الخميس، 23 رمضان 1447| 2026/03/12
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مشرقِ وسطیٰ میں آگ کیوں لگی؟

امریکہ اور یہودیوں کی کھلی جنگ اور اس کے نتائج کا ایک تجزیاتی مطالعہ

 

 

تحریر: استاد احمد القصص

 

(ترجمہ)

 

مشرقِ وسطیٰ کا خطہ اس وقت ایک وسیع علاقائی جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کا آغاز ایران پر ایک شدید اور اچانک حملے سے ہوا، جس کے بعد اس کارروائی کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا، اور اب اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ جنگ کے یہ شعلے یمن اور خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ جائیں گے۔ اس تناظر میں، اس بے مثال کشیدگی کے پیچھے چھپے حقیقی محرکات کے بارے میں کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوا یا یہ کسی ایسے پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ ہے جس کا مقصد خطے کے مکمل سیاسی اور جغرافیائی نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہے؟

 

سفارت کاری کا دھوکہ اور بدنیتی: ان امیدوں کے برعکس جو خوش فہم لوگ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے لگائے ہوئے تھے، میدانی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کافی عرصے سے اس جنگ کو چھیڑنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ طیارہ بردار بحری جہازوں، جنگی بیڑوں اور سینکڑوں طیاروں پر مشتمل بھاری عسکری موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ امریکہ مذاکرات کے کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر اپنے اہداف کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے ایران کو دونوں فریقین کے لیے کسی ممکنہ سمجھوتے کا جھانسا دے کر جال میں پھنسایا، جبکہ اصل مقصد اس سے سیاسی چال چلنے کی ہر گنجائش چھیننا اور اسے ایٹمی افزودگی ترک کرنے اور اپنی علاقائی ملیشیاؤں کو ختم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

 

اندرونی تبدیلی کے لیے وینزویلا کے منظر نامے کو دہرانا: اس جنگ کے سب سے حیران کن پہلوؤں میں سے ایک ایرانی نظام کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانا تھا، جن میں سرفہرست سپریم لیڈر خامنہ ای ہیں جنہیں (ایک ایسی جگہ) چھوڑ دینے پر مبصرین ششدر رہ گئے جہاں ان کا شکار کرنا آسان تھا۔ اسی طرح وزیرِ دفاع، چیف آف اسٹاف اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جیسی اہم شخصیات کی ہلاکتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ان ہلاکتوں سے امریکہ کا مقصد ایرانی ریاست کو مکمل طور پر ختم کرنا یا اسے شدید افراتفری میں دھکیلنا نہیں ہے، بلکہ وہ یہاں وینزویلا کے تجربے کو دہرانا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کی بنیاد امریکہ کے مخالف سخت گیر دھڑے کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ نظام کے اندر سے ہی ایسی لچکدار اور تعاون کرنے والی سیاسی شخصیات کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے جو اقتدار کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔ اس حوالے سے صدر مسعود پزشکیان اور جواد ظریف جیسے نام مغرب کے ساتھ تعاون کے لیے ممکنہ انتخاب کے طور پر ابھرتے ہیں، تاکہ ایران کو ایک ایسی عام "فنکشنل ریاست" میں تبدیل کیا جا سکے جو اپنے بیرونی بازوؤں (پروکسیز) سے دستبردار ہو کر صرف اپنے اندرونی معاملات تک محدود ہو جائے۔

 

 

یہودی وجود کا کردار اور نسلی صفائے کا منصوبہ: دوسری جانب، 'یہودی وجود' اس محاذ آرائی کے ایک بنیادی محرک کے طور پر کھڑا ہے، جہاں اس کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکہ کو اس آپشن کی طرف دھکیلنے کے لیے زبردست دباؤ ڈالا ہے۔ ان کا سب سے بڑا جنون ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا اور اسے میزائل نظاموں سے محروم کرنا ہے۔ کیونکہ ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کا خاتمہ اور کسی بھی دوسری علاقائی ریاست کو ایٹمی صلاحیتیں حاصل کرنے سے روکنا 'یہودی وجود' کا ایک  اسٹریٹجک  ہدف ہے۔

 

ردعمل کی حکمتِ عملی اور ایرانی بازوؤں کا مبہم موقف: اس یلغار کے سامنے، ایران کا فوجی منصوبہ مکمل طور پر میزائلوں کے ذریعے ڈیٹرنس (روک تھام) پر منحصر ہے، تاکہ امریکہ اور یہودی وجود کے خلاف ایک طویل مدتی اعصابی جنگ  چھیڑی جا سکے اور انہیں زیادہ سے زیادہ مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ ایران خلیجی ممالک اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امریکی اڈوں پر اپنے حملوں کو مرکوز کر رہا ہے، جبکہ ترکی میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے گریز کر رہا ہے، جو کہ شاید دانستہ ہے، تاکہ ان کے درمیان تاریخی تعلقات کو برقرار رکھا جا سکے اور نیٹو کے رکن اس قدر بڑے ملک کو اشتعال دلانے سے بچا جا سکے۔ دوسری طرف، ایران نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر راکٹ برسانے کے لیے لبنان میں اپنی جماعت کی باقی ماندہ محدود فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، باوجود اس کے کہ اس محاذ کی وجہ سے لبنان میں جو تباہی مچے گی، شیعہ کمیونٹی کو جو نقصان پہنچے گا اور جماعت کے سیاسی قائدین کو اپنے عوامی حلقوں اور لبنانی سیاسی حلقوں میں جس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ صورتحال ایرانی نظام کی بوکھلاہٹ اور سیاسی مصلحتوں کی زیادہ پرواہ کیے بغیر اپنے پاس موجود تمام پتے استعمال کرنے کی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے۔

 

چین اور روس: تھکا دینے والی جنگ اور بڑے مفادات: عالمی منظر نامے پر، اس حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ بیجنگ اور ماسکو تہران کو معلومات اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی صورت میں خفیہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان بڑی طاقتوں کے مفاد میں یہ ہے کہ وہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کی ریت میں اس سے پہلے غرق کر دیں اور تھکا دیں کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ان کا مقابلہ کرنے کے لیے فارغ ہو سکے۔ امریکہ ایران کے خلاف اپنی جنگ کے ذریعے چین کو تیل کے ایک بڑے ذریعے سے محروم کرنے کا ہدف بھی رکھتا ہے، جیسا کہ اس نے وینزویلا پر قبضہ کر کے کیا تھا جو اس کے لیے تیل کا ایک اہم ترین ذریعہ تھا، مزید یہ کہ وہ اس سرزمین پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے جہاں سے چین کا 'شاہراہِ ریشم' (سلک روڈ) گزرتا ہے۔

 

خطے کے لیے جامع امریکی منصوبہ: یہ معرکہ صرف ایران کو مغلوب کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ (مشرقِ عربی) کے خطے پر تسلط کو مزید سخت کرنے کی ایک جامع امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ کیونکہ امریکہ خطے کو نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم شدہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں (کینٹنز) میں بانٹنا چاہتا ہے، جس سے اس کا انتظام سنبھالنا اور اسے اپنی کمپنیوں کے لیے ایک بڑے سرمایہ کاری کے علاقے میں تبدیل کرنا آسان ہو جائے۔ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ "دینِ ابراہیمی" کے بیانیے کو مسلط کرنے اور کسی بھی سیاسی اسلام کی تجویز کے خلاف لڑنے اور اسے ممنوع قرار دینے کی بھرپور کوششیں بھی شامل ہیں۔

 

کھلے امکانات : آج یہ خطہ ایک دو راہے پر اور دو اہم امکانات  کے سامنے کھڑا ہے۔ یا تو امریکی فوجی مشینری اور سازشیں موجودہ ایرانی قیادت کا تختہ الٹنے اور اس کی جگہ امریکہ کے وفادار ایسے عملے کو لانے میں کامیاب ہو جائیں گی جو مغربی منصوبوں پر عمل درآمد کرے، اور یہ کئی دہائیوں تک امریکی تسلط کو برقرار رکھے گا، ، یا پھر ایران اس صدمے کو برداشت کرنے اور ایک طویل اعصابی جنگ  میں ڈٹے رہنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ثابت قدمی میں اس کی کامیابی امریکہ کے منصوبے کو ناکام بنا دے گی اور ٹرمپ و نیتن یاہو کے لیے ایک کاری سیاسی ضرب ثابت ہو گی، خاص طور پر جبکہ امریکی انتخابات قریب ہیں، جو انہیں ایک ایسی غیر محسوب مہم جوئی کی بھاری قیمت چکانے کے لیے کمزور بنا دے گی جس کے نتائج کا اندازہ نہیں لگایا گیا۔ تو کیا ایران دنیا کو اپنی ثابت قدمی اور امریکہ و یہودی وجود کے تکبر کو توڑنے کی صلاحیت سے حیران کر دے گا؟

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onبدھ, 11 مارچ 2026 20:55

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک