بسم الله الرحمن الرحيم
لبنان کا شہر طرابلس خوردبین کے نیچے: قلیعات ایئرپورٹ کے افتتاح کے پسِ پردہ کیا ہے؟
تحریر: استاد احمد القصص
(ترجمہ)
حالیہ برسوں میں، لبنان کے شہر طرابلس نے اپنے متعلق میڈیا کے بیانیے اور سیاسی و معاشی فیصلوں میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ برسوں تک جان بوجھ کر نظر انداز کیے جانے اور اس شہر پر "لبنان کا قندھار" اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے گڑھ جیسے ناانصافی پر مبنی لیبل لگائے جانے کے بعد، اچانک یہ تصویر بدل کر "انقلاب کی دلہن" اور بقائے باہمی اور امن کے شہر کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
یہ تبدیلی یہیں نہیں رکی بلکہ یکے بعد دیگرے بڑے اقدامات اور منصوبے سامنے آئے ہیں، جن کا آغاز پڑوسی علاقے عکار میں واقع قلیعات ایئرپورٹ کو آئندہ ستمبر سے فعال کرنے کے اعلان سے ہوا، پھر طرابلس کی بندرگاہ کی ترقی کے منصوبے اور آخر کار بین الاقوامی ریلوے کی بحالی کے منصوبے کا اعلان ہوا۔ اس حیران کن منظر نامے کے سامنے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم لبنان کے حکمران طبقے کی طرف سے تاخیر سے جاگنے والی کسی انسانی ہمدردی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یا حقیقت یہ ہے کہ طرابلس کو ایک ایسے جغرافیائی سیاسی (geopolitical) اور سرمایہ کاری کے نقشے میں ضم کیا جا رہا ہے جو اس کی جغرافیائی حدود سے کہیں زیادہ وسیع ہے؟
معاشی بحالی: ایک غیر ملکی ایجنڈا، نہ کہ مقامی بیداری
یہ بات سیاسی طور پر نادانی ہوگی کہ ان پیش رفتوں کو ایک آزاد لبنانی ارادے کا نتیجہ سمجھا جائے جس کا مقصد شمالی لبنان، بالخصوص طرابلس اور اس کے گردونواح کے جغرافیائی و آبادیاتی علاقوں کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لبنان تباہی کا شکار ہے اور تقریباً دس لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی ڈھانچے کے اتنے بڑے منصوبوں کا آغاز الجھن پیدا کرتا ہے۔ حقیقت میں، جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک امریکی سیاسی فیصلے کا ثمر ہے جو طرابلس کو سرمایہ کاری اور معاشی نقشے کے مرکز میں رکھتا ہے، جس میں پورا خطہ شام (Levant) شامل ہے۔ یہ اس منصوبے کے دائرے میں آتا ہے جسے پہلے "نیا مشرق قریب" (New Levant) کا نام دیا گیا تھا، جو مصر سے شام اور وہاں سے عراق تک پھیلا ہوا ہے، اور یہ خلیجی ریاستوں سے یورپ تک توانائی کی فراہمی کے منصوبوں اور علاقائی و بین الاقوامی سرمایہ کاری سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
قلیعات ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب میں امریکی سفیر کی قبل از وقت اور نمایاں موجودگی قابلِ توجہ تھی، جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ یہ اقدامات لبنان کو بحالی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ یقیناً، یہ منصوبے خطے میں تنازعات کو ختم کرنے کی تیز تر کوششوں اور "ابراہیمی معاہدوں" (Abraham Accords) کے ذریعے یہودی ریاست کو اس نئے معاشی نقشے میں شامل کرنے کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کے منصوبے: شام کی تعمیرِ نو پر ایک نظر
ان منصوبوں کے مرکز کے طور پر طرابلس کا انتخاب محض اتفاقی نہیں ہے۔ اس کا گہرا پانی اسے مشرقی بحیرہ روم کی اہم ترین بندرگاہوں میں سے ایک بناتا ہے، جو ایسے بڑے کنٹینر بردار بحری جہازوں کو جگہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو کسی دوسری بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہو سکتے۔ یہ بندرگاہ، قریبی قلیعات ایئرپورٹ، عراق کے شہر کرکوک سے آنے والی پائپ لائنوں سے جڑی تیل کی ریفائنری، اور شہر کا بڑا بین الاقوامی نمائشی مرکز، یہ سب مل کر شام سے اپنی قربت کی بنا پر شام کی متوقع تعمیرِ نو، بالخصوص ساحلی علاقوں، حمص اور غاب کے میدان کے لیے ایک مثالی پلیٹ فارم بناتے ہیں۔ مزید برآں، لبنان کے شمالی ساحل کے پانیوں میں گیس کے امید افزا ذخائر موجود ہیں، جو تیل کی کمپنیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہے ہیں۔ یہ اس بڑے ریلوے منصوبے کے بارے میں بڑھتی ہوئی گفتگو کی بھی وضاحت کرتا ہے جو وسطی یورپ میں برلن سے لبنان کے شہر طرابلس تک، ترکی اور شام کے علاقوں سے گزرتے ہوئے بچھانے کا منصوبہ ہے۔ اس مربوط بنیادی ڈھانچے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری اور کمپنیوں، خاص طور پر امریکی کمپنیوں کے لیے راہ ہموار کرنا ہے، تاکہ وہ تعمیرِ نو کے عمل کی اس بے پناہ دولت پر قبضہ کر سکیں جس کی مالی اعانت خلیجی اور مقامی تیل کی آمدنی سے ہونے کی توقع ہے۔ روایتی استعماری طریقوں میں سے ایک 'تباہ کرو اور تعمیر کرو' کی پالیسی ہے، جس کے تحت ملک اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جاتا ہے، تاکہ طاقتور مالیاتی کارپوریشنوں کو تعمیرِ نو کے ذریعے بھاری منافع سمیٹنے کا موقع مل سکے۔
شاید طرابلس میں قلیعات ایئرپورٹ شروع کرنے کے فیصلے میں جس چیز نے تیزی پیدا کی، وہ ایران نواز 'حزب' کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو الگ تھلگ کرنے کا منصوبہ تھا، جہاں لبنان کا واحد فعال ہوائی اڈہ واقع ہے، یہاں تک کہ ایران کی یہ 'حزب' لبنان کے لیے امریکی ماڈل کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔
نرم جنگ: اسلامی شناخت کو مٹانا
ان مغربی سرمایہ کاریوں اور مغرب سے طرابلس اور اس کے گردونواح میں آنے والے تاجروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے، اس شہر کے ثقافتی اور مذہبی کردار کو بدلنا ضروری تھا، جو طویل عرصے سے اپنی دینداری اور امتِ مسلمہ کے مسائل کے ساتھ گہری وابستگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ چنانچہ حالیہ برسوں میں، ہم نے شہر کے سماجی ڈھانچے میں سرایت کرنے کی منظم کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
ان اقدامات میں سب سے نمایاں 2023 میں طرابلس میں 'عالمی امن اور بقائے باہمی کے لیے انسانی اخوت کی دستاویز' کے ایک ورژن کا اعلان تھا جس پر 2019 میں متحدہ عرب امارات میں شیخ الازہر اور ویٹیکن کے پوپ نے دستخط کیے تھے۔ اسے 'طرابلس کا انسانی اخوت کا اعلامیہ' کا نام دیا گیا، جس کی سرپرستی مشکوک یورپی تنظیموں نے اسی طرح کی مشکوک مقامی تنظیموں کے تعاون سے کی۔ اس اعلامیے کا مقصد شہر کو اس کی اسلامی شناخت سے محروم کرنا اور اس کی جگہ سیکولر مغربی 'انسان پرستی' کو رائج کرنا ہے۔ اس اعلامیے کی تقریب میں ایک ایسا آرکسٹرا پیش کیا گیا جس میں اذان کو چرچ کی دعائیہ خدمات کے ساتھ ملا دیا گیا تھا۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس میں صلاح الدین ایوبی کی جگہ ایک 'نیا ہیرو' متعارف کروایا گیا، یعنی مصر کے ایوبی حکمران الکامل کو، جس نے صلاح الدین کی طرف سے القدس کو آزاد کروانے کے بعد اسے دوبارہ صلیبیوں کے حوالے کر دیا تھا۔
مزید برآں، بین الاقوامی تنظیموں، جیسے کہ 'یو این ویمن' (UN Women) کے ذریعے طرابلس کے معاشرے میں سرایت کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ 'یو این ویمن' نے نسائیت (feminism) اور صنفی نظریات (genderism) کو فروغ دینے کے لیے طرابلس کی میونسپلٹی کے ساتھ تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن طرابلس کے باشعور اور بیدار مغز اہلِ نظر نے اس معاہدے کو ناکام بنا دیا، الحمد للہ۔
اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ مشرقی بحیرہ روم کے مسلمانوں کے ساتھ معاملات میں ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔ یہ ادراک ہونے کے بعد کہ براہِ راست جنگ نے صرف مزاحمت کو ہوا دی ہے، اب وہ معاشی بحالی، سرمایہ کاری اور مالی خوشحالی کے ذریعے خطے کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ مسلم نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میں الجھائے رکھنے پر مبنی ہے تاکہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکے جہاں مادی آسائشیں انہیں جہاد، اسلامی سیاسی جدوجہد اور ایثار و قربانی کے جذبے سے بیزار کر دیں۔ یقیناً ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ نوجوان مرد و خواتین کو روزگار کے مواقع میسر آئیں جس سے ان کا معیارِ زندگی بلند ہو اور وہ زندگی کے بوجھ اٹھانے کے قابل ہوں، لیکن اصل خطرہ اس نشے اور سراب میں ہے کہ یہ منصوبے کوئی لائف لائن (زندگی بچانے کا ذریعہ) ہیں؛ یہ بھول جانا کہ مغربی سرمایہ دارانہ مشینری اس خطے کو صرف اپنے مفادات کی خاطر ایک محدود اور عارضی حد تک بحال کر رہی ہے، نہ کہ ایک ایسی پائیدار اور آزاد معیشت کی تعمیر کے لیے جو ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم بنا سکے۔
حاصلِ کلام: شعور دفاع کی پہلی لکیر ہے
اس پورے خطے کے لیے بنے جانے والے ان پیچیدہ جالوں کے درمیان، مسلمانوں کو ایک تاریخی ذمہ داری کا سامنا ہے۔ جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں، تقسیم کی کوششیں اور معاشی ترقی کو سیاسی غلامی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا، یہ سب اعلیٰ درجے کے شعور کا تقاضا کرتے ہیں۔ آج کی شرعی ذمہ داری ان سازشوں کو بے نقاب کرنا ہے جو ہماری شناخت کو مٹانے کے لیے محلوں، گلیوں، اسکولوں اور اداروں میں سرایت کر رہی ہیں؛ ثقافتی یلغار اور انسانی فطرت کے بگاڑ کی تمام کوششوں کا مقابلہ کرنا ہے؛ اور اسلامی معاشی نظام کی حقیقت اور اس آزاد معاشی پالیسی کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے جو امت کو معاشی، سیاسی اور ثقافتی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ ہمارے بحرانوں کا بنیادی حل مشروط غیر ملکی سرمایہ کاری کے ٹکڑوں کے انتظار میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ امت اپنی آزاد قوتِ فیصلہ دوبارہ حاصل کرے، استعمار کے اثر و رسوخ کو نکال باہر کرے اور اس اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ آغاز کرے جو ہمیں وقار اور حقیقی معنوں میں ایک آزاد معیشت کی ضمانت دیتا ہے۔
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن
Latest from
- اخبار الرایہ کے شمارہ نمبر 605 سے متفرق مضامین
- کیا لیبیا کے لیے امریکہ کی قیادت میں حل کی راہ کامیاب ہوگی؟
- جنگ بھڑکانے کے بارہ سال بعد: استعمار یمن کے عوام کا خون بہانا کب بند کرے گا؟
- اسلامی سرزمینوں سے سیکولرزم کے خاتمے کی ضرورت
- ہم جن بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ ایک ایسی بیماری کی علامات ہیں جس کا علاج معلوم ہے