Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

اداریہ

 

لیبیا کے منظر نامے پر رونما ہونے والے تازہ ترین واقعات

 

تحریر: استاد احمد المہذب

(ترجمہ)

 

 

صرف چند ہی ہفتوں میں لیبیا دردناک واقعات کی ایک تاریک سرنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ طرابلس کے مغرب میں واقع شہر 'الزاویہ' کی آئل ریفائنری پر بغیر پائلٹ کے طیاروں (ڈرونز) سے حملے کیے گئے، جس سے تیل کے ذخائر (ٹینکوں) میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ واضح رہے کہ یہ ریفائنری ملک کے مغربی حصے میں ایندھن کی کھپت کا ایک بڑا حصہ پورا کرتی ہے، اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک پہلے ہی ایندھن کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ اس کے بعد بجلی کا بحران اور لوگوں کے لیے اس کی طویل بندش کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس نے ان کی مشکلات میں ایک اور نیا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ اسی دوران، لیبیا کے مرکزی بینک کے گورنر کا استعفیٰ بھی سامنے آیا، اگرچہ اسے اب تک منظور نہیں کیا گیا ہے، اور انہوں نے اپنے استعفے کی وجوہات کو "حساس" قرار دیا ہے۔

 

اور اسی وقت، حفتر کی فوجی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس سے دو ہفتے قبل، نام نہاد "آئینی بادشاہت" کے علمبرداروں کے کچھ اجتماعات ہوئے، اگرچہ یہ اجتماعات زیادہ بڑے نہیں تھے۔ واضح رہے کہ یہ لوگ شاہ ادریس السنوسی کے دورِ حکومت کے ولی عہد کے صاحبزادے جناب محمد حسن السنوسی کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور محمد گزشتہ صدی کی اسی کی دہائی میں لیبیا سے نکلنے کے بعد سے اب برطانیہ میں مقیم ہیں۔

 

اگر ہم ان واقعات پر بحث کریں تو ہمارا یہ اہم سوال اٹھانا بالکل بجا ہے: کیا ان سنگین واقعات کے درمیان کوئی باہمی ربط موجود ہے؟!

 

ہمارا خیال ہے کہ لیبیا تیزی سے ان اعلانیہ تصفیہ کاروں کے راستے سے دور پھسلتا جا رہا ہے جن پر کام جاری ہے، جن میں سب سے اہم امریکی منصوبہ یعنی "مسعد بولس منصوبہ" ہے، جسے انہوں نے دو ماہ قبل لیبیا کے دورے کے بعد پیش کیا تھا۔ اس دورے پر انہیں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مشن دے کر بھیجا تھا، اور اس وقت اس دورے کا معاشی رنگ نمایاں تھا۔

 

لیکن اس دورے کے کچھ ہی عرصے بعد، انہوں نے بحران کے حل کے لیے اپنا منصوبہ ارسال کر دیا، جس کا مسودہ کابینہ (مجلس وزراء)، محمد المنفی کی سربراہی میں قائم صدارتی کونسل  کو بھیجا گیا، نیز ایک کاپی حفتر کو اور ایک کاپی عقیلہ صالح کی پارلیمنٹ (مجلسِ نواب) کو بھیجی گئی۔  عقیلہ صالح کی پارلیمنٹ، صدارتی کونسل، بعض مقامی جماعتوں، موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے والے علاقائی مقتدر شخصیات اور بعض مسلح دھڑوں نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی، کیونکہ انہوں نے اس میں ایک ایسا منصوبہ دیکھا جو انہیں منظر نامے سے ختم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

 

اس منصوبے کی ناکامی اور اس کے سامنے شدید مخالفت کے ابھرنے کے بعد، مغربی لیبیا میں ہنگامی الرٹ دیکھنے میں آیا اور مشرقی لیبیا، بالخصوص عقیلہ صالح کی پارلیمنٹ میں اس پر آگے بڑھنے میں سستی دکھائی گئی کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ یہ انہیں نشانہ بنا رہا ہے، اور اس میں ترمیم کی تجاویز پیش کی گئیں۔ ان پیش رفتوں کے بعد بادشاہت کا مطالبہ کرنے والے اجتماعات ہوئے، پھر بجلی کا بحران اور ملک کے بیشتر حصوں میں اس کی بندش کا سلسلہ شروع ہوا، جس کی ذمہ داری حکام ایک دوسرے پر ڈالتے رہے اور ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے رہے۔ پھر اس کے بعد مغربی طرابلس میں ریفائنری پر بمباری کا واقعہ پیش آیا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

 

اسی دوران لیبیا کے مرکزی بینک کے گورنر نے اپنا استعفیٰ پیش کیا، اگرچہ اسے اب تک قبول نہیں کیا گیا، جس کی وجوہات کو انہوں نے "حساس" قرار دیا۔ ساتھ ہی حفتر کی فوجی انٹیلیجنس کے سربراہ، میجر جنرل فوزي المنصوري کو قتل کر دیا گیا؛ وہ ایک ایسے شخص تھے جو اس بحران کے اکثر تانوں بانوں سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور ان تمام چہروں کو جانتے تھے جن کا حالات کے دھارے سے کوئی نہ کوئی تعلق تھا، خواہ وہ ایسے لوگ ہوں جنہیں کام سونپا گیا تھا یا ان کے قریبی لوگ۔ وہ حفتر کے انتہائی قریب تھے اور مشرقی لیبیا کے سیکیورٹی نظام کا ایک اہم ترین ستون تھے، اور بنغازی ہی اس جرم کا جائے وقوعہ تھا، جو کہ حفتر کا محفوظ ترین سیکیورٹی زون ہے۔ تو پھر اب یہ قاتلانہ واردات کیوں انجام دی گئی ہے؟!

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان پے در پے "دانستہ طور پر پیدا کیے گئے" بحرانوں اور تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کے بعد، اور ملک کے مغربی حصے میں بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی بعض سرگرمیوں کے پیش نظر، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب لیبیا پر بین الاقوامی طاقتوں کے مابین جاری شدید کشمکش کی شدت میں اضافے اور ملک کے وسائل، بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد توانائی کے وسائل پر بالادستی قائم کرنے کی دوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ اب یہ جنگ اس بات پر آ کھڑی ہوئی ہے کہ کن لوگوں کو آگے بڑھایا جائے۔ چنانچہ یہ دھماکے اور حادثات معاملات کو الجھانے اور ملک کے مغربی اور جنوبی حصوں پر قبضے کی کوشش ہے کیونکہ ان علاقوں میں تیل اور گیس کی بے پناہ دولت موجود ہے۔ وہ اس ملک کے وسائل پر خود اسی ملک کے بیٹوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر قبضہ کرنا چاہتے ہیں!

بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمان پر غیر اللہ سے اظہارِ وفاداری (الولاء) کو حرام قرار دیتا ہے، پس وہ ہمیں کامل یقین کے ساتھ خبر دیتا ہے:

 

﴿أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ

"کیا الگ الگ بہت سے معبود بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟" (سورۃ یوسف:آیت 39)

 

تو پھر ہمارا کیا حال ہے کہ اس زمانے کے ارباب (آقا) مغربی ممالک کے انسان نما شیاطین ہیں؟

 

 

 

Last modified onاتوار, 23 اگست 2026 17:07

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.