Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مقبوضہ کشمیر سے ایک سچی پکار!

 

 

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ - مقبوضہ کشمیر

(ترجمہ)

 

جس وقت پاکستان 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے نام پر ایک ڈرامے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں نغمے دہرائے جاتے ہیں اور انسانی زنجیریں بنائی جاتی ہیں، تو اسے چاہیے کہ وہ ان نمائشی شور و غل سے نکل کر وادیِ کشمیر کی دم گھونٹتی خاموشی کو محسوس کرے۔ میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس میں دکھائی جانے والی یہ خبریں امن نہیں، بلکہ ایک ایسی جیل کی خاموشی ہے جسے ایک مجرمانہ انتظامیہ چلا رہی ہے، جس کا نشانہ عوام کے جسم، عقل اور ایمان ہیں۔ جب پاکستانی حکمران کشمیر کے 'شہ رگ' ہونے کے گیت گاتے ہیں، تو زمین پر حقائق ایک منظم مٹاؤ کو ظاہر کر رہے ہیں، جہاں مردوں کو ان کی قبروں سے اور زندوں کو ان کی آوازوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ یکجہتی کے منتظر نہیں بلکہ فوجی مداخلت اور مسلح افواج کی عملی پیش قدمی کے منتظر ہیں۔

 

کشمیر میں نام نہاد استحکام اور نارمل زندگی قبرستان کی خاموشی کے سوا کچھ نہیں، جسے جدید تاریخ کے بدترین انتظامی محاصرے کے ذریعے مسلط کیا گیا ہے۔ ہندو ریاست زمین پر قبضے سے آگے بڑھ کر اب مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں اس کے جسم، فکر، معیشت اور دین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 5 اگست 2019 کو کشمیر کے یکطرفہ الحاق اور پاکستانی قیادت کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سے، 'نیا کشمیر' کا منصوبہ کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک آبادکارانہ استعماری منصوبہ ہے جس کا مقصد وادیِ کشمیر کی اسلامی شناخت کو ختم کرنا ہے۔ اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی قیادت انہیں نظر انداز کر رہی ہے یا اپنے تنگ نظر سیاسی مقاصد کے لیے موقع پرستی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔ 2019 کی غداری کے بعد سے، کشمیر کو خاردار تاروں کے پیچھے قید کر دیا گیا ہے جہاں 9 لاکھ فوجی ہر فرد کی سانسوں پر پہرہ دے رہے ہیں، ایسی قبریں ہیں جو مخالفین کو نگل رہی ہیں، اور ایسی جیلیں ہیں جو تشدد کی گونج سے بھری ہوئی ہیں۔ نوے کی دہائی سے اب تک دسیوں ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں، کونن اور پوش پورہ میں عصمتیں دری کی گئیں، اور جبری گمشدگیوں کے عقوبت خانوں میں پورے کے پورے خاندانوں کو ختم کر دیا گیا، اور اب خون کی کوئی قیمت نہیں رہی کیونکہ یہ ایک ایسی دنیا میں مسلمانوں کا خون ہے جو ان کے المیے سے آنکھیں پھیر چکی ہے۔

 

2019 کے الحاق کے بعد کشمیر کے عوام نے 550 سے زائد دن مکمل مواصلاتی بائیکاٹ اور تنہائی میں گزارے، جو ایک اجتماعی سزا تھی جس کا مقصد ان کے جذبہِ مزاحمت کو توڑنا تھا۔ عدلیہ مستقل سزا دینے کا ایک آلہ بن چکی ہے، جہاں 'غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا ایکٹ' (UAPA) بذاتِ خود ایک سزا بن گیا ہے، جس میں سزا کی شرح 0.6 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ہزاروں افراد جیلوں میں سڑ رہے ہیں تاکہ ان کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ جہاں تک 'پبلک سیفٹی ایکٹ' (PSA) کا تعلق ہے، تو یہ ایک 'گھومنے والے دروازے' کا نظام ہے جس کے تحت قیدیوں کو سالوں بعد رہا کیا جاتا ہے اور پھر جیل کے دروازے پر ہی نئے فیصلے کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ان جیلوں میں تشدد محض اعترافِ جرم کروانے کے لیے نہیں بلکہ عزم و ارادے کو توڑنے کے لیے ایک منظم طریقے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمان نوجوانوں کے جسموں کو بجلی کے جھٹکوں اور ڈرل مشینوں سے چھیدا جاتا ہے، اور انہیں دورانِ تشدد یا تمغوں اور ترقیوں کے حصول کے لیے فرضی مقابلوں میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ محض زیادتیاں نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسی متعصب فوج کے روزمرہ کے اقدامات ہیں جسے 'خصوصی اختیارات کے قانون' (AFSPA) کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

 

