الخميس، 06 ذو القعدة 1447| 2026/04/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

متفرقات الرایہ – شمارہ 596

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

 

متفرقات الرایہ – شمارہ 596

 

صفحہ اول کی سرخی

اس حقیقت کو بدلنے کا راستہ واضح ہے، اور یہ وہی راستہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت کے آغاز میں وحی کے نزول سے لے کر تاریخ کی عظیم ترین ریاست کی بنیاد رکھنے تک عمل کیا، اور یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف حزب التحریر دنیا بھر کے مسلمانوں کو مسلسل پکار رہی ہے۔ لہٰذا، عہدوں، نشستوں اور کرسیوں کے ان تاجروں سے اپنا ہاتھ چھڑا لیں اور ہمارے ہاتھوں میں ہاتھ دیں تاکہ ہم معاملات کو ان کے اصل مقام پر واپس لائیں اور اسے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کی صورت میں دوبارہ قائم کریں، جو قرآن کو وہی مقام عطا کرے گی جو رب العزت نے اس کے لیے پسند کیا ہے، یعنی ایک ایسا نور جس سے انسانیت روشنی حاصل کرے گی اور ایک ایسی ربانی ہدایت جو اس سے تنگی اور بدبختی کو دور کر دے گی۔

 

===

صفحہ اول کے لیے

 

 

کسٹم (محصولات) حرام ہے اور زندگی کو تنگ بنا دیتا ہے

 

سوڈان میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے کسٹم ڈالر کی قیمت میں 14 فیصد کا نیا اضافہ نافذ کیا ہے، اور کسٹم ڈالر درآمدات کی لاگت کا تعین کرنے میں ایک بنیادی عنصر اور اشیائے صرف اور پیداواری سامان کی قیمتوں میں اضافے کی براہ راست وجہ ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جسے آخر کار صارف ہی ادا کرتا ہے۔ جنوری 2025 سے اب تک کسٹم ڈالر کی قیمت میں نو بار اضافہ کیا جا چکا ہے، جو 2000 پاؤنڈ سے شروع ہو کر 3222.8 تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس میں مجموعی طور پر 61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس نے جنگ کے سائے میں اشیاء کی قیمتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا معیارِ زندگی گر گیا ہے اور ان کی قوتِ خرید میں شدید کمی آئی ہے۔

اس مصنوعی معاشی تباہی کی صورتحال کے پیشِ نظر، ریاست سوڈان میں حزب التحریر کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس ریلیز میں درج ذیل نکات پر زور دیا:

 

اول: اسلام میں درآمدی سامان پر کوئی کسٹم نہیں لیا جاتا، کیونکہ یہ "مکس" (ناجائز ٹیکس) میں شمار ہوتا ہے جو کہ حرام ہے۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لايَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ»(ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا) اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «إِنَّ صَاحِبَ الْمَكْسِ فِي النَّارِ» (بے شک ٹیکس وصول کرنے والا آگ میں ہے)، اور یہاں "صاحبِ مکس" سے مراد ریاست ہے۔

 

دوم: سامان پر کسٹم لینا بالواسطہ ٹیکسوں کی ایک قسم ہے اور یہ حرام ہے کیونکہ یہ قیمتوں میں اضافے اور لوگوں کے لیے تنگی و مشقت کا باعث بنتا ہے۔ اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغَلِّيَهُ عَلَيْهِمْ، كَانَ حَقّاً عَلَى اللَّهِ أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (جس نے مسلمانوں کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت کی تاکہ ان کے لیے نرخ بڑھا دے، تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہے کہ اسے قیامت کے دن آگ کی ایک بڑی چٹان پر بٹھائے)۔ اور آپ ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» (اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور اس نے ان پر سختی کی، تو تو بھی اس پر سختی کر، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور اس نے ان کے ساتھ نرمی کی، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما)۔

 

سوم: مقامی کرنسی  کو ڈالر کے ساتھ جوڑنا ہی وہ عمل ہے جس نے ریاست کو مالی طور پر غلام بنا دیا ہے اور وہ اپنی معیشت پر اختیار نہیں رکھتی۔ اس طرح وہ کافر ممالک کے ان اداروں کے رحم و کرم پر آ گئی ہے جن کے دلوں میں کوئی رحم نہیں ہے اور وہ ہمارے بارے میں کسی عہد و پیمان یا اخلاق کا لحاظ نہیں رکھتے، جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک۔ اصل اصول یہ ہے کہ ریاست کی کرنسی کو سونے اور چاندی کے ساتھ جوڑا جائے کیونکہ ان کی اپنی ایک ذاتی قدر ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ کہ بہت سے شرعی احکام بھی سونے اور چاندی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ سوڈان سونے کا ملک ہے جسے حکومت کی ان پالیسیوں کی وجہ سے لوٹا اور ضائع کیا جا رہا ہے جن کی نظر صرف لوگوں کی جیبوں پر ہے۔

 

استاد ابو خلیل نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا: سوڈان کے لوگ جان لیں کہ وہ جس مشقت اور معیشت کی تنگی کا شکار ہیں اس کی وجہ ملک کی غربت نہیں ہے، بلکہ کافر مغرب کے نظاموں یعنی لالچی سرمایہ داری (Capitalism) کا نفاذ ہے۔ ہمیں اس تنگ دستی کی حالت سے صرف اسلام کی طرف واپسی اور مال و معیشت وغیرہ کے متعلق اس کے احکام کا نفاذ ہی نکال سکتا ہے، اور یہ صرف اسلامی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے سائے میں ہی ممکن ہے۔ وہی واحد ریاست ہے جو اس مصنوعی غربت کی حالت کو آسانی، خوشحالی اور باعزت زندگی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

===

صفحہ اول کے لیے ایک اور تحریر

 

روہنگیا مسلمان: ایک بھولا بسرا المیہ

 

کھلے سمندر میں 200 سے زائد مہاجرین لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے، جو ظلم و ستم اور دربدری سے دور امن اور زندگی کی تلاش میں ایک مایوس کن سفر پر نکلے تھے کہ ان کی کشتی الٹ گئی۔

الرایہ: روہنگیا مسلمانوں کے حالات انتہائی افسوسناک ہیں، جن کی اکثریت کو میانمار کی مجرم بدھ مت حکومت نے قتلِ عام کا نشانہ بنایا اور دوسروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تاکہ وہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزینوں کی زندگی گزاریں۔ یہ واقعہ روہنگیا مسلمانوں کی واحد تکلیف نہیں ہے، بلکہ موت کی کشتیوں میں یہ سفر اکثر گمشدگی، ڈوبنے اور بقا کی ایسی دردناک کہانیوں میں بدل جاتے ہیں جہاں ایک ماں اپنے آخری لمحات میں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہوئے ہوتی ہے، ایک باپ اپنے خاندان کے مستقبل کی تلاش میں ہوتا ہے اور نوجوان اپنی آنکھوں میں خواب لیے سمندر کی ان لہروں پر سوار ہوتے ہیں جنہیں ان پر ذرا بھی ترس نہیں آتا۔

 

روہنگیا کا بحران اور مسلمانوں پر آنے والی دیگر مصیبتوں نے ایک بات ثابت کر دی ہے کہ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمان کمزور اور بے بس ہو چکے ہیں، کیونکہ خلافت ہی ان کی ڈھال تھی جو ان کی حفاظت کرتی اور ان کا خیال رکھتی تھی۔

===

 

ریاستِ خلافت اسلام اور مسلمانوں کی عزت بحال کرے گی اور کفر و کافروں کو ذلیل و رسوا کرے گی

 

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے موجودہ حکمرانوں میں کوئی خیر نہیں، اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ راہِ راست پر آ جائیں۔ لہٰذا، اب صرف امتِ مسلمہ پر ہی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جب وہ اپنی ریاست قائم کرے اور پھر ایک ہوش مند سیاسی قیادت اور فولادی عزم کے تحت ایک ریاست یعنی خلافتِ راشدہ میں متحد ہو جائے۔ ان کے کارنامے تاریخ کے صفحات میں درج ہیں، انہوں نے چند ہی برسوں میں وقت کی دو عظیم ترین سلطنتوں، فارس اور روم کو شکست دی تھی۔ انہوں نے زمین کے مشرق و مغرب میں اپنی فتوحات جاری رکھیں یہاں تک کہ اقوام ان کے تابع ہو گئیں، بڑے بڑے لشکر ان کے سامنے ڈھیر ہو گئے اور بادشاہوں، شہنشاہوں اور قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں میں آ گرے۔ امریکہ کا مقدر بھی یہی ہے جہاں وہ اللہ کے حکم سے ٹوٹ جائے گا اور اپنے فوجی اڈے بند کرنے اور اپنی افواج کو بحرِ اوقیانوس کے پار واپس بلانے پر مجبور ہو جائے گا، تاکہ وہ شکست اور ذلت کا بوجھ اٹھا سکے، اور اس طرح اس کے ٹرمپ اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی ناک مٹی میں رگڑی جائے گی۔﴿قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾ "کافروں سے کہہ دیجیے کہ تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے" (سورۃ آل عمران: 12)

 

یہ درست ہے کہ ایران خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر رہا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ اس نے اسی طرح کے حملے یہودی وجود (اسرائیل) پر بھی کیے ہیں، اور یہ حملے کسی حد تک طاقتور بھی ہیں، لیکن ایرانی حکمران امریکہ کو شکست دے کر اسے پیچھے دھکیلنے کی طاقت نہیں رکھتے جب تک کہ خلافت قائم نہ ہو، جو اللہ کی مدد کرے اور اس کے احکام نافذ کرے، تو وہ اللہ کے حکم سے نصرت یافتہ ہوگی، اپنے عدل اور جہاد سے دنیا کو روشن کرے گی اور اللہ اسے اپنی فتح و نصرت سے نوازے گا۔ ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ "اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا" (سورۃ محمد: 7)

 

اس کے بعد امریکہ کو ایک کے بعد ایک سبق سکھایا جائے گا یہاں تک کہ اس کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ آج امریکہ مسلمانوں کی زمینوں اور ہوائی اڈوں سے مسلمانوں ہی کے خلاف لڑ رہا ہے اور اپنے ایجنٹوں کو یہودی وجود کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہا ہے، لیکن ریاستِ خلافت ان غداروں کے قلعوں میں گھس کر انہیں بدترین طریقے سے نکال باہر کرے گی، اور خلافت اپنے راستے میں مسلم عوام کو منظم کرے گی جس سے اس کی طاقت ایک ایسے سیلاب کی طرح بڑھ جائے گی جو مسلمانوں کے علاقوں سے باہر امریکی اڈوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پھر ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو راستے میں آنے والے حکمرانوں کے تخت و تاج کو ملیا میٹ کر دے گا، فلسطین کو آزاد کرائے گا اور یہودی وجود کو پیروں تلے روند ڈالے گا۔ یہ اللہ کے حکم سے بہت آسان اور ممکن ہے، اگرچہ بہت سے لوگ اسے محض ایک خواب سمجھتے ہیں، کیونکہ امت کے پاس ایک ایسا عقیدہ موجود ہے جو دریا کی طرح متحرک ہے، اور اس کے دل میں امریکہ اور یہودیوں کے شدید ترین اور مسلسل بڑھتے ہوئے ظلم کی وجہ سے ان کے خلاف گہری نفرت بھری ہوئی ہے۔ نصرت کے ان مناظر کا دیکھنا اللہ کے حکم سے دور نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی عظیم فتح کا اذن دے گا، اور اس وقت امتِ مسلمہ جو کچھ کرے گی اور میدانِ جنگ سے جو آوازیں بلند ہوں گی وہ آج قلم کے ذریعے بیان کیے جانے والے الفاظ سے کہیں زیادہ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا دستور ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ﴿وَكَانَ حَقّاً عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ "اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے" (سورۃ الروم: 47)

 

(امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے جاری کردہ سوال و جواب "ایران پر جنگ" سے اقتباس)

===

 

مسلم ممالک کی تقسیم ایک عظیم جرم ہے، جس میں حصہ لینے والا ہر شخص اس کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا

 

یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ شر کی جڑ، استعماری کافر امریکہ، اپنے ان ایجنٹوں کے ذریعے سوڈان میں انسانی جانیں لینے والی جنگ مسلط کرنے میں کامیاب ہے جو علانیہ اور کھلے عام اس کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ اس جرم میں ایک سازشی و گمراہ کن میڈیا اور وہ مفاد پرست سیاست دان بھی ان کے مددگار ہیں جن کا مقصد ان بوسیدہ کرسیوں پر براجمان رہنے کے سوا کچھ نہیں جنہیں استعماری کافر ہی کنٹرول کرتا ہے۔

 

مسلمانوں کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ایک سنگین جرم ہے، جس میں شریک ہر شخص گناہ کا مرتکب ہو گا۔ حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ» ( "تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جب تم سب ایک شخص (خلیفہ) پر متحد ہو، اور وہ تمہاری قوت کو توڑنا یا تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہے، تو اسے قتل کر دو" - صحیح مسلم)۔ اسی طرح امام مسلم نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْهُمَا» ( "جب دو خلفاء کی بیعت کر لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو")۔ یہ احادیث امت کی وحدت برقرار رکھنے اور تفرقے سے بچنے کے وجوب کی تاکید کرتی ہیں۔

 

لہٰذا، فوج کے مخلص افسران اور اہلِ قوت و اثر پر یہ لازم ہے کہ وہ اس مکروہ جرم کو روکیں، اور امریکہ سمیت تمام استعماری ممالک اور ان کے آلہ کاروں کو ہمارے ملکوں میں اپنے تباہ کن منصوبوں پر عمل کرنے سے باز رکھیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے امت کے عظیم منصوبے کی نصرت کریں، کیونکہ یہی واحد راستہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔

===

 

پاک فوج کے مخلص سپاہیوں کے نام

 

اے پاکستان کے مسلمانوں اور پاک فوج کے مخلص سپاہیوں! آپ اہلِ اسلام ہیں اور جنگی مہارت و قوت کے مالک ہیں۔ آپ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس خطے میں روسیوں اور انگریزوں کو شکست دی، اور آپ ہی آج امریکہ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح مسلمانوں کی ایک واحد  قوت اپنے قومی مفادات کے تحفظ میں امریکہ کو رسوا کرنے، اس کے پروردہ یہودی وجود (اسرائیل) کو تکلیف پہنچانے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تو ذرا سوچیں کہ اس وقت کیا عالم ہوگا جب امریکہ کا سامنا خلافت کی قیادت میں ایک ایسی متحد اسلامی قوت سے ہوگا جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں کو کنٹرول کرے گی اور یہودی وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی؟ اور اس وقت کیا منظر ہوگا جب یورپی ممالک ایک ایک کر کے تیل کی فراہمی کے لیے آپ کی شرائط تسلیم کریں گے اور آپ کے ملک کے اندر تجارت کے لیے آپ کی شرائط پر معاہدوں پر دستخط کریں گے؟

 

امریکی تسلط کا جبر آج ہی ختم ہو سکتا ہے اگر آپ ان ایجنٹ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کر دیں جو امریکہ کی اصل طاقت کا منبع ہیں۔ آپ کے درمیان حزب التحریر موجود ہے جس کے پاس خلافت کا مکمل منصوبہ ہے، جو تمام مسلم ممالک کو اس کے سائے تلے متحد کرنے اور امت کی تمام تر قوتوں اور وسائل کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاکہ یہ امت نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں ایک غالب عالمی قوت بن کر ابھرے۔

 

پس، اپنی مجاہد پاک فوج کے بیٹوں کو پکاریں کہ وہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں تاکہ وہ سب کچھ حاصل ہو سکے جس کی آپ تمنا کرتے ہیں، یعنی دنیا میں فتح اور آخرت میں کامیابی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"۔ (سورہ محمد، آیت نمبر 7)

===

 

اسلامی ممالک اور دنیا کا حقیقی حل سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے میں پنہاں ہے

 

مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے حقیقی حل یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظریے (Capitalism) کا کردار ختم ہو جائے، اور دنیا ایک ایسے نئے نظریے کی طرف نظریں جمائے جو اس کرہ ارض پر انصاف اور انسانیت کو بحال کر سکے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نظریہ موجود نہیں ہے، جس کی عملی شکل نبوت کے نقشِ قدم پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ ہے، کیونکہ صرف وہی اس سیارے پر انصاف کا نقشہ بدلنے اور اس کا نور پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے قدم کی ضرورت ہے، اور وہ اسے بین الاقوامی سطح پر خلافت کی صورت میں قائم کرنا ہے، اور یہ ذمہ داری ہم مسلمانوں کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ایسی جماعت موجود ہو جس کے پاس اس ریاست کے لیے مکمل منصوبہ ہو، جو اس کی کشتی کو ساحلِ مراد تک لے جانے کی اہل ہو، اور سرمایہ دارانہ نظام کے باقی ماندہ اثرات کا مقابلہ کر کے اسے مکمل طور پر ختم کر سکے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج حزب التحریر موجود ہے جس کے پاس وہ تمام تیاریاں اور منصوبے موجود ہیں جو اس مقصد کے لیے درکار ہیں۔ اب صرف یہ کسر باقی ہے کہ افواج اس جماعت کی نصرۃ (عسکری مدد) کے لیے حرکت میں آئیں اور اسے اپنا منصوبہ نافذ کرنے کے لیے بااختیار بنائیں، تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز ہو سکے۔ ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں وہ زمین پر خلافت و اقتدار عطا کرتا ہے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جنہیں وہ دوسروں سے بدل دیتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں ان کاموں میں استعمال فرما جو تجھے پسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِن تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئاً إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ﴾"پھر اگر تم منہ پھیر لو گے تو میں نے تمہیں وہ پیغام پہنچا دیا ہے جس کے ساتھ میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، اور میرا رب تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکو گے، بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے" (سورة ہود: 57)

===

ہمیں عزت صرف اسی راستے سے مل سکتی ہے جس سے ہمارے اسلاف کو عزت ملی تھی

، جنہوں نے حق کے ذریعے دنیا کو فتح کیا اور عدل کے ذریعے باطل کو ذلیل و رسوا کیا

 

انسانیت جس گہری کھائی میں گری ہے وہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے، جس کی بنا پر امتِ مسلمہ پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان تمام انسان ساختہ نظاموں کو جڑ سے مسترد کر دے، اور ہر اس شخص سے اپنی لاتعلقی اور برأت کا اظہار کرے جو امت کے ذہنوں میں یہ زہریلے افکار انڈیل رہا ہے۔ آج کا بنیادی فریضہ اور جڑ سے حل یہ ہے کہ اس بات کا پختہ یقین کر لیا جائے کہ بین الاقوامی قانون 'سافٹ وار' (نرم جنگ) کا ایک ایسا ہتھیار ہے جو امت کو اس کے اسلحے اور جہادی عقیدے سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، کیونکہ امت کی اس بیداری سے ظلم کے ایوان لرزنے لگتے ہیں۔ ہر وہ مسلمان جو لوگوں کے بجائے صرف اللہ سے ڈرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ مخلص کارکنوں کے ساتھ مل کر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے فوری طور پر سنجیدہ جدوجہد میں شامل ہو جائے۔ یہ وہ ربانی نظام ہے جو اپنی حاکمیت وحی سے حاصل کرتا ہے اور ایک جامع عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے مفادات کی ایسے کامل عدل کے ساتھ نگہبانی کر سکے جو نہ تو خواہشات کے پیچھے چلتا ہے اور نہ ہی کسی طاقتور کی طرفداری کرتا ہے۔ ہمارا یہ ایمان کہ یہ دین اللہ کی طرف سے تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، ہمیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ ہم اپنے عقیدے اور عمل کے ذریعے مخلصین کے ساتھ مل کر ایک راشدہ اسلامی ریاست کے قیام کی بھرپور کوشش کریں۔ ایسی ریاست جو ظالموں کو اپنے عدل کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے، سرکشی کی کمر توڑ دے اور غلامی کی ان زنجیروں کو پاش پاش کر دے جو جدید اور خوشنما ناموں کے لبادے میں امت کی گردنوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ ہم آج کھلے عام بین الاقوامی طاغوتی نظام کا انکار کرتے ہیں اور صرف اللہ کی شریعت کی حاکمیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمیں وہی چیز عزت دلا سکتی ہے جس نے اگلوں کو عزت بخشی تھی؛ یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد استقامت دکھائی، پھر حق کے ذریعے دنیا کو فتح کیا اور عدل و انصاف کے ذریعے باطل کو ذلیل و خوار کیا۔

===

 

سود خور قرضوں کے جال اور ان سے نجات کا راستہ

 

مصری وزیر خارجہ، بین الاقوامی تعاون اور بیرون ملک مقیم مصریوں کے امور کے وزیر بدر عبد العاطی نے منگل، 14 اپریل کو واشنگٹن کے دورے کے موقع پر، ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کے دوران، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے مینیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوب سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے مصر میں نجی شعبے کی مدد اور اسے بااختیار بنانے میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے کردار کو سراہا (وزارت خارجہ)۔

 

اس حوالے سے حزب التحریر کے ولایہ مصر کے میڈیا دفتر کے رکن استاد سعید فضل نے مرکزی میڈیا دفتر کے ریڈیو کے لیے اپنے تبصرے میں کہا: "یہ ملاقات اور اس میں توانائی، کان کنی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نجی شعبے کو بااختیار بنانے کے جو وعدے کیے گئے ہیں، وہ حقیقت میں اس 'سفارتی بھیک' کی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں یہ نظام مہارت رکھتا ہے۔ یہاں 'ساختی اصلاحات' اور 'لچکدار شرحِ مبادلہ' جیسے دلکش الفاظ کے پردے میں ریاستی اثاثوں کی فروخت اور آنے والی نسلوں کی دولت کو رہن رکھنے کی تلخ حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے"۔

اے اہلِ مصر! ان اجلاسوں میں جو کچھ طے پایا جا رہا ہے وہ آپ کے بچوں کے معاشی مستقبل کے لیے سزائے موت کے مترادف ہے۔ نجی شعبے کو بااختیار بنانے کا جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت غیر ملکی سرمایہ کاروں اور خودمختار فنڈز (Sovereign Funds) کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ ریاست کے کلیدی شعبوں پر قابض ہو جائیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی شہری شعبہ محض ان مقتدر اداروں اور فوجی کمپنیوں کا بیگار مزدور بن کر رہ جائے گا جو بڑے منصوبوں کو ہڑپ کر لیتی ہیں اور عام ٹھیکیداروں کو ایسی قیمتوں پر کام کے چھوٹے ٹکڑے دیتی ہیں جو ان کی لاگت بھی پوری نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے وہ بقا کی خاطر رشوت اور تکنیکی دھاندلی کے جال میں پھنسنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

 

ہم آپ کو پکارتے ہیں کہ اپنی آواز بلند کریں اور مصری فوج کے مخلص افسران سے مطالبہ کریں کہ وہ آپ کے وسائل کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کو روکیں۔ وہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں تاکہ وہ تبدیلی کے اس حقیقی منصوبے کی قیادت کرے جو مصر کو اس کی خودمختاری اور امت کو اس کی عزت واپس دلائے اور اسے استعمار کے حکم ناموں اور ان کے آلہ کاروں سے نجات دلائے۔

===

 

برطانیہ دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے ذریعے تنزانیہ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے

 

8 اپریل 2026 کو دولتِ مشترکہ کے خصوصی ایلچی اور ملاوی کے سابق صدر ڈاکٹر لازارس چکویر، 29 اکتوبر 2025 کے عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینے کی غرض سے دارالسلام پہنچے۔

 

تنزانیہ میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن استاد سعید بیتوموا نے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے اپنے تبصرے میں کہا: "چونکہ تنزانیہ استعماری دور سے لے کر 1961 میں اپنی (نام نہاد) آزادی تک برطانیہ کے زیرِ اثر رہا ہے، اس لیے برطانیہ نے ایک بااثر قوت کے طور پر ہمیشہ دولتِ مشترکہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی بحرانوں میں مداخلت کی ہے۔ اس کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو بچانا اور امریکہ کو مداخلت سے روکنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 1996 میں جب زنجبار میں سیاسی تناؤ پیدا ہوا تو دولتِ مشترکہ نے اپنے اس وقت کے سیکرٹری جنرل ایمیکا انیاوکو کو بطور سفارتی ثالث بھیجا تاکہ دو حریف جماعتوں کے درمیان اقتدار کی شراکت کا معاہدہ کرایا جا سکے"۔

مزید برآں، یہ ایلچی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ افریقہ اور دیگر خطوں کے نام نہاد ترقی پذیر ممالک نہ تو آزاد ہیں اور نہ ہی خود مختار، بلکہ وہ اپنے مسائل حل کرنے میں بالکل عاجز ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی علاقائی تنظیمیں، جیسے مشرقی افریقی برادری (EAC) اور براعظمی تنظیمیں جیسے افریقی یونین (AU)، اپنے ممالک کو بچانے یا کوئی حقیقی حل تلاش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، بلکہ وہ لندن، واشنگٹن اور پیرس کے استعمار سے احکامات اور جھوٹے حل وصول کرتی ہیں۔

 

اب وقت آ گیا ہے کہ افریقہ کے عوام اسلام کے دین کو اپنائیں اور اس کی حمایت کریں۔ اسلام اپنی ریاست 'خلافت' کے ذریعے ہی امن اور عدل لائے گا، مسلمانوں اور انسانیت کے استحصال اور خون خرابے کو روکے گا، اور تمام استعمار کو اسی طرح نکال باہر کرے گا جیسے سترہویں صدی عیسوی میں مشرقی افریقہ سے پرتگالیوں کو نکال کر ان کے قبضے کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

 

 

Read more...

حزب التحریر کے شباب پر مقدمہ، سوڈانی حکومت کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کی تصدیق کرتا ہے

حزب التحریر کے شباب پر مقدمہ، سوڈانی حکومت کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کی تصدیق کرتا ہے

 

تحریر: استاذ یعقوب ابراہیم - ولایہ سوڈان

 

(ترجمہ)

 

ایک ایسے وقت میں جب جنگ کے اثرات کے باعث سوڈانی عوام کو درپیش بحران سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں، یہ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور سوڈان دنیا کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹیں سوڈانی معیشت کے 30 سال پیچھے چلے جانے کی وارننگ دیتی ہیں جبکہ سوڈان میں تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ افراد، جو کہ کل آبادی کا تقریباً دو تہائی ہیں، امداد کے سخت ضرورت مند ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ نوے لاکھ افراد خوراک کی شدید عدم دستیابی کا شکار ہیں اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کا خلاصہ کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران اور بھوک و بے گھری کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔

 

لڑائی کی شدت کردوفان اور بلیو نائل (نیلِ ازرق) کے علاقوں تک پھیل چکی ہے، جہاں مسلسل حملوں کی اطلاعات ہیں، خاص طور پر الابیض کے مضافات میں جہاں جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے۔ اس کے بجائے کہ حکومت اس منحوس جنگ کو ختم کرتی، دارفور کی علیحدگی کو روکتی اور سوڈان کے رستے ہوا زخم کو بھرتی، اس کے سیکورٹی اداروں نے 16 جنوری 2026 کو الابیض کی قدیم مسجد کے اندر سے حزب التحریر کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا، اور وہ یہ ہیں: النذیر محمد حسین، امین عبدالکریم، عبدالعزیز ابراہیم، اور احمد موسیٰ۔ ان کی گرفتاری حزب کے شباب کی جانب سے سقوطِ خلافت کی 105 ویں برسی کے موقع پر ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کے تناظر میں عمل میں آئی، جس سے استاذ النذیر محمد نے خطاب کیا تھا۔ چنانچہ ان کے خلاف دفعہ 69 "امنِ عامہ اور نظم و ضبط میں خلل ڈالنے" کے تحت رپورٹ درج کر دی گئی، جس کا اس مبینہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور استغاثہ اور پھر عدالت نے شباب کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا۔

 

حکومت کی ناانصافی میں مزید شدت آگئی، اور اس کے عدالتی، قانونی اور سیکورٹی اداروں نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ 5 فروری 2026 کو استغاثہ نے تین مزید مجرمانہ الزامات کا اضافہ کر دیا اور شباب کو حراست میں رکھا، انہیں ان کے ضمانت کے حق سے محروم کر دیا گیا، جس کی راہ میں ذلیل کرنے اور اسلام کی دعوت دینے والوں کو سزا دینے اور ان کی تذلیل کی بے لگام خواہش کے سوا کوئی قانونی رکاوٹ نہیں تھی۔ 22 فروری 2026 کو پہلی سماعت کی تاریخ پر، رضاکار وکلاء کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں، شکایت کنندہ کو سننے کے بعد (جو اس بات سے بے خبر تھا کہ وہ ایک بند گلی کی دیوار سے ٹکرا رہا ہے)، مہم کی دفاعی ٹیم کے سربراہ، مایہ ناز وکیل اور قانونی ماہر فقیر حاج نے جج کو دعوت کے علمبرداروں کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست پیش کی۔ تاہم، ناانصافی اور بہتان طرازی کے ایک اور فعل میں، جج نے درخواست کو اگلی سماعت تک ملتوی کر دیا اور شباب کو حراست میں رکھا۔ جج نے اپنے ہی قوانین اور اس اصول کو نظر انداز کر دیا کہ ملزم جب تک مجرم ثابت نہ ہو جائے بے گناہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے دین کے شرعی احکامات کو بھی بھول گیا۔ یہ اسلام کی دعوت کو دبانے پر حکومت کے اصرار کو ظاہر کرتا ہے۔

 

پھر 12 اپریل 2026 کو، سب سے بڑے مجرم، الابیض کی جنوبی اور مغربی فوجداری عدالت میں اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے غور و خوض کیا اور سازشیں کیں، پھر اپنی ہی خوش فہمیوں میں اندھے ہو کر ان چاروں داعیانِ حق کو سزا سنا دی۔ اس تاریک دن ان کا سیاہ فیصلہ ہر ایک کے لیے تیس لاکھ سوڈانی پاؤنڈ (تقریباً 750 ڈالر) جرمانہ، یا عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید کی سزا تھی، جس کا اطلاق عدالتی فیصلے کی تاریخ سے ہونا تھا؛ انہوں نے اس ایک ماہ سے زائد عرصے کو یکسر نظر انداز کر دیا جو وہ پہلے ہی حراست میں گزار چکے تھے۔ اس فیصلے پر خود ان سب سے بڑے مجرموں یعنی عدالت کے جج نے دستخط کیے۔

 

کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو مساجد اور عوامی چوکوں میں لوگوں سے خطاب کرتے ہیں، انہیں امتِ مسلمہ کی وحدت کی بحالی کی دعوت دیتے ہیں، وہ وحدت جسے ملعون کافر استعمار نے پارہ پارہ کیا، اور جو منحوس 'سائیکس-پیکو' معاہدے کے ذریعے تقسیم کے بعد اب بھی ہماری سرزمینوں میں خون ریزی کے ذریعے توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، انہیں مجرم قرار دیا جائے؟ انہوں نے کافر مغرب کے حکم پر پہرے دار مقرر کر رکھے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کو کمزور، ذلیل اور منتشر رکھا جائے! کیا یہ ممکن ہے کہ دین کی اشاعت کی دعوت کو ایک ایسے ملک میں جرم قرار دیا جائے جہاں کے اکثر باشندے مسلمان ہیں؟ ایک ایسا ملک جو ہمارے آقا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے سے اسلام کے داخلے سے فیضیاب ہوا، ایک ایسا ملک جسے پورے سب صحارا افریقہ میں پہلی مسجد کی سعادت ملی، ایک ایسا ملک جو ڈونگولہ مسجد میں قرآنِ کریم کے نور سے روشن ہوا؟! یہ واقعی حیران کن ہے!

 

یہ شباب، جنہیں ناانصافی اور ظلم سے سزا سنائی گئی، انہوں نے صرف وہی کہا جس کا اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) اور اس کے معزز رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے: یعنی مسلمانوں کی اپنے دین کے نظامِ حکومت کی طرف واپسی، جو کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوہ ہے۔ انہوں نے اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کے گھروں میں سے ایک گھر میں کلمہ حق بلند کیا، اور حاضرین نے ان کی دعوت پر لبیک کہا، نعرے لگائے اور خلافت کے قیام کے لیے کوشاں اپنے بھائیوں کی حمایت میں اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) کی حمد و ثنا کی۔ اس بات نے ایجنٹوں اور منافقوں کو مشتعل کر دیا، جنہوں نے پھر اپنی طاقت جمع کی۔ جو لوگ باطل کے ذریعے بڑائی چاہتے ہیں وہ یقیناً مایوس ہوں گے۔ یہ شباب، جنہیں سزا دی گئی، محض ایک شرعی فریضہ ادا کر رہے تھے جو اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) نے تمام مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔

 

یہ جج اور اس کے حواری جان لیں کہ اسلام مسلمانوں کو شرعی فرائض کی ادائیگی پر سزا نہیں دیتا۔ اس کے بجائے، یہ ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو اپنے شرعی فرائض میں غفلت برتتے ہیں، حرام کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں، یا اسلام اور مسلمانوں کے فائدے کے لیے خلافتِ راشدہ کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی قطعی حکم یا ممانعت کی نافرمانی کرتے ہیں۔ ان تین صورتوں کے علاوہ، اسلامی ریاست کی رعایا کو کسی بھی فعل پر سزا نہیں دی جاتی۔ ان سزا یافتہ افراد کے لیے زیادہ موزوں یہ ہوتا کہ انہیں انعام و اکرام اور عزت سے نوازا جاتا، نہ کہ قید کے ذریعے ذلیل کیا جاتا؛ جبکہ وہ مجرم جنہوں نے ہتھیار اٹھائے، قتل کیا، بے گھر کیا، لوٹ مار کی اور خواتین کی آبروریزی کی، جنہوں نے ہر تصوراتی جرم کا ارتکاب کیا، انہیں ریاست نے اعلیٰ عہدوں سے نوازا اور اقتدار کے زہریلے لقمے میں شامل کیا! اسلام ایسے لوگوں کو سزا دیتا ہے، تو پھر آپ ایسا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟!

 

خلافت میں نظامِ عدلیہ کا مقصد لوگوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنا، معاشرے (جماعت) کے حقوق کو پہنچنے والے نقصان کا سدِ باب کرنا، اور افراد اور حکومتی ادارے کے کسی بھی رکن، خواہ وہ حکمران ہوں یا ملازمین، کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ وہ دائرہ کار ہے جس میں اسلام میں جج ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسے مسلمانوں کے اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے جس کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں: یعنی اسلام کی دعوت، اس کے پیغام (رسالہ) کو پہنچانا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ ججوں کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجاً أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ﴾

"جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس میں کجی (ٹیڑھاپن) تلاش کرتے ہیں، یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں"۔  (سورۃ ابراہیم: 3)

 

خلافت میں عدلیہ اور سیکورٹی فورسز کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ﴾

  "اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے مقابلے میں انہیں نیچا دکھانے (عاجز کرنے) کی کوشش کی، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے"۔  (سورۃ سبا: 5)

 

حق کی دعوت کو دبانے کی کوئی بھی کوشش نہ تو کوئی ہمدرد کان پائے گی اور نہ ہی اسے کوئی مددگار ملے گا، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ یقیناً اپنے مقصد (دین) کی نصرت فرمائے گا، چاہے مجرم اسے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔

ظلم کرنے والے جان لیں کہ حزب التحریر کے شباب گرفتاریوں، مقدمات یا جرمانوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ وہ اپنی دعوت پر بلند و بالا پہاڑوں کی طرح ثابت قدم رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پکار کو غالب کر دے اور اسے ایک فاتحانہ اقتدار (سلطانًا نصيرا) عطا فرما دے، اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔

 

Read more...

ترکی اور یہودی وجود کے درمیان لفظی جنگ کے اسباب

ترکی اور یہودی وجود کے درمیان لفظی جنگ کے اسباب

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

یہودی وجود کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ترکی اور اس کے صدر اردگان کے خلاف اپنے لہجے میں شدت پیدا کر دی ہے اور ان پر "ایران کے گماشتوں کے ساتھ نرمی" برتنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ان کے وزیر جنگ کاٹز نے ترکی کو "کاغذی شیر" قرار دیا کیونکہ ترکی نے اپنی سرزمین پر گرنے والے ایرانی میزائلوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ کشیدگی ترکی کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ترکی نے ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی اس جارحیت کی مذمت نہیں کی جو 40 دن تک جاری رہی۔ یہودی وجود ترکی سے صرف یہ نہیں چاہتا کہ وہ مذمت نہ کرے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ وہ کھلم کھلا اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ لیکن خطے میں اصل فیصلہ ساز قوت امریکہ ہے، جس نے ترکی سے مداخلت کا مطالبہ نہیں کیا تاکہ اسے پیغامات پہنچانے اور ثالثی کرنے کا ایک الگ کردار دیا جا سکے؛ جہاں پہلے ایرانی امریکی مذاکرات ترکی میں ہونا طے پائے تھے، لیکن پھر ان کا انعقاد پاکستان میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسے امریکہ خطے میں ایک خاص کردار کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ نیز ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی ترکی کو استعمال کیا جائے گا کیونکہ وہ مغرب کے لیے ایران کا راستہ ہے۔ اسی طرح امریکہ نے یوکرین پر حملے کے وقت ترکی سے روس کے خلاف مداخلت کا مطالبہ نہیں کیا تاکہ وہ روس کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنا رہے اور ان تعلقات کو اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

 

ایران کے سپریم لیڈر نے ترکی، پاکستان اور عمان کی تعریف کی اور انہیں حملوں سے مستثنیٰ رکھا، تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بنے رہیں۔ نیتن یاہو کے اقدامات اس کے اعلان کردہ مقصد یعنی "عظیم اسرائیل" کے قیام اور کسی حریف کے بغیر ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر خطے پر اپنی بالادستی کے حصول کی سمت میں ہیں۔ وہ ایران اور ترکی کو اپنے بڑے علاقائی حریفوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ چنانچہ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر ضرب لگائی۔ اب وہ ترکی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے اور امریکہ کو اس کے خلاف اکسا رہا ہے تاکہ اسے سیاسی طور پر شکست دے سکے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ترکی امریکہ کے زیر اثر ہے اور اسی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور امریکہ اپنے اس کردار اور صدر اردگان سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔ 29 مارچ 2026 کو ٹرمپ نے ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی جارحیت پر دیگر ممالک کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ترکی لاجواب ہے، وہ واقعی حیرت انگیز رہے ہیں، اور وہ ان حدود سے باہر رہے جہاں ہم نے انہیں داخل نہ ہونے کو کہا تھا"۔ اس نے صدر اردگان کو ایک "شاندار لیڈر" قرار دیا۔ یعنی امریکہ نے صدر اردگان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران پر اس کی جارحیت کے سامنے رکاوٹ نہ بنیں تو اس نے اطاعت کی، بالکل اسی طرح جیسے اس نے امریکی حمایت سے یہودی وجود کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے دوران غزہ کی نصرت کے لیے مداخلت نہ کرنے کے احکامات مانے تھے۔

 

اسی طرح نیتن یاہو نے پچھلے سال امریکہ سے شام میں ترکی کا کردار ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے ٹرمپ نے 8 اپریل 2025 کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ "اردگان کے ساتھ میرے شاندار تعلقات ہیں، میں ان سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے"۔ اس نے نیتن یاہو سے کہا "اگر تمہیں ترکی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو میں اسے حل کر سکتا ہوں اگر تم عقل مندی سے کام لو، تمہیں عقل مندی دکھانی ہوگی۔ اردگان ذہین ہے، اس نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے شام پر کنٹرول حاصل کیا، اور وہ کر دکھایا جو کوئی دوسرا نہ کر سکا؛ میں صدر اردگان کا شکر گزار ہوں جسے میں نے جب بھی ضرورت پڑی، ہمیشہ موجود پایا"۔ اردگان نے شام میں امریکہ کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب اس نے وہاں کے نظام کو گرنے سے بچایا اور اس کے ایجنٹ بشار اسد کا اس وقت تک تحفظ کیا جب تک اس کا متبادل احمد الشرع نہیں مل گیا جسے ترکی نے امریکہ کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح اس نے شام میں اسلامی حکومت کے قیام کو روکا اور امریکی اثر و رسوخ کو ختم ہونے سے بچایا، بلکہ ایک نئے ایجنٹ کے ذریعے اسے مزید تقویت دی۔

 

جہاں تک اردگان کا یہودی وجود کے رہنماؤں کو "بچوں کا قاتل" قرار دینے کا تعلق ہے کہ وہ "ترکی یا اس کے صدر کو دھمکا نہیں سکتے" اور ان کے وزیر خارجہ فیدان کا یہ کہنا کہ "اسرائیل ترکی کو ایک نئے دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے"، تو یہ باتیں یہودی وجود کے حوالے سے ترکی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ کیونکہ خود اردگان نے "ترک-اسرائیلی تعلقات کو زندگی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے جنہیں چھوڑا نہیں جا سکتا"۔ اس سے قبل بھی ایسی لفظی تکرار اور کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اور پھر ان کے درمیان گندا پانی دوبارہ اپنی پرانی گزرگاہوں پر لوٹ آیا (یعنی تعلقات بحال ہو گئے)۔ اردگان یہودی وجود کی حفاظت کرنے، اسے نقصان نہ پہنچانے اور اقتدار میں رہنے کی ضمانت کے طور پر اس کے ساتھ تعلقات منقطع نہ کرنے کا عہد کر چکا ہے۔ جب اس نے خود کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا تو اس نے یہ عہد کیا اور اسے عملی طور پر ثابت بھی کیا ہے۔ چنانچہ 2005 میں اس نے یہودی وجود کا سرکاری دورہ کیا اور اس وقت کے وزیر اعظم مجرم شارون سے ملاقات کی جس نے صبرا اور شاتیلا کے قتل عام کیے تھے، اور ہولوکاسٹ کی یادگار پر جا کر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس نے شارون کو یقین دلایا کہ "ان کی جماعت سام دشمنی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتی ہے اور یہ کہ ایران کے جوہری عزائم نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں"۔ اس طرح اردگان نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف یہودی وجود کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصدیق کی۔

 

اور 2007 میں اس نے یہودی وجود کے صدر شمعون پیریز کا انقرہ میں استقبال کیا، اور انہیں ترکی کی پارلیمنٹ کے سامنے خطاب کرنے کی اجازت دی۔ پس تعلقات میں کتنی ہی کشیدگی کیوں نہ آئی ہو، جیسے ہی کچھ وقت گزرتا ہے اور یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ لوگ یہودیوں کے جرائم کو بھول چکے ہیں، وہ دوبارہ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

 

چنانچہ 2009 میں غزہ پر یہودی وجود کی جارحیت اور اسی طرح 31 مئی 2010 کو ترک بحری جہاز "ماوی مرمرہ" پر یہودیوں کے حملے اور اس میں 10 ترکوں کے قتل کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے، مگر اس کے بعد مارچ 2015 میں تعلقات دوبارہ بحال کر لیے گئے۔ اور جب یہودی وجود نے ترکی پر ایران میں اپنے ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے کا الزام لگایا تو تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا، لیکن پھر جون 2016 میں یہ دوبارہ معمول پر آ گئے۔ جب 2017 میں امریکہ نے قدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو اردوغان نے یہودی وجود سے تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ پھر 2022 میں اردوغان نے انقرہ کے صدارتی محل میں یہودی وجود کے صدر ہرزوگ کا فاتح ہیروز کی طرح استقبال کیا۔

 

