بسم الله الرحمن الرحيم
تیونس میں بین الاقوامی کشمکش کس سمت جا رہی ہے؟
تحریر: ڈاکٹر الاسعد العجیلی
(ترجمہ)
الجزائر کے صدر عبد المجید تبون کی طرف سے امارات کی چھوٹی ریاست کو دی جانے والی ڈھکی چھپی دھمکی، جس میں انہوں نے کہا تھا: "جو بھی تیونس کو دھمکی دے گا، ہم اس کے والدین کا خیمہ اجاڑ دیں گے"، تیونس میں اثر و رسوخ کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کشمکش کے تیز ہونے کا محض ایک اشارہ تھی۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب دارالحکومت تیونس میں 25جولائی 2026کو بگڑتی ہوئی معاشی اور انسانی صورتحال کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن کے دوران صدر قيس سعيّد کی رخصتی، نظام کے خاتمے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے نعرے بلند کیے گئے۔ مظاہرین نے قیمتوں میں اضافے، قوتِ خرید میں کمی، اور پانی و بجلی کی بار بار بندش کی ذمہ داری مقتدرہ پر عائد کی، جو کہ 25جولائی 2021کے اقدامات کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی عوامی کارروائیوں میں سے ایک تھی۔
ان اقدامات نے تیونس کے سیاسی منظرنامے میں ایک بہت بڑا موڑ پیدا کیا، جب صدر نے 2014کے آئین کی دفعہ 80کو نافذ کیا، سربراہِ حکومت (وزیراعظم) کو برطرف کیا، اور پارلیمنٹ کی کارروائی معطل کر دی۔ انہوں نے اس کے ارکان کا پارلیمانی تحفظ ختم کیا، عدلیہ کی سپریم کونسل کو تحلیل کر دیا، اور سال 2022میں ایک نئے آئین کی منظوری دی جس نے ملک کو دوبارہ وسیع اختیارات پر مبنی صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا۔
فروری 2023سے تیونس گرفتاریوں کی ایک وسیع مہم کا شاہد ہے جس کا نشانہ صدر کے مخالفین بنے، جن میں صحافی، سرگرم کارکن، جج، تاجر اور سیاست دان شامل ہیں، جن میں پارلیمنٹ کے سابق صدر راشد الغنوشی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گرفتاریاں تاجر خیام ترکی کی امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں سے ملاقات کے پس منظر میں ہوئیں، جسے اس وقت "ملکی سلامتی کے خلاف سازش" کا کیس قرار دیا گیا تھا۔
تیونس اثر و رسوخ کے لیے ایک مغربی کشمکش کا گواہ ہے جس کا کھیل مقامی مہروں کے ذریعے کھیلا جا رہا ہے، کیونکہ صدر قیس سعید نے فرانسیسی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی اثر و رسوخ کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کام شروع کیا۔ فرانس کا موقف شروع ہی سے سعید کے غیر معمولی اقدامات کی تفہیم کا عکاس رہا، خواہ وہ تیونس میں فرانسیسی سفیر کے بیانات کی شکل میں ہو یا صدر میکرون کی قیس سعید کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے ذریعے، جس میں انہوں نے تیونس کی خودمختاری برقرار رکھنے اور اس کی آزادی کے دفاع کے لیے پیرس کی جانب سے تیونس کا ساتھ دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ پیرس کی جانب سے اس پورے عمل کی کوئی مذمت نہیں کی گئی، بجز اس تشویش کے جو وہ انسانی حقوق اور سیاسی کثرت پسندی کے حوالے سے ظاہر کرتا رہا ہے، اور یہ فرانسیسی میڈیا کے ذریعے بھی بالکل واضح ہو کر سامنے آیا جس نے اپنے ہمنوا ان سیاسی قوتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جنہیں صدر سعید نے نشانہ بنایا تھا۔
جہاں تک فرانس کے باضابطہ موقف کا تعلق ہے، تو وہ اپنی جگہ برقرار رہا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ اس کے صدر میکرون نے دستور پر ریفرنڈم کا خیرمقدم کیا اور اسے سیاسی منتقلی کے عمل میں ایک "اہم مرحلہ" قرار دیا۔ نیز انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات میں تیونس کی مدد کے لیے اپنے ملک کی آمادگی پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "فرنسا تیونس کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے"۔ یہ موقف تیونس میں اپنے اہم ترین مفادات کے جال کو برقرار رکھنے کی فرانسیسی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں۔
دوسری طرف، برطانیہ نے 25جولائی کے اقدامات کے خلاف مخالفت کا موقف اختیار کیا، اور سعید کے آئین پر ریفرنڈم کو "شفافیت سے عاری" قرار دیا۔ اس نے کم ٹرن آؤٹ اور ایک جامع سیاسی راستے کی عدم موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے اختیارات کی تقسیم کے اصول کا احترام کرنے اور مختلف سیاسی و شہری قوتوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ نے سال 2025کے اواخر میں اپوزیشن کو نشانہ بنانے والے سخت اپیلٹ فیصلوں کا فائدہ اٹھایا تاکہ اپنے سیاسی اور میڈیا مہروں کے ذریعے عوامی احتجاج کو دوبارہ متحرک کیا جا سکے، جہاں اس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں آنے والی متعدد شخصیات، جن میں ہشام المشیشی شامل ہیں، دوبارہ منظر عام پر آئیں۔ یہ سرگرمیاں ان چینلز کی میڈیا موجودگی میں اضافے کے ساتھ ہوئیں جنہیں برطانوی رجحان کے قریب تر سمجھا جاتا ہے، جن میں قطر کا الجزیرہ چینل سرِفہرست ہے، جو کہ قائمہ حکومت پر عوامی دباؤ ڈالنے اور مقتدر حلقوں کو صدر کا ساتھ چھوڑنے پر راغب کر کے صدر قیس سعید کا تختہ الٹنے اور برطانوی اثر و رسوخ کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، حامیوں کی سرگرمیوں اور اپوزیشن کی مہمات میں عوام کی انتہائی محدود شرکت نے عوامی لاتعلقی کو واضح کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تیونس کے عوام کا ایک بڑا حصہ اب نہ تو حکومت پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی اس کے مخالفین پر۔
يورپی یونین نے بھی آغاز میں برطانیہ کے قریب تر موقف اپنایا، جس میں سیاسی راستے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اختیارات کی علیحدگی کے احترام کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس موقف میں، خاص طور پر اطالوی اور جرمن پوزیشن میں، سال 2023کے دوران ایک تبدیلی آئی، جہاں یورپی ممالک بتدریج صدر قیس سعید کی حمایتی فرانسیسی صف میں شامل ہو گئے۔ یہ تبدیلی سرکاری دوروں میں تیزی لانے، مالی مدد کی فراہمی اور معاشی و حفاظتی معاہدے کرنے کی شکل میں سامنے آئی، جس کا نقطہ عروج "اسٹریٹجک اور جامع شراکت داری" کی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط تھے، جس میں معاشی تعاون اور غیر قانونی ہجرت کو لگام دینا شامل تھا۔ اس کے بعد اس عمل کو توانائی کے شعبے میں ہونے والے معاہدوں سے مزید مضبوط کیا گیا، خاص طور پر یورپی مارکیٹ کے لیے بجلی کی لائنوں کو جوڑنے کے منصوبے اور گرین ہائیڈروجن پروجیکٹس۔
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، اس نے سعید کے شروع کردہ راستے کے تئیں ایک سخت موقف اپنایا، اور اسے اس طرح دیکھا کہ نیا آئین جمہوریت اور انسانی حقوق کو پامال کرتا ہے۔ اس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے بیانات اور بعض امریکی سفارتی و فوجی سرگرمیوں سے تیونس کو باہر رکھنے کی صورت میں ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی سفیر جوئی ہوڈ کا موقف بھی یہی رہا، جنہوں نے پختہ عزم ظاہر کیا کہ ان کا ملک جمہوری نظام کی واپسی کے لیے اپنے اثر و رسوخ کے تمام مہرے استعمال کرے گا اور امریکی امداد پر اس انداز میں نظرثانی کی جائے گی جو اس پالیسی سے ہم آہنگ ہو۔ امریکی کانگریس کے وفود نے بھی تیونس کے اپنے دوروں کے دوران جمہوری عمل کے پِچھے ہٹنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے تسلسل کے باوجود، واشنگٹن نے تیونس کے بیرونی قرضوں کے لیے لازمی ضمانتیں فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ سیاسی طبقے کے اندر نقب لگائی جا سکے اور بدترین معاشی بحران کی وجہ سے متوقع کسی بھی عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اسی وجہ سے سعید نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کچھ شرائط کو مسترد کر دیا، اور انہیں "نہایت بارود والے مواد کے قریب ایک جلتی ہوئی ماچس کی تیلی" کے مترادف قرار دیا۔
جہاں تک علاقائی سطح کا تعلق ہے، تو الجزائر کا موقف سب سے زیادہ ٹھوس اور پائیدار بن کر ابھرا، کیونکہ الجزائر نے تیونس کے استحکام کو اپنی قومی سلامتی کا حصہ سمجھا۔ اس نے نئی حکومت کی سیاسی اور اقتصادی مدد کی، اسے مالی معاونت فراہم کی اور گیس کی فراہمی کی ضمانت دی۔ بعد میں یہ تعاون فوجی اور سیکیورٹی معاہدے تک پہنچا، اور پھر وسیع معاشی شراکت داریوں میں بدل گیا۔ یہ پیش رفت الجزائر کے اس فہم کو ظاہر کرتی ہے کہ تیونس اس کے لیے براہِ راست تزویراتی گہرائی کی حیثیت رکھتا ہے، اور وہاں کوئی بھی سیاسی تبدیلی خود الجزائر کی سلامتی اور استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
حالات نہ تو قیس سعید کے لیے کبھی سازگار ہوں گے اور نہ ہی ان کے مخالفین کے لیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تیونس کے غیور عوام، جو اسلامی فتوحات کے زمانے میں شمالی افریقہ میں تبدیلی کا سرچشمہ بنے تھے اور جو مسلم اقوام کے لیے ایک متحرک قوت ثابت ہوئے تھے؛ امت کے اس انقلاب میں جس نے دلوں اور دماغوں میں ایک بے مثال تبدیلی پیدا کی، وہ استعمار اور اس کے مقامی کارندوں کا تختہ الٹ دیں گے۔ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے زیرِ سایہ اسلام کی بنیاد پر حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھیں گے۔
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً﴾
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے" (سورہ الطلاق:آیت 3)۔