Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

اردوغان کے سعودی عرب اور مصر کے دورے کا مقصد

 

تحریر: استاد اسعد منصور

(ترجمہ)

 

اردوغان کے اپنے ہم منصبوں، ابن سلمان اور السیسی کے ساتھ ہونے والے دورے میں سب سے پہلے جس چیز پر نظر ڈالنی چاہیے وہ ان کے بڑے ممالک، خاص طور پر دنیا کی پہلی طاقت (امریکہ) کے ساتھ تعلقات ہیں، اور یہ کہ اس وقت یہ طاقت ان سے کیا چاہتی ہے۔ کیونکہ بڑی طاقتیں ہی بین الاقوامی صورتحال پر قابض ہوتی ہیں، دوسرے ممالک کے راستےطے کرتی ہیں اور ان کے باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

 

اس دورے اور اس کے نتائج، اور ان کے پچھلے اقدامات سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ اردوغان، ابن سلمان اور السیسی کا تعلق دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کے ساتھ ہے، اور وہ اس وقت ان سے ایک خاص چیز چاہتی ہے۔

 

اردوغان کی ابن سلمان سے ملاقات میں، اس نے امریکی منصوبوں کے مطابق خطے کے تمام مسائل پر اپنے اتفاق کا اظہار کیا، چنانچہ اس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کی۔ اس سے پہلے وہ السیسی اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ٹرمپ سے اس منصوبے کے لیے التجائیں کر چکاتھا تاکہ غزہ والوں کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے،  جو اس نے "جنگ کا دائرہ نہ بڑھانے" کے امریکی بہانے پر کیا تھ، اپنی عوام کے سامنے شرمندگی سے بچ سکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی وجود کو قتل و غارت اور تباہی مچانے دی جائے اور آپ مداخلت نہ کریں۔ اس نے غزہ کے انتظام کے لیے ٹرمپ کی صدارت میں بننے والی اس کی "پیس کونسل" (امن کونسل) میں شرکت کر کے ٹرمپ کے ساتھ اپنی وفاداری کی تصدیق کی۔ اس دور کے فرعون نے اسے حقیر سمجھا اور اس نے فرعون کی اطاعت کی، جس نے اسے اس بات پر اکسایا کہ وہ حد سے بڑھ جائے اور یہ اعلان کر دے کہ وہ اسے ایک ایسی عالمی کونسل بنانا چاہتا ہے جو سلامتی کونسل کے بجائے، جہاں دوسری بڑی طاقتیں ویٹو کا حق رکھتی ہیں اور امریکی منصوبوں کی منظوری میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں، صرف اس کے ملک کے مفاد میں دنیا کے تمام مسائل حل کرے۔

 

اسی طرح السیسی کے ساتھ اپنی ملاقات میں، اردوغان نے امریکی منصوبے کے مطابق تمام مسائل، خاص طور پر غزہ کے معاملے پر ان کے ساتھ اپنے اتفاق کا اعادہ کیا، اور دونوں نے تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 

ان دونوں دوروں میں وسیع اقتصادی معاہدے کیے گئے تاکہ انہیں تعاون کا رنگ دے کر لوگوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے، چنانچہ وہ انہیں جھوٹی امیدیں دلاتا ہے اور فریب آمیز وعدے کرتا ہے کہ ان کی معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی، تاکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی سیاسی مقاصد پر پردہ ڈالا جا سکے۔

 

اگر ہم ان ملاقاتوں کے ماحول اور اس وقت تمام سیاسی شعبوں میں ان فریقین کے اتفاق رائے کا جائزہ لیں، جبکہ ہم ان کے روابط اور غدارانہ موقف سے بھی واقف ہیں، اور غزہ کے موضوع پر ان کی توجہ کو دیکھیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق یہودی وجود پر امریکی دباؤ سے ہے جو ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر کر رہا ہے، جیسے غزہ سے انخلاء میں تاخیر، خاص طور پر اس کے نفاذ کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد۔ وہ (یہودی وجود) اب بھی وہاں اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، کبھی ایک دن میں درجنوں لوگوں کو قتل کر دیتا ہے، گھروں کی تباہی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہاں کے رہنے والوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور امداد کی ترسیل اور لوگوں کے باہر نکلنے اور واپس نہ آنے کے لیے راستوں کو کھولنے میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، اور وہ نہیں چاہتا کہ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت غزہ میں ترکی کا کوئی کردار ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کا معاملہ بھی ہے جہاں  (اسرائیل) امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایران پر ایسی تباہ کن ضرب لگائے کہ نظام گر جائے، حالانکہ ایران بھی امریکہ کے زیر اثر ہے۔ ترکی، مصر اور سعودی عرب اس کی مخالفت کرتے ہیں، اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک ایسے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں جو 2015 کے معاہدے کو ختم کر دے جسے (1+5) معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے، تاکہ امریکہ اس پر تنہا قابض ہو جائے اور باقی پانچ فریق اس سے باہر ہو جائیں، یوں یہ (1+5-) بن جائے۔ اس کا مقصد ٹرمپ کی طرف سے اپنے لاڈلے یہودی وجود کو یہ پیغام دینا ہے کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب جیسے دوسرے ممالک بھی امریکہ کے لیے اہم ہیں جو یہودی وجود سے کم نہیں بلکہ 'نرم انداز' میں اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

اس طرح یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردوغان کے دوروں اور ابن سلمان و السیسی کے ساتھ اس کے اتفاق کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے، جبکہ کل تک وہ یہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ دونوں اس کے دشمن ہیں، اور مرسی کے خلاف بغاوت اور سعودی صحافی خاشقجی کے قتل کے بعد وہ ان سے نہیں مل سکتا۔ لیکن اس نے پہل کرتے ہوئے ان سے صلح کر لی اور حسبِ روایت، ان لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے جو اس پر بھروسہ کرتے تھے، اخوان المسلمون اور خاشقجی کے معاملے کا سودا کر لیا۔ اس نے امریکی احکامات کے مطابق ان دونوں حکومتوں کی حمایت کرنے اور خطے میں اس کے لیے اہم کام سرانجام دینے کے لیے ان کے ساتھ ایک نیا باب کھولا ہے۔