ہندو غاصبانہ قبضہ تو اب مردوں کے خلاف بھی جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ ایک زندہ مجاہد سے زیادہ شہید سے ڈرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2020 سے شہداء کے جسدِ خاکی ان کے لواحقین کے حوالے نہیں کیے جا رہے، بلکہ انہیں ان کے آبائی علاقوں سے دور بونیار کے دور افتادہ گمنام قبرستانوں میں دفن کیا جاتا ہے۔ جب پروینہ آہنگر جیسی مائیں، جو لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم کی بانی ہیں، ان گمشدہ افراد کا ریکارڈ مرتب کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تو ان کے دفاتر پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور فائلیں ضبط کر لی جاتی ہیں۔ اس نام نہاد "نیا کشمیر" میں تو مردوں کا ذکر کرنا بھی ایک قابلِ سزا جرم بن چکا ہے۔ درگاہ حضرت بل جیسی مقدس مسجد کے اوپر ہندوستانی ریاست کا نشان نصب کر دیا گیا ہے، جو مسلمانوں کی تذلیل کی ایک جارحانہ کوشش ہے، جبکہ سری نگر کی جامع مسجد جمعہ کے دن بند رکھی جاتی ہے، خطیبوں کی آوازیں دبا دی گئی ہیں اور ائمہ و مبلغین کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ محض شورش پسندی کے خلاف کوئی مہم نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ ہے۔

 

"باجوہ ڈاکٹرائن" اور امن کا فریب: جس وقت کشمیر ڈومیسائل قوانین اور مقدسات کی پامالی کے باعث دم توڑ رہا تھا، پاکستانی حکمران اصل راستے سے بھٹک رہے تھے۔ مارچ 2021 میں جنرل باجوہ نے پالیسی کو "جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس" کی طرف موڑنے کا اعلان کیا، اور تجارت کے دروازے کھولنے کی خاطر ماضی کو دفن کرنے کی بات کی۔ لیکن وہ جس ماضی کو دفن کرنا چاہتے تھے، وہ خود کشمیر تھا۔ یہ کسی ریاست کی قیادت نہیں بلکہ ایک منافق تاجر کی ذہنیت ہے جو مسلمانوں کی لاشوں پر سوداگری کرتا ہے۔ کشمیر کا مقدمہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ کی شرائط اور آئی ایم ایف (IMF) کے دباؤ کا یرغمال بن کر رہ گیا، یوں آزادی کے مقصد کو "مالی استحکام" کے نام پر بیچ دیا گیا۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کے فخر کے باوجود، بھارت کو کشمیر ہڑپ کرنے سے نہ روکا جا سکا۔ اس کے جواب میں "تیس منٹ کا احتجاج" ایک مذاق تھا، جو محض عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک ایسی سیاسی چال تھی جس میں کوئی عملی قدم شامل نہیں تھا۔ بیانات جاری ہوئے، او آئی سی (OIC) کے اجلاس ہوئے اور پھر سب اپنے اپنے دسترخوانوں پر لوٹ گئے، جبکہ کشمیری مسلمان اس پورے ڈرامے کو جیلوں، عقوبت خانوں اور خاموش قبرستانوں سے اپنی ان آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جنہیں چھروں (pellets) سے اندھا کر دیا گیا ہے۔ آج 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک قومی رسم بن کر رہ گیا ہے، جس میں نغمے گائے جاتے ہیں اور انسانی زنجیریں بنائی جاتی ہیں۔

 

لاوارث قیدی کا چیلنج: تمام تر بے وفائیوں اور غاصبانہ مظالم کے باوجود، مقبوضہ سرزمین پر کشمیری مسلمان کی روح ہی واحد آزاد عنصر ہے۔ ہندو ریاست نے سوچا تھا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کر کے اور وادی میں ہندو افسر شاہی کو مسلط کر کے وہ زمین کی شناخت بدل دے گی، لیکن وہ اپنے اعترافات میں خود ناکام رہی۔ مئی 2025 میں پاکستانی افواج اور ہندوستانی فوج کے درمیان ہونے والی مختصر جنگ کے دوران، کشمیری عوام نے ہاتھ اٹھا کر پاکستانی طیاروں کی کامیابی کی دعائیں مانگیں اور ان معرکوں پر ایسے ہی خوش ہوئے جیسے کھیلوں میں فتح پر ہوتے ہیں، جس سے انہوں نے غاصب کی شناخت کو یکسر مسترد کر دیا۔ لیکن 5 فروری 2026 کا دن بھی اپنے ماضی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ اس امت کے سچے بیٹوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے سامنے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں، اور فوجی قوت رکھنے والوں میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو دلوں میں محض باتوں کے بجائے کچھ کر گزرنے کی نیت رکھتے ہیں۔ یہ پکار ان جرنیلوں کے لیے نہیں ہے جو مغربی سفارت کاروں کے ساتھ گالف کھیلتے ہیں، بلکہ ان افسران کے لیے ہے جو رات کی تاریکی میں سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اپنے عہد اور جہاد کو یاد رکھتے ہیں۔

