Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

سوڈان میں صورتحال: جنگ اور جنگ بندیوں کے درمیان

 

 

تحریر: استاد عبد الخالق عبدون

 

(ترجمہ)

 

 

سوڈانی فوج اور اس کے معاون دستوں کی جانب سے ’الدلنج‘ شہر پر ریپڈ سپورٹ فورسز اور ان کی حلیف ’عوامی تحریک-شمال‘ کا محاصرہ ختم کرنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد، فوج ریاست جنوبی کردفان کے دارالحکومت ’کادقلی‘ کا اسی طرح کا محاصرہ توڑنے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے۔ فوج نے کادقلی تک پہنچنے کے لیے ایک فوجی آپریشن شروع کیا اور کادقلی-الدلنج شاہراہ پر عوامی تحریک اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف شدید لڑائی لڑی، جس کی بدولت اس نے السماسم، الکرقل اور الدیشول کے قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا، اور پھر شام کے وقت الکویک قصبے میں کادقلی سے آنے والی ایک نفری سے ملاقات کی اور شہر میں داخل ہو گئی۔ ریپڈ سپورٹ فورسز اور ان کی اتحادی عوامی تحریک-شمال نے 15 اپریل 2023 کو جنگ کے آغاز کے ابتدائی مہینوں سے ہی اس شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ کادقلی کی خاص اہمیت اس کی وجہ سے ہے کہ یہ ریاست جنوبی کردفان کا دارالحکومت اور اس کا انتظامی مرکز ہے، علاوہ ازیں اس کا جغرافیائی محل وقوع اسے کردفان کی ریاستوں اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے درمیان ایک اہم تجارتی و مواصلاتی مرکز (جنکشن) بناتا ہے۔

 

 

26 جنوری 2026 کو، فوج الدلنج کا محاصرہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئی، جو کادقلی کے بعد ریاست کا دوسرا بڑا شہر ہے، یہ محاصرہ تقریباً دو سال تک ریپڈ سپورٹ فورسز اور عوامی تحریک-شمال نے برقرار رکھا تھا۔ الدلنج شہر کادقلی اور شمالی کردفان کے درمیان ایک اہم کڑی ہے اور اسے شہریوں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ اکتوبر 2025 سے کردفان ریجن کی تینوں ریاستوں (شمالی، مغربی، اور جنوبی) میں 2023 سے جاری جنگ کے فریم ورک کے اندر سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

 

 

ام درمان میں سوڈان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران، عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ البرہان نے بیان دیا: "ہم سوڈانیوں کو کادقلی کا راستہ کھلنے پر مبارکباد دیتے ہیں، اور وہاں کے اپنے لوگوں کو بھی مسلح افواج کی آمد پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ہماری افواج ملک کے ہر کونے میں پہنچیں گی"۔ اس نے کسی بھی فائر بندی کو شہروں سے ریپڈ سپورٹ فورسز کے انخلاء سے مشروط کیا اور وضاحت کی: "ہم جنگ بندی کی کسی بھی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہیں بشرطیکہ اسے دشمن کی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے یا ملیشیا کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع نہ دیا جائے"۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ امن اور جنگ بندی کی ہر پکار کا جواب دیا جائے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ "ہم سوڈانیوں کے خون کا سودا نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے حقوق کو پامال کریں گے"۔ البرہان نے الفاشر شہر کے لوگوں کو پیغام دیا کہ مسلح افواج مشترکہ افواج، رضا کاروں اور عوامی مزاحمت کی مدد سے ان کی طرف آ رہی ہیں۔

 

 

الدلنج، کادقلی یا کسی اور شہر کی واپسی دراصل لوگوں کو اس جاری جنگ کی اصل حقیقت سے غافل کرنے کے لیے ہے، جسے امریکہ نے اپنے دو ایجنٹ جرنیلوں، البرہان اور دقلو کی مدد سے شروع کیا ہے، تاکہ برطانیہ کے حامیوں کو اقتدار سے باہر نکالا جا سکے اور امریکی مہروں کو حکومت میں مستحکم کر کے سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ اس لعنتی جنگ کو ختم کرنے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، بلکہ دونوں فریق محض ایک دوسرے پر حملے اور پسپائی  کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اب اس جنگ کے نتائج سمیٹنے کی جانب بڑھ رہا ہے، چنانچہ امریکی محکمہ خارجہ کے فرسٹ ڈپٹی ترجمان پیگوٹ کے دفتر سے 4 فروری 2026 کو ایک پریس ریلیز جاری ہوئی کہ امریکہ نے 3 فروری 2026 کو اپنے حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ ایک تقریب کی میزبانی کی جہاں امداد کے لیے 1.5 بلین امریکی ڈالر کے نئے وعدے کیے گئے۔ بیان کے مطابق، امریکہ نے 20 سے زیادہ عطیہ دہندگان کو 'ڈونلڈ جے ترامپ انسٹی ٹیوٹ فار پیس' میں مدعو کیا، جہاں انہوں نے 'سوڈان ریلیف فنڈ' کے ذریعے 200 ملین امریکی ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت، مصر، چاڈ، برطانیہ، ناروے اور دیگر ریاستوں کی جانب سے بھی بڑے عطیات کا اعلان کیا گیا۔

 

 

بیان میں مزید کہا گیا ہے: "ہم 15 اپریل کو برلن میں ہونے والے اجلاس کے منتظر ہیں، اور اس اہم انسانی کوشش میں مزید ممالک کی شمولیت کی توقع رکھتے ہیں"۔ اسی طرح عرب اور افریقی امور کے لیے امریکی صدر کے سینئر مشیر مسعد بولس نے اشارہ دیا کہ اس وقت ایک ایسی دستاویز موجود ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سوڈان میں تنازع کے دونوں فریقوں کو قبول ہے اور توقع ہے کہ یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا باعث بنے گی۔ اس نے واشنگٹن میں 'یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس' (امریکی امن ادارے) کے ہیڈ کوارٹر میں سوڈان کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے تحت سوڈان میں برسرِ پیکار دونوں فریقوں کے جنگجو بعض علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے، جس سے انسانی امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ 'کواڈ' (چار ملکی گروپ) کی توثیق کے بعد سوڈان کے فریقین کے درمیان امن معاہدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس نے مزید کہا کہ "ہم سوڈان کے امن معاہدے کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے بعد امن کونسل میں لے جا سکتے ہیں"۔

 

 

مسعد بولس، جو اپنے تمام بیانات میں متوقع جنگ بندیوں کے اعلانات کے لیے مشہور ہے، اس نے سوڈان کے متحارب گروہوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے امریکہ کے اس منصوبے کو قبول کر لیں جسے 'کواڈ' ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ تین ماہ کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی نافذ کرنے کی بنیاد رکھتا ہے جو کہ مستقل فائر بندی کی تمہید ہو گی، اور اس کے نتیجے میں نو ماہ کے عبوری دور کی راہ ہموار ہو گی، لیکن امریکی ایلچی کے مطابق اسے دونوں فریقوں کے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔

 

 

اسی طرح ٹرمپ بھی وقتاً فوقتاً یہ بیان دیتا رہتا ہے کہ اس کی انتظامیہ سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، واشنگٹن میں ہر سال فروری کی پہلی جمعرات کو منعقد ہونے والے روایتی 'نیشنل پریئر بریک فاسٹ' (قومی دعائیہ ناشتہ) میں شرکت کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی انتظامیہ سوڈان میں جنگ ختم کرنے کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ سوڈان میں جاری یہ تنازع نویں جنگ ہو گی جسے وہ ختم کریں گے۔

 

 

یہ لایعنی جنگ جو سوڈان کو تباہ کر رہی ہے اور جس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی نقل مکانی دیکھنے میں آئی، ہرگز شروع نہ ہوتی اگر یہ حکمران ایجنٹ نہ ہوتے، جنہوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ سوڈان استعماری کافر مغرب کے منصوبوں کے لیے اکھاڑا بنا رہے۔ اور یہ مجرم جب چاہتے ہیں جنگ بھڑکاتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اسے روک دیتے ہیں۔ سوڈان کے لوگ کبھی بھی ایسی باوقار اور پرامن زندگی نہیں گزار سکیں گے جس میں انہیں ان کے تمام حقوق حاصل ہوں، سوائے ایک ایسی ریاست کے سائے میں جس کا بیرونِ ملک سے کوئی تعلق نہ ہو، بلکہ وہ اپنی طاقت اللہ عزوجل سے حاصل کرے، جو ان ایجنٹوں کو اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کرے، اور اللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے ان کافروں کے شیطانی وسوسوں کو خاک میں ملا دے۔

 

﴿لِـمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ

 

"ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے"( سورہ الصافات : آیت  61 )

 

 

ولایہ سوڈان  میں  حزب التحریر کے  میڈیا آفس کے رکن

 

Last modified onجمعرات, 12 فروری 2026 19:06

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.