Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

دشمنی کا اعلان کیے بغیر چین کی توانائی کی فراہمی کے راستوں پر قابو پانا

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

آج کی جدید دنیا کے قلب میں، بڑی طاقتیں معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں، جہاں امریکہ اور چین کے درمیان آمنا سامنا ہے جسے مصنوعی ذہانت (AI) اور معاشی بالادستی کی جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں یہ محض تجارتی یا سیاسی مقابلہ نہیں ہے، بلکہ آنے والے عالمی نظام کے خد و خال طے کرنے کی ایک جدوجہد ہے۔ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اس کے پھیلے ہوئے معاشی اثر و رسوخ نے امریکہ کی روایتی بالادستی کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے اور یہ بین الاقوامی قوتوں کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ چین دنیا کی قیادت کرنے یا کوئی نیا عالمی نظام مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے پاس اپنی کوئی خاص آئیڈیالوجی نہیں ہے، لیکن امریکہ کی بالادستی کو روکنے، عالمی قیادت کے لیے اس کی صلاحیت کو کمزور کرنے اور دنیا کو کثیر قطبی (multi-polar) مرحلے میں داخل کرنے کے حوالے سے اس کا اپنا ایک وزن ضرور ہے۔

 

اس تناظر میں، ہر معاشی فیصلہ، ہر ٹیکنالوجی کا معاہدہ، اور سمندری آبنائے اور توانائی کی گزرگاہوں میں ہر نقل و حرکت، اسٹریٹجک شطرنج کی بساط پر ایک مہرے میں بدل جاتی ہے۔

 

چین کا عروج اب صرف ایک صنعتی ملک کا عروج نہیں رہا، بلکہ یہ ایک بین البراعظمی معاشی اور ٹیکنالوجی کی طاقت بن چکا ہے، اور امریکہ براہِ راست جنگ میں پڑے بغیر چینی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے اس عروج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ جدید ترین چپس (chips) اور ان کی تیاری کے آلات کی برآمد روک کر چینی ٹیکنالوجی کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ یہ جدید چپس مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز بنانے کے آلات اور جدید ترین فوٹو لیتھوگرافی (طباعتِ ضوئی) کی ٹیکنالوجیز میں استعمال ہوتی ہیں۔ امریکہ نے اپنی فیکٹریاں چین سے ویتنام، بھارت اور میکسیکو منتقل کر کے سپلائی چین کو نئے سرے سے تشکیل دیا ہے، اور 'چپس ایکٹ' (CHIPS Act) جیسے قوانین کے ذریعے مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی ہے، ساتھ ہی ایشیائی ممالک کے ساتھ معاشی اتحاد بنا کر چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مقصد چینی فیکٹریوں پر عالمی انحصار کو کم کرنا تھا تاکہ بیجنگ سے اس کے دباؤ کا سٹریٹیجک ہتھیار چھین لیا جائے۔

 

مزید برآں، امریکہ نے ایشیا میں 'کواڈ' (QUAD) اور 'اوکس' (AUKUS) جیسے اتحادوں کو مضبوط کیا ہے، جس کا مقصد بحرِ ہند اور بحرِ الکاہل میں چین کے گرد معاشی اور عسکری گھیراؤ (containment arc) بنانا ہے۔ تاہم، تین نکات نہایت حساس ہیں: سمندری گزرگاہیں، توانائی کے زمینی راستے اور تائیوان۔

 

سمندری گزرگاہوں پر دباؤ: سمندری گزرگاہوں پر دباؤ کسی اعلانیہ ناکہ بندی کی صورت میں نہیں ڈالا جاتا، بلکہ ایسی دفاعی صلاحیت یا تنازعات کے علاقوں کی تشکیل کے ذریعے ڈالا جاتا ہے جس سے چین کو یہ معلوم ہو جائے کہ اگر تنازع بڑھا تو اس کی سمندری شہ رگ کاٹی جا سکتی ہے، اور اسے 'کارروائی کے امکان پر قابو پانے' سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

 

بحرِ جنوبی چین، سمندری پھیلاؤ کی روک تھام: جہاں امریکہ چین کے زیرِ قبضہ جزیروں کے قریب 'جہاز رانی کی آزادی' کے گشت کے ذریعے دباؤ ڈالتا ہے، اور سمندری تنازعات میں فلپائن، ویتنام اور ملائیشیا کی حمایت کرتا ہے۔ اس نے فلپائن میں اپنے جدید اڈے قائم کیے ہیں اور تائیوان کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں کرتا ہے، تاکہ بوقتِ ضرورت امریکہ چین کی سمندری نقل و حرکت کو مفلوج کرنے کے قابل ہو سکے۔

 