 

اے پاک فوج کے مخلص افسرو! آپ ان لوگوں کی اولادیں ہیں جو استعماری سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے، اور جب محمد بن قاسم سندھ کے ساحلوں پر کھڑے ہوئے تھے تو انہوں نے کسی طاغوتی کونسل کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا تھا، پھر آپ سلامتی کونسل سے اجازت ملنے کا انتظار کیسے کر سکتے ہیں؟! انہوں نے معاشی اشاریوں سے مشورہ نہیں کیا تھا، بلکہ وہ راجہ داہر کے ظلم کے خلاف ایک مسلمان عورت کی پکار پر اسے بچانے کے لیے نکل پڑے تھے، اور آج کشمیر میں چالیس لاکھ مسلمان بہنیں پکار رہی ہیں! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا

 

"اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں"(سورۃ النساء : آیت  75 )

 

ان ’رویبضہ‘ (نااہل و خائن) حکمرانوں نے آپ کے ساتھ غداری کی ہے، کیونکہ انہوں نے واشنگٹن کے احکامات کے سامنے سر جھکا دیا ہے، اور وہ اللہ کے خوف سے زیادہ پابندیوں کی فہرست (گری لسٹ) سے ڈرتے ہیں، انہوں نے آپ کو استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدوں کا چوکیدار بنا دیا ہے، اور "اسلام کی تلوار" کو امریکہ کی ڈھال میں بدل دیا ہے۔ ستر سالوں سے وہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" کا نعرہ لگا رہے ہیں، لیکن انہوں نے اسے ہمیشہ صرف ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا ہے، حقیقت کے طور پر نہیں۔ اور جب نئی دہلی نے 2025 کے پہلگام تصادم کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کیا، تو یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے اس شہ رگ کو تجارتی مفادات کے عوض بیچ دیا، یہ بھول کر کہ شہ رگ کے بغیر جسم تجارت نہیں کرتا بلکہ خون بہنے سے مر جاتا ہے۔

 

اے سچے افسرو! یہ استحکام محض ایک جھوٹ ہے، امن کا عمل ایک جال ہے، اور جس امن کی یہ تشہیر کر رہے ہیں وہ قبرستانوں کی خاموشی ہے۔ تاریخ یہ کبھی نہیں لکھے گی کہ پاکستان کشمیر کو کسی معرکے میں ہارا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے بند کمروں میں قرضوں اور سفارتی چاپلوسی کے عوض دشمن کے حوالے کیا گیا ہے۔ جب آپ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، تو آپ میں سے کسی سے اس کے عہدے یا تنخواہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا، بلکہ اس خاموشی کی وجہ پوچھی جائے گی جو بھائیوں کی پکار پر اختیار کی گئی تھی۔ اپنی ان فوجی وردیوں کو دیکھیں، یہ نمائشی پریڈوں کے لیے نہیں ہیں، بلکہ امت کی حفاظت کے لیے کفن ہیں۔ تاریخ کو یہ مت لکھنے دیں کہ جب شہ رگ کٹی جا رہی تھی تو آپ جلاد کو سلامی دے رہے تھے۔ واشنگٹن کی سیاست کو مسترد کر دیں، اور اس ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کو پاش پاش کر دیں جو خون پر تجارت کو ترجیح دیتی ہے۔ آپ کے پاس طاقت ہے، آپ کے پاس دین ہے، اور آپ پر شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور آپ اللہ کے حضور کسی سیاسی دستاویز کے ساتھ نہیں پیش ہوں گے، بلکہ اللہ کی راہ میں جہاد کی خاک سے اٹے ہوئے قدموں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔

 

ان ایجنٹ قیادتوں نے امت کو زنجیروں میں جکڑ دیا ہے، اور حزب التحریر آپ کو بار بار پکار رہی ہے کہ ان زنجیروں کو توڑ دیں اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اس کی مخلص قیادت کو نصرۃ (عسکری مدد)  فراہم کریں۔ آپ کے پاس قوت کی چابی ہے، اسے امت کی جیل کو مقفل کرنے کے لیے نہیں بلکہ فتح کے دروازے کھولنے کے لیے استعمال کریں۔ اس دور کے ’انصار‘ بنیں اور خلافت کی اس ڈھال کو واپس لائیں جس کی خوشخبری ہمارے نبی ﷺ نے دی تھی۔

 

یہ ایک مقبوضہ اسلامی سرزمین کی طرف سے ایک سچی پکار ہے۔

Last modified onجمعرات, 12 فروری 2026 19:07

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.