 

یہودی وجود مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا، کیونکہ وہ مصر کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کا خواہشمند ہے تاکہ وہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر کاربند رہے جس نے اسے جنگ سے نکال دیا اور اس کے لیے جنوبی محاذ کو ایک محفوظ بفر زون بنا دیا۔ غزہ کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصری حکومت نے وہاں کے لوگوں کی مدد کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جبکہ وہ دو سال سے نسل کشی کا شکار ہیں، بلکہ اس نے اہل مصر کی طرف سے اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے کی جانے والی کسی بھی تحریک کو روک دیا۔

 

اسی طرح یہودی وجود سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے لیے بے چین ہے اور وہ غزہ میں اپنی جاری نسل کشی کے دوران سعودی عرب کے تماشائی بنے رہنے کے رویے پر مطمئن ہے۔ سعودی عرب بھی تمام دیگر اسلامی ممالک، بالخصوص فلسطین کے قریب واقع موجودہ حکومتوں کی طرح امریکی احکامات کے آگے سر تسلیمِ خم کر چکا ہے۔ مصر، سعودی عرب اور ترکی کا ہر معاملے، بالخصوص غزہ کے موضوع پر تعلقات کو مضبوط بنانے اور اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر زور دینا اور ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی حرص یہودی وجود کو شرمندگی میں ڈال رہی ہے اور اسے اس منصوبے پر عمل کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جس سے امریکہ کے سامنے اس کے ناز نخروں میں بھی کمی آ رہی ہے، گویا ان کے ذریعے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہو۔

 

ٹرمپ نے 8 اپریل 2025 کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے سامنے اردوغان پر اپنے بھرپور اعتماد اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: "اردوغان کے ساتھ میرے تعلقات شاندار ہیں، میں اسے پسند کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، اور اگر آپ کو اس کے ساتھ کوئی مسائل ہیں تو آپ کو اسے اس کے ساتھ مل کر حل کرنا چاہیے اور اس کے معاملے میں عقل مندی سے کام لینا چاہیے"۔ اس نے امریکہ کے مفاد میں دوسروں کو دھوکہ دینے کی اردوغان کی صلاحیتوں پر بھی اپنے اعتماد کا اظہار کیا، جیسا کہ اس نے گزشتہ 14 برسوں کے دوران کئی ممالک اور بالخصوص شام میں کر کے دکھایا ہے۔ اردوغان نے وہاں جو کچھ کیا، اسے ٹرمپ اور اس کے مبعوث 'برّاک' کے نزدیک امریکہ کے لیے ایک عظیم کام تصور کیا جاتا ہے۔ اس نے وہاں ایک 'تاجر'  کا کردار ادا کیا، چنانچہ اس نے جولانی کو ایک معمولی قیمت پر خرید کر اسے امریکہ کا ایجنٹ بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں جولانی نے شام میں اسلام کی حکمرانی کی واپسی کو مسترد کر دیا اور اس کے قیام کی دعوت دینے والوں کے خلاف جنگ شروع کر دی، یہاں تک کہ انہیں 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائیں۔ اس نے یہودی وجود کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا اور اس کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا، اور اس نے یہ بات ثابت بھی کر دکھائی کہ یہودی وجود کی مسلسل جارحیت اور جنوبی شام پر قبضے کے باوجود اس نے ایک بار بھی جوابی کارروائی نہیں کی، بلکہ وہاں اس کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سکیورٹی سیل تشکیل دیا اور اس سمت میں تیزی سے قدم بڑھا رہا ہے۔ مزید برآں، وہ اسلام کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد میں بھی شامل ہو گیا ہے۔

 

اس طرح اس نے شام کے اس انقلاب کے مقاصد کو اب تک ناکام بنا دیا ہے جو اسلام کے نفاذ، گولان اور فلسطین کی آزادی کے لیے جہاد کے اعلان اور وہاں سے امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے برپا ہوا تھا، جس کی علامت پہلے بشار الاسد کی سابقہ حکومت تھی۔ اب اس کی جگہ ایسا شخص لایا گیا ہے جو امریکہ کے لیے بشار سے بھی بہتر ہے، کیونکہ وہ اپنے مربی اردوغان اور فیدان کی طرح دین داری کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

یہ نہیں کہا جانا چاہیے کہ اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کو ہمیں مثبت نظر سے دیکھنا چاہیے اور اس کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ اس معاملے کے پیچھے انتہائی خبیث مقاصد چھپے ہوئے ہیں اور یہ کوئی نیک نیتی پر مبنی عمل نہیں ہے۔ یہ سب خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی خدمت اور اس کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہے، اور یہ عمل ان ممالک کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے اور وہاں موجود فاسد نظاموں اور کفار کے وفادار حکمرانوں کے بقا کی تصدیق کرتا ہے۔ اسلام کا تقاضا تو یہ ہے کہ امریکہ سے تمام ناتے توڑ کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما جائے، اور ان ممالک اور دیگر اسلامی علاقوں کو ایک ایسی ریاست میں متحد کرنے کے لیے کام کیا جائے جو اسلام کو نافذ کرے، مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کرے، مظلوم مسلمانوں کو نجات دلائے، اور ملک کو ترقی دے کر اس کی دولت کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے عوام میں تقسیم کرے۔

 

 

Last modified onبدھ, 11 فروری 2026 20:26

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.