Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

ایپسٹین، ایران اور حملے کا وقت:


اندرونی بحران اور اسٹریٹجک فیصلے کے درمیان ہم آہنگی کو کیسے سمجھا
جائے؟

 

آج کل کے حالات کا سنجیدہ اور پیشہ ورانہ تجزیہ اس سادہ دعوے کو قبول نہیں کرتا کہ امریکہ مکمل طور پر (اسرائیل) کے زیرِ اثر ہے۔ اسی طرح یہ بھی قابلِ قبول نہیں کہ واشنگٹن کے اندر قابض ریاست کے حامی دباؤ اور اثر و رسوخ کے ذرائع کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مفادات کی ایک درجہ بندی موجود ہے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے، اور اسی درجہ بندی کے اندر دباؤ ڈالنے والے نیٹ ورکس، اتحاد، ادارے، اور انٹیلیجنس و سیاسی روابط کام کرتے ہیں، جو بعض مخصوص آپشنز کو اس وقت نمایاں کر دیتے ہیں جب وہ امریکی مفاد کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوں۔ اسی خاص فریم ورک کے اندر ایپسٹین فائلوں کے بحران اور ایران کے خلاف کشیدگی کے وقت کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ اس کی واحد وجہ نہیں، لیکن ایک ایسا سیاسی عنصر ضرور ہو سکتا ہے جو دباؤ بڑھاتا ہے اور فیصلہ کن لمحے پر واقعات کی رفتار تیز کر دیتا ہے۔

 

اولا ً، اگر امریکہ کے داخلی سیاست کے زاویے سے دیکھا جائے تو ایپسٹین کی فائلیں محض آرکائیو  (archive)مواد یا”پرانا اسکینڈل “ نہیں رہیں۔ روئیٹرز (Reuters) کی رپورٹس کے مطابق لاکھوں دستاویزات کے مسلسل منظرِ عام پر آنے سے یہ معاملہ ٹرمپ کے لیے ایک مسلسل سیاسی مسئلہ بن گیا ہے اور یہ اب عوامی اعتماد کا بھی مسئلہ بن چکا ہے ، جو اقتدار کے بااثر طبقوں کے ساتھ تعلقات اور طاقتور لوگوں کے سزا سے بچ نکلنے کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔


اسی طرح  Reuters/Ipsos کے ایک سروے نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکیوں کی بڑی تعداد ان فائلوں کو اس بات کی علامت سمجھتی ہے کہ طاقتور افراد اکثر احتساب سے بچ جاتے ہیں، اور اس کیس نے سیاسی اور معاشی قیادت پر عوام کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاملے کا سامنا کر رہے ہیں جو صرف ساکھ کو ہی خطرے میں نہیں ڈالتا بلکہ سیاسی جواز کے پورے ماحول پر بھی دباؤ ڈال رہاہے۔

 

اسی تناظر میں سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایک نمایاں ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے محکمۂ انصاف پر الزام لگایا کہ اس نے ایپسٹین فائل میں ٹرمپ کے خلاف لگائے گئے ایک الزام سے متعلق ایف بی آئی کے انٹرویوز کو روک رکھا ہے۔ روئیٹرز نے تصدیق کی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس معاملے میں ٹرمپ پر کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا اور خود وزارتِ انصاف نے بھی کہا کہ وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ کہیں کچھ مواد غلطی سے تو نہیں روک لیا گیا تھا۔

 

یہ نکتہ بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے یہ معاملہ عدالتی سزا کے بغیر بھی انتہائی حساس سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس سے” پردہ پوشیاور دوہرے معیار کے الزامات کو بھی تقویت ملتی ہے ، جو میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کو مزید تیز کرنے کے لیے ایک موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔

 

لیکن کیا پیشہ ورانہ تجزیے کے مطابق اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران پر حملہ محض ایپسٹین کے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا؟

یہاں تجزیے کو ضابطے اور احتیاط کے ساتھ پیش کرنا ضروری ہے۔ اسٹریٹجک لٹریچر میں ایک تصور Diversionary Theory (یعنی بیرونی مسئلے کے ذریعے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا) اور “Rally round the flag” (یعنی بحران کے وقت قوم کا قیادت کے گرد جمع ہو جانا) کے نام سے جانا جاتا ہے۔   اس کے مطابق بعض اوقات رہنما بیرونی بحرانوں میں ایسا موقع دیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ داخلی سیاسی میدان کو ازسرِ نو ترتیب دے سکیں یا اپنے مخالفین پر سیاسی دباؤ اور لاگت بڑھا سکیں۔ تاہم یہی اسٹریٹجک لٹریچر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ کوئی لازمی یا حتمی قاعدہ نہیں ہے، اور اس بارے میں تجرباتی شواہد ملے جلے ہیں۔ بعض تحقیقات نے تو یہاں تک سوال اٹھایا ہے کہ یہ طرزِ عمل حقیقت میں اتنا عام بھی نہیں جتنا کہ عوامی گفتگو میں اسے سمجھ لیا جاتا ہے۔


