Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

انقرہ میں نیٹو کانفرنس اور اس میں ترکی کا کردار

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

 

(ترجمہ)

 

شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کا چھتیسواں سربراہی اجلاس 7 اور 8 جولائی 2026 کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے اعلامیہ میں اتحاد کی نام نہاد دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کئی وعدے شامل تھے، جن میں رکن ممالک کے دفاعی اخراجات کو ان کے بجٹ کے 5 فیصد تک بڑھانا بھی شامل تھا۔ اعلامیہ میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرے۔

 

ترکی نے اس سربراہی اجلاس میں نیٹو  اتحاد کے ساتھ اپنی غیر معمولی وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ ترکی کے صدارتی شعبہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا: "اجلاس کے دوران ہونے والی بھرپور سفارتی سرگرمیوں نے بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں ترکی کے فعال کردار کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر اردوغان اور امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی ترقی، دفاعی صنعتوں، تجارت و سلامتی، اور یورپی سیکیورٹی ڈھانچے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

 

ٹرمپ نے "کاٹسا" (CAATSA) یعنی "پابندیوں کے ذریعے دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے قانون" کے تحت ترکی پر عائد پابندیوں سے استثنیٰ دینے اور اسے ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ شامل کرنے پر نظرثانی کی، بشرطیکہ ترکی روسی فضائی دفاعی نظام ایس-400 سے چھٹکارا حاصل کر لے۔

 

صدر اردوغان نے ٹرمپ کا ایک خاص طریقے سے استقبال کیا جس میں دوستی اور والہانہ پن کے ایسے مناظر دکھائی دیے جو ان کے دیگر مہمانوں کے استقبال سے بالکل مختلف تھے۔

 

ترکی نے 2030 کے اختتام تک اپنے دفاعی اخراجات کو اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، اور واضح رہے کہ ترکی پہلے ہی امریکہ کے بعد نیٹو کا دوسرا بڑا لشکر رکھنے والا ملک ہے۔ نیٹو کے سربراہ روٹے نے کہا: "ترکی اپنی تقریباً تین ہزار دفاعی کمپنیوں کی وجہ سے ایک اہم ریاست ہے"۔

 

بی بی سی کے مطابق "ترکی درج ذیل ذرائع سے نیٹو کے آپریشنل ڈھانچے میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے:

 

1- انجرلک، قونیہ اور ا رہا ج فضائی اڈے۔

2- کورجیک اور کیسجیک کے ریڈار مراکز۔

3- ازمیر میں نیٹو کی زمینی افواج کی کمانڈ۔

4- متعدد صوبوں میں پھیلے ہوئے مشترکہ فضائی آپریشنز کے مراکز۔

5- اکساز بحری اڈہ۔

6- تاشوجو اور اسکندرون کی بندرگاہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے"۔

 

اس سال ایران کے خلاف امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ کے دوران نیٹو کے دفاعی نظام نے ایران سے ترکی کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روک لیا، جس نے اس بنیادی ڈھانچے کی عملی اہمیت اور نیٹو کے سیکیورٹی نظام میں ترکی کے مقام کو نمایاں کر دیا۔

 

ترکی نیٹو کے لیے مختص اپنے دفاعی بجٹ کو اس سال کے 20 ارب سے بڑھا کر آنے والے سالوں میں 70 ارب تک لے جائے گا، اور اس طرح وہ اس اتحاد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔

 

نیٹو میں ترکی کی شمولیت اور اس میں اس کا بڑا حصہ اس کی اسلامی شناخت اور اصل موقف پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ تو کیا ترکی اسلامی ممالک کو وہ کچھ دے رہا ہے جو وہ نیٹو کو فراہم کرتا ہے؟۔ ترکی نے جنگ بندی کے ضامن کے طور پر غزہ اور وہاں کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے جن کی آج بھی دن دیہاڑے نسل کشی کی جا رہی ہے؟۔

 

ترکی کا سرکاری میڈیا - نظریاتی طور پر - یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترکی غزہ میں مسلمانوں کے مسائل کا دفاع کر رہا ہے جہاں ان کے لوگوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، اور وہ شام اور لبنان میں عرب زمینوں پر یہودیوں کے قبضے کو مسترد کرتا ہے، اور وہ ان ایغور ترک مسلمانوں کی حمایت کرتا ہے جن کی شناخت مٹائی جا رہی ہے، اور وہ ان تمام مسلمان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے جو پے در پے مصائب کا شکار ہیں۔ یہ سب صرف ظاہر میں ہے، لیکن حقیقت میں اسلامی امت کے ساتھ ترکی کا کھڑا ہونا محض ایک وہم اور جھوٹ ہے، کیونکہ حقیقت میں وہ ان کے ساتھ کھڑا ہے جن کے دفاع کے لیے وہ نیٹو میں اپنا تمام مال اور اسلحہ جھونک رہا ہے، جو کہ اسلام اور مسلمانوں کا حقیقی دشمن ہیں۔

 

نیٹو کے بڑے ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ اور فرانس مجرم استعماری ریاستیں ہیں جنہوں نے ترکی سمیت تمام اسلامی ممالک پر حملے کیے، مسلمانوں کی خلافت کو ختم کیا، ان کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کیا، ان ممالک کی عوام کو بے گھر کیا اور ان کے عین مرکز میں ایک سرطانی وجود بو دیا، ان کے وسائل لوٹے اور انہیں بدترین تکالیف سے دوچار کیا، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، تو پھر ترکی اس شیطانی اور ملعون اتحاد کی حمایت کیوں کر رہا ہے؟۔

 

بجائے اس کے کہ ترکی اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا ہوتا اور ان کے سنگین مسائل پر ان کے ساتھ متحد ہوتا، ہم اسے دیکھتے ہیں کہ وہ ان سے منہ موڑ کر مجرم استعماری یورپی و امریکی مغرب کے دفاع کے لیے ایک وفادار محافظ بن کر ان کے مشرقی دروازے پر کھڑا ہے۔

 

مزید یہ کہ نیٹو کو سیاسی طور پر ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ بیسویں صدی میں سوویت یونین اور کمیونزم کا مقابلہ کر رہا تھا، چنانچہ جب کمیونسٹ نظام گر گیا تو یہ فرض کیا جانا چاہیے تھا کہ اس کا کردار ختم ہو چکا ہے اور اس کے وجود کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ لیکن اس نے اپنے لیے ایک نیا دشمن ایجاد کر لیا اور وہ اسلام ہے، جیسا کہ اس کے سابق سپریم کمانڈر ویزلی کلارک نے کمیونزم کے زوال کے فوراً بعد کہا تھا کہ "ہم نے اسلام کو اس اتحاد کا دشمن بنا لیا ہے"۔

 

پھر آخر اردوغان کا ترکی اسلام دشمن اور مسلمانوں سے برسرِ پیکار اس اتحاد کے ساتھ کیوں کھڑا ہے؟۔  ترکی کی مساجد میں حجاب اور تلاوتِ قرآن کی حوصلہ افزائی کرنے کی کیا قدر و قیمت رہ جاتی ہے جب دوسری طرف اتحاد، دفاع اور سلامتی جیسے بنیادی معاملات میں اسلام کے بدترین دشمنوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہو؟!۔ یہ کون سی منطق ہے؟ اور یہ کیسا اسلام ہے؟ انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ اتحاد کر رہا ہے اور کس کے خلاف!۔

 

آج ترک سیاستدانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ترک ریاست کے طرزِ عمل پر نظرثانی کریں اور اسلام کے بدترین دشمنوں کے ساتھ ان غلیظ اتحادوں پر اس کا محاسبہ کریں۔ ترکی کے ہر با شعور مسلمان کو اپنے آپ سے اس خطرناک سٹریٹیجک بگاڑ کے بارے میں سوال کرنا چاہیے جو ترک ریاست نے ستر سال سے زائد عرصے میں پیدا کیا ہے، اور اسے اس کے خاتمے اور درست راستے کے تعین کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔

 

ترک قیادت کا امریکہ، برطانیہ، فرانس اور یورپ - جو کہ اس اتحاد کی ریڑھ کی ہڈی ہیں - کے دفاع پر مسلسل اصرار اس بات کی علامت ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مسلمان ملک کے خلاف کھڑی ہو گی جو ان میں سے کسی ملک یا کسی بھی مغربی ریاست کے ساتھ تصادم میں ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکی نے عملی طور پر مستقبل کے کسی بھی تنازعے میں امت کے دشمنوں کی صف اختیار کر لی ہے۔

 

اگر مثال کے طور پر بلادِ شام، عراق، مصر یا جزیرہ عرب میں اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے تو ترکی نیٹو کے ایک بنیادی رکن کی حیثیت سے مغرب، امریکہ اور یورپ کے دفاع میں اس کا پہلا دشمن بن کر سامنے آئے گا۔

 

ترکی کو اپنی سمت فوراً تبدیل کرنی چاہیے، اور اسے اپنی امت کے حقیقی مسائل کی طرف جھکاؤ اختیار کرنا چاہیے۔ اس کی قیادت کے لیے اب یہ بس ہونا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو یہ دعویٰ کر کے گمراہ اور دھوکہ دے رہی ہے کہ آج کا ترکی مسلمانوں کا سیاسی قبلہ ہے، جبکہ حقیقت میں اسے کسی بھی آنے والے اسلامی طوفان کے سامنے یورپ کی ایک مضبوط ڈھال تصور کیا جاتا ہے!۔

Last modified onجمعہ, 07 اگست 2026 06:14

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.