Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

عراق نوّے  (90)دن کی آزمائش کے سامنے

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

(ترجمہ)

 

 

عراق میں، ریاست کے ہاتھ میں اسلحہ محدود کرنے کا علی الزیدی کا منصوبہ محض کوئی نیا سیکیورٹی اقدام نظر نہیں آتا، اور نہ ہی نوّے (90) دن کی یہ مہلت مسلح دھڑوں اور امریکہ کے درمیان محض ایک عارضی پرسکون دورانیہ ہے۔ اس مہلت کے پسِ پشت ایک کہیں زیادہ گہرا سوال کھڑا ہے: کیا حکومت عراق کو مسلح قوتوں کے انتظام وانصرام کے مرحلے سے نکال کر اسلحے کو ریاستی اقتدار کے تابع بنانے کے مرحلے میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، بغیر اس کے کہ وہ کسی داخلی تصادم کا شکار ہو یا ملک کو ایک بار پھر علاقائی کشمکش کا میدان بنا دے؟

 

اسلحے کو صرف ریاست تک محدود کرنا محض ایک عسکری معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ عراقی ریاست کی نوعیت، حشد الشعبی(عوامی رضاکار فورس) کے مستقبل، ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات، اور حکومت کی اس صلاحیت کی آزمائش ہے کہ وہ ایک ایسا تصفیہ ترتیب دے سکے جو عراق کے مفادات اور اس کی خودمختاری کی حفاظت کرے۔

 

علی الزیدی سے منقول اطلاعات کے مطابق، یہ منصوبہ ایک ابتدائی مرحلے پر مبنی ہے جو نوّے (90) دن پر محیط ہے، جس کے دوران مسلح دھڑے حملے کرنے سے باز رہیں گے، جبکہ اس کے بدلے میں انہیں امریکی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، تاکہ ان مراحل کی طرف پیش رفت  ہو سکے جن کا تعلق اسلحے، جنگجوؤں کی حیثیت اور مسلح تشکیلات سے ہے، یہاں تک کہ اس حتمی مرحلے تک پہنچا جا سکے جس کا ہدف جون 2027ء بتایا گیا ہے۔

 

لیکن ان تاریخوں یا مہلتوں کو ایسا حتمی معاہدہ نہیں سمجھنا چاہیے جسے تمام فریقوں کی منظوری حاصل ہو چکی ہو، جبکہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور منصوبے کی تفصیلات اور اس کے مراحل کے بارے میں بیانات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس کے باوجود، نوّے (90) دن کی اہمیت محض اس مدّت میں نہیں ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے جاری چکر کو توڑنے کا کیا موقع فراہم کر سکتی ہے، اور کیا ایک ایسا سیاسی و سیکیورٹی ماحول تیار کر سکتی ہے جو اسلحے کے مستقبل پر بحث کی اجازت دے۔

 

حملوں کے خاتمے سے اسلحے کی ازسرِ نو تنظیم تک

منصوبے کا ایک بنیادی نقطہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اسلحے سے نمٹنے کے بجائے اس کے استعمال کو روکنے کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کی جائے۔ چنانچہ اگر حملے رک جاتے ہیں، تو عسکری جوابی کارروائی کا امکان کم ہو جاتا ہے، اور اسلحے کے مستقبل پر مذاکرات زیادہ قابلِ عمل بن جاتے ہیں۔ لیکن پرسکون ماحول کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کا مطلب لازمی طور پر مسئلے کا حل نہیں ہوتا؛ کیونکہ جب تک یہ واضح سمجھوتوں اور پابند بنانے والے عملی طریقہ کار میں نہ ڈھل جائے، یہ محض تنازع کو عارضی طور پر منجمد کرنے کی صورت ہی ہو سکتی ہے۔

 

اور بغداد کسی ایک فریق سے مذاکرات نہیں کر رہا، کیونکہ ایران سے وابستہ مسلح دھڑے کوئی ایک  اکائی نہیں ہیں؛ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ، عسکری صلاحیتوں، حشد الشعبی(عوامی رضاکار فورس) کے ساتھ اپنے ادارہ جاتی تعلقات، اور اپنے فیصلے میں خودمختاری کے درجے کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ فرض کرنا غلط ہوگا کہ وہ سب ایک ہی آپریشن روم کے تحت حرکت کرتے ہیں، اسی طرح ان کے حساب کتاب میں ایران کے اثر و رسوخ کو نظرانداز کرنا بھی اس کے بالمقابل ایک دوسری غلطی ہوگی۔ ایران عراقی قوتوں کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا موقف تصفیے کی کامیابی یا ناکامی میں ایک مؤثر عنصر بن سکتا ہے۔

 

تاہم، ان دھڑوں کے حساب کتاب صرف ایران کے موقف تک محدود نہیں ہیں؛ ان کے اپنے بھی اندرونی مفادات اور حساب کتاب ہیں جو عراقی ریاست میں ان کی سیاسی حیثیت اور ان کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں الزیدی کا مشن سامنے آتا ہے کہ وہ آزاد اسلحے سے دستبرداری کو ایک ایسے سیاسی اور ادارہ جاتی راستے میں تبدیل کریں جو قابلِ عمل ہو۔

 

کیا خون بہائے بغیر اسلحے کو محدود کرنا ممکن ہے؟

اگر امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، اور ان جوازوں میں کمزوری آ جاتی ہے جن کا سہارا لے کر بعض دھڑے امریکی افواج اور مفادات پر حملے کرتے ہیں، تو کچھ قوتیں یہ دیکھ سکتی ہیں کہ سیاسی و ادارہ جاتی کام کی طرف منتقل ہونا تصادم کو جاری رکھنے کے مقابلے میں زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔

 

لیکن جو دھڑا سالہا سال سے اسلحے کا مالک رہا ہے، وہ اس سے دستبردار ہونے کو محض ایک انتظامی کارروائی کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔ وہ اپنی قیادت اور اپنے جنگجوؤں کے انجام، اپنی سیاسی حیثیت، اور ان ضمانتوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے جو اس کے عسکری کردار کے خاتمے کے بعد اسے نشانہ بنائے جانے سے روکیں۔ اس کا مطلب قانون سے بالاتر حصانت دینا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا واضح قانونی راستہ بنانا ہے جو جنگجوؤں کے حالات سے نمٹے، اور تجاوزات کی انفرادی ذمہ داری اور مسلح اداروں و تشکیلات کی ازسرِ نو تنظیم کے درمیان تفریق کرے۔

 

پس اصل چیلنج مذاکرات کے لیے تیار فریقوں کو قائل کرنے میں نہیں، بلکہ اس فریق سے نمٹنے میں ہے جو اپنے عسکری فیصلے کی خودمختاری سے دستبردار ہونے سے انکار کرتا ہے۔ اور اگر مہلت ختم ہو جاتی ہے اور کچھ دھڑے مفاہمت سے باہر ہی رہتے ہیں، تو حکومت اپنے آپ کو سب سے مشکل امتحان کے سامنے پائے گی: یعنی کیا وہ فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے طاقت کا سہارا لے، یا مذاکرات کو جاری رکھے، یا سیاسی اور سیکیورٹی دباؤ کو یکجا کرے؟

 

حشد الشعبی(عوامی رضاکار فورس)... سب سے حساس گرہ

دھڑوں کو تحلیل کرنے اور ریاستی اداروں کے اندر ان کی ازسرِ نو تنظیم کرنے کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ حشد الشعبی(عوامی رضاکار فورس) عراقی سرکاری ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے، اور اس کے گرد تشکیلات، قیادتیں، بجٹ اور سیاسی حیثیتیں مجتمع ہو چکی ہیں۔ اس لیے اس معاملے سے نمٹنے کو "اسلحے کے بدلے تحلیل" کی مساوات میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاملہ عسکری ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم، سرکاری اداروں کے سامنے اس کی تابعداری کو مضبوط بنانے، اور ریاست کی کمانڈ چین سے باہر کام کرنے کی کسی بھی تشکیل کی صلاحیت کو محدود کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

 

لیکن اس راستے کی کامیابی اہم تفاصیل پر منحصر ہے: احکامات جاری کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ یونٹوں کی تنظیم کیسے کی جائے؟ قیادتوں کا کیا انجام ہوگا؟ اور ایک متحد قانونی فریم ورک کے تحت جنگجوؤں کے حقوق کی ضمانت کیسے دی جائے گی؟

 

چنانچہ اسلحے کو محدود کرنا محض ناموں کی تبدیلی یا تشکیلات کی ازسرِ نو تقسیم سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ عسکری فیصلے کی خودمختاری کا خاتمہ کرنے سے ہوتا ہے، تاکہ ریاستی اداروں سے باہر کوئی بھی ایسی مسلح قوت موجود نہ رہے جو جنگ و امن کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔

 

واشنگٹن اور تہران... دباؤ اور تصفیے کے درمیان

امریکہ کے نقطہ نظر سے، دھڑوں کے حملوں کا رکنا ایک براہِ راست سیکیورٹی فائدہ فراہم کرتا ہے، جو کہ امریکہ کی افواج اور مفادات کے لیے خطرے کو کم کرنے کی صورت میں ہے۔ لیکن اگر التوائے جنگ کی قبولیت کی باضابطہ تصدیق ہو بھی جائے، تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ واشنگٹن ایران سے وابستہ دھڑوں کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے اپنے ہدف سے دستبردار ہو گیا ہے۔ اور اس تناظر میں التوائے جنگ، جوابی کارروائیوں کے چکر کو جاری رکھنے کے بجائے، سیاسی راستے کو موقع دینے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے۔

 

جہاں تک ایران کا تعلق ہے، تو وہ عراق کے اندر اپنے اثر و رسوخ پر پڑنے والے اثرات کے اپنے تخمینے کے مطابق، تصفیے میں ایک رکاوٹ بننے والا یا معاون عنصر ہو سکتا ہے۔ اگر وہ یہ دیکھتا ہے کہ اسلحے کی ازسرِ نو تنظیم کا مطلب اس سے وابستہ سیاسی قوتوں کی بے دخلی نہیں ہے، تو وہ ایک تدریجی منتقلی کی حمایت میں اپنا مفاد دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس منصوبے کو اپنے اثر و رسوخ کا براہِ راست نشانہ سمجھے، تو کچھ دھڑوں کے مواقف زیادہ سخت ہو سکتے ہیں۔

 

نوّے (90) دن... ریاست کے امتحان کی شروعات

موجودہ علاقائی اور اندرونی حالات زیادہ سنجیدہ انداز میں اسلحے کے معاملے کو دوبارہ کھولنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ موقع محض التوائے جنگ کا اعلان کرنے سے کسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوگا، بلکہ اس کا انحصار حکومت کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ اسے قابلِ عمل سمجھوتوں اور پھر ایک حقیقی ادارہ جاتی ازسرِ نو تنظیم میں منتقل کر سکے۔

 

چنانچہ اگر حکومت پرسکون ماحول کو برقرار رکھنے، باہمی ضمانتیں قائم کرنے، اور مسلح تشکیلات کو قانون کی حکمرانی کے تابع بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو اسلحے کو محدود کرنے کا عمل ریاست کی ازسرِ نو تعمیر کا ایک ابتدائی باب بن سکتا ہے۔ لیکن اگر التوائے جنگ پہلی ہی آزمائش پر دم توڑ دیتا ہے، یا یہ منصوبہ حکومت اور دھڑوں کے درمیان ایک کھلے تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو عراق تنازع کے اسی دائرے میں محصور رہ سکتا ہے جس سے نکلنے کی وہ سالہا سال سے کوشش کر رہا ہے۔

 

Last modified onمنگل, 06 اکتوبر 2026 05:29

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.