Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    1 من شـعبان 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/29
عیسوی تاریخ     منگل, 20 جنوری 2026 م

پریس ریلیز

 

طاغوتی بورڈ آف پیس میں شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت - اگر حکمرانوں نے ذلت کی ہر حد پار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو افواجِ پاکستان، پولیٹیکل میڈیم، علماء اور اہلِ اثر میں کوئی مخلص بندہ نہیں جو اس شرمناک عمل کو روک سکے؟

 

 

18 جنوری 2026 کو وزارتِ خارجہ کی ایک مختصر پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کو غزہ کے لیے مجوزہ 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ دیگر رپورٹوں کے مطابق ہندو ریاست کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ایسی ہی دعوت دی گئی ہے۔ یہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے مطابق وہی مجوزہ بورڈ ہے جو غزہ کے مسلمانوں پر صیہونی/امریکی مستقل قبضے کے تحت اس مقدس سرزمین کے تمام معاملات پر اپنا کنٹرول حاصل کرے گا۔ اس "بورڈ آف پیس" میں فرعون ٹرمپ کو ویٹو پاور حاصل ہوگا، جبکہ دیگر نامور صلیبی اور اسلام دشمن رہنما چن چن کر اس کی ایگزیکٹو بورڈ میں شامل کئے گئے ہیں، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو، ٹرمپ کا داماد جیرڈ کشنر، ٹرمپ کا نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکاف، اور عراق اور افغانستان کے خونی قصائی ٹونی بلیئر جیسے افراد شامل ہیں۔ پس جو جنگ یہودی وجود امریکہ، یورپ اور اسلام دشمن مسلم حکمرانوں کی مدد کے باوجود میدان میں جیت نہیں سکا، وہ سارے مقاصد فرعون ٹرمپ، محض سفارتی و سیاسی دھمکیوں اور مسلم حکمرانوں کے غداری کے باعث حاصل کر رہا ہے۔ بے شک امریکی خوشنودی کی کوششیں محض دنیا اور آخرت کے خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا:

 

﴿وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْؕ

"اور یہود اور نصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کر لیں۔" (سورۃ البقرہ، 120)۔

 

یہ ہے ٹرمپ کی چاپلوسی پر مبنی غلامانہ پاکستانی خارجہ پالیسی کا نتیجہ کہ پاکستانی وزیراعظم کی حیثیت امریکی وائسرائے ٹرمپ کے ایک ملازم کی سی بن چکی ہے، جبکہ پاکستانی کی بہادر مسلح افواج کو ایک بار پھر کرائے کی فوج کے طور پر امریکی جنرل جیسپر جیفر کی قیادت میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور امریکی راج قائم کرنے کے لیے غزہ بھیجنے کی تیاری ہے!

 

اے افواجِ پاکستان، اے پاکستان کے علماء کرام، اے پاکستان کے پولیٹیکل میڈیم کے سرکردہ افراد!

 

ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" میں شرکت کا مطلب صلیبی رہنماؤں کی سرپرستی میں ارضِ مقدس فلسطین پر صیہونی اور صلیبی قبضے کو مستقل جامہ پہنانا اور وہاں کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلنا ہے۔ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت ایک "بورڈ آف وار اینڈ آکیوپیشن" (Board of War and Occupation) ہے۔ اس بورڈ میں شامل ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے 15 فروری 2024 کو ہارورڈ یونیورسٹی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں فلسطینی ریاست کی تجویز کو "انتہائی بُرا خیال" قرار دیا، جو اس کے بقول "دہشت گردی کے ایک عمل کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔" جہاں تک ٹونی بلیئر کا تعلق ہے، جو اسلام کے خلاف جنگ کے اہم معماروں میں سے ایک ہے، تو اس نے 29 ستمبر 2025 کو کہا: "صدر ٹرمپ نے ایک جرات مندانہ اور ذہین منصوبہ پیش کیا ہے۔۔۔ جو اسرائیل کی مکمل اور دیرپا سلامتی کو یقینی بنائے گا۔" جہاں تک ٹرمپ کی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کا تعلق ہے تو وہ اس سے قبل اپنے طویل اور سفاکانہ کیریئر میں آپریشن عراقی فریڈم (عراق)، آپریشن اینڈیورنگ فریڈم (افغانستان)، اور آپریشن ریزولوٹ سپورٹ (افغانستان) میں تعینات رہا ہے۔ غزہ میں بھیجے جانے والے کسی بھی مسلمان دستے، چاہے وہ پاکستان سے ہوں یا انڈونیشیا سے، ٹرمپ کے اس جنرل کی کمان میں ہوں گے۔ یہ ہے اس استعماری منصوبے میں شرکت کی اصل حقیقت، جس کو ہمارے حکمران پاکستان کی سفارتی فتح کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ کاش کہ شرم بازار میں بکنے والے کسی جانور کا نام ہوتا جسے خرید کر ان حکمرانوں کو پیش کیا جا سکتا!

 

اے افواجِ پاکستان، اے پاکستان کے علماء کرام، اے پاکستان کے پولیٹیکل میڈیم کے سرکردہ افراد!

 

دو سال سے زائد عرصے سے پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں نے، یہودی وجود کے خلاف لڑنے اور مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرانے کے لیے اپنے دستے بھیجنے سے انکار کر کے مبارک سرزمین فلسطین سے غداری کی ہے۔ اب وہ مسلمان افواج کو ٹرمپ کے نامزد جنرل کی فوجی کمان کے تحت، اور ایسے بورڈ کی سیاسی نگرانی میں بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد یہودی وجود کو وہ کچھ دلانا ہے جو وہ برسوں کی جارحیت، محاصرے اور خون بہانے کے باوجود خود حاصل نہ کر سکا۔

 

پس اسراء اور معراج کی سرزمین کے خلاف غداری کے اس نئے باب کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور ان حکمرانوں کی گردن دبوچتے ہوئے انھیں حکمرانی سے بے دخل کر دیں، کیونکہ یہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے ساتھ غداری اور ہمارے قبلہ اول، مبارک سرزمین، ارض مقدس فلسطین کا سودا ہے۔

 

اے افواجِ پاکستان!

 

فلسطین کو آزاد کرانے کی شرعی ذمہ داری مسلمانوں کی افواج پر 1948 سے عائد ہے، اور یہ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، جن میں غداری کے مسلسل ابواب رقم کیے گئے، جن میں غزہ سے غداری بھی شامل ہے۔ کسی امریکی صلیبی جنرل کی کمان میں مبارک سرزمین فلسطین پر قدم نہ رکھنا۔ تمہیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تم سرزمینِ مبارک کی طرف کسی ایسے خلیفۂ راشد کی قیادت میں پیش قدمی کرو، جس کے ذریعے مسلمانوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور جس کے پیچھے رہ کر مسلمان  قتال کرتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ»

"امام (خلیفہ) ڈھال ہوتا ہے؛ مسلمان اس کے پیچھے ہو کر لڑتے ہیں اور اسی کے ذریعے سے تحفظ حاصل کرتے ہیں۔"

 

نبوت کے طریقے پر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرۃ فراہم کریں۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.