الثلاثاء، 12 صَفر 1442| 2020/09/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اپنے امریکی آقاؤں کی اطاعت کرتے ہوئے، پاکستان کے حکمران مقبوضہ کشمیر پر ہندو ریاست کے قبضے کو مستحکم کرنے میں مکمل مدد فراہم کر رہے ہیں

 

5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کو زبردستی اپنا حصہ بنانے کے بعد ہندو ریاست خطے کے ممالک کے لیے مزید خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ مودی اُن لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو اس کی قابض افواج کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں؛ پس کشمیر میں مسلمانوں کی جاسوسی، پکڑ دھکڑ، تشدد، اپاہج کرنے اور قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ سفاک برطانوی راج کی طرح مودی بھی اُس آبادی کو اجتماعی سزا دے رہا ہے جس کے لوگ مسلح مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں، پس ان پر کرفیو مسلط کیا گیا اور خوراک و ادویات کی فراہمی منقطع کر دی گئی۔ مکار یہودی وجود کی طرح، ہندو ریاست بھی مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلمانوں کی بے دخلی اور ہندوؤں کی آبادکاری کی پالیسی اپنا کر زمینی حقائق تبدیل کر رہی ہے۔ ہندو ریاست نے ہمیں دھمکانے کے لیے کشمیری لائن آف کنڑول کی بار بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہری اور پاکستانی فوجی شہید ہو چکے ہیں۔

 

ہندو ریاست کا خطرہ بڑھ رہا ہے حالانکہ اس کی پست ہمت اور ذات پات کی بنا پر تقسیم فوج کسی مسلح مسلم قوت کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی جو شوقِ شہادت کے تحت بے دھڑک لڑتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت جب پاکستان کے مسلمانوں نے ڈوگرہ راج اور ہندو ریاست کی افواج کے خلاف لڑائی میں کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کی تو ہندو ریاست کشمیر کے ایک حصے کی آزادی کو نہ روک سکی۔ اسی طرح پچھلی سات دہائیوں کے دوران جب تک پاکستان کشمیر کے مسلمانوں کو مسلح جدوجہد میں مدد فراہم کرتا رہا، ہندو ریاست کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم نہ کر سکی ۔ اور آج بھی افواجِ پاکستان مقبوضہ کشمیر سے قابض ہندو افواج کو نکال سکتی ہیں، جنہیں فروری 2019ء کی محدود فوجی جھڑپ میں پڑنے والا بھرپور تھپڑ ابھی تک یاد ہے۔

 

لیکن اس کے باوجود ہندو ریاست کے بڑھتے ہوئے خطرے کی روک تھام اور ہندو افواج کی جارحیت کو چیلنج کرنے کے لیے پاکستان کی مسلم افواج کو حرکت میں نہیں لایا جاتا بلکہ پاکستان کے حکمران ہندو ریاست کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ان حکمرانوں نے ہندو ریاست کی پست ہمت اور تھکی ہوئی افواج کو سہولت پہنچانے کے لیے نہ صرف پاکستان کی افواج کو لڑنے سے روک رکھا ہے بلکہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت کے لیے پاکستان سے پہنچنے والی ہر قسم کی مدد کو بھی روک دیا ہے۔ واشنگٹن میں بیٹھے آقاؤں کا حکم ملنے کے بعد عمران خان نے 18 ستمبر 2019ء کو اعلان کیا تھا، "پاکستان سے جو بھی کشمیر میں لڑنا چاہتا ہے یا جہادکے لیے کشمیر جانا چاہتا ہے، تو وہ کشمیریوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم کرے گا۔۔۔جو کوئی بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا، وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا بھی دشمن ہو گا"۔

 

ایک طرف پاکستان کے حکمران لائن آف کنٹرول پر پابندیوں کو سخت سے سخت کر رہے ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو افواج کے خلاف جاری مزاحمت رُک جائے تو دوسری جانب ہندو ریاست کے ساتھ سرحدوں کو نرم کیا جا رہا ہے تاکہ ہندو ریاست کو علاقائی طاقت بننے میں سہولت فراہم کی جائے۔ ان حکمرانوں نے کرتارپور میں سرحد کو نرم کر دیا ہے، یوں دشمن پر خود اپنے دروازے کو کھول دیا ہے۔ ان حکمرانوں نے پاکستان کے راستے افغانستان کے ساتھ ہندو ریاست کی تجارت کے لیے واہگہ بارڈر کو نرم کر دیا ہے تاکہ ہندو ریاست کو افغانستان میں اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکے۔ ان حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والوں کے لیے اسلحہ اور مالی مدد کی فراہمی کا گلا گھونٹ دیا جبکہ دوسری جانب پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے دشمن پائلٹ ابھی نندن کو فوری طور پر رہا کر دیا۔ یہ حکمران اُن مجاہدین کو اغوا کرتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں جا کر قابض ہندو افواج کے خلاف لڑتے ہیں جبکہ گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ملاقات کی سہولت اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کرتے ہیں۔

 

پاکستان کے غدار حکمران ہندو ریاست کے لیے سہولت کار کا کردار اس لیے ادا کر رہے ہیں کیونکہ واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقاؤں نے ایسا کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ امریکہ ہندو ریاست کو علاقائی طاقت بنانا چاہتا ہے تاکہ چین اور اسلامی نشاۃِ ثانیہ دونوں کا مقابلہ کر سکے۔ تاہم واشنگٹن اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر پاکستان کسی بھی وقت بھارت کو مضبوطی سے چیلنج کرتا ہے تو بھارت خطے میں طاقت بن کر اُبھر نہیں سکتا۔ لہٰذا پاکستان کو روکے رکھنے کے لیے امریکہ کا سارا انحصار پاکستان کے حکمرانوں پر ہے تاکہ بھارت کی علاقائی بالادستی کو یقینی بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا عمران خان کی مدح و تعریف کرتا ہے اور اس نے جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی حوصلہ افزائی کی کیونکہ ان دونوں نے تاریخی غداری کرتے ہوئے اپنی روحوں کو صلیبیوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

باجوہ-عمران حکومت کشمیر میں جہاد کی مذمت کرتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،»

لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا«

"(مکّہ کی) فتح کے بعد اب (مدینہ) ہجرت کا حکم باقی نہیں، اب (اچھی)

نیت اور جہاد ہے، پس جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو" (بخاری)۔

یہ حکومت مقبوضہ کشمیر میں جہاد کرنے والوں کو دشمن اور اِس جہاد کو فتنہ قرار دیتی ہے جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

﴿وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾

"اور ان کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے تم بھی انہیں نکال دو" (البقرۃ، 2:191)۔

 

باجوہ-عمران حکومت ابھی تک بضد ہے کہ ہم جنگ کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ پاکستان اور ہندو ریاست دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، جبکہ دوسری طرف چین اور بھارت ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود کشمیر کی مسلم سرزمین پر اپنے اپنے دعوے کے حق میں ایک دوسرے کے خلاف لڑائی کر رہے ہیں۔ یہ حکومت اصرار کرتی ہے کہ پاکستان معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہے اور جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا جبکہ پاکستان کی سرزمین بے پناہ دولت سے مالامال ہے اور ان حکمرانوں کی طرف سے کفریہ قوانین کے نفاذ نے ہی پاکستان کو کنگال بنا رکھا ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کے مسلمان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد کی خاطر اپنا مال و دولت لُٹانے اور پیٹ پر پتھر باندھنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ عزت و پزیرائی اس میں ہے کہ جہاد سے انحراف کیا جائے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے خبردار کیا ہے،

«مَا تَرَكَ قَوْمٌ الْجِهَادَ إلاّ ذُلّوا»

"کوئی قوم جب جہاد کو ترک کر دیتی ہے تو وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہے" (احمد)۔

اے مسلمانانِ افواج پاکستان!

باجوہ-عمران حکومت امریکہ کی معاونت کر رہی ہے اور دشمن کو خطے میں طاقتور بنانے میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ باجوہ-عمران حکومت آپ کو دشمن کی جارحیت کا جواب دینے سے روکتی ہے تاکہ دشمن اپنے قدم مضبوطی سے جما لے اور اس کی طرف سے خطرہ مزید بڑھ جائے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِيَ اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ لاَ يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلاَ عَدْلُ عَادِلٍ، وَالإِيمَانُ بِالأَقْدَارِ»

"جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا" (ابو داؤد)۔

 

اگر ان حکمرانوں نے آپ کو حرکت میں لانے کا فیصلہ کیا ہوتا تو ان کا عمل درست ہوتا۔ لیکن چونکہ انہوں نے آپ کو جہاد کےفرض کی ادائیگی سے روک رکھا ہے، لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ آپ انہیں ہٹائیں اور ان کی جگہ ایسے حکمرانوں اور کمانڈروں کو لے کر آئیں جو آپ کو جہاد کے لیے متحرک کریں۔

 

غدار باجوہ-عمران حکومت کوہٹا دیں، اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے نُصرۃ فراہم کریں تاکہ آپ اپنا فرض بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کر سکیں۔ انصارِ مدینہ جیسا کردار اپنائیں جنہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی مدد و نُصرت کی یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی تعریف میں قرآن کی آیات نازل کیں اور فرشتے انصار کے کمانڈر سعد بن معاذؓ کے جنازے میں شرکت کے لیے آسمان سے نازل ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذؓ کے جنازے کے متعلق فرمایا،

«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ»

"یقیناً فرشتے ان کے جنازے کو اٹھائے ہوئے ہیں" (ترمذی)۔

 

ابھی بلا تاخیر حزب التحریر کو نُصرۃ فراہم کریں جو اپنے امیر، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ کی قیادت میں نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے قیام کے لیے سرگرمِ عمل ہے، جس کے بعد آپ کو ایسی قیادت حاصل ہو گی کہ جس کی کمان تلے آپ شوقِ شہادت میں پے درپے کامیابیاں حاصل کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ»

"کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے، سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ وہ دنیا میں واپس جا کر اللہ کی راہ میں دس مرتبہ شہید ہو، کیونکہ وہ شہید کو ملنے والے اعزاز و اکرام کامشاہدہ کر چکا ہے" (بخاری)۔

 

ہجری تاریخ :3 من ذي الحجة 1441هـ
عیسوی تاریخ : جمعہ, 24 جولائی 2020م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک