Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

عالمی تجارتی ادارے (ڈبلیو ٹی او) میں ازبکستان کی رکنیت: مفادات، خطرات اور متوقع نتائج کے درمیان

 

تحرير: استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان

(ترجمہ)

 

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2026ء تک عالمی تجارتی ادارے (WTO) میں شمولیت کا ازبکستان کا منصوبہ برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔ تاہم، یہ بیانات عوام کے سامنے حقیقت کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہیں، کیونکہ کسی بھی بڑے اقتصادی انضمام میں جہاں مواقع ہوتے ہیں، وہاں سنگین خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ازبکستان کا زرعی شعبہ ان تبدیلیوں کے اثرات محسوس کرنے والا سب سے پہلا شعبہ ہو گا۔

 

روس طویل عرصے تک ازبکستان کی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران اس نے سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر نقل مکانی (ہجرت) اور خارجہ تجارت کو استعمال کیا، جس کی وجہ سے ازبک مصنوعات سرحد پر پھنسی رہیں، ان کی کوالٹی خراب ہوئی، اور بعض تاجروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ دیوالیہ ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ متبادل برآمدی منڈیوں کی تلاش کے لیے تاشقند کی کوششیں بیک وقت اقتصادی ضرورت اور جغرافیائی سیاسی (جیوسیاسی) دباؤ کا نتیجہ ہیں۔

 

ازبکستان کا ماننا ہے کہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے، برآمدات کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے مقصد کے تحت مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ اس کی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے۔ چونکہ بیرونی قرضہ 48 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اس لیے وہ معاملے کو اس بنیاد پر دیکھ رہا ہے کہ معاشی اشاریوں کو بہتر بنانا ہی مزید بیرونی فنڈنگ تک رسائی کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ ہے، ورنہ بجٹ خسارے کو پورا کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

 

حالیہ برسوں کے دوران یورپ میں کسانوں کے احتجاج ازبکستان کی ریاست اور معاشرے کے لیے ایک اہم سبق ثابت ہو سکتے ہیں۔ فرانس، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیم، اٹلی اور دیگر ممالک میں کسان ایندھن اور کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹیکسوں کے بوجھ، بیوروکریٹک مطالبات اور درآمدات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کی بعض ماحولیاتی پالیسیوں نے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا اور مقابلے میں مقامی کسانوں کو کمزور کر دیا۔ ان احتجاجات کے نتیجے میں، کچھ ممالک ٹیکسوں میں نرمی کرنے، بعض ماحولیاتی شرائط کو ملتوی کرنے اور درآمدی پالیسیوں میں تبدیلیاں لانے پر مجبور ہو گئے۔

 

زیرِ بحث دیگر مسائل میں سے ایک مسئلہ شہریت  کا ہے۔ شہر یت کے معاملے  کو اقتصادی ترقی کا ایک قدرتی حصہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اگر اس کی وجہ سے دیہاتوں اور دیہی علاقوں میں انسانی وسائل میں کمی واقع ہوتی ہے، زمین کے مناسب استعمال میں گراوٹ آتی ہے اور خوراک کی پیداوار کم ہوتی ہے، تو یہ ملک کے غذائی تحفظ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے بنیادی جواز کے طور پر یورپی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی کا نعرہ پیش کیا جاتا ہے۔

 

اسی کے ساتھ ہی، اگست کے مہینے سے جانوروں کی لازمی رجسٹریشن، ان کی شناخت اور ویٹرنری (جانوروں کے طبی) کنٹرول کو سخت کرنے کے اقدامات شروع ہو چکے ہیں۔ سرکاری وضاحتوں کے مطابق، اس نظام کا مقصد ضوابط اور نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اس نظام کو عوام کی ملکیت اور دولت کے حجم کا پتہ لگانے، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنے اور مکمل کنٹرول قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ مغربی سرمایہ دار شارک مچھلیوں کا اصل مقصد مزید دولت کا حصول ہے۔

 

ریاست کی جانب سے اس راستے پر گامزن رہنے میں یہ خطرہ پوشیدہ ہے کہ ازبکستان کے زرعی شعبے میں بڑی غیر ملکی کمپنیاں مقامی کسانوں اور زمینداروں پر غالب آ جائیں گی، اور یہ لوگ ان دیو ہیکل کمپنیوں کے تابع بن کر رہ جائیں گے۔ اس کے کچھ آثار ازبکستان کی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں کے داخلے کے وقت ہی سامنے آ چکے ہیں، اور ایسا راستہ کسانوں اور کاشتکاروں کو اس شعبے سے بیزار کرنے اور اسے چھوڑنے پر مجبور کر سکتا ہے، اور مغرب کا بنیادی مقصد ہی ایسے حالات پیدا کرنا ہے۔

 

تو پھر ان فیصلوں اور مطالبات کے پیچھے کون ہے؟

مغربی سرمایہ دارانہ حلقے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو فروغ دینے کے لیے کچھ بین الاقوامی اقدامات اور ماہرین کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں ازبکستان اور وسطی ایشیا میں جیفری سیکس کی سرگرمیاں اور "پائیدار ترقیاتی حل کے نیٹ ورک" (Sustainable Development Solutions Network) کے منصوبے شامل ہیں، جہاں ان سرگرمیوں کو اسی سلسلے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اور ازبکستان ان اصلاحات کے نفاذ میں سرگرمی سے حصہ لے رہا ہے۔

 

بل گیٹس کے بیانات کے مطابق، ان کی انویسٹمنٹ ٹیم امریکہ میں زرعی زمین کے وسیع رقبے خرید رہی ہے۔ اور یہ محض کوئی انفرادی کوشش نہیں ہے، کیونکہ بڑے سرمایہ کاری فنڈز اور پنشن فنڈز پچھلے پندرہ یا بیس سالوں سے زرعی زمینوں کو اسٹریٹجک اثاثوں کے طور پر خریدنے میں سرگرم عمل ہیں۔ ان اداروں میں کالپرز (CalPERS)، بل گیٹس انویسٹمنٹ کمپنی، TIAA، ہارورڈ یونیورسٹی کا اینڈومنٹ فنڈ، اور فارم لینڈ ایل پی (Farmland LP) شامل ہیں۔ ان فنڈز اور کمپنیوں نے امریکہ، برازیل، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے زرعی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وسطی ایشیا کو بھی ایسے خطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے مستقبل میں اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہو گی۔

 

عالمی تجارتی ادارے میں ازبکستان کی شمولیت مقامی تاجروں، کسانوں اور ملک کے قدرتی وسائل کے مفادات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ ریاست کو ایک ایسا سازگار معاشی ماحول فراہم کرنا چاہیے جو مقامی پیدا کاروں کو مسابقت کی اجازت دے، اور ایسے مؤثر قانونی تحفظات وضع کرنے چاہئیں جو اسٹریٹجک دولت کو بغیر کسی نگرانی کے دوسروں کے ہاتھوں میں منتقل ہونے سے روکیں۔ کیونکہ ملکی مفاد کا تحفظ نعروں سے نہیں بلکہ ایسے ہی عملی فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

 

ازبکستان کے لیے سب سے اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی اقتصادی نظام میں ضم ہونے سے پہلے اس کے دور رس سیاسی اور معاشی نتائج پر گہرائی سے غور کرے؛ کیونکہ بیرونی قوتوں پر اقتصادی انحصار کی ایک شکل کو دوسری شکل سے بدلنا عوام کی فلاح و بہبود کی ضمانت نہیں دیتا۔ پہلے سوویت یونین پر تکیہ، پھر روس کے زیر اثر آنا اور آج مغرب کے سامنے گروی ہو جانا، ملک کو کبھی بھی خود مختار ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرے گا۔

جہاں تک اسلامی ممالک کے لیے اعلیٰ ترین معیار کا تعلق ہے، تو وہ انسانوں کے بنائے ہوئے معاشی نظام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ پس اسلامی معیشت کا مقصد دولت کو چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اسے عدل کے ساتھ تقسیم کرنا اور معاشرے کے مفاد کی خدمت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ﴾

"تاکہ دولت تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہ جائے"(سورۃ الحشر:آیت 7)

 

 

 

Last modified onاتوار, 23 اگست 2026 17:08

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.