بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
سوڈان میں لیبیائی منظرنامہ اور اسے ناکام بنانے کا طریقہ
تحریر: استاد یعقوب ابراہیم – ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
سوڈان کے صوبہ دارفور میں انتہائی تیز رفتار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، خاص طور پر پیر 23 فروری 2026 کو ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے "دامرۃ مستریحہ" پر قبضے اور اس سے قبل 26 اکتوبر 2025 کو دارفور میں فوج کے آخری ٹھکانے کے انخلاء کے بعد الفاشر شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یہ ایک فیصلہ کن قدم تھا جس نے ایک نئی حقیقت کو جنم دیا اور سوڈانی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا کر اسے لیبیا جیسے منظرنامے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جہاں سوڈان کی دوسری تقسیم کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں، جس میں دو الگ الگ اور آپس میں برسرِ پیکار حکومتیں دو حصوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، اور ان کے درمیان ملک برباد اور عوام مصیبت کا شکار ہیں۔
امریکہ نے 2011 میں جنوبی سوڈان کو الگ کرنے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی منزل ریپڈ سپورٹ فورسز میں تلاش کی اور انہیں دارفور کی علیحدگی کے منصوبے پر لگا دیا، اس مقصد کے لیے امریکہ نے 2023 میں البرہان اور حمیدتی کے درمیان جنگ چھڑوائی اور اس کی ایسی مہارت سے نگرانی کی کہ ریپڈ سپورٹ فورسز پورے صوبے پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ اب سوڈان میں عملی طور پر دو حکومتیں قائم ہو چکی ہیں؛ ایک مغرب (صوبہ دارفور) میں حمیدتی کی قیادت میں، جس کا رقبہ برطانیہ سے دوگنا اور فرانس کے برابر ہے اور اس میں صوبہ کردوفان کے وسیع علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ حکومت سوڈان کی ان نایاب معدنیات، سونے اور تیل کے ذخائر پر قابض ہے جن کے حصول کا لالچ ٹرمپ ہر جگہ رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف سوڈان کے باقی حصوں میں فوج کی قیادت میں حکومت قائم ہے۔
امریکہ نے یہ منظرنامہ "امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس" کی سفارشات کے مطابق ترتیب دیا ہے، جسے 1984 میں کانگریس نے قائم کیا تھا اور جس کے ڈائریکٹرز میں وزرائے خارجہ اور دفاع شامل رہے ہیں۔ اس ادارے نے اپریل 2024 میں نیروبی ورکشاپ کے دوران سوڈان کی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں لیبیا کے ماڈل سے بھی زیادہ سنگین اور بدتر قرار دیا تھا (الجزیرہ، 14 مارچ 2024)۔ یہ ادارہ جنگ کا رخ اپنی مرضی کی سمت موڑنے کے لیے امریکہ کے اہم آلات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اسی ورکشاپ میں طویل بحث کے بعد سوڈان میں دو حکومتوں کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی، جو اب قریب ترین اور غالب امکان بن چکا ہے۔ یہی وہ منظرنامہ ہے جس کے بارے میں ٹرمپ کے عرب اور افریقی امور کے سینئر مشیر مسعد بولس نے 28 اکتوبر 2025 کو العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوڈان کی تقسیم سے متعلق "لیبیائی منظرنامہ" دہرایا جا رہا ہے۔
امریکہ نے دانستہ طور پر جنگ کو طول دینے کی پالیسی اپنائی، جس کی توقع پہلے ہی سے تھی، چنانچہ نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ایورل ہینس نے 4 مئی 2023 کو، یعنی جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کہا تھا کہ سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی طویل ہونے کا امکان ہے (ڈی ڈبلیو ویب سائٹ)۔ حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، جو بلادِ مسلمین میں کفار کی سازشوں کو بے نقاب کرنے والے ہیں، انہوں نے جنگ شروع ہونے کے محض دس دن بعد 25 اپریل 2023 کو ایک جاری کردہ بیان کے چوتھے نکتے میں کہا تھا کہ امریکہ ان دونوں جرنیلوں سے جنگ کو طول دلوانا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اس تصادم کے جاری رہنے کا مقصد برطانیہ کے ایجنٹوں (سول فورسز، حریت و تبدیلی وغیرہ) کو بے دخل کرنا تھا، اور اگرچہ یہ مقصد تقریباً حاصل ہو چکا ہے، لیکن دستوری دستاویز کے خلاف بغاوت کے لوگوں پر ظاہر ہونے کے باعث امریکہ اور اس کے حواری اس بار جنگ کو کسی فیصلے کے بجائے "کر و فر" (لڑو اور بھاگو) کی بنیاد پر کسی حد تک طویل کریں گے۔
جنگ کو طول دینا دراصل لیبیائی ماڈل کو مستحکم کرنے کے لیے امریکی حربوں میں سے ایک تھا۔ مسعد بولس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور صدر ٹرمپ اس اصول کے سخت خلاف ہیں، وہ ہمیشہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں (الجزیرہ، 21 نومبر 2025)۔ اس منحوس جنگ کے آغاز سے ہی لڑائی کے طریقہ کار سے یہ بات واضح ہے! بلکہ بولس نے اسی ملاقات میں مزید وضاحت کی کہ واشنگٹن کے پاس حل اور مسودات تیار ہیں، مگر اصل بات ان کے نفاذ کی ہے، اور یہ بھی کہ ان کا ملک سوڈان کے دونوں متحارب فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے 28 اکتوبر 2025 کو 'الشرق الاوسط' کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ واحد حل اور واحد راستہ صرف مذاکرات کے ذریعے پرامن حل ہے۔
