بسم الله الرحمن الرحيم
ریاض الجنة : صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ رضي الله عنها…
بغض و عداوت کے ایک مسکن سے نبوت کے عظیم وپاکیزہ گھرانے تک !
اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ
بمطابق، ستمبر 2026ء
تحریر : أستاذ عبد السلام البدري
اسلام میں حسب نسب، نسل اور آباؤ اجداد کی تاریخ کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں؛ انسان کی اصل قدر و فضیلت صرف ایمان اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہے۔ یہ ایک ایسی خاتون کی داستانِ حیات ہے جن کی زندگی میں غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعات گزرے۔ وہ حُيي بن أخطب کی صاحبزادی تھیں، جو بني النضير کے نمایاں ترین سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ بعد ازاں انہیں رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا اور وہ اُمہات المؤمنین میں شامل ہوئیں۔ یہ عظیم المرتبت خاتون صفية بنت حيي رضي الله عنها ہیں، جن کا تعلق ایسے گھرانے سے تھا جو نبوت کے گھرانے کے ساتھ اپنی شدید عداوت کے لئے جانا جاتا تھا۔
ان کے والد حُيي بن أخطب، بنو نضیر کے سرداروں میں سے تھے، اور بعد ازاں مسلمانوں کے خلاف جنگ پر اکسانے اور دشمنی میں پیش پیش رہنے والوں میں شمار ہوئے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کے خلاف قبائل (احزاب) کو مجتمع کرنے کی بھرپور کوشش کی، اور بنو قریظہ کو اس بات پر اکسایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا ہوا اپنا عہد توڑ دیں۔ تاہم اسلام کا اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو اس کے باپ کے کئے گناہوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے،
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾
’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘‘] سورۃ الانعام؛ 6:164[
چنانچہ صفیہ رضی اللہ عنہا نہ تو اپنے والد کے فیصلوں کی ذمہ دار تھیں اور نہ ہی اپنی قوم کے موقف کی۔ بلکہ ان کے سامنے ایک ذاتی آزمائش تھی: کہ جب حق ان پر واضح ہو جائے گا تو وہ کیا معاملہ کریں گی، کیا وہ اسے قبول کر لیں یا اس سے روگردانی اختیار کریں ؟ اور یہیں سے ہی ہدایت کے عظیم قصوں میں سے ایک ایمان افروز داستان کا آغاز ہوتا ہے۔
قبولِ اسلام سے قبل کی صفیہ :
فتحِ خیبر کے بعد صفیہ رضی اللہ عنہا قید میں آ گئی تھیں۔ بنو نظیر کے سردار کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے وہ بلند نسب و شرف کی حامل تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کے حسب و نسب اور مرتبہ کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ اکرام و احترام کا معاملہ فرمایا اور انہیں اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے دین پر برقرار رہیں اور آزاد کر دی جائیں، یا اسلام قبول کر کے آپ ﷺ کی زوجیت اختیار کر لیں۔ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کو قبول کرنے کا فیصلہ اختیار کیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرما دیا، پھر ان سے نکاح فرمایا، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں مستند سند کے ساتھ مروی اور ثابت ہے۔
یہاں ہمیں توقف کر کے اس واقعے میں گہری بصیرت اور تدبر کے ساتھ غور کرنا چاہیے:
صفیہ رضی اللہ عنہا سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا تھا کہ وہ اپنے والد کے کئے گئے غلط اعمال کا خمیازہ بھگتیں۔ انہوں نے اپنے لئے ایک نئی راہ کا انتخاب کیا، جو کہ ایمان کا راستہ تھا۔ یوں اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگرچہ کوئی شخص ایسے ماحول اور معاشرے میں پیدا ہوا ہو جو حق سے کوسوں دور بھی ہو، تب بھی جب اس پر حق واضح ہو جائے تو اسے حق کو پہچان کر اسے اختیار کرنے کی پوری استطاعت اور آزادی حاصل ہوتی ہے۔
اسیری سے لے کر محترم و مکرم ہونے تک
رسول اللہ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ماضی یا آپ ﷺ کے دشمنوں سے ان کا نسب ہونے کو ایسا سبب نہیں بنایا کہ جس سے انہیں حقیر سمجھا جائے یا ان کی تحقیر ہو؛ بلکہ وہ آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ بنیں اور اُم المؤمنین کے جلیل القدر مقام پر فائز ہوئیں۔ یہ واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ کے عظیم ترین اسباق میں سے ایک ہے۔
اسلام کبھی کسی شخص کے لئے ہدایت کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ ممکن ہے کوئی شخص ایسے گھرانے میں پیدا ہو جو اسلام سے عداوت رکھتا ہو، لیکن وہ اہلِ اسلام میں شامل ہو جائے اور عزت و تکریم کے بلند مقام سے سرفراز ہو۔ کوئی باپ ایک راستے پر ہو سکتا ہے جبکہ اس کی اولاد کسی دوسرے راستے کو اختیار کر سکتی ہے؛ کیونکہ حقیقی میزان تو صرف تقویٰ اور ایمان ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا،
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾
’’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے‘‘] سورۃ الحجرات؛ 49:13[
گھرانۂ نبوت میں صفیہ رضی اللہ عنہ
صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے گھرانے میں آئیں اور اُمہات المؤمنین میں سے ایک عظیم المرتبت اُم المؤمنین بن گئیں۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان غیرت و رقابت کا پایا جانا بشری فطرت کا ایک طبعی امر تھا، تاہم رسول اللہ ﷺ ہر صورتِ حال کو نہایت حکمت، شفقت اور حسنِ تدبیر کے ساتھ سنبھالتے تھے۔ ان واقعات میں ایک نہایت اثر انگیز واقعہ وہ ہے جب صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے نسب و خاندان کے متعلق کہے گئے بعض کلمات سے رنجیدہ ہوئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں تسلی دی اور ان کے بلند و معزز مقام کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا، «إنك لإبنة نبي (يقصد موسى عليه السلام)، وإن عمك لنبي (يقصد هارون عليه السلام)، وإنك لتحت نبي» ’’بے شک آپ ایک نبی (موسیٰ علیہ السلام) کی بیٹی ہیں، آپ کے چچا ایک نبی (ہارون علیہ السلام) ہیں، اور آپ ایک نبی (محمد ﷺ) کے نکاح میں ہیں‘‘۔
اس ارشادِ نبوی ﷺ میں صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے تسلی بھی تھی، ان کی عزت و تکریم کا اظہار بھی، اور یہ یاد دہانی بھی کہ ان کا تعلق جس گھرانے سے اب قائم ہو چکا ہے، وہ گھرانۂ نبوت ہے۔
پھر آپ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے ایسے کلمات ارشاد فرمائے جنہوں نے ان باتوں سے پہنچنے والی دل آزاری اور رنج کے اثر کو زائل کر دیا۔ یوں رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی تکریم اور وقار کی مکمل حفاظت فرمائی اور کبھی یہ اجازت نہ دی کہ باہمی غیرت و رقابت ناانصافی، زیادتی یا کسی کی تحقیر و تذلیل کی صورت اختیار کر لے۔
صفية… زوجۂ رسول ﷺ
رسول اللہ ﷺ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک، محبت اور شفیقانہ رفاقت کا معاملہ فرماتے تھے۔ اس کی ایک مثال وہ روایت ہے جسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے اپنی چادر اونٹ کی کمر پر بچھا دی تاکہ وہ اس پر سوار ہو سکیں۔ یہ آپ ﷺ کی رحمت، شفقت اور حسنِ معاشرت کی روشن مثال ہے۔
اسی طرح جب صفیہ رضی اللہ عنہا اور آپ ﷺ کی دوسری زوجۂ مطہرہ، زینب رضی اللہ عنہا، کسی موقع پر ٹھوکر کھا بیٹھیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا، «إنكما لابنتا نبي» ”بے شک آپ دونوں ایک نبی کی بیٹیاں ہیں“۔
اس ارشاد میں ان کے دلوں کی دل جوئی اور تسکین بھی تھی اور اپنے اہلِ بیت کی عزت افزائی اور تکریم بھی۔
رسول اللہ ﷺ کے عظیم اخلاق کو ظاہر کرنے والا ایک واقعہ
سیرتِ نبوی ﷺ کے بہترین واقعات میں سے ایک نہایت قابلِ ذکر واقعہ وہ ہے جسے بخاریؒ اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ، صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ آپ ﷺ اعتکاف میں تھے۔ جب آپ ﷺ انہیں ان کے گھر تک واپس چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ روانہ ہوئے تو دو انصاری صحابہ وہاں سے گزرے۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو اپنی رفتار تیز کر دی۔ اس پر آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا، «على رسلكما، إنها صفية بنت حيي» ”اپنی رفتار معمول پر رکھو، ٹھہرو! یہ صفية بنت حيي ہیں“۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا، «إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم» ”بے شک شیطان انسان کے اندر خون کی گردش کی طرح دوڑتا رہتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺ نے شک اور بدگمانی کے لئے کوئی گنجائش ہی نہ رہنے دی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے ایسا فرمایا کہ، ”میں اللہ کا رسول ہوں، لہٰذا لوگوں کو میرے بارے میں حسنِ ظن ہی رکھنا چاہیے“۔ بلکہ آپ ﷺ نے اُمت کو یہ تعلیم دی کہ حرمت و وقار کی حفاظت کی جائے، افواہوں اور بدگمانیوں کے تمام راستے مسدود کیے جائیں، اور سوء ظن کو اس کی جڑ ہی سے ختم کر دیا جائے۔
صفية رضي الله عنها کی حیاتِ طیبہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے ؟
اول : اپنے خاندان کے ماضی کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کے اپنے مستقبل کے فیصلے کرے
کوئی شخص نیک اور صالح باپ کی اولاد ہونے کے باوجود بھی راہِ حق سے بھٹک سکتا ہے، یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسے شخص کی اولاد ہو جو حق سے بہت دور تھا، لیکن وہ خود ہدایت پا جائے۔ کسی شخص کا یہ کہنا درست نہیں کہ، ”میں ایسا ہی ہوں کیونکہ میرا باپ بھی ایسا ہی تھا“، اسی طرح کسی شخص کے بارے میں محض اس کے والد یا قبیلے کی نسبت سے کوئی رائے قائم کر لینا بھی درست نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا،
﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ﴾
”ہر نفس اپنے کئے ہوئے اعمال کے بدلے رہن ہے‘‘] سورۃ المدثر؛ 74:38[
دوئم : جب حق واضح ہو جائے تو درست مؤقف صرف یہی ہے کہ حق کو دل سے قبول کر لیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے
صفیہ رضی اللہ عنہا نے قبائلی وابستگی کو اپنے اور حق کے درمیان ہرگز حائل نہیں ہونے دیا۔ اس واقعے میں ہر شخص کے لئے ایک نہایت اہم سبق ہے: جب کسی شخص پر اللہ کی کتاب (قرآن مجید) اور سنتِ رسول ﷺ سے کوئی دلیل واضح اور روشن ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں معاشرتی رسوم و رواج یا روایات، قوم پرستی، سیاسی پارٹی، ذاتی مفاد یا ورثہ میں ملے فکری تصورات کو ہرگز کوئی ترجیح نہ دے۔
سوئم : اسلام لوگوں کو اسلامی عقیدہ پر ہی متحد کرتا ہے
صفیہ رضی اللہ عنہا ایسے لوگوں اور خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جن کا دین مسلمانوں کے دین سے مختلف تھا، لیکن پھر بھی وہ اُم المؤمنین کے عظیم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا رشتہ خون، نسل اور قبیلے کے تمام رشتوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا،
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
”بے شک مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ [الحجرات؛ 49:10]
چہارم ؛ یہ ہرگز جائز نہیں کہ کسی شخص پر اس کے (خاندان یا خطے سے) تعلق یا وابستگی کے باعث کوئی زیادتی کیا جائے
خطرناک ترین غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی شخص کے قبیلے، خاندان یا نسب و پس منظر کی بنیاد پر اس کے بارے میں فیصلہ کر لیا جائے اور اسے اس بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرا لیا جائے۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اس اصول کی نہایت واضح مثال ہیں: ان کے والد مسلمانوں کے سخت ترین مخالفین میں سے تھے، لیکن خود صفیہ رضی اللہ عنہا اُمہات المؤمنین میں سے ایک ہیں۔ لہٰذا کسی بے گناہ شخص کو دوسرے کے جرم کی پاداش میں سزا نہیں دی جا سکتی۔
