بسم الله الرحمن الرحيم
پناہ گزینوں کے متعلق جنیوا کنونشن
تحریر: انجینئر یوسف سلامہ
(ترجمہ)
دنیا بھر میں ۲۸ جولائی کو اقوامِ متحدہ کی طرف سے پناہ گزینوں کے لیے منظور کردہ جنیوا کنونشن کی ۷۵ویں سالگرہ منائی گئی ہے، جس کا مقصد ان مظلوم اور ستم رسیدہ افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو جنگوں سے فرار ہوئے ہوں یا جنہیں سیاسی نظریات، مذہب، نسل، قومیت یا کسی مخصوص سماجی طبقے سے وابستگی کی وجہ سے ستائے جانے کا کوئی جائز و معقول خوف ہو۔
اس کنونشن کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک "جبرًا واپس نہ بھیجنے" کا اصول ہے، یعنی کسی بھی پناہ گزین کو ایسے ملک میں واپس بھیجنا جائز نہیں جہاں اسے کسی خطرے یا ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو۔ یہ کنونشن پناہ گزینوں کو تعلیم، روزگار، رہائش اور قانونی تحفظ جیسے بنیادی حقوق کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ بات عیاں ہے کہ جنگوں کے پھیلاؤ اور ایشیا اور افریقہ میں نام نہاد "تیسری دنیا کے ممالک" کی بدتر معاشی حالت نے پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مثال کے طور پر، جنگوں کے نتیجے میں شام، عراق اور افغانستان سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ہجرت کر گئی ہے، جب کہ غربت کے باعث سینیگال، مالی، وسطی افریقی ممالک اور عرب مغرب کے ممالک سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔
بے گھر ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور یورپ میں پناہ کے متلاشی افراد کے کثرت کے سبب "ڈبلن سسٹم" قائم کیا گیا، جس کا آغاز ۱۹۹۰ء میں ڈبلن معاہدے سے ہوا تھا اور بعد میں یہ بتدریج یکے بعد دیگرے یورپی قوانین کی شکل اختیار کر گیا۔ اس سلسلے کا آخری ضابطہ ۲۰۱۳ء کا "ڈبلن تھری" (Dublin III) قانون تھا، جس کا نفاذ ۲۰۱۴ء میں ہوا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون سا یورپی ملک پناہ کی درخواست کا جائزہ لینے کا ذمہ دار ہے۔ اگرچہ یورپی یونین کے ممالک تاحال جنیوا کنونشن سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ڈبلن نظام اور اس کے بعد آنے والی پالیسیوں، جیسے کہ 'محفوظ ممالک' کا تصور اور سرحدوں پر سخت روک تھام، نے بہت سے پناہ گزینوں کی اس تحفظ تک رسائی کو انتہائی محدود کر دیا ہے جس کی ضمانت اس کنونشن میں دی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قانون دانوں کی ایک بڑی تعداد ان یورپی پالیسیوں کو جنیوا کنونشن کے اصل مقاصد سے عملاً پہلو تہی کرنے کا ایک حیلہ قرار دیتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی پناہ گزین نظام میں کی جانے والی نئی تبدیلیوں کو پناہ گزینوں کے تحفظ کی اساس کو کمزور کرنے والا قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "تیسرے محفوظ ملک" کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے پناہ گزینوں کی درخواستیں ان کے اصل حقائق کو جانچے بغیر ہی مسترد ہو سکتی ہیں اور پناہ کے متلاشی افراد کو ایسے ممالک میں منتقل کیا جا سکتا ہے جن کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔ تنظیم نے ان پالیسیوں کو پناہ گزینوں کے تحفظ کی ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے اور اسے یورپ سے باہر منتقل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نام نہاد "قلعہ یورپ" پر بھی کڑی تنقید کی اور واضح کیا کہ سرحدی باڑوں و دیواروں میں اضافہ، خوف پھیلانے والے سخت اقدامات اور پناہ گزینوں کو زبردستی واپس دھکیلنے کے عمل سے پناہ مانگنے کے انفرادی حق کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی بڑی مغربی طاقتیں خود ان اسباب سے بالکل الگ تھلگ نہیں ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو ہجرت کرنے اور پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جنہوں نے خود جنگوں کی آگ بھڑکائی یا ان کی پشت پناہی کی، اور انہوں نے ہی اس ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کو مستحکم کیا جو قوموں کے وسائل پر قبضے، ان کی دولت کی لوٹ مار اور تیسری دنیا کے متعدد ممالک کو مستقل طور پر اپنے زیرِ اثر، غربت اور انتشار کی حالت میں رکھنے پر مبنی ہے۔ پھر یہی ممالک ان پالیسیوں کے ستائے ہوئے مظلوموں کے سامنے اپنے دروازے بند کر دیتے ہیں، دیواریں اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، اور ایسے قوانین اور ضابطے ایجاد کرتے ہیں جو مظلوموں کو اس امن تک پہنچنے سے روکتے ہیں جس کے تحفظ کا یہ خود دعویٰ کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنیوا کے اصولوں اور دیگر قوانین سے کئی صدیاں قبل ہی انسانیت مسلمانوں کی جانب سے عہدوپیمان کی پاسداری کی گواہ رہی ہے، اور اسلامی شریعت میں قرآن و سنت کے ثابت شدہ دلائل کے ذریعے اس معاملے کی شدید تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"اور اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے، تو آپ اسے پناہ دے دیں یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں۔ یہ اس لیے کہ وہ علم نہ رکھنے والے لوگ ہیں۔" (سورة التوبۃ: آیت6)
اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:«الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ» "مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور ان کا ادنیٰ ترین شخص بھی ان کی طرف سے پناہ دینے کا حق رکھتا ہے (یعنی پناہ دے سکتا ہے جس کا احترام سب پر لازم ہے)۔"یا آپ ﷺ کا یہ فرمان مبارک: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهِداً لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» "جس نے کسی معاہد (امن کا معاہدہ رکھنے والے غیر مسلم) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔"
اس کی ایک تاریخی مثال فتح مکہ کے دن کی ہے، جب ام ہانئ بنت ابی طالب نے کچھ مشرکوں کو پناہ (امان) دی، تو بعض مسلمان ان سے بازپرس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:«قَدْ أَجَرْنا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» "اے ام ہانئ! جس کو تم نے پناہ دی، اسے ہم نے بھی پناہ دے دی۔"
چنانچہ آپ ﷺ نے پناہ دینے کے ایک مسلمان کے حق کو تسلیم فرمایا اور اسلامی ریاست کو اس امان کا احترام کرنے کا پابند بنایا۔ یہ اقدام کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام شرعی اصول کا عملی نفاذ تھا، جو امان اور عہد کی پاسداری کو ریاست اور معاشرے دونوں پر لازم اور واجبِ رعایت قرار دیتا ہے۔
اسلام میں پناہ کے طالب کو پناہ مانگنے کی وجہ سے ہی تحفظ دیا جاتا ہے، اور اسلام تحفظ کی اساس کو جان کی حرمت اور امان کی پاسداری کے لازمی ہونے پر قائم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، وضعی قوانین پناہ کو ایسی قانونی شروط اور ضابطوں سے مقید کرتے ہیں جو سیاسی توازن اور ریاستوں کے بدلتے ہوئے سیاسی مفادات کے مطابق وضع کردہ قوانین کے تحت ہمیشہ تبدیلی اور ترمیم کے رحم و کرم پر رہتے ہیں، نہ کہ کسی مستقل اصول کے تحت۔
اسلام اور وضعی قوانین کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام میں پناہ گزین کو تحفظ دینا کوئی سیاسی رعایت یا کوئی ایسا انتظامی اقدام نہیں ہے جسے مفادات، انتخابات اور عوامی رائے کے اتار چڑھاؤ کے مطابق واپس لیا جا سکے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ایک مستقل شرعی حکم ہے جس کی پاسداری کو ایمان اور انصاف کا ناگزیر تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مظلوم اور ستائے ہوئے (تعاقب زدہ) شخص کے امن، تحفظ اور انسانی وقار کی پاسداری کے حق کو قائم کرنے میں پناہ گزینی کے جدید معاہدوں سے صدیوں پہلے سبقت حاصل کی ہے۔
آج جنیوا کنونشن کے ۷۵ سال گزرنے کے بعد بھی، لاکھوں پناہ گزین اب بھی سرحدی دیواروں، کیمپوں اور روک تھام، داخلے کی ممانعت اور زبردستی واپسی کے قوانین سے سر ٹکرا رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں پناہ گزینوں کا المیہ معاہدوں کی عدم موجودگی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بین الاقوامی نظام کے غلبے کا شاخسانہ ہے جسے بڑی طاقتیں اپنے سیاسی و معاشی مفادات اور اثر و رسوخ کے مطابق چلاتی ہیں۔ یہی وہ ممالک ہیں جو ان متعدد جنگوں اور تنازعات میں شراکت دار رہے ہیں جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، اور اپنی معاشی پالیسیوں کے ذریعے دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو غربت کی دلدل میں دھکیلا۔ پھر انہوں نے ہی سرحدی باڑیں اور رکاوٹیں کھڑی کیں اور ایسے قوانین اور ضابطے ایجاد کیے جو ان پالیسیوں کے ستائے ہوئے شکار لوگوں کو اس امن تک پہنچنے سے روکتے ہیں جس کے تحفظ کا یہ خود دعویٰ کرتے ہیں۔ اور جہاں ایک طرف مفادات، دباؤ اور انتخابات کے تحت قوانین اور معاہدے بدلتے رہتے ہیں، وہیں اسلام اپنے اصولوں کے ثبات اور پختگی کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے؛ چنانچہ پناہ گزین کو پناہ دی جاتی ہے، امان پانے والے (مستأمن) کی حفاظت کی جاتی ہے، اور معاہدہ کرنے والے (معاہد) پر ظلم نہیں کیا جاتا، اور امان و عہد کی پاسداری ایک شرعی فریضہ ہے، کوئی سیاسی مصلحت نہیں ہے۔ اسی لیے اسلام نے مظلوم کے تحفظ کو کوئی ایسی رعایت نہیں بنایا جسے ریاستیں جب چاہیں عطا کریں اور جب چاہیں چھین لیں، بلکہ اسے ایک مستقل شرعی حکم قرار دیا ہے جو انسان کی انسانیت کی بنیاد پر اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اس کے خون، وقار اور امن کا تحفظ کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ عالی شان ہے:
﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾
"اور اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے، تو آپ اسے پناہ دے دیں، پھر اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں۔" (سورة التوبۃ: آیت6)
اسی بنیاد پر، آج انسانیت کو ایسے مزید کھوکھلے نعروں اور معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے جن کی تشریح مفادات کی عینک سے کی جاتی ہے، بلکہ ایک ایسے عادلانہ اور اصولی نظام کی ضرورت ہے جو کمزوروں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کو ایک مستقل فریضہ قرار دے، جو خواہشات اور مادی مفادات کے بدلنے سے تبدیل نہ ہو۔