Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال و جواب

 

 

قرآن کی تفسیر کے مصادر اور ماخذ!

(عربی سے ترجمہ)

 

سعیدي علی کے لئے

========================

 

سوال:

شروع اللہ کے نام سے، اور اللہ کے رسول ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، آپ ﷺ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اور ان تمام لوگوں پر سلام اور رحمت و برکتیں نازل ہوں جو آپ ﷺ کی پیروی پر استقامت سے قائم ہیں۔

ہمارے جلیل القدر شیخ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور امتِ مسلمہ کے لئے آپ جو بھی خیر اور بھلائی کا کام کر رہے ہیں، اس میں آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ کی یہ جدوجہد اللہ کے وعدے کے پورا ہونے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کے مطابق فتح اور اسلامی ریاست کے قیام کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

 

ہمارے محترم شیخ! کتاب "الشخصیۃ الاسلامیۃ" (جلد اول) کے صفحہ 296 پر ”تفسیر کے ماخذ“ کے عنوان کے تحت درج ذیل عبارت بیان ہوئی ہے :

 

أما ما نقل من تفسير عن الرسول ﷺ فإنه إن صح يعتبر جزءا من الحديث، ولا يعتبر تفسيرا، إذ يكون حينئذ نصا تشريعيا كالقرآن فلا يدخل في عداد التفسير

.

”جہاں تک رسول اللہ ﷺ سے منقول تفسیر کا تعلق ہے، تو اگر وہ صحیح ثابت ہو تو اسے حدیث کا حصہ سمجھا جائے گا، تفسیر نہیں۔ کیونکہ ایسی صورت میں وہ قرآن کی طرح ایک شرعی نص ہوگی، اس لئے اسے تفسیر کے شمار میں شامل نہیں کیا جائے گا“۔

 

کتاب کے صفحہ 296 پر جو بات لکھی گئی ہے، اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ حدیث کو تفسیر کے ماخذ میں سے ایک ماخذ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن صفحہ 301 پر جو بات بیان کی گئی ہے، وہ حدیث کو تفسیر کا حصہ ماننے کی نفی کرتی ہے ... اس لئے بظاہر دونوں باتیں ایک دوسرے سے متناقض اور متضاد محسوس ہوتی ہیں، اور اسی وجہ سے میرے لئے اس مسئلے کو سمجھنا مشکل ہوگیا ہے۔ لہٰذا براہِ کرم اس ابہام کو دور فرمائیں اور اس معاملے میں حقیقت کی وضاحت کر دیں کہ: کیا حدیث کو تفسیر شمار کیا جاتا ہے، یا حدیث کو تفسیر کے شمار میں شامل نہیں کیا جاتا؟

اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

آپ کا بھائی،

علی السعیدي – تیونس

---

 

جواب:

 

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

میرے بھائی! کتاب ”الشخصیۃ الإسلامیۃ“ کی جلد اول کے صفحہ 360 پر ”تفسیر کے مآخذ“ کے عنوان کے تحت جو کچھ بیان ہوا ہے، اور اسی کتاب کے صفحہ 366 پر ”آج کے دور میں امت کو مفسرین کی ضرورت“ کے عنوان کے تحت جو کچھ بیان ہوا ہے، ان دونوں مقامات کا غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے مابین کوئی تعارض یا تضاد نہیں ہے، اور اس کی وضاحت کے لئے میں درج ذیل نکات بیان کرتا ہوں:

 

اول: ”تفسیر کے مآخذ“ کے تحت یہ بیان کیا گیا:

 

”تفسیر کے مصادر“ کی اصطلاح یعنی مآخذِ تفسیر کا مطلب یہ نہیں  کہ کسی مفسر نے قرآنِ کریم  کی تفسیر کے دوران کسی ذاتی زاویے اور انداز کو اپنایا  ہے، مثلاً توحید، فقہ، بلاغت، تاریخ وغیرہ۔ کیونکہ یہ چیز تفسیر کا ماخذ نہیں کہلاتی، بلکہ یہ تو وہ امور ہوتے ہیں جن کا اثر مفسر پر ظاہر ہوتا ہے،  تو وہ اپنی تفسیر میں اسی زاویے پر رہتا ہے۔ تفسیر کے مآخذ کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایسے حوالہ جات جہاں سے مفسرین اپنی تفسیر کو لیتے ہیں، اور پھر وہاں سے منقولہ باتوں کو اپنی تفسیر میں شامل کرتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ انہوں نے کس طرزِفکر یا کس زاویے اور انداز کو اپنایا  ہے۔ اگر ہم مصادر التفسیر پر غور کریں دیکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر تین ہی ماخذ ہیں:

 

-        وہ تفسیر جو رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔ مثلاً یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، »الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ« ”درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے“۔ ( ترمذی ) ...

 

-        تفسیر کا دوسرا ماخذ رائے ہے، جسے تفسیر میں اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفسر عربی زبان اور اس کے اندازِ بیان کو جانتا ہے، عربی الفاظ اور ان کے معنوں کو سمجھتا ہے، اور عربی الفاظ اور قبل اسلام کے اشعار (دور جاہلیت کے مشہور شعراء کے اشعار)، نثر (ایسا کلام جو شعر نہ ہو، یعنی عمومی کلام) اور دیگر لغت وغیرہ میں جانچتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی سمجھ کے مطابق آیات کے درست اسبابِ نزول(آیات کے نازل ہونے کے اسباب) کو بھی جانتاہے

...

-        تیسرے نمبر پر اسرائیلیات (بنی اسرائیل سے منسوب قصے کہانیوں) کا معاملہ ہے۔  دراصل اسلام میں کچھ یہودی اور عیسائی داخل ہوئے۔ ان میں سے بعض تورات وانجیل کے عالم تھے۔ ان یہودیوں میں سے اکثر ایسے لوگ اسلام میں آئے جو دل سے سچے نہ تھے، کیونکہ یہودیوں کے دلوں میں عیسائیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لئے زیادہ بغض وعداوت تھی۔ چنانچہ پھر ان عالموں کے ذریعے مسلمانوں میں بہت سی اسرائیلی روایات در  آئیں، جو تفسیر قرآن میں اس لئے داخل ہوئیں تاکہ آیات کی تشریح مکمل کی جاسکے...“

 

جیسا کہ آپ  نے مشاہدہ کیا کہ یہاں بحث مفسرین کے نزدیک تفسیر کے ماخذ کے بارے میں ہے، اور جیسا کہ اوپر بیان ہوا، وہ تین مآخذ ہیں۔

 

دوم: جہاں تک کتاب "الشخصیۃ الاسلامیۃ" جلد اول کے صفحہ 366 پر ”آج کے دور میں امت کو مفسرین کی ضرورت“ کے عنوان کے تحت بیان کردہ بات کا تعلق ہے، تو اس میں مفسرین کے ہاں ان ماخذ کی درست اور غلط صورتوں کے اعتبار سے حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ پہلا ماخذ، جسے وہ ”رسول اللہ ﷺ سے منقول تفسیر“ کہتے ہیں، حقیقت میں اسے تفسیر کہنا درست نہیں، بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں؛ کیونکہ تفسیر دراصل مفسر کا اجتہاد (شرعی استنباط) ہوتی ہے۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ سے منقول روایت کا تعلق ہے، تو وہ نہ تفسیر ہے اور نہ اجتہاد، بلکہ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے وحی کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے ... یہ بات اس باب کے آغاز ہی میں واضح کر دی گئی ہے، جہاں بیان کیا گیا ہے کہ :

 

”اس لئے ضروری ہے کہ ایک  ایسا انداز   ہو جو مسلمانوں کو، بلکہ غیر مسلموں کو بھی، تفسیر کو اس انداز سے پڑھنے میں رغبت اور شوق دلائے کہ یہ گہری اور روشن فکر کی کتاب ہے۔ علاوہ ازیں فلسفے کی کتابوں کے ترجمے ہونے اور ان سے متاثر ہونے کے بعد والے زمانے میں، اور اسی طرح صلیبی  جنگوں کے بعد مسلمانوں کے زوال کے دور میں، مفسرین جن راستوں پر  چلے ہیں، اس کے نتیجے میں ایسی تفاسیر وجود میں آئیں جن میں اسرائیلیات کے انبار کے ساتھ ساتھ تفسیر سے تعلق نہ رکھنے والی اور قرآن کی آیات سے  کوئی لگاؤ نہ رکھنے والی بحثوں کی طرف بہت زیادہ توجہ دی گئی۔ یہاں تک کہ یہ چیزیں مفسرین کے نزدیک تفسیر کا تیسرا ماخذ بن گئیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کی ایسی تفسیر ہو جو صحابۂ کرامؓ کی تفسیر کے طریقے پر  مرتب  کی جائے، یعنی قرآن کو سمجھنے میں  اجتہاد کیا جائے اور صحابہؓ سے منقول تفسیر سے مدد لی جائے۔  تاہم وہ تفسیر جو  رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے ، اگر وہ صحیح سند سے ثابت ہو تو اس کا شمار حدیث میں ہوگا، تفسیر میں نہیں۔ کیونکہ اس وقت وہ قرآن کی طرح ایک تشریعی نص ہوگی، اس لئے وہ تفسیر کے زمرے میں داخل  نہیں کہلائے گی“۔

 

اس باب کے تحت جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کا مقصد تفسیر کے بارے میں درست موقف کو واضح کرنا ہے، اور یہ وہی موقف ہے جس پر صحابہ کرامؓ قرآن کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے درست اجتہاد کے اعتبار سے قائم تھے۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ سے منقول روایات کا تعلق ہے، تو انہیں احادیث کے باب میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ اجتہاد کے باب میں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث، جو وحی کے ذریعے ہوتی ہے، اور صحابہ کرامؓ کا اجتہاد، جو اجتہاد کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے، دونوں کے درمیان فرق ہے۔

 

مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی ، اور اللہ ہی بہتر جاننے والاہے اور نہایت حکمت والا ہے۔

 

آپ کا بھائی،

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

04 ربیع الثانی 1448 ہجری

بمطابق 16 ستمبر، 2026 عیسوی

#أمير_حزب_التحرير

#Amir_of_Hizb_ut-Tahrir

 

 

Last modified onجمعرات, 08 اکتوبر 2026 19:43

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.