آبنائے ملاکا، سب سے خطرناک رکاوٹ : یہاں سے چین کی تیل کی درآمدات کا تقریباً 60 فیصد گزرتا ہے، اور یہاں امریکہ کا دباؤ اس کے ساتویں بحری بیڑے کی مستقل موجودگی کی صورت میں ہے۔ وہاں سنگاپور اور ملائیشیا کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری ہے اور 'کواڈ' (بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ) کے اتحاد کو مضبوط کیا گیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر یہاں سے گزرنے والے راستے کو بڑی تیزی سے تنگ کیا جا سکتا ہے۔

 

بحرِ ہند، طویل مدتی اطلاق: یہاں 'ڈیاگو گارسیا' میں امریکی اڈے موجود ہیں، بھارت کے ساتھ قریبی فوجی تعاون ہے، اور آسٹریلیا کے ساتھ 'اوکس' معاہدے کو تقویت دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد چین کو بحرِ ہند کو اپنے مستقل اثر و رسوخ کے علاقے میں تبدیل کرنے سے روکنا ہے۔

 

آبنائے ہرمز، توانائی کے ذریعے دباؤ: یہ وہ آبنائے ہے جس کے ذریعے خلیجی تیل کا ایک بڑا حصہ چین کی طرف جاتا ہے۔ اور آج ایران پر جو حملے ہو رہے ہیں اور اس آبنائے کو بند کرنے کی اس کی جو دھمکیاں ہیں، اگرچہ یہ ایران کے لیے دنیا پر دباؤ ڈالنے کا ایک مہرہ  ہے، مگر وہ اسے مکمل طور پر بند کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ جنگ طویل چلے گی یا ایسے معاہدے طے پائیں گے جو اس آبنائے سے گزرنے کو امریکی فیصلے کے تابع بنا دیں گے، تاکہ وہ اسے جس کے لیے چاہے اور جب چاہے بند کر دے۔

 

تائیوان، بحری تناؤ کے مرکز کے طور پر: یہ ایک سیاسی اور خود مختاری کا معاملہ ہے، اور بحری گزرگاہوں کی ایک اہم گرہ بھی ہے۔ جو امریکی موجودگی کی وجہ سے چینی تجارتی خطوط کے لیے ایک خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

 

یہ کوئی ناکہ بندی نہیں ہے، اور نہ ہی براہِ راست تصادم، بلکہ اسے "قابلِ عمل دفاعی روک تھام" (Activatable Deterrence) کہا جا سکتا ہے۔ اگر ہم غور کریں کہ امریکہ اتحادوں اور اڈوں کا ایک ایسا جال بن رہا ہے جو اسے چین کی جہاز رانی میں خلل ڈالنے، تاخیر کرنے اور اس کی لاگت بڑھانے کے قابل بناتا ہے، تو وہ سرکاری طور پر ناکہ بندی کا اعلان نہیں کر رہا، بلکہ یہ ایک ایسا پتہ ہے جسے وہ صرف لہرا رہا ہے۔

 

زمینی گزرگاہوں پر دباؤ: چین نے اپنے "بیلٹ اینڈ روڈ" (Belt and Road) منصوبے کے ذریعے ملاکا کی رکاوٹ اور بحری انحصار کو توڑنے کی کوشش کی، چنانچہ اس نے وسطی ایشیا، روس اور پاکستان کے ذریعے سڑکوں، ریلوے لائنوں اور توانائی کی پائپ لائنوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا۔

 

یہاں امریکی دباؤ راستے بند کرنے کی صورت میں نہیں، بلکہ اسے زیادہ مہنگا، زیادہ کمزور اور کم مستحکم بنا کر ڈالا گیا ہے۔

 

وسطی ایشیا، چین کے پہلو  میں توازن کی بحالی: جہاں قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان گیس، تیل اور اشیاء چین کے مغربی حصوں کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ امریکی بالواسطہ دباؤ ان ممالک کو بیجنگ سے ہٹ کر اپنی شراکت داریوں میں تنوع لانے، متبادل یورپی اور امریکی سرمایہ کاری کی حمایت کرنے، اور مالیاتی آلات و بین الاقوامی اداروں کو استعمال کر کے چین پر ان کی وابستگی کم کرنے پر اکسا رہا ہے۔ جس کا مقصد وہاں کے معاشی اثر و رسوخ پر چین کی اجارہ داری کو ختم کرنا ہے۔

 

روس، پابندیوں کے ذریعے دباؤ: ان پابندیوں نے نقل و حمل کے نیٹ ورک، بینک ٹرانسفر، شپنگ کمپنیوں اور انشورنس کمپنیوں کو متاثر کیا ہے، اور ان کا مقصد روس کے ذریعے چین کی زمینی تجارت کو پیچیدہ بنانا اور آپریشنل لاگت میں اضافہ کرنا ہے، اور مستقبل میں کسی نہ کسی طرح روس اور چین کے درمیان توانائی کی لائن کو کاٹنے کا کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

 

چین-پاکستان راہداری (CPEC): یہ پاکستان سے گزرتی ہے اور گوادر بندرگاہ پر ختم ہوتی ہے۔ امریکہ اس وقت بھارت کے ساتھ علاقائی توازن کی حمایت کر کے، پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں چینی سرمایہ کاری کی نگرانی کر کے، اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے اسلام آباد پر مالی دباؤ ڈال کر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس کا مقصد اس منصوبے کو اندرونی اور حفاظتی طور پر کمزور رکھنا ہے۔ آج یہ راہداری پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی بھی تنازع سے متاثر ہو سکتی ہے، جو ضرورت پڑنے پر امریکہ کے لیے اس راستے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے، اور اس کا سبب دو ممالک کے درمیان ایک علاقائی جنگ ہو گی۔

 

ایران جو زمینی توانائی کی ایک گرہ  تصور کیا جاتا ہے: آج جاری جنگ بالواسطہ طور پر ایران کے راستے چین کی طرف توانائی کی رسائی کے کسی بھی حل کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ افراتفری اور جنگ کی صورتحال ہے، جس میں پائپ لائنیں اور نقل و حمل کے راستے نامعلوم طریقے سے کاٹے جا سکتے ہیں، جو ضرورت پڑنے پر چین کے لیے ایک بالواسطہ ضرب ہو گی۔

 

زمینی راستے بحری راستوں کی طرح نہیں ہوتے، کسی زمینی راستے کو آسانی سے بند نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہم اسے بالواسطہ طور پر چین کے زمینی نیٹ ورک کو "خاموشی سے تھکا دینے" (Quiet Exhaustion) کی حکمتِ عملی کہہ سکتے ہیں۔

 

اور آخر میں تائیوان کا نکتہ:

 

یہ سب سے زیادہ حساس معاملہ ہے اور اسے توازن توڑنے والا نکتہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ تائیوان ان جزائر کی پہلی زنجیر کے عین قلب میں واقع ہے جو چین کا بحری محاصرہ کیے ہوئے ہیں، چنانچہ اگر تائیوان مستقل طور پر چین کے مدار سے نکل گیا تو چین اپنی سٹریٹیجک بحری گہرائی کھو دے گا۔ اس بات کا ذکر تو دور کی بات کہ یہ جدید ترین چپس کی صنعت کا عالمی مرکز ہے، اور وہاں کسی بھی قسم کی بدامنی عالمی معیشت کو مفلوج کر دے گی۔ اور یہ جنگ کی چنگاری بن سکتا ہے اگر چین نے اس پر قبضہ کر لیا، یا تائی پے سے باقاعدہ آزادی کا اعلان ہو گیا، یا امریکہ نے براہِ راست فوجی مداخلت کر دی۔ اسی لیے یہ مسئلہ ایک "سرمئی علاقے" (سٹریٹیجک ابہام) میں گھرا ہوا ہے، اور تائیوان وہ گرہ ہے جہاں یہ تمام ڈوریاں آ کر ملتی ہیں۔

 

حاصلِ کلام یہ کہ امریکہ فی الحال چین کے ساتھ براہِ راست جنگ لڑنے کے موڈ میں نظر نہیں آتا، بلکہ وہ ایک ایسا سٹریٹیجک ماحول تیار کرنے میں مصروف ہے جس میں دباؤ ڈالنے کا آپشن ہر وقت تیار اور مکمل ہو تاکہ اسے کسی بھی لمحے استعمال کیا جا سکے۔ امریکہ ناکہ بندی کا باقاعدہ اعلان تو نہیں کرے گا، لیکن وہ توانائی کے نقشے دوبارہ ترتیب دے رہا ہے، فوجی اڈوں کی از سرِ نو تقسیم کر رہا ہے، بحرِ جنوبی چین میں بحری اتحاد بنا رہا ہے، اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے متبادل راستوں کی حمایت کر رہا ہے، اور تجارت کی شہ رگ کو مکمل طور پر کاٹے بغیر حساس ٹیکنالوجی پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ وہ چین کے لیے دروازے بند نہیں کرتا بلکہ راستے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ گولی نہیں چلاتا لیکن اپنی انگلی ٹرگر پر رکھتا ہے۔ وہ چین کی بقا کی قیمت کو بڑھا رہا ہے اور اسے گھیرے میں لینے کے اختیارات کو کھلا رکھ رہا ہے۔

 

اس طرح ایک ایسی غالب قوت کا منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے ہے جو اپنے ارد گرد کے ماحول کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہے، یہاں تک کہ چین کی ہر ترقی مشروط، ہر قدم نپا تلا اور ہر پیش قدمی مہنگی ہو جائے۔ چنانچہ چین کے ساتھ حقیقتِ حال ایسی بن گئی ہے کہ یہ بغیر کسی اعلان کے ایک دباؤ ہے، اور کسی اگلے نوٹس تک جنگ کے بغیر ایک مستقل کشمکش ہے۔

 

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیا چین ثابت قدم رہے گا؟ کیا یہ مساوات بدلے گی؟ کیا کوئی ایسے عوامل سامنے آئیں گے جو بازی پلٹ دیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت ہی دے گا۔

Last modified onپیر, 06 اپریل 2026 03:53

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.