الإثنين، 19 ربيع الثاني 1441| 2019/12/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية
سوال کا جواب:   نہی کےعقودکےباطل ہونے کی دلیل اجماع ِصحابہ  ہے

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

 

سوال کا جواب

 

نہی کےعقودکےباطل ہونے کی دلیل اجماع ِصحابہ ہے

سوال:

محترم عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ حفظہ اللہ،

السلام علیکم ورحمۃ اللہ،

یہ عبارت کتاب الشخصیۃ کے صفحہ 232 کی ہے: "اس کے علاوہ صحابہ رضوان اللہ علیھم نے بھی نہی کےعقود کےفاسد اور باطل ہونے پر استدلال کیا  جیسےابن عمر نے اللہ کے فرمان وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ "مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو" سے  مشرک عورتوں سے نکاح  کےفاسد ہونے پر استدلال کیا  اور کسی نے آپ کی بات کو مسترد نہیں کیا اس لیے یہ اجماع ہے"۔ میرا سوال یہ ہے ، بارک اللہ فیکم، کہ معاملہ اجماع کیسے ہے جبکہ ظاہر دلیل آیت ہے ؟

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ختم شد۔

حمدی الحسینی کی جانب سے

 

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبر کاتہ،

آپ کے سوال کےجواب کو واضح کرنے کے لیے میں یہاں اس عبارت کو دہراتا ہوں جو اس باب "تصرفات اور عقود سے نہی" میں ہے:

"یہ نہی  ان تصرفات اور عقود  سے ہے جو ان کےاحکام سے فائدہ دیتے ہیں جیسے خریدو فروخت اور نکاح وغیرہ، یاتو یہ عین عقد کی طرف لوٹیں گے یا پھر  عقد کے علاوہ کسی اورطرف۔  اگر یہ تصرف اور عقد کے علاوہ کسی اور طرف لوٹتے ہوں  جیسے  جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت کی نہی (ممانعت)  تو یہ عقد اور تصرف کو باطل اور فاسد نہیں کرتے۔  لیکن اگر نہی (ممانعت) عین تصرف یا عین عقد کی طرف لوٹتے ہوں تو  بلاشبہ یہ عقد اور تصرف کو متاثر کریں گے،اور اس کو باطل یا فاسد کر دیں گے۔

اس بات کی دلیل کہ نہی (ممانعت)   تصرفات پر اثر انداز ہو کر ان کو باطل یا فاسد کر تی ہے تو وہ رسول اللہﷺ کا یہ  قول ہے کہ، مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمرُنا فَهُوَ رَدٌّ "جو ایسا کوئی عمل کرے جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں تو وہ مسترد ہے" اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ وہ عمل درست نہیں  اور قابل قبول نہیں، بے شک وہ  عمل جس سے منع کیا گیا ہے  اس کا حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی وہ دین ہے،تو اسے مردود قرار دیا گیاہے، اوراس کے مردود ہونے کا فاسد اور باطل  ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب نہیں ہے۔اس کے علاوہ صحابہ  رضوان اللہ علیھم نے عقود کے باطل اور فاسد ہونے  پر استدلال نہی (ممانعت) سے کیا۔ ابن عمر کی جانب سے مشرک عورت کے نکاح کے باطل ہونے پر استدلال بھی یہی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ

"اور مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو"(البقرۃ:221)

کسی نے آپ کے استدلال کو مسترد نہیں کیا تو یہ اجماع تھا اور اسی طرح صحابہ نے  سودی عقودکے باطل ہونے پر استدلال کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان سے:

وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا

"اور جو سود بچا ہے اس کو چھوڑ دو"(البقرۃ:278)،

اور رسول اللہﷺ کی اس حدیث سے کہ لا تَبيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الوَرِقَ بِالوَرِقِ" سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے مت بیچو" جس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

یہ سب اس کی دلیل ہے کہ نہی (ممانعت)تصرفات پر اثر انداز ہو تا ہے اور ان کو باطل یا فاسد کر دیتا ہے ۔ تاہم یہ اس وقت ہے کہ جب نہی  تحریم(حرمت) کے معنی میں ہو یعنی اس میں  ترک کے لیے طلب جازم ہو۔  اگر نہی حرمت کے معنی میں نہ ہو بلکہ کراہیت کے معنی میں ہو تو وہ تصرفات اور عقود پر اثر انداز نہیں ہو گا کیونکہ اثر انداز ہونے کا تعلق حرمت (طلب جازم)کے پہلو سے ہے۔ تصرف  اور عقدکی حرمت ہی اس کو باطل یا فاسد کر دیتی ہے"ختم شد۔

اس عبارت کو دیکھنے سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ یہاں اس سیاق میں اجماع  صحابہ سے مقصود  یہ ہے کہ نہی  جو اللہ کے اس فرمان میں ہے کہ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ"مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو" کا مطلب نکاح فاسد اور باطل ہے، کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہ  نےاسی آیت سے مشرک عورت کے ساتھ نکاح  کوباطل ہونے پر استدلال کیا ہے،اور کسی صحابی نے بھی آپ کی مخالفت نہیں کی  جو اس بات کی دلیل ہے کہ  صحابہ سمجھتے تھے کہ  شرعی نصوص میں عقود اور تصرفات سے متعلق نہی کا مطلب اس عقد یا تصرف کا فاسد اور باطل ہو نا ہے  جیسا کہ مذکورہ آیت میں ہے۔۔۔یہ آیت کی براہ راست دلالت  سے ہٹ کر ایک چیز ہے ۔ آیت براہ راست اس بات پر دلا لت کرتی ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح  منع ہے، مگر صحابہ نے آگے بڑھ کر اس بات پر اجماع کیا کہ  آیت میں نہی  اس عقد کے باطل اور فاسد ہونے پر دلالت کرتی ہے اوریہی اجماع کا موضوع ہے۔  آیت میں اس کو ظاہر نہیں کیاگیا ہے، بلکہ اجماع نے اس کو واضح کیا۔ آپ کے لیےاس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے دو مسئلے پیش کرتا ہوں :

پہلا : ایک آدمی آپ سے سوال کرتا ہے کہ  کیا مشرک عورت سے شادی جائز ہے؟ آپ جواب دیتے ہیں کہ جائز نہیں، وہ آپ سے کہتا ہے کہ کیا دلیل ہے؟  آپ جواب دیتے ہیں کہ آیت وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ"مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو"(البقرۃ:221)۔

دوسرا: ایک آدمی آپ سے سوال کرتا ہے کہ اس نے ایک مشرک عورت سے شادی کی ہوئی ہے وہ کیا کرے اس کو رکھے یا اس کے ساتھ کیا کرے؟  یہاں صرف آیت کا ذکر کرنا کہ وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ " مشرک عورتوں سے شادی مت کرو" (البقرۃ:221)،کافی نہیں کیونکہ وہ آپ سے کہے گا کہ  مستقبل میں پھر ایسا نہیں کرے گا مگر موجودہ عورت تو اس کے ساتھ ہے۔۔۔یہاں جواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک آپ  اس کو یہ نہ بتائیں کہ یہ عقد  ہی باطل ہے کیونکہ اجماع سے یہ ثابت ہے کہ اس آیت میں نہی کا مطلب عقد کا باطل ہونا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں جواب آیت کا ذکر کرنے کے بعد  یا ذکر کرنے تک مکمل نہیں ہوتاجب تک کہ اس نہی میں موجود عقد کو باطل اور فاسد قرار دینےکے بارے میں اجماع صحابہ کا ذکر نہ ہو۔ اگر یہ اجماع نہ ہو تا تو یہ نہی عقد کے باطل ہونے کا مطلب نہ دیتی اور اس کی پہلے سے انجام پائی ہوئی شادی کے بارے میں آپ جواب نہ دے پاتے، امید ہے کہ مسئلہ واضح ہو گیا ہے۔

آپ کا بھائی،

 

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

17 جماد الثانیۃ 1437 ہجری

بمطابق26 مارچ 2016

 

Last modified onہفتہ, 01 اکتوبر 2016 16:49

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک