Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ اور امتِ مسلمہ پر اس کے اثرات

 

تحریر: ڈاکٹر اسعد العجیلی

 

(ترجمہ)

 

شاید اس وقت سنیوں اور شیعوں کے درمیان مسلکی فتنے کو ہوا دینا، جب امریکہ اور یہودی وجود ایران پر ایک تباہ کن جنگ مسلط کر رہے ہیں، اس فکری اور سیاسی انحطاط کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے جس تک بعض نام نہاد علمی اور دانشور حلقے پہنچ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے کوئی یہ اعلان کرتا ہے کہ (ایران عربوں اور مسلمانوں کے لیے اسرائیل سے زیادہ خطرناک ہے)! کیونکہ اس کے خیال کے مطابق، یہودی وجود ایک غیر ملکی اور اجنبی طاقت ہے جس کا مقابلہ کر کے اسے نکالا جا سکتا ہے جیسا کہ صلیبیوں، منگولوں اور استعمار پسندوں کے ساتھ ہوا، جبکہ ایران ایک ایسا ہمسایہ ہے جو ایک انتہا پسند صفوی نظریے پر عمل پیرا ہے جو سنی اسلام کا دشمن ہے، اور وہ عرب سرزمین پر غلبہ حاصل کرنے اور تشیع کو پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ  بالکل وہی بیانیہ  ہے جس کی تشہیر 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے وقت کی گئی تھی۔ یعنی یہ کہ امریکہ ایک بیرونی اور اجنبی وجود ہے جسے نکالا جا سکتا ہے، جبکہ ایران فرقہ وارانہ پھیلاؤ کے ذریعے جغرافیائی اور آبادیاتی نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح صلیبی (امریکی) قبضے کے خلاف جہاد، سنی اور شیعہ کے درمیان ایک مسلکی فتنے میں بدل گیا جس نے ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اور آج ہم حملے کے دو عشروں سے زیادہ گزرنے کے بعد دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ عراق سے نہیں نکلا، بلکہ اس کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے اور اس کے فوجی اڈے ہر جگہ پھیل چکے ہیں۔

 

لہٰذا، عام مسلمانوں کو درج ذیل حقائق سے آگاہ کرنا ضروری تھا:

 

1۔ ایک ملک کے طور پر ایران اور ایرانی نظام کے درمیان فرق کرنا لازم ہے۔ ایران ایک اسلامی ملک ہے جسے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح کیا گیا تھا۔ فتح کے بعد یہ اسلامی لشکروں کی روانگی کا مرکز بنا اور اس نے خراسان، بخارا اور سمرقند میں اسلام پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ لہٰذا یہ ایک اسلامی ملک ہے جس کے باشندے امتِ مسلمہ کا ایک اٹوٹ انگ ہیں۔

 

جہاں تک موجودہ ایرانی نظام کا تعلق ہے، اس نے کئی دہائیوں تک امریکہ کے مدار میں گھومتے ہوئے افغانستان، عراق، شام، لبنان اور یمن میں اس کے مفادات کی خدمت کی ہے اور مسلمانوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے، لیکن یہ بات ایران کو  اسلامی سرزمین کی فہرست سے نہیں نکال سکتی۔ جس طرح فلسطین میں مجرم یہودی وجود کی موجودگی فلسطین سے اس کی اسلامی حیثیت نہیں چھین سکتی، بالکل یہی معاملہ ایران کا بھی ہے۔ شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کفار کسی اسلامی سرزمین پر حملہ کر دیں تو اس کا دفاع اور مقابلہ کرنا تمام مسلمانوں پر شرعی طور پر واجب ہے یہاں تک کہ دشمن کی جارحیت کو روکنے کی ضرورت پوری ہو جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

 

"اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ تم سب سے لڑتے ہیں، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے"۔ (سورۃ التوبہ : آیت 36)

 

2۔ اصل مستقل دشمن اور ذیلی عارضی دشمن کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ امریکہ، مغرب اور یہودی وجود اصل مستقل دشمن ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی دشمنی مستقل ہے جو کبھی نہیں بدلتی، اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ان کے شیطانی جرائم سے بچہ بچہ واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا

 

"تم ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن، یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے"۔ (سورۃ المائدۃ : آیت 82)

لہٰذا گزشتہ دہائیوں کے دوران عراق، لبنان، شام اور دیگر مقامات پر مسلمانوں کے خلاف ایرانی نظام کے جرائم ہمیں اس حقیقت سے غافل نہ کر دیں کہ یہ جنگ ایک طرف مسلمانوں اور دوسری طرف یہودیوں اور ان کے پیچھے کھڑے امریکہ اور کافر مغرب کے درمیان ہے۔

 

ایسی صورتحال میں واجب یہ ہے کہ ایک مسلمان جنگ کے حوالے سے اپنے جذبات اور سیاسی موقف کو اپنے دین اور اپنی امت کے مفاد کے مطابق ڈھالے نہ کہ اس کے برعکس۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعاً لِمَا جِئْتُ بِهِ» (تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں)۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

 

"مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں"۔ (سورۃ الحجرات : آیت 10

 

 

اسی لیے ایک مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی بمباری پر خوش ہو، چاہے ایرانی نظام نے اس کے حق میں کتنے ہی جرائم کیوں نہ کیے ہوں۔ کیونکہ یہ مسلمانوں اور ایک اسلامی سرزمین پر کفار کی جارحیت ہے، اور یہ جنگ ہماری زمین پر ہے اور تباہی ہمارے گھروں میں ہو رہی ہے۔

 

3۔ امت کے لیے سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ اس جارحیت کا ہدف صرف ایران نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد پورے خطے کی قوت کو توڑنا اور اسے امریکہ اور یہودی وجود کے زیرِ تسلط لانا ہے۔ امریکہ اس خطے پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنا، امت کے وسائل کو ہڑپ کرنا اور اپنا نام نہاد "ابراہیمی دین" مسلط کرنا چاہتا ہے۔ ایران میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل امریکہ کی جانب سے اپنے علاقائی حساب کتاب کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ایک کوشش ہے۔ وہ ایرانی نظام کو اپنے مدار میں گھومنے والے ایک نظام سے بدل کر ایک ایسے ایجنٹ نظام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر اس کے تابع ہو، جبکہ ایرانی نظام اس پابندی کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے، خاص طور پر اپنی اندرونی پالیسیوں جیسے کہ یورینیم کی افزودگی اور دفاعی میزائل صلاحیتوں کے حصول کے حوالے سے۔ چنانچہ ایرانی نظام سے ہماری دشمنی ہمیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ ہم ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی جارحیت پر خوشیاں منائیں۔ ایرانی نظام بھی ہمارے ممالک میں موجود دیگر نظاموں کی طرح محض مخصوص مقاصد کے لیے کام کرنے والا  ایک مجرم نظام ہے، مگر اس سے ہماری دشمنی ہمیں اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ ہم اپنی اسلامی سرزمین پر غیروں کے قبضے کی راہ ہموار ہونے دیں اور اسے امریکہ اور غاصب یہودی وجود کے لیے ایک آسان لقمہ بننے کے لیے چھوڑ دیں۔

 

4۔ ہر وہ شخص جو سیاسی شعور اور سلیم فطرت رکھتا ہے، وہ ایران پر امریکہ اور یہودی وجود کی فتح کے سنگین نتائج کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اس سے  یہودیوں کا سرکش وجود زمین پر مزید غالب ہو جائے گا جن پر اللہ کا غضب ہوا، خطے میں امریکہ کی غنڈہ گردی بڑھ جائے گی، اور اس کے مسلمانوں پر نہایت ہولناک اور بھیانک اثرات مرتب ہوں گے جو انہیں کچلنے اور ان کے مقدسات و حرمات کی پامالی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

 

5۔ اس وقت سنی اور شیعہ کے درمیان اختلاف کو ہوا دینا صرف اس "کافرِ حربی" کے مفاد میں ہے جو مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی میں سنی اور شیعہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ایک واضح ضابطہ ہے جو ہمیں ماضی کے تنازعات سے بالا تر ہونے کی دعوت دیتا ہے:

 

﴿تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

 

"یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لیے ہے اور جو تم نے کمایا وہ تمہارے لیے ہے، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا"۔ (سورۃ البقرہ، آیت: 134)

 

ہم اللہ کے حضور اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ آیا ہم اس فرقہ واریت کو جاری رکھتے ہیں یا اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ میں بہترین نمونہ موجود ہے، جنہوں نے اس جاہلانہ عصبیت کا علاج فرمایا جو معاشرے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی تھی اور قبیلوں کے درمیان جنگوں کو بھڑکاتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» (کیا تم جاہلیت کی پکاریں پکارتے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟)۔ اس کا مقصد یہ تھاکہ آپ ﷺ اس کے بدلے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں جو صرف ایمان کے رشتے اور امت کی وحدت پر قائم ہو۔

 

6۔ اختتام پر ہم یہ کہتے ہیں کہ: یہودی وجود اور اس کے حامی، خلیجی ممالک اور ترکی کو ایران کے خلاف ایک بڑے علاقائی تصادم میں جھونک رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک ایسی تباہ کن فتنے کی آگ بھڑکنے کا خطرہ ہے جو امت کی کمزوری میں مزید اضافہ کر دے گی اور اس کے دشمنوں کے لیے مزید غلبے اور پھیلاؤ کا راستہ کھول دے گی۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر، واجب یہ ہے کہ مسلمان تفرقے اور تقسیم کے خطرات کو سمجھیں، اپنی وحدت کو مضبوطی سے تھامیں اور ایسے تنازعات میں الجھنے سے بچیں جو ان کے دشمنوں کے کام آئیں۔ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کریں، اور اپنی تاریخ کے ان لمحات سے سبق حاصل کریں جب قوت اور اتحاد نے انہیں بڑے بڑے بحرانوں سے نجات دلائی تھی۔

 

7۔ شرعی طور پر اب واجب یہ ہے کہ تمام مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس تاریخی مقابلے کے لیے خود کو تیار کریں۔ وہ اس بحران کو ایک سنہری موقع میں تبدیل کریں، پہل کریں، اپنی صفوں کو درست کریں، اپنی افواج کو حرکت دیں اور پوری امت کو ایک ایسے فیصلہ کن معرکے کے لیے تیار کریں جو حطین اور عین جالوت کی عظمتِ رفتہ کو بحال کر دے، کافروں اور منافقوں کی جڑ کاٹ دے اور امت کو اس کی خلافت، اس کا اقتدار اور شریعت کی حکمرانی دوبارہ لوٹا دے۔

﴿وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"۔ (سورۃ یوسف : آیت 21)

 

Last modified onپیر, 06 اپریل 2026 07:31

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.