الجمعة، 07 ذو القعدة 1447| 2026/04/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کی ثالثی

 

تحریر: استاد بلال المہاجر، ولایہ پاکستان 

 

(ترجمہ)

 

جب سے امام مسلم اور امام بخاری کی سرزمین کے خلاف امریکی اور یہودی صلیبی مہم کا آغاز ہوا ہے، جسے چھ ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، دنیا دو کیمپوں میں بٹ چکی ہے: ایک وہ جو اس صلیبی مہم اور ایران پر حملے کی حمایت کر رہا ہے، اور دوسرا وہ جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے، بغیر کسی جنبش کے حالات کو محض دیکھ رہا ہے، جن میں یورپی ممالک، روس اور کسی حد تک چین شامل ہیں۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے جنہوں نے اس صلیبی مہم کا ساتھ دیا، تو وہ مسلم دنیا کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں میں سے اس خطے میں امریکہ کے ایجنٹ اور پیروکار ہیں، بالخصوص ایران کے گرد ونواح میں موجود 'نقصان پہنچانے والی ریاستوں' (regimes of harm) کے حکمران اور عسکری قیادت، اور ان سب کی فہرست میں سرفہرست پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر ہیں، جن کا کردار اپنی قبیح ترین شکل میں سامنے آیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾

"وہ اسی (تردد) میں معلق ہو رہے ہیں نہ ان (مومنوں) کی طرف (پورے ہوتے ہیں) اور نہ ان (کافروں) کی طرف۔ اور جس کو اللہ بھٹکا دے تو تم اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہ پاؤ گے"۔ (سورۃ النساء: آیت 143)

 

ان کا یہ موقف ان کی منافقت، کم ظرفی اور تمام اعلیٰ اقدار سے ان کی بیزاری کا عکاس ہے۔ انہوں نے ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر دشمن کے خلاف مدد کرنے کا حق ادا نہیں کیا، اور نہ ہی انہوں نے پڑوس کے اس حق کا پاس رکھا جس کی تاکید رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی تھی: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» یعنی "جبرائیلؑ مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے وارث بنا دیں گے" (ترمذی)۔ انہوں نے ایک ہی نسل، قبیلے اور خاندان سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور پڑوسیوں کے درمیان خون اور قرابت داری کے رشتوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں، پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں نے نہ تو اسلام کے شرعی احکامات کی پیروی کی، جس دین کی پیروی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، اور نہ ہی وہ قبل از اسلام کی عرب جاہلیت کی قبائلی عصبیت (کی غیرت) کے درجے تک پہنچ سکے۔ وہ ابو جہل جیسی جرات مندی اور ان قبائلی رشتوں کو نبھانے میں بھی ناکام رہے جو دونوں ملکوں کے درمیان موجود نام نہاد سرحد کے دونوں طرف بسنے والے ان کے اپنے ہی ہم نسل لوگوں کو جوڑتے ہیں۔

 

ایران کے خلاف صلیبی مہم کے آغاز سے ہی پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر اس حد تک متحرک ہو چکے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی نیندیں حرام کر لی ہیں اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان نام نہاد جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جنونی حد تک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عاصم منیر دونوں فریقوں سے برابر کے فاصلے پر کھڑے ہوں، حالانکہ ان پر یہ بات واضح ہونی چاہیے تھی کہ انہیں اپنے بھائی، اپنے پڑوسی اور اپنے ہم نسل لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا» "اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ ایک شخص نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! اگر وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن اگر وہ خود ظالم ہو تو میں اس کی مدد کیسے کروں؟" آپ ﷺ نے جواب دیا: «تَحْجُزُهُ أَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ» "تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی اس کی مدد ہے"۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے فوجی کمانڈروں اور حکمرانوں کا خیال ہے کہ ایران ظالم ہے اور یہ ایران ہی ہے جسے انہیں ظلم کرنے سے روکنا چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾

  "حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں"۔ (سورۃ الحج: آیت 46)

 

پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کے غدارانہ اقدامات میں سے ایک جمعہ، 18 اپریل 2026 کو انطالیہ میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا تیسرا اجلاس بلانا تھا۔ اس اجلاس کی تمام تر توجہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی ثالثی کی حمایت اور علاقائی حالات، جیسے کہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی، پر تبادلہ خیال کرنے پر مرکوز تھی۔ شرکاء میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار شامل تھے۔ تاہم، اس ثالثی کے پیچھے اصل متحرک قوت پاکستان کے فوجی کمانڈر اور حکمران تھے، جو حقیقت میں ثالثی نہیں بلکہ امریکی اور یہودی فریق کی جانب صریح جانبداری تھی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے امریکی قیادت میں قائم اتحاد کے لیے وہ کامیابی حاصل کرنے کی خاطر طویل گھنٹے صرف کرنے کے بعد، جسے امریکہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا، انہوں نے اسلام آباد میں اس اتحاد کے رہنماؤں اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے درمیان ملاقات کا انتظام کیا۔

 

ان ایجنٹوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران اپنے آقاؤں کے لیے فتح حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، انہوں نے پاکستان کی مسلمان مسلح افواج کو دشمن کے محاذ پر بھیج دیا، تاکہ وہ فتح فوجی طور پر اور طاقت کے زور پر حاصل کی جا سکے، اور اس کے لیے ایسے بہانے تراشے گئے جن پر ایک دودھ چھڑایا ہوا بچہ بھی یقین نہ کرے! بہانہ یہ بنایا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے! کیا یہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امریکی مفادات اور اس کے ایجنٹوں، یعنی آلِ سعود کے حکمرانوں کے تحفظ کے لیے تھا، خواہ اس کے لیے کسی مسلم ملک میں مسلمانوں کی کھوپڑیوں پر ہی کیوں نہ کھڑا ہونا پڑے؟! اور کیا خود حجاز کو آلِ سعود کے حکمرانوں، جو کہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں، سے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ جنہوں نے ملک کو صلیبی امریکی افواج کے لیے پوری طرح کھول دیا تاکہ وہ وہاں ایسے فوجی اڈے قائم کریں جہاں سے وہ امام مسلم اور امام بخاری کی سرزمین (ایران) میں ہمارے لوگوں کے خلاف حملے اور بمبار طیارے روانہ کریں، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ ہارون الرشید کی سرزمین، عراق پر حملہ کیا تھا؟! پاکستان پر واجب تھا کہ وہ فوجی طور پر ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے 'میثاقِ مدینہ' میں تحریر فرمایا تھا: «وأن سلم المؤمنين واحدة لا يسالم مؤمن دون مؤمن في قتال في سبيل الله إلا على سواء وعدل بينهم» "مومنوں کی صلح ایک ہے؛ اللہ کی راہ میں قتال کے دوران کوئی مومن دوسرے مومن کو چھوڑ کر صلح نہیں کرے گا مگر ان کے درمیان برابری اور عدل کی بنیاد پر"۔

 

یہ اس (موقف) کے بالکل برعکس ہے کہ امریکہ کے ایما پر اور اس کے فائدے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا جائے، اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک حربے کے طور پر پاکستان کے فوجیوں کو سعودی عرب بھیج دیا جائے۔

ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے حمایت صرف اسی صورت میں معتبر ہوتی ہے جب وہ حقیقت میں بھائی ہوں، نہ کہ محض دکھاوے یا منافقت کے طور پر، جیسا کہ پاکستان کے حکمرانوں اور فوجی کمانڈروں کا معاملہ ہے جن کی کفر کے سرغنہ، ٹرمپ نے یہ کہہ کر تعریف کی: "فیلڈ مارشل بہترین ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم واقعی شاندار ہیں اس لیے شاید میں وہاں جاؤں"؛ اس نے اس بات پر زور دیا کہ اگر معاہدے پر دستخط ہو گئے تو وہ ان کی عزت افزائی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اسلام آباد جا سکتا ہے! چنانچہ پاکستان کی فوج اور حکمرانوں پر عرب شاعر متنبی کے اس قول کا الٹ صادق آتا ہے: (وَإِذَا أَتَتْكَ مَذَمَّتِيْ مِنْ نَاقِصٍ، فَهِيَ الشَّهَادَةُ لِيْ بِأَنِّيْ كَامِل) "اگر کسی کم ظرف کی طرف سے میری مذمت سامنے آئے، تو یہ میرے کامل ہونے کی گواہی ہے"۔

 

اگر پاکستان کے حکمران اور فوجی کمانڈر محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی جیسے ہوتے، تو وہ امریکہ کی کمزوری اور ایران پر فوجی فتح حاصل کرنے میں اس کی نااہلی کا فائدہ اٹھاتے، اور اپنے ایرانی بھائیوں کی امداد کو پہنچتے اور خلیج میں امریکہ اور اس کے بحری بیڑوں کو غرق کر دیتے۔ آلِ سعود کے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے فوجیں بھیجنے کی بجائے، وہ اپنا مشن سرزمینِ حرمین کو آلِ سعود کے حکمرانوں کی ناپاکی سے آزاد کرانے اور نبی کریم ﷺ کی سرزمین کو امریکی اڈوں اور بحری جہازوں سے پاک کرنے میں بدل دیتے۔ وہ سرزمینِ حرمین سے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرتے، اور اہل خرسان کو خلافت کی اطاعت اور اس کے ساتھ الحاق کا اختیار دیتے، جو انہیں ان کی موجودہ جارحانہ صورتحال سے نجات دلاتا۔ اس کے بعد خلیفہ حجاز، خراسان اور پاکستان کو ایک ہی دن میں متحد کر دیتا، اور یوں پلک جھپکتے ہی ایک عظیم طاقت کا جنم ہوتا۔

 

کیا راولپنڈی اور حجاز میں موجود پاکستان آرمی کے مخلص ارکان اٹھ کھڑے ہوں گے اور دونوں ملکوں میں غداروں کے تخت الٹ دیں گے، اور اپنی نصرۃ (عسکری مدد) اس سچے قائد کو دیں گے جو ان کی اور ان کے فوجی و فکری عقیدے کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے؟ یا پھر وہ اسی غدار قیادت کے پیچھے لگے رہیں گے یہاں تک کہ امریکہ ایران پر قابض ہو جائے اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر فتح حاصل کر لے، جبکہ اس کے بعد خود اسلام آباد کا نمبر ہو؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾

"اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو ثابت رکھے گا۔"  (سورۃ محمد: آیت 7)

 

 

Last modified onجمعرات, 23 اپریل 2026 14:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک