Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

ایٹمی پاکستان امتِ مسلمہ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، جو خلافتِ راشدہ کے قیام کے بعد عالمی سطح پر بھرپور اثر و رسوخ کی صلاحیت رکھتا ہے

 

 

خبر: پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ادارے، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) نے 17 مئی 2026 کو ہندو فوج کے کمانڈر کی جانب سے دی گئی ایک وجودی دھمکی کے جواب میں ایک پریس ریلیز جاری کی، جس میں کہا گیا کہ، "بھارتی آرمی چیف نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اشتعال انگیز بیان دیا کہ 'پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے'۔۔۔ اس وہمی اور خیالی طرزِ فکر کے برعکس اور ہندوتوا کے زیرِ اثر بھارت میں موجود ہمہ گیر بدخواہیوں کے باوجود، پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہمیت کا حامل ملک ہے، ایک اعلانیہ ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے"۔

 

حوالہ: آئی ایس پی آر (ISPR) https://ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7682

 

تبصرہ: پاکستان کی قیادت کا محدود قوم پرستانہ اور علاقائی نظریہ اب بھی پاکستان کے مسلمانوں کو ان کی مکمل صلاحیتوں کے اظہار سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ یہ قیادت عالمی سطح پر اپنی اہمیت محض ٹرمپ کے لیے ایک "میسنجر بوائے" (قاصد) کا کردار ادا کرنے کو سمجھتی ہے، جب کہ امریکہ، ایران کے ساتھ تنازع کی دلدل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ مزید برآں، جہاں پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ ہے، وہیں دو ارب نفوس پر مشتمل امتِ مسلمہ کے ایک لازمی جزو کے طور پر اس کی اہمیت و حیثیت کہیں زیادہ ہے، جو توانائی کے سب سے بڑے ذخائر کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی اہم ترین توانائی کی راہداریوں پر بھی کنٹرول رکھتی ہے۔

 

جب تک موجودہ قیادت برسرِ اقتدار ہے، پاکستان ہندو ریاست کی سازشوں کا نشانہ بنتا رہے گا، چاہے وہ پانی کی فراہمی کو لاحق مسلسل خطرات ہوں یا مسلمانوں کے درمیان تنازعات کو ہوا دینا ہو، خواہ وہ بلوچستان کے اندر ہوں یا افغانستان کے ساتھ۔ جہاں تک اس حکومت کے آقا، ٹرمپ کا تعلق ہے، وہ اپنا "نیا مشرقِ وسطیٰ" تعمیر کرنے میں مصروف ہے، جس میں مغرب میں اس کے پروردہ "یہودی وجود" اور مشرق میں اس کی پروردہ "ہندو ریاست" کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے، ٹرمپ کے نئے مشرقِ وسطیٰ میں ان کا کردار دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علیحدگی پسندی کے بینروں تلے آپس میں لڑنا ہے۔ یہ اس قیادت کے فوری کڑوے پھل ہیں جو قوم پرستی اور علاقہ پرستی سے آگے کچھ نہیں دیکھ پاتی۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

 

تم پاکستان کی قیادت کی قوم پرستی کے سامنے کیسے خاموش ہو؟ قوم پرستی ایک شرمناک غرور اور تباہ کن نسل پرستی ہے، جس سے تمہارے عظیم دین نے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إِذَا الرَّجُلُ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ بِهَنِ أَبِيهِ وَلَا تَكْنُوا» "جو شخص جاہلیت کے تفاخر (فخر) کی طرف بلائے، تو اسے اس کے باپ کے عضوِ تناسل کاٹنے کا کہو اور اس میں کنایہ (اشارہ) نہ کرو"۔ (سنن نسائی، مسند احمد)۔آپ ﷺ نے جاہلیت کی عصبیت کے بارے میں فرمایا: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» "اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ بدبودار ہے"۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» "جو شخص کسی اندھے جھنڈے (عصبیت) کے نیچے لڑا، اپنی قوم کی خاطر غصے میں آیا، یا قوم کی طرف بلایا، یا اپنی قوم کی مدد کی اور پھر اسی حال میں مارا گیا، تو وہ جاہلیت کی موت مرا"۔ (صحیح مسلم)

 

جب کفار ریاستوں نے مسلمانوں میں قوم پرستی پھیلائی، تو انہوں نے مسلمانوں کی وحدت کو مختلف قوموں اور نسلوں میں تقسیم کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ جب مسلمانوں کے درمیان ترک، عرب، کرد اور فارسی قوم پرستی کو ہوا دی گئی، تو امتِ مسلمہ کی صفیں بکھر گئیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں میں پھوٹ پڑ گئی، ان کی واحد ریاست ٹوٹ گئی اور ان کا ایک خطہ دوسرے سے الگ ہو گیا۔ اس کا خطرہ امتِ مسلمہ اور اسلامی ریاست کے لیے تباہ کن تھا، اور اس کے نقصان دہ اثرات آج تک ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو، درحقیقت ایک قوم پرست قیادت نے ہمیں اپاہج کر دیا ہے، جبکہ پاکستان ایک ایسی مضبوط خلافتِ راشدہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو تیزی کے ساتھ مسلم دنیا کو ایک واحد طاقتور ریاست کے طور پر متحد کر دے گی۔ ہم ان تمام احکامات کے نفاذ کے خواہش مند ہیں جو اللہ ﷻ نے نازل فرمائے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک کے مسلمان اس کی تمنا رکھتے ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کون سب سے پہلے کوشش اور قربانی دینے کے لیے آگے بڑھے گا اور اللہ ﷻ کی نصرت کا مستحق بنے گا۔

 

اے پاکستان کی مسلح افواج کے مسلمانو!

 

تمہاری فوجی قیادت میں موجود ٹرمپ اور اس کے ایجنٹوں، بشمول اس کے پسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، کا تمہارے لیے کیا وژن ہے؟ یہ مسلمانوں کی مستقل آپسی لڑائی ہے، جو مسلم افواج کے لیے "کم شدت کے تنازع" (Low-Intensity Conflict - LIC) کے استعماری تصور پر مبنی ہے؛ اسے ہماری صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور ہمیں یہودیوں، ہندوؤں اور صلیبیوں میں سے اپنے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ تمہاری قیادت میں موجود ٹرمپ کے کارندے سفارت کاری اور مذاکرات کی اپنی صلاحیتوں پر اس وقت تو بڑے فخر کا اظہار کرتے ہیں جب امریکہ کو ایران کے مسلمانوں کے غیظ و غضب سے بچانے کی بات ہو، لیکن افغانستان کے مسلمانوں کے لیے ان کے پاس ایسا کوئی وژن نہیں ہے، جنہوں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے سوویت روس کے خلاف تمہارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جنگ لڑی تھی۔ تمہاری یہ قوم پرست قیادت تمہیں کبھی بھی خلافت کے قیام کے لیے "نصرۃ" (عسکری مدد) دینے کی طرف نہیں لے جائے گی، جو پوری مسلم دنیا کو متحد کرے، امریکہ کو ہماری سرزمینوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے اور کشمیر و مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرائے۔

 

اگر یہ حقیقت اب تک تم پر واضح نہیں ہوئی، تو گزرتے ہوئے ہر ہفتے اور مہینے کے ساتھ یہ تم پر  واضح ہوتی جا رہی ہے کہ تمہیں ایک ایسی نئی قیادت کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد اسلام اور اس کی امت کے مفادات کے تحفظ پر رکھی گئی ہو۔ ہمیں ایک ایسی اسلامی قیادت کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرے، دشمنوں کو پسپائی پر مجبور کرے اور اسلام کے عدل اور رہنمائی کی بنیاد پر پوری انسانیت کی قیادت کرے۔ وہ قیادت "حزب التحریر" ہے جو تمہارے اندر، تمہارے درمیان اور تمہارے چاروں طرف موجود ہے اور تمہاری پہنچ میں ہے، پس اے اللہ ﷻ کے بندو، اس پکار کا جواب دو!

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

Last modified onمنگل, 26 مئی 2026 13:29

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.