Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 متفرقات الرایہ – شمارہ 619

 

صفحہ اول کی سرخی:

اے امتِ محمد ﷺ! ہمارا دین اور ہماری اسلامی تاریخ کتنی خوبصورت ہے؛ پھر ہم یہ کیسے قبول کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو اپنے ہی ملکوں میں امن اور عزتِ نفس میسر نہ ہو، خواہ وہ مہاجر ہوں، پناہ گزین ہوں یا مقیم؟ ہم مسلم دنیا کے موجودہ حکمرانوں کے ظلم، بے حسی، بخل، لاپروائی اور تعصب کے سامنے کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ کیا وہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم انہیں اقتدار سے باہر پھینک دیں اور ان کی ظالمانہ ریاستوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں، اور ان کی جگہ عدل و رحم کی حامل نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم کریں؟

===

صفحہ اول کے لیے:

 عراق حکومت کے وعدے محض ایک سراب ہیں!

امریکہ کی جانب سے علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بنانے پر اصرار، اس کی حمایت، اور فریم ورک  کے نامزد کردہ امیدوار نوری المالکی کو رد کرنے اور معاشی پابندیوں کی دھمکی دینے کے بعد—جب امریکہ کا مقصد من وعن پورا ہو گیا—تو اس نے موصوف کا امیج بہتر بنانے اور عراقی عوام کو یہ باور کرانے کے لیے متعدد اقدامات کیے کہ وہی اس وقت کے بہترین رہنما ہے جو عراق کو بحرانوں سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں اسے واشنگٹن دعوت دی گئی تاکہ وہ عراقی معیشت کے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کرے، جس کی شروعات اس نے بدعنوان عناصر کے احتساب کی مہم سے کی۔ اس کے میڈیا آفس نے الجزیرہ کے نقل کردہ ایک بیان میں بتایا کہ: "عراق اور امریکہ کے سرکاری و نجی شعبوں کی جانب سے مجموعی طور پر 48 مفاہمتی یادداشتوں، تعاون کے معاہدوں اور شراکت داری کے اعلامیوں پر دستخط کیے گئے۔" بیان میں مزید کہا گیا کہ: "ان معاہدوں میں وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ بجلی کا ایکسائل موبل، کے بی آر (KBR)، جی ای ورنووا (GE Vernova)، شیل اور ہیلی برٹن (Halliburton) جیسی کمپنیوں کے ساتھ تعاون اور شراکت داری شامل ہے، اس کے علاوہ عراق اور شام کے درمیان خام تیل کی پائپ لائن بچھانے سے متعلق متعدد سودے بھی شامل ہیں۔" ان تمام امور کے لیے شرط عائد کی گئی کہ ایران نواز عراقی مسلح گروہوں کا اسلحہ 30 ستمبر 2026ء تک لازمی طور پر جمع کرا لیا جائے، تاکہ یہ عمل عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے ہم آہنگ ہو سکے۔

 

دوسری طرف، ولایہ عراق میں حزب التحریر کے میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز میں کہا: لیکن عملی صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ عراق کو دوبارہ تعمیر کرنے اور اسے ایک مستحکم و باخودمختار ریاست بنانے کے وعدے جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ امریکہ صرف اپنے مفاد کو جانتا ہے اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ دیگر ممالک کس تباہی کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ خلیجی ممالک امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ میں اس کی جی حضوری کی قیمت چکا رہے ہیں، لیکن امریکہ ان کی حفاظت یا دفاع کے لیے کچھ نہیں کر رہا، حالانکہ خلیجی ممالک جس مصیبت کو جھیل رہے ہیں وہ خود امریکہ کی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے!

 

بیان میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا گیا: اس تمام شور و غوغا اور جھوٹے وعدوں کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ عراق کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ احتیاج، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ناپائیدار ہو گئی ہے۔ ہر ماہ ریاست ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے بحران میں مبتلا ہوتی ہے، کبھی کھانا پکانے کی گیس کا بحران کھڑا ہوتا ہے تو کبھی گاڑیوں کے ایندھن کا... آخر وہ کس پرآسائش زندگی کا وعدہ تم سے کر رہے ہیں؟!

 

بیان میں سوال اٹھایا گیا: کیا اب بھی تمہارے لیے بے ہوشی کی نیند اور وہم و سراب کے پیچھے بھاگنا کافی نہیں ہوا؟ کیا ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانا تمہارے لیے کافی نہیں، حالانکہ تم رسول اللہ ﷺ کی یہ تنبیہ اچھی طرح جانتے ہو:«لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ» "مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا"؟!

 

کیا تمہیں ابھی تک یہ احساس نہیں ہوا کہ تمہاری نجات اور حالات کی اصلاح تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے، نہ کہ تمہارے دشمنوں کے ہاتھوں؟!تم تو وہ امت ہو جس کے پاس زندگی کا وہ عظیم ترین نظام موجود ہے جسے بندوں کے رب نے فرض کیا ہے اور تمہیں اسے زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہی تمہاری عزت اور شرف کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:﴿لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ "ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر (اور عزت) ہے، کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" (سورۃ الانبیاء:آیت 10)

 

اور اللہ تعالی نے اس سے منہ موڑنے پر تنگ زندگی کی خبر دیتے ہوئے خبردار فرمایا:﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ "اور جو میرے ذکر (ہدایت) سے منہ موڑے گا، اس کے لیے زندگی تنگ کر دی جائے گی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔" (سورۃ طٰہٰ:آیت 124)

 

ولایہ عراق میں حزب التحریر کے میڈیا آفس نے پریس ریلیز کا اختتام مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کیا کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت کی حکمرانی کے لیے سچے دل اور سنجیدگی سے جدوجہد کریں—یہ وہ دعوت ہے جس کی طرف حزب التحریر تمہیں مسلسل بلا رہا ہے، تو کیا کوئی لبیک کہنے والا ہے؟!﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا للهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے۔" (سورۃ الانفال:آیت 24)

 

===

بنیادی اداریے کے تحت:

حزب التحریر نے اس بنیادی بیماری اور مصیبت کے اصل سبب کو سمجھ لیا ہے جس میں امتِ مسلمہ مبتلا ہے

حزب التحریر نے ہماری امت کی بنیادی بیماری اور آفت کی اصل وجہ کا گہرا ادراک کر لیا ہے؛ اسی لیے اس نے اسلامی آئیڈیالوجی کو اپنے جسم کی روح، اپنا مرکز اور اپنی زندگی کا راز بنایا ہے۔ اس نے امتِ مسلمہ کو بیدار کرنے اور اسے کفریہ افکار، ان کے قوانین اور ان کے نظاموں سے آزاد کرانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حزب التحریر خلافتِ راشدہ کی ریاست کو دوبارہ قائم کرنے، مسلمانوں کو متحد کرنے اور انہیں ان کے ربانی مبدأ (آئیڈیالوجی) کو اٹھانے کی ترغیب دینے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے،وہ مبدأ جو بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر رب العباد کی عبادت کی طرف لائے گا، اور اس امت کو وہ کھوئی ہوئی عزت دوبارہ لٹائے گا جو اس کی ریاست اور نگہبان کے غائب ہونے سے چھن گئی تھی۔

 

آج امت میں کسی چیز کی کمی نہیں سوائے پختہ عزم و ارادے، مضبوط سہارے  کو تھامنے، اور صرف ایک اللہ پر کامل بھروسا کرنے کی جس کا کوئی شریک نہیں، کیونکہ وہی نصرت دینے والا ہے۔ پس اے مسلمانو! آگے بڑھو، اے صاحبِ قوت و شوکت لوگو! شتابی کرو، حزب التحریر کے ساتھ مل کر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کی دعوت اور جدوجہد میں شامل ہو جاؤ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:﴿وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلّاً وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ "اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ ان لوگوں سے بہت بڑا ہے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور قتال کیا، اور اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔" (سورۃ الحدید:آیت 10)

 

===

 

اہم خبر:

حزب التحریر / ولایہ سوڈان کے وفود کی سوڈان کی نامور شخصیتوں اور معززین سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری

ہفتہ 19 ستمبر 2026ء کو حزب التحریر / ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے، استاد ناصر رضا (سربراہ مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر ولایہ سوڈان) کی قیادت میں، جن کے ہمراہ ولایہ سوڈان کے مجلسِ حزب کے اراکین استاد محی الدین بخاری اور ڈاکٹر احمد عبد الفضیل، نیز پارٹی اراکین استاد خالد الجضیع، استاد فضل اللہ علی سلیمان اور استاد عبد الوہاب محمد عبد الوہاب شامل تھے—پہلی ملاقات دار حمر کے قبیلوں کی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ استاد عبد الحی صافی الدین ناجح سے الخرطوم بحری کے علاقے 'کوبر' میں واقع ان کی رہائش گاہ پر کی۔

ملاقات کے آغاز میں استاد عبد الحی نے سوڈان میں جاری جنگ، ریاست و معاشرے پر اس کے ہولناک اثرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی پر بات کی۔ اس کے بعد استاد ناصر نے گفتگو کرتے ہوئے اس تیار کردہ خطرناک منصوبے کی نشاندہی کی جس کا مقصد قبائل کو مسلح کر کے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا اور ملک کو پارہ پارہ کرنے والی جنگوں میں دھکیلنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا واحد حل کافر استعمار کے منصوبوں کا ادراک اور اسلامی ریاست یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد ہے۔ استاد عبد الحی نے اس بات کی توثیق کی کہ عقیدہ و شریعت کے طور پر اسلام کے سوا کوئی حل نہیں، اور پھر انہوں نے وفد کا آمد پر شکریہ ادا کیا۔

 

دوسری ملاقات میں وفد نے الخرطوم میں کواہلہ قبیلے کے امیر استاد محمد الزین فضل المولیٰ ابو حفص سے ام درمان شہر کے علاقے 'الثورہ' میں واقع ان کے مکان پر ملاقات کی۔ ملاقات کے آغاز میں امیر کواہلہ نے سوڈان کی جنگ اور 'ریپڈ سپورٹ فورسز' (الدعم السريع) کے مظالم اور لوٹ مار کا ذکر کیا، اور کہا کہ اس کی اصل وجہ لوگوں کا اسلام سے دور ہونا ہے۔ اس کے بعد استاد ناصر نے بتایا کہ یہ جنگ باہر سے چلائی جا رہی ہے، اور انہوں نے قبائل کو لسانی و قبیلے کی بنیاد پر مسلح کرنے کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا کہ یہ کافر استعمار کے انہی مقاصد کو پورا کرتا ہے جو ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نجات صرف اسلام میں یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہے، اور امیر سے خلافت کے منصوبے کی نصرت کی درخواست کی۔ اس پر امیر نے کہا: "جب تک تم اسلام کے ساتھ ہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔"

 

اور اتوار 20 ستمبر 2026ء کو استاد ناصر رضا کی قیادت میں—جن کے ہمراہ ولایہ سوڈان کی مجلسِ حزب کے رکن استاد محی الدین بخاری تھے—وفد نے جموعیہ قبیلے کے سربراہ المك غانم الطیب محمد ناصر سے ام درمان کے علاقے الثورہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ گفتگو کے آغاز میں المك غانم نے سوڈان کی جنگ اور اس کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنگ کے آغاز ہی سے انہوں نے قبیلے کو سیاسی کشمکش سے دور رکھا ہے اور فوج کے گرد متحد رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ فوج ہی ملک کو تفرقے سے بچا سکتی ہے۔ اس کے بعد استاد ناصر نے گفتگو کی اور قبائل کو مسلح کر کے خانگی جنگوں میں جھونکنے کے منصوبے کی سنگینی کو واضح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم حزب التحریر میں كردفان، دارفور اور مشرقی سوڈان سے لے کر تمام قبائلی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد بھی آپ کی خدمت میں کافر کے منصوبوں کی حقیقت کو آشکار کرنا اور اسلامی عقیدے کو مضبوطی سے تھام کر اسے ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ قبیلہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے منصوبے کا ساتھ دے، کیونکہ خلافت ہی تمام مسائل کا حل ہے اور اس کا قیام ہم سب پر شرعی فرض ہے۔ المك غانم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اسلام اور شریعت کے نفاذ کے مکمل حامی ہیں۔

 

اسی طرح پیر 21 ستمبر 2026ء کو استاد ناصر رضا کی قیادت میں—جن کے ہمراہ مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن استاد عبد اللہ حسین اور حزب التحریر کے رکن انجینئر عوض الهادی تھے—وفد نے قومی انتظامیہ اور اسلامی تحریک کے رہنما اور سابق رکنِ پارلیمنٹ شیخ عبد الرحیم عیسیٰ سے ام درمان کے علاقے 'مدينة النيل' میں واقع ان کے مکان پر ملاقات کی۔ ملاقات میں استعماری طاقتوں، بالخصوص امریکہ کے اسلامی ممالک کی تقسیم در تقسیم کے منصوبے اور بالخصوص سوڈان کو توڑنے کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ امریکہ اپنے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے، جس کی شروعات جنوبی سوڈان کی علیحدگی سے ہوئی اور اب دارفور کو الگ کرنے پر کام جاری ہے۔ اس کے لیے جنگ کی آگ بھڑکائی گئی، قبائل کو مسلح کیا گیا، قبائلی ملیشیا تشکیل دی گئیں اور نسل پرستی کو ہوا دی گئی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائل کا رخ امت کی وحدت کے منصوبے یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کی طرف موڑ کر مغربی منصوبوں کا راستہ روکا جائے، جو کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا وعدہ اور نبی کریم ﷺ کی بشارت ہے۔ شیخ عبد الرحیم عیسیٰ نے سوڈان کی سالمیت پر زور دیا اور واضح کیا کہ ملک کی تقسیم کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور وہ خلافت کے سایہ تلے مسلمانوں کے اتحاد و یگانگت کے حامی ہیں۔

 

===

 

 یہودیوں کی جارحیت کی محض مذمت یا تشریح ان کے عزائم کو نہیں روک سکتی

یہودی وجود  کے ایک السر کی مانند پھیلنے اور علاقے میں فساد برپا کرنے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی ماہر یا تجزئیہ نگار کی ضرورت نہیں، یہ اتنی روشن حقیقت ہے جو ہر آنکھ دیکھ سکتی ہے اور ہر عقل سمجھ سکتی ہے۔ اس خطے کو اپنے اوپر ٹوٹنے والی آفت کی تشخیص کی نہیں، بلکہ ایک ایسے عمل کی ضرورت ہے جو یہودیوں کے جرائم اور ہوس کا خاتمہ کرے اور علاقے کو ان کے شر سے پاک کرے۔

 

یہودیوں کی جارحیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، ان کا تکبر تمام حدیں پار کر چکا ہے، ان کے مظالم فلک بوس ہو چکے ہیں اور ان کے توسیعی عزائم بالکل بے نقاب ہیں۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں جو پریس کانفرنسوں یا سفارتی حل سے طے ہو سکے، بلکہ اس سرطانی وجود سے نجات حاصل کرنے کے لیے عملی اور سنجیدہ اقدام کی ضرورت ہے۔ اس عظیم شرف کے سب سے زیادہ حقدار شام کے وہ مجاہدین ہیں جنہوں نے اپنی ایمانی عزیمت سے شام کے طاغوت کا تختہ الٹ دیا، اور سلطان عبد الحمید ثانی، محمد فاتح اور سلیمان قانونی جیسے عثمانی خلفاء کی اولادیں اور ان کے جانشین ہیں جنہوں نے صدیوں تک اسلامی قلمرو اور مسلمانوں کے دیار کا تحفظ کیا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ﴾. "اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔" (سورۃ التوبہ:آیت 38)

 

===

 

 اسلام میں ریاست نہ تو سول ہوتی ہے نہ فوجی، بلکہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوتی ہے

مصری اخبار 'الشروق' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو اتوار 13 ستمبر 2026ء کو شائع ہوا، سوڈانی مسلح افواج کے نائب سپہ سالار اور چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ياسر العطا سے پوچھے گئے سوالات میں سے ایک یہ تھا: "(سیاسی منظرنامے کی موجودہ پیش رفت بالخصوص قومی ڈائیلاگ کے پیش نظر فوجی ادارے کا مستقبل کیا ہے؟)"۔ اپنے جواب میں جنرل ياسر نے کہا: "(... فوج کی قیادت میں ایک گروہ کی رائے ہے کہ پہلے دور میں چیف آف آرمی اسٹاف ہی سربراہِ مملکت ہو، اور الیکشن جیتنے والی سیاسی جماعتیں انتظامی امور سنبھالیں، جبکہ اگلے دور میں آرمی چیف ریٹائر ہو کر انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔ تاہم میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کمانڈر ان چیف خواہ کوئی بھی ہو، وہی سربراہِ مملکت رہے اور برلمانی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے پاس مکمل انتظامی اختیارات ہوں)۔"

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے سرکاری ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) کے ایک پریس سٹیٹمنٹ میں کہا گیا: درکار چیز کوئی سوڈانی یا قومی ڈائیلاگ نہیں ہے جو مغرب کے باطل اور من گھڑت نظاموں کے چرخے کو دوبارہ گھما کر ہمیں ذلت، رسوائی اور کافر استعماری مغرب کی غلامی میں دھکیل دے؛ بلکہ اے جنرل! آپ سے مطلوبہ قدم یہ ہے کہ آپ حزب التحریر کو نصرت (عسکری مدد) فراہم کریں، جس نے خلافتِ راشدہ کی ریاست کے لیے 191 دفعات پر مشتمل ایک مکمل آئین تیار کر رکھا ہے—جو اللہ تعالی کی کتاب، اس کے رسول ﷺ کی سنت، اور ان سے ماخوذ اجماعِ صحابہ اور قياسِ شرعی پر مبنی ہے—اور جس نے ایسے رجالِ کار تیار کیے ہیں جو امت کی قيادت کرنے، اللہ کی شریعت کے مطابق اس کے امور چلانے اور ہمارے ملکوں اور پوری دنیا سے کافر استعمار کا اثر و رسوخ اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

===

کون ہے جو اس عظیم مرتبے و شرف کو حاصل کرنے کی رغبت رکھتا ہے؟

اے پاکستان کے فوجیو! تمہاری قیادت غزہ، کشمیر یا برما کے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر تمہیں کفار کے خلاف جنگ کے لیے بھیجنے کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتی، لیکن جب معاملہ مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کا ہو تو وہ تمہیں چند ہی دنوں میں تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کر کے روانہ کر دیتی ہے! حالانکہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطے میں امریکہ کے بچے کچھے فوجی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، جس کا سب سے بڑا مرکز خود یہودی وجود  ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق کفار سے قتال کرنے کے بجائے، تمہاری قیادت واشنگٹن میں اپنے آقا کو خوش کرنے کے لیے ٹرمپ کے بیٹوں کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے میں مصروف ہے! اور حجاز کی مقدس سرزمین کو آلِ سعود کے خائن حکمرانوں کی ناپاکی سے پاک کرنے کے بجائے، وہ ان خائن ایجنٹوں کے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے تمہیں قربان کرنے پر تلی ہوئی ہے! اور بجائے اس کے کہ یہ حکمران ایران کے ساتھ مل کر امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف جنگ میں تمہیں استعمال کرتے، وہ اس کے برعکس مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد کی آگ پر تیل چھڑکنے میں لگے ہوئے ہیں!

 

یہ ایک ایسی قیادت ہوگی جو مشرق میں انڈونیشیا کے جزائر سے لے کر مغرب میں مراکش تک تمام سمندروں سے امریکی اثر و رسوخ کو اکھاڑ پھینکے گی، امتِ مسلمہ کو ایک ہی وجود میں متحد کرے گی، اور امریکی عالمی نظام کا خاتمہ کر دے گی۔ تو کون ہے جو اس عظیم الشان مقام و مرتبے کو حاصل کرنے کا شرف چاہتا ہے؟

 

 

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ "اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔" (سورۃ آل عمران: 133)

 

===

عوام جس ظلم و غربت کا شکار ہیں وہ مایوسی کا پیغام نہیں ہے

عوام کی اصل جنگ محض غربت سے نہیں، بلکہ اس پورے ظالمانہ نظام سے ہے جو غربت کو دائمی، جہالت کو مسلسل، خوف کو مقدس اور اقتدار کو جواب دہی سے بالاتر بناتا ہے۔ باوقار زندگی کا آغاز صرف اس وقت نہیں ہوتا جب انسان گلی کوچوں میں آواز اٹھاتا ہے، بلکہ وہ اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وہ اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ ظلم کی اطاعت واجب ہے، خاموشی عبادت ہے، غربت ایک ایسا مقدر ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، حکمران سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا، اور انسان کے پاس صبر اور دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں!

 

ان تمام باتوں کے باوجود، قوموں کو اپنے ارد گرد کے سیاسی و معاشی حالات کے اسباب تلاش کرتے ہوئے اس سے بھی بڑے اصل سبب کو نہیں بھولنا چاہیے: یعنی اللہ تعالی سے ان کا تعلق اور زندگی میں اس کا عطا کردہ طریقہ کار۔ عوام جس ظلم، بدعنوانی، فقر اور افراط و تفریط کا شکار ہیں، وہ مایوسی کی دعوت نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مظلوم و غریب اپنے حصے کے ظلم کا خود ذمہ دار ہے۔ لیکن امت کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور سچائی سے پوچھنا چاہیے: ہماری زندگیوں میں اللہ کے احکامات، معاملات اور اخلاق کا کتنا حصہ باقی بچا ہے؟!

 

اللہ کی طرف لوٹنے کا مطلب ظالم کے سامنے سر جھکانا نہیں، بلکہ ظلم کو اس لیے مسترد کرنا ہے کہ اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے، امانت کو اس لیے ادا کرنا ہے کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے، اور کلمہٴ حق اس لیے کہنا ہے کہ اللہ نے حق کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ پس اگر عوام اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنے شعور کو بیدار کرنا ہوگا، مغرب کے تمام وضع کردہ قوانین و آئین کو مسترد کرنا ہوگا، اور اس گندی جمہوریت کو خیرباد کہنا ہوگا جس نے اس فاسد اور تلخ حقیقت کو جنم دیا ہے۔ اور انہیں اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز  کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی جس میں ان کی عزت اور نجات مضمر ہے۔

 

===

 

چین میں قتیبہ بن مسلم کی تاریخ کون دہرائے گا؟

اے مسلمانو! تمہارے حکمران مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کی ہرگز مدد نہیں کریں گے، بلکہ وہ شی چن پنگ اور اس کی زیرِ قیادت شریر کمیونسٹ پارٹی کے مظالم پر پردہ ڈال رہے ہیں، تاکہ وہ امریکی معاشی استعمار کے ساتھ ساتھ چینی معاشی استعمار کو بھی ہمارے ملکوں میں مضبوط کر سکیں۔ انہوں نے تمہاری منڈیاں اور وسائل چینی کمپنیوں کے لیے کھول دیے ہیں، اور چینی بنکوں سے سود کے بوجھ تلے دبے ہوئے قرضے حاصل کیے ہیں۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض حکمران چین کی ان ایغور مسلمانوں کی سرکوبی میں مدد کر رہے ہیں جو اپنی جان بچا کر ان کے ملکوں میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ وہ یہ سب کچھ اس کے باوجود کر رہے ہیں کہ امتِ مسلمہ کے پاس چینی صنعت کی شریانیں ہیں؛ کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر پر اسی کا کنٹرول ہے، اور ان تمام سمندری گزرگاہوں پر بھی جہاں سے چینی تیل کے جہاز گزرتے ہیں۔ حالانکہ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان، ترکی اور مصر کی بحری افواج چین کی مکمل معاشی ناکہ بندی کر سکتی ہیں، جبکہ بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان اور ایران کی زمینی افواج چین کے زمینی راستے کاٹ سکتی ہیں۔

 

 

اے مسلمانو! ہماری ڈھال یعنی خلافت کی واپسی ہی واحد ذریعہ ہے جو چین کو تمہارے اور اسلام کے خلاف اپنی جنگ ختم کرنے پر مجبور کرے گی، اور اس وقت چین کے حکمرانوں کو مغربی ترکستان میں سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کا کارنامہ یاد آئے گا۔ 87 ہجری میں قتیبہ نے بخارا کے قریب واقع شہر 'بیکند' میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے اکسائے جانے کو ختم کرنے کے لیے قتال کیا۔ اور دوپہر ہوتے ہوتے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار فرمایا۔ اس کے بعد چین کے حکمران مشرقی ترکستان میں قتیبہ کا جاہ و جلال دیکھیں گے؛ ابن کثیر نے بھی روایت کی ہے کہ کس طرح قتیبہ نے ان کے اسلاف کو مطیع کیا تھا، وہ لکھتے ہیں: "پھر معاملہ اس بات پر طے ہوا کہ اس (چینی بادشاہ) نے سونے کے کشادہ برتن بھیجے جن میں اپنے علاقے کی مٹی بھری تھی تاکہ قتیبہ اس پر قدم رکھیں، اور اپنے بیٹوں اور شاہی خاندان کے شہزادوں کا ایک گروہ بھیجا تاکہ قتیبہ ان کی گردنوں پر مہر لگائیں، اور ایک کثیر مال بھیجا تاکہ قتیبہ اپنی قسم پوری کر سکیں۔"

 

اے امتِ مسلمہ کی افواج! ان حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دو جو کفار کے سامنے بزدل اور اپنی امت کے سامنے جابر بنے ہوئے ہیں، اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرو۔

 

===

 

 

Last modified onمنگل, 06 اکتوبر 2026 05:12

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.