Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

ترکی اور یہودی وجود کے درمیان لفظی جنگ کے اسباب

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

یہودی وجود کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ترکی اور اس کے صدر اردگان کے خلاف اپنے لہجے میں شدت پیدا کر دی ہے اور ان پر "ایران کے گماشتوں کے ساتھ نرمی" برتنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ ان کے وزیر جنگ کاٹز نے ترکی کو "کاغذی شیر" قرار دیا کیونکہ ترکی نے اپنی سرزمین پر گرنے والے ایرانی میزائلوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ کشیدگی ترکی کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ترکی نے ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی اس جارحیت کی مذمت نہیں کی جو 40 دن تک جاری رہی۔ یہودی وجود ترکی سے صرف یہ نہیں چاہتا کہ وہ مذمت نہ کرے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ وہ کھلم کھلا اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ لیکن خطے میں اصل فیصلہ ساز قوت امریکہ ہے، جس نے ترکی سے مداخلت کا مطالبہ نہیں کیا تاکہ اسے پیغامات پہنچانے اور ثالثی کرنے کا ایک الگ کردار دیا جا سکے؛ جہاں پہلے ایرانی امریکی مذاکرات ترکی میں ہونا طے پائے تھے، لیکن پھر ان کا انعقاد پاکستان میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا جسے امریکہ خطے میں ایک خاص کردار کے لیے نامزد کر رہا ہے۔ نیز ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی ترکی کو استعمال کیا جائے گا کیونکہ وہ مغرب کے لیے ایران کا راستہ ہے۔ اسی طرح امریکہ نے یوکرین پر حملے کے وقت ترکی سے روس کے خلاف مداخلت کا مطالبہ نہیں کیا تاکہ وہ روس کے ساتھ رابطے کا ذریعہ بنا رہے اور ان تعلقات کو اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

 

ایران کے سپریم لیڈر نے ترکی، پاکستان اور عمان کی تعریف کی اور انہیں حملوں سے مستثنیٰ رکھا، تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بنے رہیں۔ نیتن یاہو کے اقدامات اس کے اعلان کردہ مقصد یعنی "عظیم اسرائیل" کے قیام اور کسی حریف کے بغیر ایک بڑی علاقائی طاقت کے طور پر خطے پر اپنی بالادستی کے حصول کی سمت میں ہیں۔ وہ ایران اور ترکی کو اپنے بڑے علاقائی حریفوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ چنانچہ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر ضرب لگائی۔ اب وہ ترکی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے اور امریکہ کو اس کے خلاف اکسا رہا ہے تاکہ اسے سیاسی طور پر شکست دے سکے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ترکی امریکہ کے زیر اثر ہے اور اسی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور امریکہ اپنے اس کردار اور صدر اردگان سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔ 29 مارچ 2026 کو ٹرمپ نے ایران پر امریکہ اور یہودیوں کی جارحیت پر دیگر ممالک کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ ترکی لاجواب ہے، وہ واقعی حیرت انگیز رہے ہیں، اور وہ ان حدود سے باہر رہے جہاں ہم نے انہیں داخل نہ ہونے کو کہا تھا"۔ اس نے صدر اردگان کو ایک "شاندار لیڈر" قرار دیا۔ یعنی امریکہ نے صدر اردگان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران پر اس کی جارحیت کے سامنے رکاوٹ نہ بنیں تو اس نے اطاعت کی، بالکل اسی طرح جیسے اس نے امریکی حمایت سے یہودی وجود کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے دوران غزہ کی نصرت کے لیے مداخلت نہ کرنے کے احکامات مانے تھے۔

 

اسی طرح نیتن یاہو نے پچھلے سال امریکہ سے شام میں ترکی کا کردار ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے ٹرمپ نے 8 اپریل 2025 کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ "اردگان کے ساتھ میرے شاندار تعلقات ہیں، میں ان سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے"۔ اس نے نیتن یاہو سے کہا "اگر تمہیں ترکی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو میں اسے حل کر سکتا ہوں اگر تم عقل مندی سے کام لو، تمہیں عقل مندی دکھانی ہوگی۔ اردگان ذہین ہے، اس نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے شام پر کنٹرول حاصل کیا، اور وہ کر دکھایا جو کوئی دوسرا نہ کر سکا؛ میں صدر اردگان کا شکر گزار ہوں جسے میں نے جب بھی ضرورت پڑی، ہمیشہ موجود پایا"۔ اردگان نے شام میں امریکہ کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب اس نے وہاں کے نظام کو گرنے سے بچایا اور اس کے ایجنٹ بشار اسد کا اس وقت تک تحفظ کیا جب تک اس کا متبادل احمد الشرع نہیں مل گیا جسے ترکی نے امریکہ کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح اس نے شام میں اسلامی حکومت کے قیام کو روکا اور امریکی اثر و رسوخ کو ختم ہونے سے بچایا، بلکہ ایک نئے ایجنٹ کے ذریعے اسے مزید تقویت دی۔

 

جہاں تک اردگان کا یہودی وجود کے رہنماؤں کو "بچوں کا قاتل" قرار دینے کا تعلق ہے کہ وہ "ترکی یا اس کے صدر کو دھمکا نہیں سکتے" اور ان کے وزیر خارجہ فیدان کا یہ کہنا کہ "اسرائیل ترکی کو ایک نئے دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے"، تو یہ باتیں یہودی وجود کے حوالے سے ترکی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ کیونکہ خود اردگان نے "ترک-اسرائیلی تعلقات کو زندگی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے جنہیں چھوڑا نہیں جا سکتا"۔ اس سے قبل بھی ایسی لفظی تکرار اور کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اور پھر ان کے درمیان گندا پانی دوبارہ اپنی پرانی گزرگاہوں پر لوٹ آیا (یعنی تعلقات بحال ہو گئے)۔ اردگان یہودی وجود کی حفاظت کرنے، اسے نقصان نہ پہنچانے اور اقتدار میں رہنے کی ضمانت کے طور پر اس کے ساتھ تعلقات منقطع نہ کرنے کا عہد کر چکا ہے۔ جب اس نے خود کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا تو اس نے یہ عہد کیا اور اسے عملی طور پر ثابت بھی کیا ہے۔ چنانچہ 2005 میں اس نے یہودی وجود کا سرکاری دورہ کیا اور اس وقت کے وزیر اعظم مجرم شارون سے ملاقات کی جس نے صبرا اور شاتیلا کے قتل عام کیے تھے، اور ہولوکاسٹ کی یادگار پر جا کر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس نے شارون کو یقین دلایا کہ "ان کی جماعت سام دشمنی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتی ہے اور یہ کہ ایران کے جوہری عزائم نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں"۔ اس طرح اردگان نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف یہودی وجود کے ساتھ کھڑے ہونے کی تصدیق کی۔

 

اور 2007 میں اس نے یہودی وجود کے صدر شمعون پیریز کا انقرہ میں استقبال کیا، اور انہیں ترکی کی پارلیمنٹ کے سامنے خطاب کرنے کی اجازت دی۔ پس تعلقات میں کتنی ہی کشیدگی کیوں نہ آئی ہو، جیسے ہی کچھ وقت گزرتا ہے اور یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ لوگ یہودیوں کے جرائم کو بھول چکے ہیں، وہ دوبارہ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

 

چنانچہ 2009 میں غزہ پر یہودی وجود کی جارحیت اور اسی طرح 31 مئی 2010 کو ترک بحری جہاز "ماوی مرمرہ" پر یہودیوں کے حملے اور اس میں 10 ترکوں کے قتل کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے، مگر اس کے بعد مارچ 2015 میں تعلقات دوبارہ بحال کر لیے گئے۔ اور جب یہودی وجود نے ترکی پر ایران میں اپنے ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے کا الزام لگایا تو تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا، لیکن پھر جون 2016 میں یہ دوبارہ معمول پر آ گئے۔ جب 2017 میں امریکہ نے قدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو اردوغان نے یہودی وجود سے تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ پھر 2022 میں اردوغان نے انقرہ کے صدارتی محل میں یہودی وجود کے صدر ہرزوگ کا فاتح ہیروز کی طرح استقبال کیا۔

 

اردوغان نے یہودی وجود کو ایک نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) والی ریاست قرار دیا اور نیتن یاہو کو ایک ایسا دہشت گرد کہا جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، لیکن پھر انہی گندے ہاتھوں سے مصافحہ کیا اور اس سے یوں صلح کر لی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو؛ چنانچہ ستمبر 2023 میں نیویارک میں اس سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ وہ اگلے اکتوبر میں یہودی وجود کا دورہ کرے گا، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ پر یہودیوں کی جارحیت نے اس دورے کو روک دیا۔ اردوغان نے 27 دسمبر 2023 کو غزہ میں قتلِ عام پر یہودی وجود پر تنقید کی اور نیتن یاہو کو ہٹلر جیسا قرار دیا۔ اس کے باوجود اس نے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع نہیں کیے، اور ترکی یہودی وجود کو ہر طرح کے سامان، اشیاء، اسلحہ سازی کے لیے خام مال اور آذربائیجان سے آنے والے تیل و گیس کی سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک رہا۔

 

درحقیقت اردوغان ان تنازعات اور لفظی تکرار کو اس لیے استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد کھونے کے بعد دوبارہ ان کی ہمدردیاں حاصل کر سکے، اور لوگ ان کی اس بے وفائی کو بھول جائیں جو اس نے اہل غزہ، مسجدِ اقصیٰ اور ان فلسطینی قیدیوں کے ساتھ کی جن کے خلاف سزائے موت کا قانون جاری کیا گیا ہے۔ نیز لوگ اس کی طرف سے ٹرمپ کے غزہ فائر بندی کے اس منصوبے کی قبولیت کو بھی بھول جائیں جس نے یہودی وجود کو بچایا، اور ٹرمپ کی "امن کونسل" میں ان کی شمولیت، اور یہودیوں کی جارحیت سے شام کو بچانے میں اس کی کوتاہی کو بھی فراموش کر دیں جس نے شام کی فوج کو تباہ کیا اور اس کے جنوبی حصے پر قبضہ کر لیا، جبکہ اس کی فوج وہاں امریکی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے محض تماشائی بنی رہی۔

 

قصہ مختصر یہ کہ: جب تک ترکی یہودی وجود کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع نہیں کرتا، اسے تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیتا، اور پورے فلسطین کو یہودیوں کے غصب کردہ ایک اسلامی ملک کے طور پر اعلان نہیں کرتا جسے ان سے آزاد کرانا واجب ہے، تب تک ان کے درمیان یہ تناؤ اور لفظی گولہ باری ترک نظام اور اس کے صدر کے اس غدارانہ موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی جو اس نے اس یہودی وجود کے بارے میں اپنا رکھا ہے،اور جو خود ترکی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

 

Last modified onجمعرات, 23 اپریل 2026 14:20

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.