Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

اجیر سے متعلق شرعی احکام کی روشنی میں اسلامی ریاست میں روزگار کے ماحول کا تصور 

 

 

صدیوں تک جب شریعت کا نفاذ جاری رہا تو مسلم دنیا صنعت، تجارت اور زراعت کے میدانوں میں دنیا کی قیادت کرتی رہی۔ اس خوشحالی کے بنیادی اسباب میں سے ایک اجیر (Worker) سے متعلق شرعی احکام کا نفاذ تھا، خواہ وہ صنعت کو ترقی دینے کے لیے کسی پیداواری کام میں مصروف ہو، تجارت میں وکیل (Representative) کی حیثیت سے کام کرتا ہو، یا زرعی زمین کی کاشت میں مشغول ہو۔

 

اجیر سے متعلق شرعی احکام آخرت میں جواب دہی کے تصور سے الگ نہیں ہیں۔ اسلامی ریاست کے دور میں مسلمان ان شرعی دلائل سے آگاہ تھے جو قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ سے ماخوذ تھے اور ملازمت و اجرت سے متعلق ان کے معاملات اور رویوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ معاشرے کا عمومی ماحول، بشمول روزگار کا ماحول، موجودہ مسلم ممالک میں رائج سیکولر قوانین کے تحت قائم ماحول سے یکسر مختلف تھا۔ موجودہ سیکولر قوانین اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے عاری ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ العلیم ہے، جس کا علم انسان کے ہر عمل کا احاطہ کیے ہوئے ہے، خواہ وہ عمل کتنا ہی معمولی یا بڑا، نیک یا بد کیوں نہ ہو۔

 

شرعی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں، اور اللہ سبحانہ و تعالی الحکیم ہے؛ اس کے سامنے پوری انسانیت کی اجتماعی دانش بھی بے حقیقت ہے۔ اسی لیے شرعی احکام ان سرمایہ دارانہ قوانین سے برتر ہیں جو محنت کشوں کا اس حد تک استحصال کرتے ہیں کہ اکثر ان کی اجرت اس فائدے سے بھی کم ہوتی ہے جو وہ اپنے آجر (Employer) کو فراہم کرتے ہیں، انہیں ان کی استطاعت سے بڑھ کر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان کی اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین (Labor Laws) کا نفاذ بھی ان کی مشکلات کا خاتمہ نہ کرسکا، کیونکہ یہ قوانین بھی محدود انسانی عقل و فہم کی پیداوار ہیں۔ ان قوانین نے ملازمین کی ضروریات اور معاشی کفالت کے حوالے سے آجر پر ایسی ذمہ داریاں عائد کردیں جو درحقیقت ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔

 

اجرت اور ملازمت سے متعلق شرعی احکام کا ایک مختصر جائزہ ہمیں اسلامی حکمرانی کے تحت روزگار کے ماحول کی ایک واضح تصویر فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے، امید ہے کہ ہم اسلامی نظام کے قیام کو جلد اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

اولاً: دوسروں کو ملازمت دینے کی استطاعت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے، ملازم پر کوئی احسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ‌ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَـتَّخِذَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِيًّا﴾

 

“کیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی ہم نے تقسیم کی ہے، اور ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجات میں برتری دی ہے تاکہ ان میں سے بعض، بعض سے کام لے سکیں” [الزخرف: 32]۔

 

رزق عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اور اسی نے بعض لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ وسائل اور صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ یہ حقیقت ایک متقی آجر کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے۔ وہ اپنے ملازمین کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک سے پیش آتا ہے، نہ کہ اس انداز سے جیسے وہ کسی کے آقا اور ملازم اس کے غلام ہوں۔ وہ اس بات سے بھی غافل نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی وقت اس کی نعمتوں کو واپس لے سکتا ہے۔ چنانچہ دوسروں کو ملازمت دینے کی صلاحیت کو اپنا ذاتی کمال یا ملازم پر احسان سمجھنے کے بجائے، وہ اسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور اپنی آزمائش سمجھتا ہے۔

 

ثانیاً: اجرت و ملازمت کے معاہدے کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ملازم آجر کو ایک منفعت فراہم کرتا ہے، جس کے بدلے میں وہ آجر سے معاوضہ لینے کا حق رکھتا ہے۔ ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا: «اسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ هَادِيًا خِرّيتًا وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ» “رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ نے بنو الدیل کے ایک ماہر اور تجربہ کار رہبر کو اجرت پر مقرر کیا، جبکہ وہ قریش کے کافروں کے دین پر تھا۔ دونوں نے اپنی سواریاں اس کے حوالے کردیں اور اس سے طے کیا کہ وہ تین راتوں کے بعد، تیسری رات کی صبح، ان کی دونوں سواریوں سمیت غارِ ثور میں ان سے آکر ملے”۔ اجارہ (Ijarah) دراصل ایسا معاہدہ ہے جس کے ذریعے ملازم اپنی منفعت کا حق آجر کو منتقل کرتا ہے، جبکہ آجر اس منفعت کے بدلے اپنا مال، یعنی معاوضہ، ملازم کو دیتا ہے۔ چنانچہ اجارہ دراصل منفعت کے بدلے معاوضے کا معاہدہ ہے۔

 

ثالثاً: اجیر کی اجرت کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے، خواہ اسے براہِ راست دیکھ کر معلوم کیا گیا ہو یا ایسی واضح وضاحت کے ذریعے متعین کیا گیا ہو جو کسی بھی قسم کے ابہام کو ختم کردے۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: «إِذَا اسْتَأْجَرَ أَحَدُكُمْ أَجِيرًا فَلْيُعْلِمْهُ أَجْرَهُ» “جب تم میں سے کوئی کسی اجیر کو ملازمت پر رکھے تو اسے اس کی اجرت سے آگاہ کردے”۔ اجیر کو دیا جانے والا معاوضہ نقد رقم کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور غیر نقدی مال، جائیداد یا کسی منفعت کی صورت میں بھی۔ درحقیقت جو چیز شرعاً خرید و فروخت میں قیمت بن سکتی ہے، وہی اجارہ میں معاوضہ بھی بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے واضح طور پر متعین کیا گیا ہو۔ اگر معاوضہ غیر متعین ہو تو اجارہ کا معاہدہ صحیح نہیں ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ کسی اجیر کو کھانے اور لباس کے عوض ملازمت پر رکھا جائے، یا اجرت کے ساتھ اسے کھانا اور لباس بھی فراہم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَلَى الۡمَوۡلُوۡدِ لَهٗ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ “اور بچے کے باپ پر ان (دودھ پلانے والی عورتوں) کا کھانا اور لباس دستور کے مطابق لازم ہے”[سورۃ البقرۃ: 233]۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے والی عورت کے لیے بچے کو دودھ پلانے کے بدلے اس کے نان و نفقہ اور لباس کا انتظام لازم قرار دیا۔ جب یہ معاملہ دودھ پلانے والی عورت کے لیے جائز ہے تو دوسروں کے لیے بھی اسی اصول کے تحت جائز ہوگا، کیونکہ یہ دراصل اجارہ کا ایک معاہدہ ہے اور اس لیے اجارہ سے متعلق مسائل میں شامل ہے۔

 

رابعاً: اجرت کا تعین اس منفعت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جو اجیر نے آجر کو فراہم کی ہو۔ اشتراکیت کے برخلاف، اجرت کا تعین اس چیز کی قدر و قیمت سے نہیں کیا جاتا جو اجیر کی محنت سے تیار ہوتی ہے۔ اگر اجرت کو مصنوعات کی قیمتوں سے منسلک کردیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آجر کو اجیر پر اجرت کم یا زیادہ کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے، اور وہ بازار میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر اپنی مرضی سے اجرت میں اضافہ یا کمی کرسکے۔ شریعت میں اس طرح کا معاملہ جائز نہیں۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کے برخلاف، اجرت کا تعین اس بنیاد پر بھی نہیں کیا جاتا کہ اس سے اجیر کے کھانے، لباس اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری ہوجائیں۔ اگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں اجرت کے تعین کی بنیاد بن جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آجر پر اجیر کی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری عائد کردی گئی ہے، جبکہ کسی فرد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی شرعی ذمہ داری ہے، جو اپنے شہریوں کے معاملات کی نگہداشت کی ذمہ دار ہے، نہ کہ آجر کی۔

 

اگر اجرت کے تعین کے بارے میں آجر اور اجیر کے درمیان اختلاف ہوجائے تو ایسی صورت میں اجرتِ مثل (Equivalent Wage) کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ یعنی اگر معاہدہ کرتے وقت اجرت متعین نہ کی گئی ہو اور بعد میں آجر اور اجیر کے درمیان اجرت کی مقدار پر اختلاف ہوجائے تو اجرتِ مثل مقرر کی جائے گی۔ اجرتِ مثل کا تعین قیاسِ شرعی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس طرح نکاح میں مہرِ مثل کا تعین کیا جاتا ہے۔ اگر نکاح کے وقت مہر کا تعین نہ کیا گیا ہو، یا مقررہ مہر کی مقدار کے بارے میں بعد میں اختلاف پیدا ہوجائے، تو مہرِ مثل کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جسے نسائی اور ترمذی نے بیان کیا ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے: «عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ» “عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا، لیکن مہر مقرر نہیں کیا تھا اور رخصتی سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ ابن مسعودؓ نے فرمایا: اسے اس جیسی عورتوں کے برابر مہر ملے گا، نہ اس سے کم اور نہ زیادہ۔ اس پر عدت بھی لازم ہوگی اور وہ میراث کی بھی حق دار ہوگی۔ اس موقع پر معقل بن سنان اشجعیؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمارے قبیلے کی ایک عورت، بروع بنت واشق، کے بارے میں بھی بالکل ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ یہ سن کر ابن مسعودؓ خوش ہوئے”۔ یہاں “اس جیسی عورتوں کے برابر مہر” سے مراد یہ ہے کہ اسے ایسی ہی حیثیت رکھنے والی عورتوں کے مروجہ مہر کے برابر مہر دیا جائے گا۔ چنانچہ شریعت نے اس عورت کے لیے مہرِ مثل لازم قرار دیا جس کا مہر پہلے سے متعین نہیں کیا گیا تھا۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جب پہلے سے مقرر کیے گئے مہر کی مقدار پر بعد میں اختلاف پیدا ہوجائے۔ چونکہ نکاح کے معاہدے میں مہر ایک لازم معاوضہ ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں لازم ہونے والے معاوضے کو اس کے ساتھ قیاس کیا جاسکتا ہے۔ معاوضے کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے: وہ خرید و فروخت کی صورت میں مال یا رقم ہوسکتا ہے، ملازمت کے معاہدے میں کسی منفعت یا محنت کے بدلے ہوسکتا ہے، یا نکاح کے معاہدے میں مہر کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ لیکن ہر صورت میں جہاں کسی معاہدے کے تحت معاوضہ لازم ہو اور اس کی مقدار متعین نہ ہو یا اس پر اختلاف پیدا ہوجائے، وہاں متعلقہ اجرتِ مثل یا مہرِ مثل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

 

خامساً: اسلام اجیروں کو ان کی اجرت بلا تاخیر ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے سرمایہ دارانہ نظام کے غلبے کے باعث بہت سے محنت کشوں کی تنخواہیں ہفتوں بلکہ مہینوں تک مؤخر کردی جاتی ہیں۔ شریعت میں جب ملازمت کا معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اجیر معاہدے کی بنیاد پر ہی اجرت کا مستحق ہوجاتا ہے۔ تاہم اجرت کی ادائیگی اس وقت لازم ہوتی ہے جب اجیر اپنا کام مکمل کرلے، اور کام مکمل ہوجانے کے بعد اس کی اجرت فوراً ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کی بیان کردہ حدیثِ قدسی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ» “اللہ عزوجل فرماتا ہے: قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں کے خلاف میں خود مدعی ہوں گا: ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور پھر اسے توڑ دیا؛ دوسرا وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کھا گیا؛ اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی اجیر کو ملازمت پر رکھا، اس سے پورا کام لے لیا، لیکن اسے اس کی اجرت ادا نہ کی”۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے اور امام بخاری نے اسے روایت کیا ہے۔

 

ششم: اجیر سے ایسا کام لینا جائز نہیں جو اس کی استطاعت سے بڑھ کر ہو۔ بدقسمتی سے سیکولر اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت مسلم دنیا میں یہ ایک عام خرابی بن چکی ہے۔ ملازمت سے برطرف کیے جانے کی دھمکی دے کر کارکنوں سے حد سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾

 

“اللہ کسی جان کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا” [سورۃ البقرۃ: 286]۔

 

نبی ﷺ نے فرمایا: «إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» “جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے انجام دو۔” یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے اور امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔ چنانچہ اجیر سے ایسا کام یا ایسی محنت نہیں لی جاسکتی جو اس کی معمول کی استطاعت سے باہر ہو۔ اس سے صرف اتنا ہی کام لیا جائے گا جسے وہ اپنی معمول کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کے مطابق انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو۔

 

ہفتم: اسلام اس بات سے منع کرتا ہے کہ کسی اجیر کو اس شرط پر ملازمت پر رکھا جائے کہ اس کی مقررہ اجرت میں سے کوئی حصہ کاٹ لیا جائے، یا ایسے نگران کو مقرر کیا جائے جو کارکنوں کی تنخواہوں میں سے اپنا حصہ وصول کرے۔ یہ اس اجرت کو ناجائز طور پر ہڑپ کرنے کے مترادف ہے جو کارکن کا شرعی حق ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ» صحابہؓ نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول ﷺ! قُسامہ کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: «الشَّيْءُ يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَيُنْتَقَصُ مِنْهُ» “لوگوں کے درمیان کسی چیز کا ایک حصہ طے ہو، پھر اس میں سے کچھ کم کرلیا جائے۔” ایک دوسری روایت میں حضرت عطاءؒ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «الرَّجُلُ يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا» “ایک شخص لوگوں کے ایک گروہ پر مقرر ہو، پھر وہ ان میں سے ایک کے حصے اور دوسرے کے حصے میں سے اپنا حصہ لے۔” چنانچہ اگر کوئی ٹھیکیدار کسی شخص سے یہ معاہدہ کرے کہ وہ 100 کارکنوں کو ایک ایک دینار کی اجرت فراہم کرے گا، لیکن بعد میں وہ ان کارکنوں کو ایک دینار سے کم ادا کرے، تو یہ جائز نہیں ہوگا، کیونکہ معاہدے میں ہر کارکن کے لیے ایک دینار بطور مقررہ اجرت متعین ہوچکا ہے۔ اس میں کمی کرکے باقی رقم خود رکھ لینا کارکنوں کے طے شدہ حق میں ناجائز تصرف ہوگا۔

 

ہشتم: اجارہ درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی منفعت شرعاً جائز ہو۔ کسی ایسے کام کے لیے کسی شخص کو ملازمت پر رکھنا جائز نہیں جس کی منفعت شرعاً حرام ہو۔ چنانچہ کسی خریدار کے لیے شراب منتقل کرنے، اسے نچوڑنے یا تیار کرنے، یا خنزیر اور مردار کو منتقل کرنے کے لیے کسی اجیر کو ملازمت پر رکھنا جائز نہیں۔ امام ترمذی نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا وَالْمُشْتَرِي لَهَا وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ» “رسول اللہ ﷺ نے شراب کے معاملے میں دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی: اسے نچوڑنے والا، اسے نچوڑنے کا حکم دینے والا، اسے پینے والا، اسے لے جانے والا، جس کے پاس اسے لے جایا جائے، اسے پلانے والا، اسے فروخت کرنے والا، اس کی قیمت کھانے والا، اسے خریدنے والا اور جس کے لیے اسے خریدا جائے۔” اسی طرح سود (ربا) سے متعلق کسی بھی کام کے لیے اجارہ کا معاہدہ درست نہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی منفعت کے حصول کے لیے ملازمت پر رکھنے کے مترادف ہے جو شرعاً حرام ہے۔ مزید برآں، ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعودؓ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «أنه لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ» “نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی۔”

 

نہم: اسلامی ریاست صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ اس میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے لیے بھی ہے۔ مسلمان غیر مسلموں کو ملازمت پر رکھ سکتے ہیں اور غیر مسلم بھی مسلمانوں کو ملازمت پر رکھ سکتے ہیں۔ مسلمان کسی بھی جائز کام کے لیے غیر مسلم کو ملازمت پر رکھ سکتا ہے۔ اس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی سنت میں موجود عملی مثالوں اور صحابہ کرامؓ کے اس اجماع پر ہے کہ غیر مسلموں کو جائز کاموں کے لیے، حتیٰ کہ ایسے ریاستی امور میں بھی جہاں اجرت پر کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہو، ملازمت پر رکھا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی کاتب کو ملازمت پر رکھا اور ایک دوسرے یہودی کو مترجم کے طور پر مقرر فرمایا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے راستہ بتانے کے لیے ایک مشرک کو اجرت پر مقرر کیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے مالی حساب کتاب کے لیے عیسائیوں کو ملازمت پر رکھا۔ جس طرح ایک مسلمان غیر مسلم کو ملازمت پر رکھ سکتا ہے، اسی طرح مسلمان اپنے آپ کو بھی کسی غیر مسلم کے لیے ایسے کام کی انجام دہی کے لیے ملازمت پر دے سکتا ہے جو شرعاً حرام نہ ہو۔ البتہ حرام کام کسی صورت جائز نہیں، خواہ ملازم رکھنے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔

 

اے مسلمانو اور علمائے کرام!

 

یقیناً ہمارا دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس نے اجارہ سے متعلق بھی تفصیلی احکام دیے ہیں، جو ہمارے روزگار کے ماحول کو یکسر تبدیل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے دین کے احکام سے آگاہ ہونا چاہیے اور دعوت کے ذریعے مسلمانوں میں ان احکام کی عمومی آگاہی کو فروغ دینا چاہیے۔ نیز ہمیں اپنے اجتماعی معاملات میں دین کے بحیثیت نظامِ حکمرانی نفاذ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، تاکہ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و استحصال سے نجات حاصل کرسکیں۔

 

لہٰذا ہمیں حزب التحریر کے شباب سے سیکھنا چاہیے اور نیکی کے کاموں میں ان کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی چاہیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نبوت کے نقش قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنی نصرت عطا فرمائے۔

 

مصعب عمیر, ولایہ پاکستان

 

Last modified onپیر, 05 اکتوبر 2026 20:10

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.