الخميس، 16 ذو الحجة 1441| 2020/08/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
یمن

ہجری تاریخ    6 من رجب 1438هـ شمارہ نمبر: HTY-06/1438
عیسوی تاریخ     پیر, 03 اپریل 2017 م

پریس ریلیز

قحط سالی سے یمن کے لوگ مر رہے ہیں مگر متنازع جماعتوں کی جنگ کا تیسرا سال شروع ہو گیا۔۔

 

یمن کے لوگوں کو بنیادی ضروریات کی سطح پر آفات کا سامنا ہے۔ اُن کے پاس تحفظ، خوراک، تعلیم، صحت، پانی، بجلی، تنخواہیں اور سہولیات کچھ بھی میسر نہیں ہے۔وہ قحط، بیماری، اموات، خوف، جنگ، فرقہ وارانہ و علاقائی جھگڑے اور بُرائی اور جرم کی زد میں ہیں  اوریہ سب اینگلو-امریکہ تنازعے اور خطے میں ان کے ایجنٹوں: سعودی عرب، ایران، یو-اے-ای، اور قطر۔۔۔۔۔ اور مقامی ایجنٹوں: حوثی، صالح اور حادی۔۔۔۔۔۔ کی وجہ سے ہے۔ یمن کی جنگ تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہے جبکہ متنازعہ جماعتیں 26 مارچ 2015 سے آپریشن "فیصلہ کن طوفان" (Decisive Storm) اور حوثی اور صالح کے گولوں کے ذریعے "مکلوم" کے لوگوں کا  نقصان کر رہی ہیں۔ یہ سب کافر سامراج اور اس کے ایجنڈے کو مُلک میں طاقت اور دولت کے حصول کی کوششوں کو ہوا دیتا ہے۔۔

 

دو سے زائد سالوں سے جاری اس جنگ نے پہلے سے ہی نازک معیشت، بنیادی ڈھانچےکو بہت شدید نقصان پہنچایا ہے۔ (اگست سے) سماجی ادائیگیوں اور تنخواہوں کو معطل کر دیا ہے۔ بہت سے نجی شعبے، فیکٹریاں اور کاروبار بند ہو گئے ہیں،بیروزگاری کی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 19 ملین لوگ ( یمن کی آبادی کا80 فیصد) خوراک کی کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے، زرعی پیداوار میں کمی کا شکار ہیں۔

UNICEF کی شماریات کے مطابق  پچھلے سال تقریباً 63000 یمنی لوگ مختلف وجوہات کی وجہ سے انتقال کرگئے جس میں سے بڑی تعداد غذائی قلت کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔

"ورلڈ فوڈ پروگرام" کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ہر پانچ میں سے چار یمنی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وہ ایک دن میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں اور دوسرے دن کے کھانے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

 

73 لاکھ لوگوں کو فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 2 ملین سے زائد بچے اور شِیر خوار کم درجے کی خوراک کھاتے ہیں، جن میں سے آدھے تو شدید کم خوراکی کا شکار ہیں جو کہ 2015 کی نسبت 63 فیصد زیادہ ہے اور یہ اضافہ ملک میں  ہونے والے تنازعے کے اہم اثرات کو اُجاگر کر رہا ہے۔

اقتصادی بحران کے اس نتیجے میں اندازاً 3 ملین بچے پچھلے سال سکولوں میں نہیں جاسکے، جبکہ دوسرے بہت سے کئی بیماریوں جیسے ہیضہ، پولیو اور ڈینگی(Dangue) بخار   اور نظامِ صحت کی خرابی کے باعث مر گئے۔

 

بچے اور نابالغ نوجوان اِس نقصان کے سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔جو بچے کسی بھی طرح بمباری سے بچ گئے، یا تو اُن کو بھوک اور بیماریوں کی بدولت ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل ڈالا ہے جو کہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں، یا پھر اُن کو جبراً جنگی کیمپوں میں منتقل کر دیا اور دباؤ ڈالا تاکہ اُن کو حریف ملیشیاؤں کے ساتھ لڑنے کے لئے فوجی کاموں میں استعمال کیا جائے۔ خاص طور پر جو لوگ تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے اور  مگر ہتھیار اُٹھانے کے شوقین ہیں،  حوثی اُن قبائلی لوگوں کو متحرک کرتے ہیں تاکہ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں شریک ہوں۔

 

اس بات نے معاملے کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے کہ یمن کو جو امداد دوسرے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے آتی ہے وہ متنازعہ جماعتیں کھا جاتی ہیں اور ضرورت مندوں تک بہت ہی کم مدد پہنچتی ہے۔یہ جماعتیں امداد و عطیہ لے کر کچھ تو "بلیک مارکیٹ" میں اپنی جنگی سہولت کے پیشِ نظر بیچ دیتی ہیں اور باقی ماندہ ملک میں جاری تنازعے پر اپنے حامیوں کو دے دیتی ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ بہت سی امداد و عطیہ خاتمے کی تاریخ کے نزدیک ہوتی ہے، جو کہ یمن کے لوگوں کے دکھوں میں اضافہ کرتی ہے۔ دو دن قبل، حادی حکومت نے 117 ٹن گندم جو کہ "ریڈ کراس"نے بطور مدد بھیجی تھی ضائع کر دی کیونکہ وہ قابلِ استعمال نہیں تھی ۔

 

بندرگاہوں پر جنگجوؤں کے درمیان تنازعے نے ملکی حالات میں مزید بگاڑ پیدا کردیا ہے۔اور یہ تازہ ترین تنازعہ "الحدیدہ" کی بندرگاہ پر فوج اور متنازعہ جماعتوں کے درمیان  تکلیف زدہ لوگوں کو نقصان پہنچا کر فتح حاصل کرنے کی اقتصادی جنگ ہے جو کہ اِن لاحاصل جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے تھک چکے ہیں۔

اس ایگلو-امریکہ تنازعے کی حقیقت اب یمن کے لوگوں سے چھپی نہیں ہوئی۔ متنازعہ جماعتیں اِس کا برملا اظہار کرتی ہیں اور اِس پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتیں۔ یہ جنگ اندرونی یا بیرونی طور پر کسی بھی طرح جائز نہیں، نا ہی یہ کوئی مذہبی یا فرقہ وارانہ جنگ ہے چاہے جس طرح بھی اِن جماعتوں نے اپنے جرائم کو چھپانے کے لئے اِس کا بھیس بدل ڈالا ہے۔یہ ایک نوآبادیاتی بین الاقوامی سیاسی تنازعہ ہے جس میں لڑائی منع ہے۔

ہم اِن متنازعہ جماعتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا یمن کے لوگوں کے نقصان پر جنگ، لڑائی، جوّے، اور اپنے "استعماری" آقاؤں کی خدمت کے یہ دو سال کافی نہیں؟ کیا "استعماریوں" کے اقتدار اور مفاد تمہارے نزدیک اُن لوگوں کے ایمان اور فہم سے زیادہ درجہ رکھتے ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "هم مني وانا منهم""وہ مجھ میں سے ہیں اور میں اُن میں سے"؟!

 

اے یمن کے لوگو! اگر تم اپنے ایمان اور فہم کی جانب لوٹ آؤ تو یہ تمہارے مسائل حل کرنے کے لئے کافی ہے۔ مغرب اور اقوام متحدہ کی جانب سے حل کا انتظار مت کرو، کیونکہ وہ گمراہ ہیں اور گمراہ کرتے ہیں، تمہیں جنگ اور ہنگامہ آرائی کی طرف بلاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ جہنم کے دھانے کی طرف بُلا رہے ہیں۔ اِن کے دیے گئےزہر آلود حل سے خبردار رہو۔اللہ کا حکم بلند کرنے اور اُس کا نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کرو اور نبوت کے طریقے پر ایک راست باز ریاستِ خلافت کے قیام کی کوششوں میں لگ جاؤ۔ صرف اسی سے آپ لوگ ایک خوشحال یمن کی طرف لوٹو گے، آپ کے دائیں  بائیں سرسبز و شاداب باغات ہوں گے۔آپ کا ملک وسائل و دولت سے مالا مال ہے اور حربی لحاظ سے ایک اہم محلِ وقوع رکھتا ہے اور آپ کے دل نرم ہیں،آپ لوگ فقہہ، ایمان اور فہم والے لوگ ہو۔کیا یہی صحیح وقت نہیں کہ آپ بیدار ہو، اِن ظالموں کو روکیں اور حزب التحریر کے ساتھ اِس مقصد کے حصول کیلئے کام کریں۔

یا الله ، یہ کام جلد کر دے۔ آمین

ولایہ یمن میں حزب التحریرکا میڈیاآفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
یمن
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 735417068
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: asdaleslam2020@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک