیوں کا کنٹرول مزید بڑھ جائے گا جبکہ دوسری طرف ٹیکسوں اور قرضوں پر ریاست کے انحصار میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر روپے کی قدر میں کمی کی تا کہ استعماری کمپنیاں ملکی وسائل اور کمپنیوں کو آسانی سے خرید سکیں کیونکہ روپے کی قدرمیں کمی سے مقامی معیشت میں غیر ملکی کرنسی کی قوتِ خرید بڑھ جاتی ہے جبکہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ استعماری کمپنیوں کے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف کی ہدایت کے سامنے سرنگوں ہو گئی ہے اوراِن کمپنیوں کو ٹیکس میں مراعات فراہم کر رہی ہے تا کہ یہ استعماری کمپنیاں زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں ۔ یہ ہے غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI)کی حقیقت جو کہ ہمارے وسائل اور پیداوار پر قبضہ کرنے کا استعماری آلہ ہے۔

 

اے پاک سرزمینِ پاکستان کے مسلمانو!

حکومت آئی ایم ایف کی اطاعت میں ٹیکسوں کے حصول کے لیے ہمیں نچوڑ رہی ہے اور ایک ایسے وقت میں کہ جب ہمیں دشمن کی جارحیت کا سامنا ہے ہماری افواج کی ضروریات سے غفلت برت رہی ہے ، محض اس لیے کہ قرض دینے والےاستعماری ادارےاپنی سودی قسطیں وصول کرسکیں،استعماری کمپنیاں پاکستان کے وسائل اورانفراسٹرکچرکو اپنے مفادمیں استعمال کرسکیں اور خطے میں ہندو ریاست کی بالادستی کے استعماری منصوبے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پاکستان کو بیش بہا اور وسیع قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ متحرک نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی سےنوازا ہے لیکن ان حکمرانوں کی جانب سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کےمتکبرانہ انکار نے اس بات کو یقینی بنادیا ہے کہ ہم غربت، مصائب اور مشکلات کے طوفان میں ہی گھرے رہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:۔

 

أَلَمْ تَرَى إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ – جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ

” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لااُتارا۔(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے“(ابراہیم 29-28)۔

 

اب اور کتنی تباہی، بدحالی اور ذلت کا سامنا کرنا باقی ہے کہ ہمیں یہ سمجھ آجائے کہ ہمارے لیےیہ لازم ہے کہ ہم نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کی جدوجہد کے لیے کمر بستہ ہو جائیں ؟ تو اے مسلمانو ! اب اور کیا دیکھنا باقی ہے؟

ہجری تاریخ :9 من شوال 1440هـ
عیسوی تاریخ : بدھ, 12 جون 2019م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک