الأحد، 02 ذو القعدة 1447| 2026/04/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ٹرمپ اور امریکی قیادت کا بکھراؤ

 

تحریر: استاد احمد زکریا

(ترجمہ)

 

امریکہ میں اقتدار کے ایوانوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، یعنی ممتاز فوجی کمانڈروں کی پے در پے برطرفیاں، جن میں حال ہی میں آرمی چیف آف اسٹاف کی برطرفی سب سے نمایاں ہے، جبکہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پیٹ ہیگستھ نے کم از کم دو درجن جنرلوں اور ایڈمرلز کو فارغ یا نظر انداز کر دیا ہے، یہ کوئی عام انتظامی واقعہ یا محض اندرونی ردوبدل نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ اس گہرے بحران کا براہ راست عکس ہے جو امریکی سیاسی نظام کی بنیادوں پر ضرب لگا رہا ہے، اور سیاسی و فوجی شاخوں کے درمیان فیصلہ سازی کے اتحاد کے خاتمے کو ظاہر کر رہا ہے۔

 

دنیا کی قیادت کرنے والی قوم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جنگیں واضح سیاسی مقاصد کے تحت لڑے۔ اس کی فوج ان مقاصد کے نفاذ کے لیے ایک درست آلے کے طور پر ہونی چاہیے۔ یہ اس کے بالکل برعکس ہے جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل میں۔ ٹرمپ نے فوجی ادارے کو ایسے تنازعات میں گھسیٹ لیا ہے جن کی نہ تو کوئی مخصوص سیاسی تعریف ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی واضح وژن ہے کہ کیا حاصل کرنا ہے۔ یہ بذاتِ خود فوج کے ڈھانچے میں شگاف ڈالنے اور اس کی قیادت کے اندر ایک خاموش بغاوت کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، جو خود کو بغیر کسی سمت کے لڑنے کے لیے پکارا جاتا پاتی ہے۔

 

فوجی کارروائی اور سیاسی خلا کے درمیان یہ تضاد امریکی بوکھلاہٹ کی وضاحت کرتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ کی فوجی برتری اور ایران کے ساتھ کشیدگی سمیت متعدد میدانوں میں اس کے حملوں کے باوجود، یہ اقدامات ایک مستحکم سیاسی نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ ان میں محض واضح مقصد کی کمی ہے۔ یہ طاقت کو ایک فیصلہ کن ہتھیار سے بوجھ میں بدل دیتا ہے جو قیادت کی کوتاہیوں کو چھپانے کے بجائے انہیں بے نقاب کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ الجھن ایک شدید بین الاقوامی کشمکش کے تناظر میں پیدا ہو رہی ہے، جس میں چین جیسی طاقتیں آگے بڑھ رہی ہیں اور ایران جیسے علاقائی کھلاڑیوں کو پیچیدہ بین الاقوامی انتظامات کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ، جو کبھی اس کشمکش کی رفتار کو کنٹرول کرتا تھا، اب بیدار سیاسی قیادت کی عدم موجودگی اور سیاسی دھڑوں کے درمیان حقیقی اختلافات کے فرسودہ اثرات کی وجہ سے اسے اسی مضبوطی سے سنبھالنے کے قابل نہیں رہا۔ امریکہ کے اندر یہ تصادم اقتدار کی جنگ بن چکا ہے، نہ کہ نظریے یا سمت کا مقابلہ۔

 

یہیں پر سب سے خطرناک حقیقت پوشیدہ ہے: یہ بحران انتظام کا نہیں بلکہ نظریے کا بحران ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام جس پر امریکہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اب نہ تو مربوط سیاسی قیادت پیدا کرنے کے قابل رہا ہے اور نہ ہی دنیا کی رہنمائی کے لیے کوئی وژن پیش کر سکتا ہے۔ درحقیقت، اب یہ اپنے اندرونی نظامِ حکومت میں بھی لڑکھڑا رہی ہے۔ نظریے کے اس زوال نے اس کے آلات پر براہ راست اثر ڈالا ہے: قیادت متزلزل ہو چکی ہے، فوج افراتفری کا شکار ہے، اور فیصلہ سازی کا عمل بکھر گیا ہے۔

 

اس پس منظر میں، عالمِ اسلام، جو بین الاقوامی میدان میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے وسائل اور صلاحیت رکھتا ہے، اس مساوات سے باہر رہ گیا ہے۔ اس کی افواج کو دوسروں کے ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس کی دولت لوٹی جا رہی ہے، اور اس پر ایک ایسی سیاسی حقیقت مسلط کی جا رہی ہے جو اس کی محکومی کو دوام بخشتی ہے۔ دریں اثنا، اس کی پوشیدہ طاقت کو وہ کم ظرف ایجنٹ استعمال کر رہے ہیں جن کا اپنی تقدیر پر کوئی حقیقی اختیار نہیں ہے۔

 

امریکی قیادت کے اندر موجودہ انتشار اور بین الاقوامی کشمکش کے انتظام میں بے نظمی محض ایک بڑے عالمی خلا کا پیش خیمہ ہے، جو طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا راستہ کھول رہا ہے۔ اس موقع کو محض دشمن کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ امت کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، بشرطیکہ وہ ایسا نظریاتی سیاسی منصوبہ رکھتی ہو جو طاقت کو مقصد سے جوڑ دے اور افواج کو ان کے فطری کردار پر فائز کرے: یعنی وہ سرزمین کو آزاد کرانے کا ذریعہ بنیں، نہ کہ حکومتوں کی پاسبانی کا۔

 

صرف وہی امت اس خلا کو پُر کرنے اور اپنی جدوجہد کا رخ حقیقی دشمنوں کی طرف موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اسلام کو بطور عقیدہ اور نظامِ زندگی اپنائے، اور یہ سمجھے کہ اللہ ﷻ کی شریعت کے مطابق حکمرانی ہی احیاء (نشاۃِ ثانیہ) کی بنیاد ہے۔ ان دشمنوں میں سب سے پہلے یہودی وجود اور اس کے پیچھے کھڑی استعماری طاقتیں شامل ہیں۔

یہ ان لوگوں کے لیے زوال کا لمحہ ہے جو موجودہ سمت  سے چمٹے ہوئے ہیں، لیکن ان کے لیے آزمائش کا وقت بھی ہے جن کے پاس وہ بصیرت ہے جو ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ یا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلافتِ راشدہ کے منصوبے کی بنیاد پر اسلامی طرزِ زندگی کو بحال کیا جائے گا، جو امت کو اس کا اصل کردار اور مقام و مرتبہ واپس دلائے گا، یا پھر امت دوسروں کے تنازعات کی یرغمال بنی رہے گی اور اپنے خون اور وسائل سے اس کی قیمت چکاتی رہے گی۔

 

Last modified onاتوار, 19 اپریل 2026 01:10

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک