بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ امریکہ کی اصل استعماری فطرت کو منکشف کر رہا ہے!
(عربی سے ترجمہ)
الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483
اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ
بمطابق، ستمبر 2026ء
امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر میں سے 65 ارب سے زائد بیرل پر قبضہ کر لینے پر اپنے ملک کی کامیابی کا اعلان کرنے میں ذرہ بھر بھی شرم محسوس نہیں کی۔ فخریہ اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے 29 اگست، 2026ء کو اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ، ”میری ہدایت پر، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ جنگ، پیٹ ہیگستھ نے، وینزویلا کی انتہائی محترم عبوری صدر، دلسے روڈریگز (Delcy Rodriguez) کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے، اور نجی کاروباری شعبے کے ساتھ ایک پارٹنرشپ کے ذریعے، وینزویلا میں موجود 65 ارب بلین بیرلز سے زائد تیل کے زیادہ تر ذخائر پر امریکہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور اس پر امریکی ٹیکس دہندگان کو ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا پڑی“۔
ایسا اظہار کرتے ہوئے، ٹرمپ خود اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ اس کی ریاست ایک استعماری طاقت ہے— ایک ایسی طاقت جس نے کبھی بھی ان نعروں کی حقیقی معنوں میں کوئی پروا نہیں کی کہ جن کا وہ جھوٹ اور فریب کے ذریعے سے پرچار کرتے رہے ہیں، مثلاً آزادی، خودمختاری، حقِ خود ارادیت اور انسانی حقوق۔ یوں ٹرمپ اس بات پر بھی مہر ثبت کرتا ہے کہ یہ تمام نعرے محض ایک پردۂ فریب اور ایک ایسا جواز تھے، جنہیں مختلف اقوام کو استعماری تسلط میں لانے اور انسانیت کا خون نچوڑنے کے لئے استعمال کیا گیا، تاکہ استعماری امریکہ کے امیر ترین رئیس زادوں، نوابوں اور طاقتور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
یقیناً، امریکہ اور دیگر کفار ممالک کی اصل فطرت یہی ہے: یہ سب استعماری طاقتیں ہیں جو اقوام کو لوٹنے اور ان کے مال و دولت کو ہتھیانے میں لذت محسوس کرتی ہیں۔ وینزویلا اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے؛ نیز یہ کہ، ٹرمپ نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، اس کے بعد سے بارہا مرتبہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر چکا ہے کہ پاناما، گرین لینڈ، کینیڈا، کیوبا، آبنائے ہرمز، غزہ اور یوکرین کے وسائل کو اپنے قابو میں کیا جائے، اور اس کی خواہش کی یہ فہرست مزید طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لہٰذا دنیا بھر کو خلافتِ راشدہ کی اشد ضرورت ہے، جو کہ ایک ایسی ریاست ہوتی ہے جو تمام لوگوں کے لئے عدل اور رحمت کو بحال کرتی ہے اور ٹرمپ جیسے استعماریت پسندوں، متکبروں اور ظالم حکمرانوں کے تسلط کا خاتمہ کرتی ہے۔
اسلام انسانوں کے مقام و مرتبے کو بلند کرتا ہے اور انہیں تاریکی، غربت اور مصائب سے نکال کر نور، رحمت اور خوش حالی کی طرف لے جاتا ہے۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے لئے مسلم تاریخ اور اسلامی ریاست کا ورثہ اس کی گواہی دیتا ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے کالے اور گورے میں، عربی اور عجمی میں اور غریب اور مالدار کے درمیان مساوات قائم کی۔ جب بھی اسلامی ریاست کسی علاقے کو فتح کرتی، تو وہ اس علاقے کو امور کی نگہبانی، عوام کی خدمت اور عدل کے ذریعے سے اپنی ریاست میں ضم کرتی نہ کہ لوٹ مار، استعماری تسلط یا استحصال کے ذریعے؛ اور یوں اس طرح سے اسلامی ریاست اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کو پورا کرتی رہی،
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
’’اور بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘] سورۃ الانبیاء؛ 21:107[
تو یہ دنیا اس وقت کس قدر بے تابی سے نبوت کے طریقے پر دوسری خلافتِ راشدہ کی محتاج ہے، کیونکہ صرف خلافت ہی ہے جو لوگوں کے لئے ایک امید ہے اور مظلوموں کے لئے نجات ہے۔