امریکہ نے سوڈان میں جنگ جاری رکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس لیے وہ حل میں ٹال مٹول کرتا ہے اور ایسی تسلیوں کی بھرمار کر دیتا ہے جس نے سیاست دانوں اور سوڈانی معاملات پر نظر رکھنے والوں کے کان پکا دیے ہیں، تاکہ دارفور میں امریکہ کے علیحدگی پسند مہرے (حمیدتی) کے اثر و رسوخ کو مستحکم کیا جا سکے۔
سوڈان میں فوج کی قیادت اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی قیادت، دونوں ہی درحقیقت امریکہ کے کارندے ہیں۔ ڈیوڈ سیٹرفیلڈ، جنہوں نے فیلٹمین کے بعد ہارن آف افریقہ کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیں، انہوں نے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے پیش کردہ ایک مطالعے میں کہا کہ واشنگٹن کے پاس سوڈان میں صرف برے آپشنز ہی موجود تھے اور وہ فوج کے ساتھ سودے بازی کرنے پر مجبور تھا۔ اسی طرح 'آئی 24 نیوز' ویب سائٹ کے مطابق مسعد بولس نے بتایا کہ امریکہ تنازع کے دونوں فریقین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے۔ لہٰذا مذاکرات کو جدہ سے جنیوا اور قاہرہ سے واشنگٹن وغیرہ منتقل کرنے کا مقصد کوئی حل نکالنا نہیں بلکہ محض ٹال مٹول کرنا ہے۔ انہوں نے 12 ستمبر 2025 سے ایک فوری جنگ بندی کا اعلان تو کر رکھا ہے، لیکن تاحال اس کا ذکر صرف مسعد بولس اور ان کے چار رکنی گروہ (رباعیہ) کے بیانات تک ہی محدود ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ ٹال مٹول اور تاخیری حربے اس لیے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں حکومتوں (البرہان حکومت اور حمیدتی حکومت) کو اپنے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اثر و رسوخ مضبوط کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ 'حکومتِ تاسیس' نے تو باقاعدہ بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر خطے میں امریکہ کی آلہ کار ریاستوں سے قبولیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ چنانچہ یوگنڈا کے صدر یوری موسوینی نے جمعہ 20 فروری 2026 کو عنتیبی شہر کے صدارتی محل میں حمیدتی کی سربراہی میں 'حکومتِ تاسیس' کے پورے عملے کا استقبال کیا۔ موسوینی نے 'ایکس' (ٹویٹر) پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ اس ملاقات کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور پرامن سیاسی حل ہی سوڈان اور خطے میں پائیدار استحکام کا واحد راستہ ہیں۔
امریکہ کی موجودہ اور مستقبل کی تمام کوششیں ملک کے عوام کے لیے کسی قابلِ قبول حل کا باعث نہیں بنیں گی، بلکہ یہ محض ہوٹلوں کے راہداریوں، سوئٹزرلینڈ میں دریائے رون کے کناروں، زیورخ، شرم الشیخ کے ریزورٹس اور واشنگٹن وغیرہ میں بے مقصد گفتگو کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دارفور کی علیحدگی کے جرم پر عملدرآمد کا وقت نہیں آ جاتا؛ تب امریکہ مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے گا اور تمام فریقین کو اس مجرمانہ منصوبے پر دستخط کرنے کے لیے اکٹھا کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے جنوبی سوڈان کے معاملے میں کیا تھا۔ اگر معاملات (خدا نخواستہ) اسی ڈگر پر چلتے رہے تو امریکہ اس فائل کو اس وقت تک اپنے ہاتھ میں رکھے گا جب تک کہ وہ دارفور کی علیحدگی کے اپنے منصوبے کے بارے میں پوری طرح مطمئن نہ ہو جائے۔
استعمار کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاملہ کرنا اور شر کے سرغنہ امریکہ کو مسلمانوں کی سلامتی اور ان کے دیگر حساس معاملات کی فائلیں سنبھالنے کی اجازت دینا انتہائی خطرناک ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کی داخلی یا خارجی سیاست میں کفار کی مداخلت کو سختی سے منع کیا ہے اور اس کی حرمت پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے:
﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ ہرگز کافروں کے لیے مومنوں پر (غلبے کی) کوئی راہ نہیں بنائے گا" (سورۃ النساء: آیت 141)۔
آج امتِ مسلمہ کو ان تمام رسیوں کو کاٹنے کی ضرورت ہے جو مغربی استعماری کافر کو اس کے ممالک میں مداخلت کا موقع دیتی ہیں۔ یہ مقصد نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، جو امت کی وحدت اور ریاست کے وحدت کی حقیقی محافظ ہو۔
﴿وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ قُلْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَرِيباً﴾.
"وہ پوچھتے ہیں کہ یہ (کب) ہوگا؟ آپ کہہ دیں کہ شاید وہ وقت قریب ہی ہو" (سورۃ الاسراء:آیت 51)