صفیہ رضی اللہ عنھا، تاریخ کا محض ایک قصہ ہی نہیں ہیں
صفیہ رضی اللہ عنہا کی داستان محض ایک ایسی خاتون کا تذکرہ نہیں کہ جن سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرمایا۔ بلکہ یہ دراصل ایک قصۂ ہدایت ہے۔ یہ اس حقیقت کی کہانی ہے کہ ایک شخص اپنے مخصوص ماحول اور معاشرتی پس منظر کی گرفت سے آزاد ہو کر بھی حق تک پہنچ سکتا ہے؛ یہ قصہ اس امر کی گواہی ہے کہ اسلام انسان کو قبائلیت کے زاویۂ نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ ایمان کے معیار سے دیکھتا ہے؛ اور یہ کہانی اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ گھرانۂ نبوت رحمت، تعظیم و حرمت، تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفس کا مرکز تھا۔ اسی لئے جب ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان پڑھتے ہیں،
﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾
”پس ان کی ہدایت کی پیروی کرو“ [سورۃ الأنعام؛ 6:90]۔
تو ہمیں اسے محض گزرے ہوئے ماضی کی ایک تاریخی داستان کے طور پر نہیں پڑھنا چاہئے، بلکہ اسے اس دعوت کے طور پر سمجھنا چاہیے کہ ہم انبیائے کرام علیہم السلام کی لائی ہوئی ہدایت اور ان کی پیروی کرنے والوں کو اپنے لئے نمونہ بنائیں اور اسی راستے پر چلنے کی کوشش کریں۔
آج اس دور میں صفیہ … ہم سے کیا فرما رہی ہیں ؟
صفیہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ : حق کی پیروی محض اس لئے نہ کرو کہ آپ کے آباؤ اجداد اس پر قائم تھے، اور حق کو صرف اس لئے رد نہ کرو کہ آپ کے مخالفین ایسے ہی کہا کرتے ہیں۔ قبائلی تعصب کو اپنے اور ہدایت کے درمیان حائل نہ ہونے دو۔ جب حق تم پر واضح ہو جائے تو اسے اختیار کرنے میں جرأت و استقامت کا مظاہرہ کرو۔ جب تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جان لو تو اپنی پوری اطاعت اور وابستگی اسی کے لئے خالص کر دو۔ جب تم رسول اللہ ﷺ کو جان لو تو آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی پیروی کرو۔ اگر تمہارے خاندان کا کوئی فرد غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کے گناہ کا بوجھ اپنے سر نہ لو۔ اور اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس کی بدسلوکی کو حق ترک کر دینے کا سبب نہ بننے دو۔
صفیہ رضی اللہ عنہا حُيي بن أخطب کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن انہوں نے اپنے والد کے موقف کو اپنی مستقل تقدیر نہیں بننے دیا؛ بلکہ ان کی زندگی کا نقطۂ عروج یہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی زوجۂ مطہرہ بنیں اور اُمّ المؤمنین کے جلیل القدر منصب پر فائز ہوئیں۔
پس،
اے راہِ ہدایت کے طالب! یہ نہ دیکھو کہ تم کہاں سے آئے ہو، بلکہ اس پر نگاہ رکھو کہ تمہاری منزل کہاں ہے اور تم کس سمت بڑھ رہے ہو۔
اے اسلام کی فکر رکھنے والے! لوگوں کی ہدایت کے لئے کبھی مایوس نہ ہونا؛ کیونکہ جس شخص کو تم حق سے بہت دور سمجھتے ہو، بعید نہیں کہ وہی آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین بندوں میں شامل ہو جائے۔
اے قابلِ اقتدا نمونہ کی تلاش کرنے والے! انبیائے کرام علیہم السلام کی ہدایت کو اپنا نمونہ بناؤ، رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق و اوصاف کو اپناؤ، اور اس ہدایت، رحمت اور عدل کی پیروی کرو جسے آپ ﷺ لے کر آئے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾
”بے شک تمہارے لئے اللہ کے رسول (ﷺ) میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت پر امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے“ [الأحزاب؛ 33:21]۔
اللہ أم المؤمنين صفية بنت حيي رضی اللہ عنھا پر اپنا کرم و رحم فرمائے، اور ہمیں ان کے ساتھ جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جمع ہونے کی سعادت عطا کرے۔