دوسرے لفظوں میں، یہ مفروضہ سیاسیات میں موجود اور تسلیم شدہ ضرور ہے، مگر ہر جنگ یا ہر حملے کو خودکار طور پر اس کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 

زیادہ مضبوط اور محتاط انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ:


ایپسٹین فائلوں نے واقعی اندرونی دباؤ پیدا کیا، اور اس نوعیت کا دباؤ کسی بھی حکومت کو میڈیا اور سیاسی ایجنڈے کے انتظام کے معاملے میں زیادہ محتاط بنا دیتا ہے۔ تاہم روئیٹرز (Reuters) کی رپورٹس کے مطابق— ایران پر حملے کا فیصلہ —صرف اسی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے اپنی اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس وجوہات بھی تھیں۔ ٹرمپ کو دی گئی بریفنگز میں اس کارروائی کو زیادہ خطرہ/زیادہ فائدہ” (high-risk/high-reward) والی کارروائی قرار دیا گیا، اور اسے ایک نادر موقع کے طور پر پیش کیا گیا جس کے ذریعے ایسا جیوپولیٹیکل  تغیر پیدا کیا جا سکتا ہے جو امریکی مفاد کو پورا کرے۔ اس کے ساتھ امریکی اڈوں کو لاحق خطرات، ایران کے ممکنہ ردِعمل، اور خطے میں طاقت کے توازن کو” تبدیل“کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 

یہ ہمیں ایک ایسی صورتِ حال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جہاں داخلی محرک اور اسٹریٹجک محرک ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، نہ کہ کسی ایک ہی وضاحت کے سامنے۔ درحقیقت، روئیٹرز (Reuters)  کی کچھ رپورٹس ابتدا ہی سے محض توجہ ہٹانےکے بیانیے کو کمزور کرتی ہیں؛ ان رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ نے حملے سے چند دن پہلے ہی—اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران—ایران پر حملے کے امکان کے لیے عوامی رائے کو تیار کرنا شروع کر دیا تھا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاری پہلے ہی سیاسی منظرنامے پر غالب آ چکی تھی۔

 

یعنی کشیدگی بڑھانے کا آپشن اچانک کسی میڈیا بحران سے پیدا نہیں ہوا تھا؛ بلکہ وہ پہلے سے زیرِ غور تھا، اس سے پہلے فوجی تیاری اور سیاسی بیانات بھی آ چکے تھے، اور پھر مناسب موقع پر اس پر عمل کیا گیا۔ اس سے ایپسٹین کے اثر کی مکمل نفی نہیں ہوتی، مگر یہ دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے کہ وہی اس فیصلے کی واحد یا مکمل وجہ تھی۔

یہاں ہم ایک اہم نکتے تک پہنچتے ہیں: امریکہ ہر معاملے میں (اسرائیل) کو حتمی فیصلہ ساز کے طور پر نہیں دیکھتا۔ دونوں کے درمیان تعلق زیادہ تر ایک غیر متوازن اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل رکھتا ہے : امریکہ بڑی طاقت ہونے کی وجہ سے مجموعی سمت اور حدود طے کرتا ہے، جبکہ قابض ریاست (اسرائیل) ان معاملات میں—جو امریکی مفادات کے ساتھ جڑے ہوں—سیاسی، انٹیلی جنس اور ادارہ جاتی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

 

اسٹریٹجک اداروں جیسے CSIS اور CFR کی رپورٹس بھی اسی بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلق ایک اسٹریٹجک شراکت ہے جو دونوں کے مفادات پر مبنی ہے۔ ان رپورٹس میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بعض اوقات اختلافات اور کشیدگی بھی پیدا ہوتی ہے، یعنی یہ تعلق مکمل تابع داری پر مبنی نہیں ہے۔

 

اس کی عملی مثالیں بھی موجود ہیں۔ روئیٹرز (Reuters) کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے رفح آپریشن کے خدشات کے باعث قابض ریاست اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی ترسیل روک دی تھی۔ اسی طرح ایک موقع پر امریکی اداروں نے اسرائیل کے ساتھ کچھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلہ عارضی طور پر محدود کر دیا تھا، اور بعد میں یقین دہانیوں کے بعد اسے دوبارہ شروع کیا گیا۔

یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن کو جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے مفادات یا اس کے قانونی/اسٹریٹجک محاسبات اس کا تقاضا کرتے ہیںتو وہ دباؤ ڈالنے، پابندیاں عائد کرنے اور شرائط مقرر کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا، حتیٰ کہ اپنے قریبی اتحادیوں پر بھی۔ لہٰذا زیادہ درست بات یہ نہیں کہ ” (اسرائیل) امریکہ کو چلاتا ہے“، بلکہ یہ ہے کہ: قابض ریاست (اسرائیل) کے پاس امریکہ کے اندر فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کے مؤثر ذرائع موجود ہیں، لیکن وہ زیادہ کامیاب تب ہوتی ہے جب وہ ایسا آپشن آگے بڑھائے جو پہلے ہی امریکی مفادات کے مطابق ہو۔

 

اسی تناظر میں ایران کی مثال کو سمجھا جا سکتا ہے:

 

اگر ایران پر حملے کو واشنگٹن کے اندر اس طرح پیش کیا جائے کہ اس سے ایرانی حکومتی ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے یا ایسا عبوری ماحول پیدا ہو سکتا ہے جو امریکی اثر و رسوخ کے لیے زیادہ سازگار ہو—اور جس کے نتیجے میں ایران میں ایسا نظام آ جائے جو امریکہ کے زیادہ قریب ہو—تو پھر یہ صرف اسرائیلی مفاد نہیں رہتا بلکہ اسے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر خطے کے توازن کو بدلنے کے ایک امریکی آپشن کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

 

روئیٹرز (Reuters) کے مطابق ٹرمپ کو دی گئی بریفنگز میں اس بات کا ذکر تھا کہ اس کارروائی سے ایسا جیوپولیٹیکل فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جو امریکی مفادات کے لیے مفید ہو۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ حملے کا وقت ایران میں ایک حساس قیادتی اجلاس سے متعلق انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر طے کیا گیا تھا۔ اور” انٹیلی جنس کا موقعاور “سیاسی فیصلے” کا ایک  وقت  میں موجود ہونا اس وقت کارروائی کا سبب بنا۔

 

جہاں تک ایپسٹین فائلوں کے اثر کا تعلق ہے، زیادہ محتاط اور مضبوط تجزیہ یہ ہے کہ انہوں نے اس فیصلے کو نئے سرے سے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس کو پہلے سے موجود کسی محاذ آرائی والے آپشن کو آگے بڑھانے کے لیے زیادہ آمادہ کیا ہو یا اس بات پر مائل کیا ہو کہ توجہ کو کسی سکیورٹی یا خارجی مسئلے کی طرف منتقل کیا جائے—خاص طور پر اس وقت جب ایپسٹین کا معاملہ حکومت کی ساکھ اور عوامی اعتماد پر دباؤ ڈال رہا تھا۔

 

یہ وضاحت ریوٹرز کی ان رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتی ہے جن میں بتایا گیا کہ اس حملے نے خود ٹرمپ کے حمایتی حلقے (MAGA) کے اندر بھی اختلاف پیدا کر دیا تھا، اور یہ انتخابی لحاظ سے کوئی یقینی فائدہ دینے والا قدم نہیں تھا۔ یعنی اس فیصلے میں اندرونی خطرات بھی شامل تھے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ توجہ ہٹانے کی حکمتِ عملی—اگر کبھی استعمال بھی کی جائے—تو طویل تنازع یا بڑھتی ہوئی لاگت کی صورت میں الٹا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

 

خلاصہ:

 

اگر ہم ایک مضبوط اور پیشہ ورانہ دلیل قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں براہِ راست شائع شدہ شواہد کے بغیر ایپسٹین اسکینڈلز اور ایران پر حملے کے درمیان کسی حتمی اور قطعی سبب و نتیجہ کے تعلق کا دعویٰ کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔البتہ یہ کہنا درست اور اہم ہے کہ ایپسٹین کے بحران نے واقعی سیاسی اور میڈیا کا دباؤ پیدا کیا۔ اس طرح کا دباؤ اکثر فیصلوں کے وقت اور سیاسی ایجنڈے کے انتظام پر اثر انداز ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب کوئی انٹیلی جنس موقع بھی موجود ہو اور ایسا اسٹریٹجک آپشن بھی سامنے ہو جسے واشنگٹن اپنے بڑے مفادات کے لیے فائدہ مند سمجھتا ہو۔

 

اس فریم ورک کے اندر، قابض ریاست (اسرائیل) منظرنامے میں ایک انتہائی بااثر فریق کے طور پر موجود ہے—واشنگٹن کے “حتمی رہنما” کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر جو اُس وقت رفتار کو سمت دے سکتا ہے اور فیصلہ سازی کو تیز کر سکتا ہے جب (اسرائیلی) دباؤ، حکمران اسٹیبلشمنٹ کے مطابق سمجھے جانے والے امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔

Last modified onہفتہ, 21 مارچ 2026 01:32

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.