اردوغان نے یہودی وجود کو ایک نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) والی ریاست قرار دیا اور نیتن یاہو کو ایک ایسا دہشت گرد کہا جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، لیکن پھر انہی گندے ہاتھوں سے مصافحہ کیا اور اس سے یوں صلح کر لی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو؛ چنانچہ ستمبر 2023 میں نیویارک میں اس سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ وہ اگلے اکتوبر میں یہودی وجود کا دورہ کرے گا، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ پر یہودیوں کی جارحیت نے اس دورے کو روک دیا۔ اردوغان نے 27 دسمبر 2023 کو غزہ میں قتلِ عام پر یہودی وجود پر تنقید کی اور نیتن یاہو کو ہٹلر جیسا قرار دیا۔ اس کے باوجود اس نے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع نہیں کیے، اور ترکی یہودی وجود کو ہر طرح کے سامان، اشیاء، اسلحہ سازی کے لیے خام مال اور آذربائیجان سے آنے والے تیل و گیس کی سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک رہا۔

 

درحقیقت اردوغان ان تنازعات اور لفظی تکرار کو اس لیے استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد کھونے کے بعد دوبارہ ان کی ہمدردیاں حاصل کر سکے، اور لوگ ان کی اس بے وفائی کو بھول جائیں جو اس نے اہل غزہ، مسجدِ اقصیٰ اور ان فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کی جن کے خلاف سزائے موت کا قانون جاری کیا گیا ہے۔ نیز لوگ اس کی طرف سے ٹرمپ کے غزہ فائر بندی کے اس منصوبے کی قبولیت کو بھی بھول جائیں جس نے یہودی وجود کو بچایا، اور ٹرمپ کی "امن کونسل" میں ان کی شمولیت، اور یہودیوں کی جارحیت سے شام کو بچانے میں اس کی کوتاہی کو بھی فراموش کر دیں جس نے شام کی فوج کو تباہ کیا اور اس کے جنوبی حصے پر قبضہ کر لیا، جبکہ اس کی فوج وہاں امریکی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے محض تماشائی بنی رہی۔

 

قصہ مختصر یہ کہ: جب تک ترکی یہودی وجود کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع نہیں کرتا، اسے تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیتا، اور پورے فلسطین کو یہودیوں کے غصب کردہ ایک اسلامی ملک کے طور پر اعلان نہیں کرتا جسے ان سے آزاد کرانا واجب ہے، تب تک ان کے درمیان یہ تناؤ اور لفظی گولہ باری ترک نظام اور اس کے صدر کے اس غدارانہ موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی جو اس نے اس یہودی وجود کے بارے میں اپنا رکھا ہے،اور جو خود ترکی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

 

Read more...

ذلت کی قیمت عزت کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے: ایران-امریکہ مذاکرات بطور ایک مثال

ذلت کی قیمت عزت کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے: ایران-امریکہ مذاکرات بطور ایک مثال

 

 

تحریر: ڈاکٹر عبداللہ محمد - ولایہ اردن

 

(ترجمہ)

 

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والے فوائد کو ایک ایسی مضبوط پوزیشن میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جسے طاقتور فریق دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔ مذاکرات وہ طریقہ کار ہیں جنہیں سیاست دان اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں، تاکہ ممالک اور ان کے عوام کو مسلسل لڑائی اور جنگ کی سختیوں، یا اس کے آغاز ہی سے بچایا جا سکے۔ نبی کریم ﷺ نے صلحِ حدیبیہ اور دیگر معاہدوں میں مشرکین کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کیے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نازل کردہ مذاکرات سے متعلق ان شرعی احکامات میں سے کسی پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا، جو عملاً برسرِ پیکار ریاستوں (حربی فعلاً) اور شرعی طور پر حالتِ جنگ میں تصور کی جانے والی ریاستوں (حربی حكماً) کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

 

اسی طرح، مسلم افواج نے اپنے جہاد اور اسلام کی اشاعت کے دوران، قتال شروع کرنے سے پہلے مذاکرات کیے اور ان کے سامنے تین اختیارات رکھے، جن کا کوئی چوتھا متبادل نہیں تھا: اسلام، جزیہ (شرعی خراج)، یا جنگ۔ انہیں فیصلے کے لیے صرف تین دن کی مہلت دی جاتی تھی۔ اس کی ایک مثال حضرت ربعی بن عامرؓ اور فارسی سپہ سالار رستم کے درمیان ہونے والے مذاکرات ہیں۔ ان شرعی احکامات پر عمل پیرا ہونے کی بدولت تیرہ صدیوں سے زائد عرصے تک پوری دنیا میں اسلام پھیلا۔

 

یہ تھے وہ مذاکرات؛ جن میں فیصلہ کن قوت، طاقت، عزت اور وقار پایا جاتا تھا۔ اسلام میں جنگیں ایسی کسی صلح کو نہیں جانتیں جس میں ایک بھی شرعی حکم پر سمجھوتہ کیا جائے، اور اسلام کے نظریے کی حاکمیت کسی بھی صورت میں مذاکرات کے تابع نہیں ہوتی۔ یہ جنگ نظریات، بقا اور تہذیبوں کے تصادم کی جنگ ہے۔ اسلام اور دنیا کی دیگر کافر تہذیبوں کے درمیان کوئی ایسا گٹھ جوڑ یا مشترکہ مفادات نہیں ہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیے ہیں۔ ہمارا مقصد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کا نفاذ اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہے، اور یہ مقصد ہمارے خون، ہمارے مال، بلکہ ہماری تمام دنیاوی آسائشوں سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا معاملہ ہے اور اس کی زمین پر اس کے بندوں پر اس کی حاکمیت کا سوال ہے۔

 

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر گفتگو کرتے ہوئے یہ مختصر تمہیدی خاکہ پیش کرنا ضروری تھا۔ جب امریکہ اور اس کی پروردہ، یہودی وجود (Jewish entity) نے ایران پر جنگ مسلط کی، تو ان کا خیال تھا کہ ایرانی نظام تیزی سے گر جائے گا اور امریکہ سے وابستہ بعض سیاستدان ایران پر قابو پا لیں گے۔ ان کا مقصد ایران کو امریکہ کے زیرِ اثر رہنے والی ریاست سے ایک ایسی تابع ریاست میں تبدیل کرنا تھا جو صرف امریکی مفادات کی تکمیل کرے اور اپنے فیصلے، وسائل اور قوت کے عناصر کی آزادی سے دستبردار ہو جائے...۔

 

تاہم، جس چیز کی امریکہ کو امید تھی وہ پوری نہ ہو سکی۔ وہ آوازیں جو امریکی وابستگی سے نجات اور ایران کو کافر مغرب سے حقیقی آزادی حاصل کرنے والا پہلا مسلم ملک بنانے کی وکالت کرتی تھیں، ملک کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان کے میزائل حملوں نے امریکہ اور یہودی وجود ("اسرائیل") کو شدید نقصان پہنچایا، اور انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کیا۔ اس اقدام کے دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، جس نے امریکہ اور یہودی وجود ("اسرائیل") کی بلاجواز جارحیت کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا۔ ان کے اتحادیوں نے ان کے ساتھ کھڑے ہونے یا ان کی جنگ میں مدد کرنے سے انکار کر دیا، جس نے امریکہ کی مشکلات اور الجھنوں کو مزید گہرا کر دیا اور اس کے موجودہ دکھوں میں اضافہ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، شدید اندرونی اختلافات اور کمر توڑ معاشی بحران کے باعث بعض ممالک نے ایران کو فنی اور فوجی امداد کی پیشکش کی ہے۔ یورپ اس بڑے نقصان کو سمجھتا ہے جو اسے اس صورت میں اٹھانا پڑے گا اگر امریکہ ایران اور خطے میں اپنے عزائم حاصل کر لیتا ہے، جبکہ چین، جو اپنا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، بھی اسی تشویش میں شریک ہے۔ چنانچہ، انہوں نے امریکہ کی مدد کرنے یا اسے اس کی مشکل صورتحال سے نکالنے سے گریز کیا ہے۔

 

لاپرواہ ٹرمپ نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی تگ و دو کی، اور اسے مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہ آیا۔ یہ وہ حربہ ہے جس میں امریکہ مکاری، فریب، دھونس اور لالچ کے ذریعے مہارت رکھتا ہے، اس امید پر کہ وہ وہ کچھ حاصل کر لے جو اس کی جدید فوجی مشینری جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اس کے بعد متضاد بیانات سامنے آئے، اور پھر امریکہ نے مصر، ترکی اور پاکستان میں اپنے ایجنٹوں اور گماشتوں کو ہدایت کی کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لائیں۔ امریکہ نے مذاکرات کے لیے اپنی پندرہ شرائط پیش کیں، جو درحقیقت ہتھیار ڈالنے کی شرائط کے مترادف تھیں۔ ایران نے انہیں مسترد کر دیا اور ایک متبادل پیش کیا، جسے ٹرمپ نے فوری طور پر قبول کر لیا اور اسے مذاکرات شروع کرنے کے لیے موزوں قرار دیا، حالانکہ اس میں ایٹمی پروگرام یا بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں تھا، جنہیں اس نے پہلے جنگ کی وجوہات کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ بات اس مشکل صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ٹرمپ خود کو پا رہا ہے اور کچھ حاصل کرنے کے لیے اس کا ان مذاکرات پر انحصار ظاہر کرتا ہے۔ اس نے نائب صدر وینس کی سربراہی میں اپنا وفد مذاکرات کے پہلے دور کے لیے پاکستان بھیجا، جو 21 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے بعد وینس نے باہر آکر مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کیا، اس امید پر کہ ایران پر رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ دو دن بعد، انہوں نے اپنے ہی بیان کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ پاکستانی مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور ایک اور دور منعقد کیا جا سکتا ہے!۔ یہ ہمارے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکی پالیسی لڑکھڑا رہی ہے اور اس کی فوجی طاقت کمزور پڑ رہی ہے، جو دنیا کی صفِ اول کی طاقت بنے رہنے کے لیے اس کا آخری بچا ہوا کارڈ ہے۔

 

کافر مغرب کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب وہ جنگ اور دھونس دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو وہ اپنے مخالفین کو مذاکرات اور سیاسی چال بازیوں کے جال میں پھنساتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرتا ہے اور اپنی افواج کو دوبارہ منظم کرتا ہے، اور اپنے اقدامات کے نتائج، خاص طور پر بڑھتی ہوئی عالمی مخالفت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

ایران کے اربابِ اختیار کے نام ایک پیغام:

پاسدارانِ انقلاب اور فوج نے جو کچھ کیا ہے وہ مبارک اور قابلِ ستائش ہے۔ امریکہ کو وہ کچھ حاصل کرنے کی اجازت نہ دیں جو وہ اپنی جارحیت اور تمہارے خلاف محاصرے کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ شدید مصائب کا شکار ہے؛ اس کی اندرونی تقسیم گہری ہو چکی ہے، اس کا معاشی بحران دم گھونٹ رہا ہے، اور اس کی کمزوری و ناتوانی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، جیسا کہ فوجی کمانڈروں کی برطرفی اور انہیں نظر انداز کیے جانے سے ظاہر ہے۔ اس کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، بلکہ صدارتی انتخابات میں بھی محض دو سال باقی ہیں۔ وہ ڈوب رہا ہے، اور اگر اس کے غدار ایجنٹ، مسلمانوں میں موجود وہ کمینے لوگ، نہ ہوتے، تو وہ زندہ نہ بچ پاتا۔

 

اس لیے ثابت قدم رہیں اور ان تمام ڈوروں کو کاٹ دیں جو امریکہ نے ایران کی طرف دراز کی ہیں۔ امتِ مسلمہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائیں اور خود کو کسی بھی قسم کے غلیظ فرقہ وارانہ یا قوم پرستانہ تنازعات سے دور رکھیں۔ امتِ مسلمہ ایک ہے، اور اس کا رب، اللہ سبحانہ و تعالیٰ، ایک ہے۔ عالمِ اسلام کی افواج کو اسلام کی زبان میں پکاریں کہ وہ اپنے ایجنٹ حکمرانوں کا تختہ الٹ دیں اور امریکہ اور یہودیوں کے خلاف جنگ میں آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں، تاکہ خطوں اور لوگوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف لایا جا سکے۔

 

اے ایران کے رہنماؤ، جان لو کہ دشمن کے ساتھ مذاکرات اسے صرف اپنی صفیں دوبارہ درست کرنے کا وقت دیتے ہیں۔ فوجوں اور جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے، اور انہوں نے اپنے مطیع ایجنٹ، عاصم منیر، تک کو حکم دے دیا ہے کہ اگر صورتحال نے تقاضا کیا تو وہ اپنے طیارے اور سپاہی سعودی عرب بھیجے تاکہ وہ اپنے ہی بھائیوں سے لڑیں۔ جنگ ہماری زمین پر ہے، ان کے جہاز ہماری مٹی سے پرواز کرتے ہیں، اور وہ ہماری ہی ان افواج کے ذریعے لڑتے ہیں جنہیں انہوں نے ہماری اپنی دولت سے بنایا ہے، تاکہ وہ ہمارے ممالک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں اور ہمارے وسائل کو لوٹ سکیں۔

 

ان لوگوں سے عبرت پکڑیں جو آپ سے پہلے آئے اور جنہوں نے فلسطین، افغانستان اور دیگر مقامات پر مذاکرات کیے، لیکن امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد انہی سے آنکھیں پھیر لیں۔ ان ایرانی سیاستدانوں کے انجام سے سبق سیکھیں جنہوں نے برسوں امریکی مفادات کی خدمت کی، لیکن انہیں اس وقت قتل کر دیا گیا جب امریکہ نے یہ سمجھا کہ وہ ان کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں اپنا منصوبہ نافذ کر سکتا ہے۔

 

امریکہ کو اس کی مشکل صورتحال (بھنور) سے نکلنے کا موقع نہ دیں۔ ایسے کسی مذاکرات یا جنگ بندی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے جس میں اسلام کے شرعی احکامات پر سمجھوتہ کیا جائے۔ یا تو ہم اپنے عظیم اسلام کے ذریعے زمین کو ہلا دیں تاکہ کافر مغرب کا نظام زمین بوس ہو جائے، جس کے لیے امت کی تمام تر توانائیاں، اس کی افواج، اس کے علماء، اس کے بہترین بیٹوں اور بیٹیوں، اور اس کے پاس موجود قوت کے تمام اثاثوں کو متحرک کرنا ہوگا، تاکہ اسلام کی سربراہی، اس کے کلمے کو بلند کرنا اور اس کی ریاست کا قیام امت کا نصب العین بن جائے، یہاں تک کہ اسلام اور صلیبی مغرب کے درمیان تصادم کی مساوات متوازن ہو جائے، ورنہ ہم ایک کے بعد ایک المیے کا شکار ہوتے رہیں گے۔ جان لو کہ ذلت کی قیمت عزت کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے، کاش کہ تم اس پر غور کرتے تو جان لیتے۔

 

 

 

Read more...

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کی ثالثی

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کی ثالثی

 

تحریر: استاد بلال المہاجر، ولایہ پاکستان 

 

(ترجمہ)

 

جب سے امام مسلم اور امام بخاری کی سرزمین کے خلاف امریکی اور یہودی صلیبی مہم کا آغاز ہوا ہے، جسے چھ ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، دنیا دو کیمپوں میں بٹ چکی ہے: ایک وہ جو اس صلیبی مہم اور ایران پر حملے کی حمایت کر رہا ہے، اور دوسرا وہ جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے، بغیر کسی جنبش کے حالات کو محض دیکھ رہا ہے، جن میں یورپی ممالک، روس اور کسی حد تک چین شامل ہیں۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے جنہوں نے اس صلیبی مہم کا ساتھ دیا، تو وہ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں میں سے اس خطے میں امریکہ کے ایجنٹ اور پیروکار ہیں، بالخصوص ایران کے گرد ونواح میں موجود 'نقصان پہنچانے والی ریاستوں' (regimes of harm) کے حکمران اور عسکری قیادت، اور ان سب کی فہرست میں سرفہرست پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر ہیں، جن کا کردار اپنی قبیح ترین شکل میں سامنے آیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾

"وہ اسی (تردد) میں معلق ہو رہے ہیں نہ ان (مومنوں) کی طرف (پورے ہوتے ہیں) اور نہ ان (کافروں) کی طرف۔ اور جس کو اللہ بھٹکا دے تو تم اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہ پاؤ گے"۔ (سورۃ النساء: آیت 143)

 

ان کا یہ موقف ان کی منافقت، کم ظرفی اور تمام اعلیٰ اقدار سے ان کی بیزاری کا عکاس ہے۔ انہوں نے ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر دشمن کے خلاف مدد کرنے کا حق ادا نہیں کیا، اور نہ ہی انہوں نے پڑوس کے اس حق کا پاس رکھا جس کی تاکید رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی تھی: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» یعنی "جبرائیلؑ مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے وارث بنا دیں گے" (ترمذی)۔ انہوں نے ایک ہی نسل، قبیلے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور پڑوسیوں کے درمیان خون اور قرابت داری کے رشتوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں، پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں نے نہ تو اسلام کے شرعی احکامات کی پیروی کی، جس دین کی پیروی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، اور نہ ہی وہ قبل از اسلام کی عرب جاہلیت کی قبائلی عصبیت (کی غیرت) کے درجے تک پہنچ سکے۔ وہ ابو جہل جیسی جرات مندی اور ان قبائلی رشتوں کو نبھانے میں بھی ناکام رہے جو دونوں ملکوں کے درمیان موجود نام نہاد سرحد کے دونوں طرف بسنے والے ان کے اپنے ہی ہم نسل لوگوں کو جوڑتے ہیں۔

 

ایران کے خلاف صلیبی مہم کے آغاز سے ہی پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر اس حد تک متحرک ہو چکے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی نیندیں حرام کر لی ہیں اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان نام نہاد جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جنونی حد تک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عاصم منیر دونوں فریقوں سے برابر کے فاصلے پر کھڑے ہوں، حالانکہ ان پر یہ بات واضح ہونی چاہیے تھی کہ انہیں اپنے بھائی، اپنے پڑوسی اور اپنے ہم نسل لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» "اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ ایک شخص نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! اگر وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن اگر وہ خود ظالم ہو تو میں اس کی مدد کیسے کروں؟" آپ ﷺ نے جواب دیا: «تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ» "تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے"۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے فوجی کمانڈروں اور حکمرانوں کا خیال ہے کہ ایران ظالم ہے اور یہ ایران ہی ہے جسے انہیں ظلم کرنے سے روکنا چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾

  "حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں"۔ (سورۃ الحج: آیت 46)

 

پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کے غدارانہ اقدامات میں سے ایک جمعہ، 18 اپریل 2026 کو انطالیہ میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا تیسرا اجلاس بلانا تھا۔ اس اجلاس کی تمام تر توجہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثی کی حمایت اور علاقائی حالات، جیسے کہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی، پر تبادلہ خیال کرنے پر مرکوز تھی۔ شرکاء میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شامل تھے۔ تاہم، اس ثالثی کے پیچھے اصل متحرک قوت پاکستان کے فوجی کمانڈر اور حکمران تھے، جو حقیقت میں ثالثی نہیں بلکہ امریکی اور یہودی فریق کی جانب صریح جانبداری تھی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے امریکی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے وہ کامیابی حاصل کرنے کی خاطر طویل گھنٹے صرف کرنے کے بعد، جسے امریکہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا، انہوں نے اسلام آباد میں اس اتحاد کے رہنماؤں اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا۔

 

ان ایجنٹوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران اپنے آقاؤں کے لیے فتح حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، انہوں نے پاکستان کی مسلمان مسلح افواج کو دشمن کے محاذ پر بھیج دیا، تاکہ وہ فتح فوجی طور پر اور طاقت کے زور پر حاصل کی جا سکے، اور اس کے لیے ایسے بہانے تراشے گئے جن پر ایک دودھ چھڑایا ہوا بچہ بھی یقین نہ کرے! بہانہ یہ بنایا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے! کیا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امریکی مفادات اور اس کے ایجنٹوں، یعنی آلِ سعود کے حکمرانوں کے تحفظ کے لیے تھا، خواہ اس کے لیے کسی مسلم ملک میں مسلمانوں کی کھوپڑیوں پر ہی کیوں نہ کھڑا ہونا پڑے؟! اور کیا خود حجاز کو آلِ سعود کے حکمرانوں، جو کہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں، سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ جنہوں نے ملک کو صلیبی امریکی افواج کے لیے پوری طرح کھول دیا تاکہ وہ وہاں ایسے فوجی اڈے قائم کریں جہاں سے وہ امام مسلم اور امام بخاری کی سرزمین (ایران) میں ہمارے لوگوں کے خلاف حملے اور بمبار طیارے روانہ کریں، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ ہارون الرشید کی سرزمین، عراق پر حملہ کیا تھا؟! پاکستان پر واجب تھا کہ وہ فوجی طور پر ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے 'میثاقِ مدینہ' میں تحریر فرمایا تھا: «وأن سلم المؤمنين واحدة لا يسالم مؤمن دون مؤمن في قتال في سبيل الله إلا على سواء وعدل بينهم» "مومنوں کی صلح ایک ہے؛ اللہ کی راہ میں قتال کے دوران کوئی مومن دوسرے مومن کو چھوڑ کر صلح نہیں کرے گا مگر ان کے درمیان برابری اور عدل کی بنیاد پر"۔

 

یہ اس (موقف) کے بالکل برعکس ہے کہ امریکہ کے ایما پر اور اس کے فائدے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا جائے، اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک حربے کے طور پر پاکستان کے فوجیوں کو سعودی عرب بھیج دیا جائے۔

ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے حمایت صرف اسی صورت میں معتبر ہوتی ہے جب وہ حقیقت میں بھائی ہوں، نہ کہ محض دکھاوے یا منافقت کے طور پر، جیسا کہ پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کا معاملہ ہے جن کی کفر کے سرغنہ، ٹرمپ نے یہ کہہ کر تعریف کی: "فیلڈ مارشل بہترین ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم واقعی شاندار ہیں اس لیے شاید میں وہاں جاؤں"؛ اس نے اس بات پر زور دیا کہ اگر معاہدے پر دستخط ہو گئے تو وہ ان کی عزت افزائی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اسلام آباد جا سکتا ہے! چنانچہ پاکستان کی فوج اور حکمرانوں پر عرب شاعر متنبی کے اس قول کا الٹ صادق آتا ہے: (وَإِذَا أَتَتْكَ مَذَمَّتِيْ مِنْ نَاقِصٍ، فَهِيَ الشَّهَادَةُ لِيْ بِأَنِّيْ كَامِل) "اگر کسی کم ظرف کی طرف سے میری مذمت سامنے آئے، تو یہ میرے کامل ہونے کی گواہی ہے"۔

 

اگر پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی جیسے ہوتے، تو وہ امریکہ کی کمزوری اور ایران پر فوجی فتح حاصل کرنے میں اس کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے، اور اپنے ایرانی بھائیوں کی امداد کو پہنچتے اور خلیج میں امریکہ اور اس کے بحری بیڑوں کو غرق کر دیتے۔ آلِ سعود کے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے فوجیں بھیجنے کی بجائے، وہ اپنا مشن سرزمینِ حرمین کو آلِ سعود کے حکمرانوں کی ناپاکی سے آزاد کرانے اور نبی کریم ﷺ کی سرزمین کو امریکی اڈوں اور بحری جہازوں سے پاک کرنے میں بدل دیتے۔ وہ سرزمینِ حرمین سے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرتے، اور اہل خرسان کو خلافت کی اطاعت اور اس کے ساتھ الحاق کا اختیار دیتے، جو انہیں ان کی موجودہ جارحانہ صورتحال سے نجات دلاتا۔ اس کے بعد خلیفہ حجاز، خراسان اور پاکستان کو ایک ہی دن میں متحد کر دیتا، اور یوں پلک جھپکتے ہی ایک عظیم طاقت کا جنم ہوتا۔

 

کیا راولپنڈی اور حجاز میں موجود پاکستان آرمی کے مخلص ارکان اٹھ کھڑے ہوں گے اور دونوں ملکوں میں غداروں کے تخت الٹ دیں گے، اور اپنی نصرۃ (عسکری مدد) اس سچے قائد کو دیں گے جو ان کی اور ان کے فوجی و فکری عقیدے کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے؟ یا پھر وہ اسی غدار قیادت کے پیچھے لگے رہیں گے یہاں تک کہ امریکہ ایران پر قابض ہو جائے اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر فتح حاصل کر لے، جبکہ اس کے بعد خود اسلام آباد کا نمبر ہو؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾

"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو ثابت رکھے گا۔"  (سورۃ محمد: آیت 7)

 

 

Read more...

لبنان اور یہودیوں کے ساتھ مذاکرات

اداریہ

 

لبنان اور یہودیوں کے ساتھ مذاکرات

 

تحریر: ایم مجدی علی

 

(ترجمہ)

 

لبنان اور یہودیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ کھولنے کا خیال نہ تو کوئی نیا تصور ہے اور نہ ہی لبنانی حکام کی جانب سے کوئی نیا قدم ہے، جن کی نمائندگی صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام کر رہے ہیں جو 2025 میں برسرِ اقتدار آئے۔ لبنانی معاملات پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کی راہ حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے، خاص طور پر جوزف عون کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے۔ ان کی سیاسی بیان بازی نے مستقل طور پر مسلح جدوجہد سے امن کی طرف منتقلی پر زور دیا ہے، اگرچہ محتاط انداز میں۔ 11 جولائی 2025 کو ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا: "امن سے مراد جنگ کی عدم موجودگی ہے، اور اس وقت لبنان میں ہماری دلچسپی اسی سے ہے"۔ 7 اکتوبر 2025 کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد، 3 دسمبر 2025 کو لبنان اور یہودی وجود کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا، جس میں لبنانی فوجی اہلکاروں کے ایک وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کر رہے تھے۔ وفد کے سویلین نمائندے کے طور پر ان کا تقرر اور انتخاب سیاسی مقتدرہ کے درمیان اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا۔ لبنان اور فلسطین کے درمیان ناقورہ میں ایک ملاقات منعقد ہوئی۔

 

اس سے قبل ٹام بارک نے 13 اکتوبر 2025 کو ٹویٹ کیا تھا کہ "تاہم امن کے اس ڈھانچے کے اگلے دو اہم حصے ابھی نامکمل ہیں... اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مکالمے کے اس تسلسل کو شمال کی طرف شام اور پھر بالآخر لبنان تک پھیلایا جائے"۔ تاہم، 28 فروری 2026 سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل اور اس کے بعد ایران اور لبنان میں اس کی 'حزب' کے ردعمل، اور لبنان کے جنگ کی لپیٹ میں آنے کے بعد سے لبنان اور یہودی وجود کے درمیان مذاکرات کا معاملہ زیادہ وسیع، بڑے پیمانے پر اور واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لبنانی مقتدرہ کے لیے یہ ایک موزوں موقع تھا کہ وہ لبنان کو علاقائی تنازعات سے نکالنے اور اسے کسی بھی غیر لبنانی راستے سے الگ کرنے کے بہانے یہ بڑا قدم اٹھائے، چنانچہ ایسے بیانات سامنے آئے جن سے تصویر واضح ہو گئی۔ 19 مارچ 2026 کو لبنانی وزیر اعظم نے CNN پر اعلان کیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ایک پیغام بھیجا ہے: "میں صدر ٹرمپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اسرائیلی فریق کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں"۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 9 اپریل 2026 کو لبنانی صدر نے کہا: "ہم اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔ پھر 11 اپریل 2026 کو 'ایکس' (ٹویٹر) پلیٹ فارم پر پاکستان میں مذاکرات کرنے والے ایرانی میڈیا وفد کے ایک رکن سید مرندی سے منسوب ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا: "لبنانی وزیر اعظم نواف سلام اس بات پر اصرار کر کے لبنان میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست لبنانی مذاکرات کے ذریعے ہونی چاہیے، جو کہ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر ہو..."!

 

پھر، جوزف عون اور نواف سلام کے بیانات دوبارہ منظرِ عام پر آئے، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کر دی جو پہلے سے معلوم تھی۔ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور لبنان میں جنگ بندی، یا دس روزہ جنگ بندی، جو جمعرات 16 اپریل 2026 کی آدھی رات کو شروع ہوئی، کے بعد نیشنل نیوز ایجنسی اور اسی دن اسکائی نیوز عربیہ نے 18 اپریل 2026 کو خبر دی کہ "سلام نے ملاقات کے بعد وضاحت کی کہ صدر عون کے ساتھ بات چیت میں لبنان کی مذاکرات کے لیے آمادگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا..."۔ اسی دوران 17 اپریل 2026 کو عون نے یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے اپنی حکومت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا: "مذاکرات کمزوری، پسپائی یا دستبرداری کی علامت نہیں ہیں، بلکہ یہ لبنان کے حقوق پر اعتماد پر مبنی ایک فیصلہ ہے..."۔

 

اس کے بعد شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام بارک نے 17 اپریل 2026 کو اس حقیقت سے ہم آہنگ بیانات دیے۔ بارک نے لبنانی قیادت بشمول صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی تعریف کی اور انہیں اپنی نظر میں "بہترین قیادت" قرار دیا۔ بلاشبہ، بارک اور بالواسطہ طور پر امریکہ کی جانب سے انہیں دی جانے والی یہ ترجیح یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے اور ان کا اعلان کرنے کے حوالے سے امریکی مطالبات پر ان کے مثبت ردعمل کا نتیجہ ہے۔ اس کے ابتدائی آثار واشنگٹن میں 10 اپریل 2026 کو لبنان کے سفیر اور واشنگٹن میں یہودی سفیر کے درمیان لبنان کے لیے امریکی سفیر کی سرپرستی میں ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو سے سامنے آئے۔ اس کے بعد منگل 15 اپریل 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ میں ایک ملاقات ہوئی۔

 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ولایہ لبنان میں حزب التحریر نے 2020 کے اوائل میں ہی لبنان کی اس پستی کی نشاندہی کر دی تھی، جب یہودی وجود کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کا آغاز ہوا تھا، جس کا مقصد واضح طور پر یہ تھا: "امن، تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن)، حدود کا تعین اور غاصب یہودی وجود کے ساتھ تعلقات قائم کرنا، یہ سب ایک ہی عمل کے مختلف نام ہیں: یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ غداری"۔ لبنان اس وقت سمندری حدود کے بعد دوسرے قدم کے طور پر زمینی حدود کے تعین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تاہم اکتوبر 2023 میں آپریشن 'طوفان الاقصیٰ' کے بعد خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور ان واقعات میں ایران کے حمایت یافتہ 'حزب' کی شمولیت نے اس عمل کو کچھ وقت کے لیے درہم برہم اور معطل کر دیا۔ جب ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے امریکی صدارت سنبھالی اور اپنے اتحادیوں اور ماتحت حکومتوں کے ساتھ تکبر آمیز رویہ اپنایا، اور خطے میں اپنے نام نہاد "معاہدہ ابراہیمی" (Abraham Accords) منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ چھیڑی، تو لبنانی حکام اس بار کھل کر سامنے آئے تاکہ اپنے راستے کی حقیقی نوعیت اور خطے میں امریکی منصوبے اور مفادات کے ساتھ اس کے بنیادی تعلق کا اعلان کریں: یعنی مجرم اور قابض یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات، امن اور تعلقات کی بحالی۔

 

لبنان پہلے ہی اس راستے پر گامزن تھا، لیکن آج وہ اس میں بری طرح دھنس چکا ہے۔ اس معاملے کو حل کرنے میں کوئی بھی تاخیر لبنانی سیاسی مقتدرہ کے اہم کرداروں کے درمیان، بغیر کسی استثناء کے، اس راستے کے کرپٹ ہونے کے حقیقی یقین کی وجہ سے نہیں ہو گی، بلکہ اس کا سبب بین الاقوامی یا علاقائی مذاکرات، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اس کا تعلق ہو گا، خواہ وہ تعطل کا شکار ہوں یا جاری ہوں۔

 

البتہ، وہ واقعہ جو لبنان اور اس خطے میں اس غدارانہ روش کو بدل کر رکھ دے گا، اور جو شرعی اور عملی دونوں لحاظ سے ناگزیر ہے، وہ مسلم ممالک میں اہل نصرۃ (عسکری طاقت رکھنے والوں) کی وہ حرکت ہے جس کے ذریعے اقتدار حزب التحریر کے سپرد کیا جائے تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ان اہل قوت و نصرۃ نے اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کر لیا ہے کہ مسلمانوں کے فکری رجحانات، ان کے علاقوں کے جغرافیہ، دنیا کے ذہنوں میں امریکہ اور یہودیوں کے بدنما عکس، اور بین الاقوامی ضابطوں اور اداروں کی ناکامی کے پیشِ نظر، ان کے پاس بلا جھجھک یہ قدم اٹھانے کا ایک سنہرا موقع موجود ہے۔ اصل مسئلہ ہتھیاروں کی برتری یا طاقت کی وسعت نہیں ہے، بلکہ اصل قوت ان لوگوں کی ہے جو ان کے پیچھے کھڑے ہیں، اور وہ عام مسلمان ہیں جو اس تبدیلی کے لیے بے قرار ہیں اور جیسے ہی وہ اپنے سامنے ایک مخلص قیادت کو پائیں گے جو ان کے معاملات کی نگرانی کرے اور ان کے خون، مال، عزت اور گھروں کا دفاع کرے، تو وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

 

 

Read more...

سوڈان کے معاملے پر برلن کانفرنس

سوڈان کے معاملے پر برلن کانفرنس

 

تحریر: استاد عبد الخالق عبدون

 

(ترجمہ)

 

بدھ، 15 اپریل 2026 کو، جرمن دارالحکومت میں سوڈان کی امداد کے لیے برلن کانفرنس کا آغاز ہوا، جسے حکومتی مذمت اور کئی سول تحریکوں کے تحفظات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سیاسی شخصیات اور قوتوں نے اس میں شرکت کی، جن میں 'انقلابی قوتوں کا جمہوری سول اتحاد' (صمود) بھی شامل ہے۔ سوڈانی سول اور سیاسی قوتوں کی تقریباً چالیس شخصیات نے اس کانفرنس میں حصہ لیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد جرمن حکومت نے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے تعاون کے علاوہ یورپی اور افریقی یونینوں کے اشتراک سے کیا تھا۔ امداد دینے والے ممالک نے کانفرنس کے اختتام پر، جنگ کے آغاز کی تیسری برسی کے موقع پر، سوڈان کے لیے 1.3 بلین یورو (1.5 بلین ڈالر) کی امداد فراہم کرنے کا عہد کیا، جس جنگ نے لاکھوں سوڈانیوں کو بھوک اور شدید غربت میں دھکیل دیا ہے۔

 

کانفرنس کے دوران ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوڈان میں جنگ کے بھیانک خواب کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس بیرونی مداخلت اور ہتھیاروں کی سپلائی کو روکنے پر زور دیا جو اس تنازع کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) دونوں سے دشمنی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا، اور عالمی برادری سے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے متحرک ہونے کی اپیل کی جو گزشتہ سال فراہم کی گئی امداد کے مقابلے میں اب بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے جنگ کی تیسری برسی کو ایک ایسے تنازع کا المناک سنگ میل قرار دیا جس نے ایک ایسے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جس کے پاس ترقی کے بہترین مواقع موجود تھے، اور خبردار کیا کہ اس تنازع کے نتائج پورے خطے کے استحکام کو متاثر کریں گے۔

 

جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈی ووہل نے اعلان کیا کہ انسانی امداد کے لیے مختص وسائل میں کمی کے باوجود، شرکاء نے اب تک مجموعی طور پر 1.3 بلین یورو سے زائد مالیت کی امداد کے وعدے کیے ہیں، اور انہوں نے اسے ایک مثبت علامت قرار دیا۔ سوڈان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندے کے مطابق، جس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی (AFP) کو بتایا، اپریل کے وسط تک سوڈان میں کام کرنے والی انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو امداد کی فراہمی کے لیے مطلوبہ فنڈز کا سولہ فیصد سے زیادہ حصہ موصول نہیں ہوا تھا۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں واڈی ووہل نے کہا کہ سوڈان نے تین سال تک ہولناک جرائم اور ناقابل تصور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ وزیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ جرمنی نے دنیا کی سب سے بڑی انسان ساختہ انسانی تباہی کے نتیجے میں سوڈانی عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے 230 ملین یورو فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ وہ امریکہ ہی تھا جس نے اپنے کارندوں کو اس منحوس جنگ کو شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

سوڈانی حکومت نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے اس کانفرنس کی میزبانی سوڈان کے داخلی معاملات میں اچانک اور ناقابلِ قبول مداخلت ہے، لیکن اس نے جرمنی کے خلاف محض انتباہ اور مذمت کے سوا کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا! سوڈانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ کانفرنس خرطوم حکومت کے ساتھ کسی قسم کے ہم آہنگی اور مشاورت کے بغیر منعقد کی گئی،" ساتھ ہی خبردار کیا کہ نیم فوجی گروہوں کے ساتھ معاملات ریاست کی خودمختاری کو نقصان پہنچائیں گے۔ مزید کہا گیا کہ برلن کانفرنس "استعماری سرپرستی کے اس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتی ہے جو اب بھی بعض مغربی ممالک میں رائج ہے، جس کے ذریعے وہ آزاد ممالک اور اقوام پر اپنا ایجنڈا اور نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔" بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ "غیر جانبداری کے بہانے کانفرنس میں سوڈانی حکومت کو نظر انداز کرنا ناقابلِ قبول ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال ہے، اور حکومت اور اس کی فوج کو ایک مجرم، کثیر القومی دہشت گرد ملیشیا کے برابر قرار دینا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔"

 

پچیس سیاسی اور سول تحریکوں نے ایک بیان میں کہا کہ کانفرنس کی دعوت کے طریقہ کار اور ایجنڈے کے بغور جائزے کے بعد، "یہ بات سامنے آئی ہے کہ شرکاء کے انتخاب کے معیار میں عدم توازن تھا، شفافیت کا فقدان تھا اور دعوت نامے بھیجنے میں جانبداری برتی گئی، جس کی وجہ سے ریپڈ سپورٹ ملیشیا سے وابستہ قوتوں کو بہت زیادہ نمائندگی دی گئی، جبکہ سوڈانی ریاستی اداروں کی حمایت کرنے والی قومی قوتوں کو بڑے پیمانے پر نظر انداز کیا گیا۔" بیان میں مزید کہا گیا کہ "سوڈانی عوام کے وسیع حلقوں کی نمائندگی کرنے والے مخصوص رہنماؤں اور بااثر قوتوں کی شرکت کو مسترد کر کے اور ان کی عدم شمولیت کی شرط رکھ کر اہم فریقین کو دانستہ طور پر نکالنا سوڈانی معاملات میں کھلی مداخلت ہے، جبکہ اس کے برعکس ریپڈ سپورٹ ملیشیا کے اتحادیوں کو غیر مشروط نمائندگی دی گئی۔"

 

اس بیان پر دستخط کرنے والی سیاسی اور سول قوتوں کی فہرست میں نیشنل امہ پارٹی، سوڈانی جسٹس اینڈ ایکوالٹی موومنٹ، سوڈان لبریشن موومنٹ، عبوری کونسل، سوڈانی بعث پارٹی، سوڈانی لائرز ایسوسی ایشن، نیشنل میڈیا ایسوسی ایشن اور دیگر تحریکیں شامل تھیں۔

 

دوسری جانب سابق وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی سربراہی میں 'انقلابی قوتوں کے جمہوری سول اتحاد' (صمود) نے کانفرنس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی پر روشنی ڈالنا اور سوڈان میں خونی تنازعے کے خاتمے کے لیے کوششوں کو مربوط کرنا ہے۔ ایک بیان میں اس اتحاد نے برلن کانفرنس کی کارروائی میں اپنی شرکت کی تصدیق کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے اور سوڈان میں امن کی تعمیر کے طریقوں پر ایک وسیع سوڈانی سول اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے کام کرے گا۔

 

جرمن وزارتِ ترقی نے بدھ 15 اپریل 2026 کو اعلان کیا کہ برلن اس سال سوڈان کو مزید 20 ملین یورو (23.58 ملین ڈالر) فراہم کرے گا، جبکہ دیگر مالیاتی وعدوں پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ 2025 کے اختتام تک، اس نے سوڈان اور وہاں کی جنگ سے متاثرہ پڑوسی ممالک کے منصوبوں کے لیے 155.4 ملین یورو (183 ملین ڈالر) فراہم کیے تھے، اور وہ اس سال اس رقم میں 20 ملین یورو کا اضافہ کرے گی۔

 

کانفرنس کے حاشیے پر، افریقی امور کے لیے امریکی صدر کے چیف ایڈوائزر مسعد بولس نے بدھ 15 اپریل 2026 کو کہا کہ امریکہ سوڈان میں جاری جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دے رہا، اور وہ اپنی کوششیں تنازع کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک طریقہ کار پر کام کرنے کے لیے مرکوز کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا خواہاں ہے جس سے امداد آبادی تک پہنچ سکے۔

 

جب امریکہ نے سوڈان پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا اور یورپ خالی ہاتھ رہ گیا، کیونکہ اسے سوڈان میں ہونے والے واقعات سے باہر کر دیا گیا تھا اور معاملات مکمل طور پر امریکہ کے قبضے میں چلے گئے تھے، تو یورپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ بچا کہ وہ ان کانفرنسوں کے دروازے سے داخل ہو جو وہ وقتاً فوقتاً منعقد کرتا ہے۔ سوڈان کے عوام کے لیے جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور نقل مکانی کے بارے میں بار بار ہونے والی گفتگو ایسی ہے جیسے وہ سوڈانی عوام کے مفادات کے بارے میں بہت فکر مند ہوں اور اس پر آنسو بہا رہے ہوں۔ تاہم، یہ امریکی گریہ و زاری مگرمچھ کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں، جو انہیں حکومت اور اپنے مفادات کے قریب لانے کے لیے بہائے جا رہے ہیں۔

 

حقیقت تو یہ ہے کہ مغربی ریاستوں کو جس چیز نے تحریک دی ہے وہ سوڈانی عوام پر ٹوٹی ہوئی تباہی اور بربادی نہیں ہے، بلکہ اپنے اثر و رسوخ کا خاتمہ ہے؛ چنانچہ وہ تندہی اور جانفشانی سے اپنے مفادات کی تلاش میں سرگرداں ہیں، چاہے ان مفادات کی قیمت تمام سوڈانی عوام کی ہلاکت ہی کیوں نہ ہو! سرمایہ دارانہ ممالک کا یہی شیوہ ہے۔

 

بدقسمتی سے، سوڈان کے عوام اس جنگ اور اقتدار کے لیے ہونے والی اس امریکی-یورپی کشمکش کا نشانہ بن چکے ہیں، جس کا مقصد اپنے ایجنٹوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور ان کے مفادات کی خدمت کریں۔

 

سوڈان کے عوام کو ان سازشوں سے باخبر ہونا چاہیے اور ان کے خلاف مضبوطی سے ڈٹ جانا چاہیے، اور مسلمانوں کے ایک ایسے خلیفہ کی بیعت کے لیے انتھک محنت کرنی چاہیے جو اسلام کے قانونِ شریعت کے مطابق لوگوں پر حکمرانی کرے۔ یہی ہماری موجودہ مشکل صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ اور ہمارے خلاف ارادہ کیے گئے ہر شر سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ بلاشبہ، یہی وہ عمل ہے جو اس امت کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھنے والے تمام دشمنوں کا قلع قمع کر دے گا۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لِـمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾

"ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے" (سورۃ الصافات: 61)

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Read more...

ایران کے لئے آپشنز !

 

تاریخ کا جائزہ لینے پر نظر آتا ہے کہ امریکہ نے طاقت کے گھمنڈ میں اور واحد سپر پاور ہونے کے تکبر کے نشے میں بد مست ہو کر 2001ء میں افغانستان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور 

Read more...

ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے اثرات

امریکی ڈالر کو بلاشبہ امریکہ کا سب سے مؤثر اسٹریٹجک ہتھیار کہا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے اس نے عالمی معیشت کی کرنسی کے طور پر اپنے ڈالر کو مسلط کر کے اپنی عالمی بالادستی کو وسعت دے رکھی ہے

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک