الإثنين، 12 ربيع الثاني 1441| 2019/12/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جمہوریت کے خاتمے اورنبی ﷺ کے طریقے پر خلافت کے قیام  کے لئے حزب التحریر کے ساتھ مل کر جدوجہد کرو

 

اے پاکستان کے مسلمانو! معاشی خوشحالی اور امن کی فراہمی میں موجودہ قیادت کی تباہ کن ناکامی اب  ہم  سب پر واضح ہو چکی ہے۔

 

جہاں تک معاشی خوشحالی کا تعلق ہے ، تو موجودہ قیادت آئی۔ایم۔ایف کے احکامات پر  ہماری معیشت تباہ کر رہی ہے جن احکامات میں  12 مارچ 2015 کے لیٹر آف انٹینٹ (LOI) کی شرائط بھی  شامل ہیں۔ وسیع محاصل کے ذرائعے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نجکاری کے ذریعے نجی کمپنیوں کے حوالے کیا جارہاہے جیسا کہ توانائی کا شعبہ، ٹیلی کمیو نی کیشن کا شعبہ اور تعمیرات کا شعبہ،اور نتیجتاً ہم ان وسائل سے محروم ہورہے ہیں جو ہماری بنیادی ضروریات بشمول تعلیم اور صحت کو پورا کرنے کیلئےضروری ہیں۔ مزید برآں حکومت ہم پر نئے ٹیکس لگا کراور پرانے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر کے مزید بوجھ ڈال رہی ہے جس سے  ہماری صنعت اور تجارت  مفلوج ہورہی ہے۔  یہی بوجھ کچھ  کم نہ تھا کہ حکومت   آئی۔ایم۔ایف اور دوسرے استعماری مالیاتی اداروں  سے سودی قرضے حاصل کر کے ہمیں  قرضوں کے بوجھ تلے  اس طرح دبا تی چلی جارہی ہے کے ہم کبھی بھی قرض کی اصل رقم واپس  کرنے کے قابل نہ رہیں۔

 

جہاں تک ہمارے تحفظ کا تعلق ہے تو ہماری افواج کو امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے جاسوسوں  اور خفیہ اہلکاروں  کا قلع قمع کرنے سے روکا جاتا ہے جو ہمارے شہریوں اور فوجیوں کا قتلِ عام کروارہے ہیں ۔ بلکہ حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ غیر ملکی قاتل ہمارے ملک میں بغیر کسی  جانچ پڑتال کے داخل ہوں، ہمارے حساس علاقوں میں اپنے اڈّے قائم کریں، آزادانہ ہمارے شہروں میں دندناتے پھریں اور اگر پکڑے جائیں تو انہیں  فوری رہا کردیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری افواج کو شمالی وزیرستان میں حرکت میں لایا گیا تا کہ ان زبردست جنگجوؤں کا خاتمہ کیا جائے جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی سے افغانستان پر امریکی قبضے کو مستحکم ہونے سے روکا ہوا ہے۔ اور جیسے یہ سب کچھ کم برا نہ تھا کہ اب حکومت  امریکی محکمہ خارجہ کی ہدایت پر بنائے جانے والے جوائنٹ گروپ آن ٹیررازم اینڈ لاء  اینفورسمنٹ (JWG-CTLE) کے منصوبے کو نیشنل ایکشن پلان کے نام سے نافذ کرنے کی بھر پور کوشش کررہی ہے جس کا واحد مقصد پاکستان میں اسلام کو کچلنا ہے۔  لہٰذا راحیل-نواز حکومت اسلام کے اظہار کو میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں "نفرت انگیز تقریر"، "انتہاپسندی" اور "اسلام ازم" قرار دے کر دبانے کی کوشش کررہی ہے اور ان  ہزاروں علماء اور مخلص سیاست دانوں کو گرفتار کرچکی ہے جو پاکستان میں خلافت کے قیام اور  افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف جہاد  کی دعوت دے رہے  ہیں۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

ہمیں  معاشی خوشحالی اور تحفظ فراہم کرنے میں موجودہ قیادت کی ناکامی کی وجہ  اِس کا جمہوریت پر عمل پیرا ہونا ہے۔ جمہوریت اپنی بنیاد سے ہی ان قیادتوں کو خود مختاری دیتی  ہے اور پھریہ قیادتیں اس خودمختاری کو استعمال کرتے ہوئے ایسے قوانین بناتی ہیں جن کا مقصد اپنے ذاتی مفاد اور اپنے مغربی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا جمہوریت میں حکمران اور حزب اختلاف  دونوں، پارلیمنٹ  میں  گٹھ جوڑ کے ذریعے اپنی خواہشات کے مطابق  آئین میں ترامیم کرتے ہیں، قوانین  اور ضابطےبناتے ہیں، استعماری طاقتوں کے مطالبات کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں  کہ ہماری معیشت اور امن و امان  سراسر تباہ وبرباد ہوجائیں۔

 

ہم کبھی بھی جمہوریت سےامیدیں وابستہ  نہیں کر سکتے  قطعِ نظر اس کےکہ  کون اِس کے ذریعے اقتدار میں آتا ہے۔ جمہوریت سے ایسی کوئی امید لگانا  اپنے پیروں پر کلہاڑی چلانے کے مترادف ہے کیونکہ  پھر ہم حقیقی تبدیلی لانے کے لئے حرکت میں آنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔ جمہوریت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قیادت کبھی بھی  عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس  نہ کرے  اور نہ ہی آخرت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا کوئی خوف رکھے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اللہ کے دین کو ایک مکمل ضابطہِ حیات کے طور پر مسترد کرنا ہے ۔  جمہوریت اس بات کا حکم دیتی ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے منع فرمایا  اور جسے اللہ اور اس کےرسول ﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے اس سے روکتی ہے۔  جمہوریت  صرف ہمارے مسائل اور مشکلات  میں مزید اضافہ ہی کرسکتی ہےاور دنیاوآخرت دونوں جگہ ہمارے لیے خسارے کا باعث ہے۔  اللہ سبحانہ  وتعالیٰ فرماتے ہیں،  

 

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى

"جو میرے ذکر (ضابطہ حیات) سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن بھی ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے"(طہ:124)۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

جمہوریت کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ اِس کا فی الفور خاتمہ کردیا جائے اور اس کی جگہ اسلام کے نظام حکمرانی، خلافت کو قائم کیا جائے۔ اسلامی حکمرانی کے تمام ادوار میں مسلمان انصاف اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ،جو سلسلہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی حکمرانی سے شروع ہوا، پھر خلفائے راشدین کے دور میں اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے خلفاء کے ادوار میں یہاں تک کہ برطانوی استعمار نے ترکی میں عثمانی خلافت کو عرب اور ترک قیادت میں موجود غداروں کی مدد سے1924 میں ختم کردیا۔ ریاست خلافت نے اس تمام عرصے میں اپنے شہریوں کو اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم،اندرونِ ریاست  تحفظ اور خوشحالی  اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ رتبہ اور عزت فراہم کی۔

 

اب یہ ہماری ذمہ داری ہے  کہ ہم حزب التحریر کی صفوں میں شامل ہوجائیں اور حزب کی اسلام کو ایک نظام زندگی کے طور پر قائم کرنے کی اِس  جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں  کیونکہ یہ وہ واحد مخلص اور باخبر قیادت ہے جو جمہوریت کے خاتمے اور خلافت کے قیام کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے بعد ہی ہمیں ایسی قیادت نصیب ہو گی جو صرف اللہ سے ڈرے ، حق کی بنیاد پر حکمرانی کرے اور تمام لوگوں کا  قومیّت ، مذہب، مسلک ، دولت یا رتبے کی تفریق کئے بغیر خیال  رکھے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں،

 

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّہ

"یقیناً ہم  نے تمہاری (نبیﷺ کی)  طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کا شناسا  کیا ہے"(النساء:105)۔

 

صرف اسی صور ت  میں ظلم و جبر کے دور کا خاتمہ ہوگا اور ریاست خلافت کی شکل میں اسلام کی حکمرانی  کی واپسی ہو گی۔ احمد نے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا،

 

ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ

"پھر ظلم و جبر کا دور ہو گا اور اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ جب چاہے گا اس کا خاتمہ فرمادے گا اور اس کے بعد نبوّت کے طریقے پر خلافت قائم ہو گی ، اس کے بعد آپﷺ خاموش ہو گئے"۔

 

اے افواجِ پاکستان کے افسران!

جمہوریت کے ہاتھوں ہم نے دشمنوں کے سامنےذلت و رسوائی اوربد تر ہوتی ہوئی معیشت ہی دیکھی ہے۔ مشرف-عزیز کا دورہو یا  پھر کیانی –زرداری کا دور اور اب راحیل-نواز کے دور میں بھی  جمہوریت ناکام ہی رہی ہے۔ لہٰذا آپ کیسے اپنی قیادت میں موجود غدّاروں کو اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ آپ کی طاقت و صلاحیت کو اس جمہوری  بھٹی  کی بقاء اور تسلسل کے لئے استعمال کریں جس میں جھونک کرہمارے لوگوں  اور ہمارے ملک کو جلا کر خاک کیا جا رہا ہے؟ اب یہ آپ پر لازم ہے کہ آپ  خلافتِ راشدہ کے فوری قیام کے لئے شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی قیادت میں حزب التحریر  کو نصرۃ فراہم کرتے ہوئے  اس جمہوری سرکس کا خاتمہ کریں۔

 

اور اگر آپ اس وجہ سے تذبذب اور ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں کہ آپ اپنا دنیاوی مال  و متاع نہ کھو بیٹھیں تو ہم آپ کو آپ ہی کی طرح کے اہلِ قوت  کا اجر یاد دلاتے ہیں ، وہ انصارِ مدینہ جنہوں  نے آپ سے پہلے رسول اللہﷺ کو اسلام کے قیام کے لئے نصرۃ فراہم کی تھی۔  اے انصار کے وارثو ! یاد کرو ، جب سعد ﷜ کا انتقال ہوا اور ان کی والدہ شدت ِغم سے رو پڑیں تو رسول اللہﷺ نے اِن سے کہا کہ،  

 

ليرقأ(لينقطع) دمعك،ويذهبحزنك،فإنابنكأولمنضحكاللهلهواهتزلهالعرش

"تمہارے آنسو  رُک جائیں  اور تمہارا غم ہلکا ہو جائے اگر تم یہ جان لو کہ تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کے لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسکرائے  اور ان کا عرش ہل گیا"(الطبرانی)۔

 

بھائیو یاد رکھو کیونکہ اب آپ کا وقت ہے۔ آپ کے لوگ آپ کا  انتظار کررہے ہیں کہ آپ آگے بڑھ کر انہیں اس کفر کی حکمرانی و غلامی سے نجات دلائیں اور اسلام کی حکمرانی  کو بحال کریں۔

 

 
29 رمــضان 1436
ميلادی تاريخ  2015/07/16
  حزب التحرير
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ :
عیسوی تاریخ : بدھ, 05 اگست 2015م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک