Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ٹرمپ کی اندھی خدمت میں، پاکستان کے حکمران ایران کے مسلمانوں کے خلاف ترغیب اور دھمکی (Carrot and Stick) دونوں استعمال کر رہے ہیں

 

 

خبر:

 

رائٹرز نے 18 مئی کو رپورٹ کیا کہ، "پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں 8,000 فوجی، لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن اور ایک فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا ہے، جس سے ریاض کے ساتھ فوجی تعاون میں تیزی لائی گئی ہے، حالانکہ اسلام آباد ایران جنگ میں مرکزی ثالث کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے... تمام پانچوں ذرائع نے بتایا کہ اس تعیناتی میں تقریباً 8,000 فوجی شامل ہیں، اور ضرورت پڑنے پر مزید بھیجنے کا عہد کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ چین کا HQ-9 فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔" (رائٹرز)

 

تبصرہ:

 

حجاز میں پاکستان کے فوجیوں اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کی خبریں گزشتہ کئی ہفتوں سے گردش کر رہی ہیں، جن کی پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے کوئی سرکاری تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی، سوائے اس بیانیے کو عام کرنے کے کہ حج کے سیزن میں کعبہ مشرفہ کی حرمت کے تحفظ کی کیا اہمیت ہے، جبکہ مسلمانوں کے مال اور خون کی حرمت کی حفاظت کے شرعی فرض کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

 

«رأيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يَطوفُ بالكعبةِ وهوَ يقولُ ما أطيبَكِ وأطيبَ ريحَكِ ما أعظمَكِ وأعظمَ حرمَتكِ والذي نفسُ محمدٍ بيدِهِ لحُرمةُ المؤمنِ أعظمُ حُرمةً عِندَ اللهِ مِنكِ مالُهُ ودمُهُ وأنْ يُظنَّ بهِ إلا خيرًا»

 

"میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: 'تم کتنے پاکیزہ ہو اور تمہاری خوشبو کتنی پیاری ہے! تم کتنے عظیم ہو اور تمہاری حرمت کتنی زیادہ ہے! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، اللہ کے نزدیک ایک مومن کی حرمت، اس کا مال اور اس کا خون تم سے بھی زیادہ ہے اور یہ کہ اس کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھا جائے۔'" [سنن ابن ماجہ اور طبرانی]

 

مزید برآں، پاکستان کی جانب سے فوجی تعیناتی کی رپورٹس اب مغرب کی بڑی طاقتوں کی فوجی صف بندی کے ساتھ میل کھا رہی ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، 18 مئی 2026 کو ٹرمپ نے کہا، "ہم کل ایک بہت بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہو رہے تھے، اور میں نے اسے تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کر دیا ہے، امید ہے کہ شاید ہمیشہ کے لیے، لیکن ممکنہ طور پر تھوڑی دیر کے لیے۔" جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے، 17 مئی 2026 کو اس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ، "رائل ایئر فورس مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کے لیے ایک نیا کم لاگت ڈرون مخالف ہتھیار تعینات کر رہی ہے،" اس سے قبل اس نے 12 مئی 2026 کو اعلان کیا تھا کہ، "برطانیہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کثیر القومی مشن میں ڈرون، جیٹ طیارے اور جنگی جہاز شامل کرے گا۔" جہاں تک فرانس کا تعلق ہے، 6 مئی 2026 کو اس نے اپنا فلیگ شپ طیارہ بردار بحری جہاز، ایٹمی طاقت سے چلنے والا 'چارلس ڈی گال'، بحیرہ احمر کے جنوبی حصے کی طرف بھیجا تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے ممکنہ فوجی مشن کے لیے پوزیشن سنبھالی جا سکے۔

 

جہاں تک پاکستان کے حکمرانوں کا تعلق ہے، وہ پاکستان کو امریکہ کی ایک ایسی تابع ریاست کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں جو اسلام اور اس کی امت کو پہنچنے والے نقصان کی پرواہ کیے بغیر امریکی مفادات کی خدمت کرتی ہے۔ چنانچہ، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کا مقصد ایران کو ایک آزاد ریاست سے، جو فی الحال امریکی خارجہ پالیسی کی ہدایات کو مسترد کر رہی ہے، پاکستان جیسی تابع ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر، پاکستان کے حکمرانوں نے ایران کو ترغیب (Carrot) دی، اور ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے جال میں پھنسانے کا ناپاک کردار ادا کیا، جبکہ اس سے قبل ایران کے بہادر اور ذہین مسلمانوں نے فتح یا شہادت کی تمنا کرتے ہوئے اس کے وحشیانہ حملوں کو سختی سے پسپا کیا تھا۔ اب، ٹرمپ کی جانب سے، پاکستان کے حکمران ایران کے مسلمانوں کو دھمکانے کے لیے فوجیوں اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کے ذریعے ایران کو ڈنڈا (Stick) دکھا رہے ہیں، جبکہ شرعی ذمہ داری تو یہ ہے کہ حملہ آور جارحیت پسندوں کے خلاف جہاد میں ان کا ساتھ دیا جائے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

 

نبی کریم ﷺ نے 9 ذوالحجہ 10 ہجری کو عرفات کے میدان میں اپنے خطبۂ وداع کے موقع پر فرمایا:

 

«يَا أَيُّها النَّاسُ أَلا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلا لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ على عَجَمِيٍّ، وَلا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، ولا أَسْوَدَ على أَحْمَرَ، إِلَّا بِالتَّقْوَى»"اے لوگو، بیشک تمہارا رب ایک ہے، اور تمہارا باپ ایک ہے۔ خبردار، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر، اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر، سوائے تقویٰ کے۔" (مسند احمد)

 

ہم دو ارب مسلمانوں پر مشتمل ایک عظیم امت کا حصہ ہیں۔ جب فوجی تعیناتی کی بات آتی ہے تو ہم قوم پرستی یا قومی مفاد کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ہم صرف اللہ ﷻ کے احکامات اور ممانعتوں کو دیکھتے ہیں۔ ہمارے سپاہی اب یہودیوں اور صلیبیوں میں سے اللہ ﷻ کے دشمنوں کو مارنے کے فاصلے کے اندر (Striking distance) موجود ہیں۔ ہمیں پاکستان کی مسلح افواج میں شامل اپنے بیٹوں، بھائیوں، باپوں اور داداوں سے رابطہ کرنا چاہیے، اور انہیں حکم دینا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی سرزمین سے دشمنوں کو نکال باہر کرنے کی اپنی شرعی ذمہ داری پوری کریں۔

 

اے پاکستان کی مسلح افواج کے مسلمانو!

 

اکتوبر 2023 سے، آپ کی فوجی قیادت میں موجود ٹرمپ کے ایجنٹوں نے یہ کہا ہے کہ غزہ بہت دور ہے، اور اس طرح انہوں نے یہودی وجود کے خلاف آپ کے جہاد کو روک دیا۔ تاہم، اب جبکہ ٹرمپ اپنی ہی پیدا کردہ دلدل میں دھنس رہا ہے، تو آپ کی قیادت میں موجود اس کے کارندے اب کسی بھی فاصلے کو دور نہیں سمجھتے، اور اس لیے وہ آپ کو لڑائی کے لیے متحرک ہونے کا حکم دے رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اللہ ﷻ کے حکم سے بڑھ کر کوئی حکم نہیں، اور اللہ ﷻ کی ممانعت سے بڑھ کر کوئی ممانعت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ» "نافرمانی (گناہ) کے کاموں میں کوئی اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف (نیکی کے کاموں) میں ہے۔" (صحیح بخاری)

 

آپ روزِ قیامت اپنی قیادت کے احکامات کو عذر کے طور پر استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ٹرمپ کے کارندوں کی خاطر اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں نہ ڈالیں۔ انہیں ہٹا دیں اور نبوت کے نقسِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرت (عسکریی مدد) فراہم کریں، تاکہ وہ دشمنوں کے خلاف جہاد میں آپ کی اور پوری امت کی قیادت کر سکے۔

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

 

Last modified onمنگل, 26 مئی 2026 13:11

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.