Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان کے حکمرانوں کو شیطان امریکہ کے لیے ثالثی کرنے کی بجائے مسلم سرزمین کے دفاع کے لیے لڑنا چاہیے

 

خبر:

18 اپریل 2026 کو، پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم نے الگ الگ سفارتی دورے مکمل کیے جن کا مقصد امریکہ ایران تنازع کے خاتمے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران سے روانہ ہوئے اور وزیر اعظم شہباز شریف ترکی سے واپس آئے۔ منیر نے تہران کے تین روزہ دورے کے دوران ایرانی قیادت اور امن مذاکرات کاروں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کیا۔ [1]

تبصرہ:

          ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت سفارتی محاذ پر جارحانہ انداز میں مصروفِ عمل ہو گئی تھی۔ یہ سفارتی مصروفیت اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں بدل گئی جب 7 اپریل 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ جاری کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر ایران جاری جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچا تو "آج رات پوری تہذیب مر جائے گی۔"

 

          8 اپریل 2026 کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4:50 بجے، پاکستان کے وزیر اعظم نے X (ایکس)پر اعلان کیا، "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ، لبنان اور دیگر جگہوں سمیت، فوری طور پر فائر بندی پر اتفاق کیا ہے۔" اس اعلان کے بعد 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے اختتام پر نائب امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ہم ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں لیکن ہم نے اپنی حتمی پیشکش کر دی ہے۔ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی 21 اپریل تک برقرار رہے گی۔ لہٰذا پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے امن معاہدہ کرانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

 

          پاکستان میں حکومت اپنی کوششوں کی تصویر کشی ایسی کر رہی ہے کہ گویا وہ ایران کے مسلمانوں اور پوری دنیا کو اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی پاکستان کا قد بھی بلند کر رہی ہے۔

تاہم، پاکستان کی حکومت دراصل امریکہ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اس جنگ کے متعلق ٹرمپ کا خیال تھا کہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ ایران نے نہ صرف امریکہ اور اس کے حامی یہودی وجود کے ابتدائی شدید وحشیانہ حملوں کو برداشت کیا بلکہ اُس نے منہ توڑ جواب دیا۔ اور ان منہ توڑ جواب سے بڑھ کر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے ۔

 

امریکہ پوری کوشش کے باوجود آبنائے ہرمز نہ کھول سکا کیونکہ اس کے اتحادی نیٹو نے اسے مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا اور ہرمز کھولنے میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں ۔ چنانچہ جب 38 دن کی بمباری اور دھمکیوں کے بعد بھی امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو وہ جنگ بندی پر آمادہ ہوگیا اور اب مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے جو وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کرسکا۔ اس گھمبیراور پریشان کُن صورتحال  سے امریکہ کو نکالنےکے لیے ایک بار پھر پاکستان کے حکمرانوں نے واشنگٹن میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے سامنے اپنی خدمات پیش کر دیں۔

 

یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کو اپنی خدمات پیش کی ہوں، جب امریکہ کو مدد کی اشد ضرورت تھی۔ پاکستان کی طرف سے اس طرح کی مدد کے بہت سے واقعات ہیں اور ہر ایسی اہم مدد کے بعد پاکستان کو ہمیشہ امریکہ نے تنہا چھوڑ دیا۔ پاکستان کی طرف سے ایسی ہی ایک مدد جولائی 1971 میں کی گئی تھی جب امریکہ نے پاکستان کی مدد سے چین کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ اس وقت کمیونسٹ بلاک کے پاس دو بہت بڑے ممالک سوویت یونین (موجودہ روس) اور چین تھے ۔ بین الاقوامی میدان میں، چین نے امریکہ کی سربراہی میں سرمایہ دارانہ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے سوویت یونین کی پالیسیوں کی پیروی کرتا تھا ۔ امریکہ چین کو سوویت یونین سے الگ کرنے کے لیے بے چین تھا، لیکن اس کے چین کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات بھی نہیں تھے جو اسے چین کو سوویت یونین کے دائرے سے دور کرنے میں مدد دیتے۔ جولائی 1971 میں، امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے چین کا ایک خفیہ، اہم دورہ کیا، جس کے لیے پاکستان نے سہولت فراہم کی، جس سے امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔ پاکستان کو بیک چینل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اور راولپنڈی سے بیجنگ کے لیے پی آئی اے کے طیارے کا استعمال کرتے ہوئے، اس 64 گھنٹے کے مشن نے صدر نکسن کے 1972 کے دورے کی بنیاد رکھی اور آخر کار امریکہ چین کو سوویت یونین سے الگ ہونے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگیا جس سے کمیونسٹ بلاک کمزور ہوگیا۔

 

          پاکستان کو امریکہ کی اس "عظیم" خدمات کاکیا انعام ملا؟ دسمبر 1971 میں جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور بالآخر پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔ امریکہ کی خدمت کر کے پاکستان کو کتنا بڑا فائدہ ہوا۔

 

          1960 کی دہائی میں جنرل ایوب خان، 1970 میں جنرل یحییٰ خان، 1980 کی دہائی میں جنرل ضیاء اور 2000 میں جنرل مشرف، ان سب حکمرانوں نے امریکہ کی مدد کی اور اپنے آقا، امریکہ سے ’’زبردست‘‘ تعریفیں حاصل کیں، لیکن جب کچھ عرصے کے بعد یہ حکمران اور پاکستان امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف کے حصول کے لیے غیر متعلق ہوگئے تو امریکہ نے ان حکمرانوں اور پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ۔ اسی صورتحال اور انجام کا سامنا منیر، شہباز اور پاکستان کریں گے۔ کیا پاکستان کے حکمران طبقے اور پالیسی ساز حلقوں میں ایسے باشعور لوگ نہیں ہیں جو دیوار پر لکھا ہوا دیکھ سکیں؟

 

          اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں امریکہ کے سانپ کا سر کاٹ کر اسے اپنے خطے سے نکال باہر کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، اگر آج افواج میں موجود مخلص افسران خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنا فوجی تعاون (نصرہ) دیں۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ اگر صرف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہی شیطان کی بادشاہت اور اس کے بین الاقوامی نظام کو جھنجھوڑ سکتی ہے تو پھر اُس وقت کیا ہوگا جب خلافت انڈونیشیا اور ملائیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا سے لے کر مصر کی نہر سویز تک پانی کے تمام راستوں کو کنٹرول کر رہی ہو گی۔ نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام اور امت مسلمہ کو ایک خلیفہ کے تحت یکجا کرنے کے بعد، ہم، امت اسلامیہ، دنیا کے معاملات پر غلبہ پانے والی واحد طاقت ہو گی، جوانسانیت کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مصائب سے نجات دلائے گی اور ہر ایک کو امن و خوشحالی فراہم کرے گی ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

،یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ"

اے ایمان والو اگر تم اللہ کے کی مدد کرو گے تواللہ تمہاری مدد کرے گا،اور تمہارے قدم جمادے گا۔ "(محمد:7)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے ولایہ پاکستان سے شہزاد شیخ نے تحریر کیا

 

https://www.aljazeera.com/news/2026/4/18/pakistan-pm-army-chief-wrap-up-key-trips-in-push-for-more-us-iran-talks

Last modified onجمعرات, 23 اپریل 2026 14:59

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.