السبت، 20 ذو الحجة 1447| 2026/06/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ اور ایران: طاقت کے توازن کی نئی صف بندی

 

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ )

 

ان دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک حتمی اور فیصلہ کن معاہدے کے عنقریب اعلان کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پلڑا فوجی راستے کے بجائے سفارتی راستے کے حق میں جھکے گا، یعنی کشیدگی میں اضافے کے بجائے اس میں کمی لانے کو ترجیح دی جائے گی۔ اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں اطراف سے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کے متوازی، اور ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ، امریکہ جنوبی ایران، خاص طور پر بندر عباس، جزیرہ لارک اور آبنائے ہرمز کے گردونواح میں اپنے حملوں کی تجدید کر رہا ہے۔ ان حملوں میں فوجی جہازوں، میزائل پلیٹ فارمز اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔

 

ایسے لمحات میں بین الاقوامی سیاست کی پیمائش فوجی بیانات کی تعداد یا سفارتی اعلانات کی رفتار سے نہیں کی جاتی، بلکہ بین الاقوامی نظام کی سطح کے نیچے پے در پے ہونے والے واقعات سے ظاہر ہونے والی دراڑوں کی گہرائی سے کی جاتی ہے۔ آج آبنائے ہرمز کے گرد جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب محض واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی نہیں رہا۔ درحقیقت، یہ ایک ایسے وقت میں امریکی طاقت کی حدود کا براہ راست امتحان ہے جب دنیا اب کسی ایک واحد مقتدر اعلیٰ (hegemon) کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

 

کئی دنوں سے مذاکرات کی زبان جنگ کی آگ کی زبان کے ساتھ پیوست ہو گئی ہے۔ وفود پاکستان اور قطر کے ثالثی کے کمروں میں بیٹھے ہیں، جبکہ پس منظر میں ایک انتہائی حساس جیو پولیٹیکل اسٹیج پر حملوں اور جوابی حملوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جن سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایسی تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں ایرانی جہازوں پر امریکی حملوں کو دکھایا گیا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک نیا انداز ہے: سفارت کاری کے لبادے میں جنگ، اور تصادم کے سائے میں سفارت کاری۔

 

یہ پیچیدہ مساوات جو کچھ ظاہر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اب ایک ایسی طاقت کے طور پر کام نہیں کرتا جو مکمل برتری کی پوزیشن سے استحکام مسلط کرنے کے قابل ہو۔ اس کے بجائے، وہ ایک ایسی طاقت کے طور پر کام کرتا ہے جو "طاقت کے ذریعے امن" کی منطق کے مطابق بیک وقت کشیدگی کو منظم اور محدود کرتا ہے۔ وہ حملے سے روکنے کی کوشش (deterrence) تو کرتا ہے، لیکن اس کے پاس اس تیز رفتار فیصلہ کن فتح کی سہولت موجود نہیں ہے جو اس کی گزشتہ دہائیوں کا طرہ امتیاز تھی۔ اس کے برعکس، ایران بتدریج تھکا دینے (attrition) کی ایک نپی تلی حکمت عملی کے تحت کام کرتا ہے، جسے حساس جغرافیہ اور عالمی توانائی کی راہداریوں کا فائدہ حاصل ہے، جو کسی بھی محدود تصادم کو ایک وسیع بین الاقوامی بحران میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو خود کشیدگی نہیں ہے، بلکہ مذاکراتی راستوں کے جاری رہنے کے ساتھ اس کا بیک وقت پیش آنا ہے۔ یہ مماثلت بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے: امن اور جنگ اب دو الگ الگ متوازی لکیریں نہیں رہے، بلکہ یہ ایک ہی وقت میں موجود دو باہم پیوست تہیں بن چکے ہیں۔ اس غیر واضح (گرے) علاقے میں، بڑی طاقت "حتمی فیصلہ" مسلط کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتی ہے اور مسلسل بحران سے نمٹنے کے کھیل میں ایک کھلاڑی بن کر رہ جاتی ہے، ایک ایسا کھیل جس میں چین سے جیت کے لیے کی جانے والی اس کی اپیلیں بھی غیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

 

معاشی طور پر، فوجی مداخلت کی قیمت اب محدود یا مقامی نہیں رہی۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کوئی بھی رکاوٹ فوری طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے، سپلائی چین (ترسیل کے نظام) کے لیے خطرہ بنتی ہے، اور عالمی معیشت کو خطرے اور مستقل بے چینی و غیر یقینی کی صورتحال میں ڈال دیتی ہے۔ یہ باہمی جڑا ہوا ہونا امریکہ کو اضافی طاقت فراہم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اقدامات کو محدود کر دیتا ہے۔ ہر فوجی اقدام کا تخمینہ نہ صرف برتری کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، بلکہ ان ممکنہ عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے جو خود کارروائی کے میدان سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔

 

دوسری طرف، لبنان کا محاذ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی مذاکرات میں ایک انتہائی حساس مقام رکھتا ہے؛ یہ کوئی علیحدہ داخلی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اثر و رسوخ کے وسیع تر نیٹ ورک میں ایک مرکزی نقطہ ہے۔ دونوں فریقوں کے اسٹریٹجک حساب کتاب میں، لبنان اپنی تنگ جغرافیائی حدود سے تجاوز کر کے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے لیے ایک براہ راست تجربہ گاہ بن جاتا ہے۔

 

ایران کے نقطہ نظر سے، لبنان اس کے علاقائی اثر و رسوخ کی توسیع اور حزب اللہ کی حمایت کے ذریعے اس کے اہم ترین مہروں میں سے ایک ہے، جو اسے علاقائی سطح پر دشمن کو روکنے کے توازن پر اثر انداز ہونے اور اپنی سرحدوں سے باہر اسٹریٹجک گہرائی پیدا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ریاستہائے متحدہ اس اثر و رسوخ کو ایک وسیع تر نظام کے حصے کے طور پر دیکھتا ہے جو خطے میں اس کے اتحادیوں کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، جن میں سرفہرست یہودی وجود اور وہ خلیجی ریاستیں ہیں جو معمول کے تعلقات کے عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ لہٰذا اس اثر و رسوخ کو روکنا یا کم کرنا اس کے وسیع تر سیکورٹی وژن کا ایک مقصد ہے، خاص طور پر حزب اللہ کے گھیراؤ کو مکمل کرنے، اس کے فوجی اثر و رسوخ کو ختم کرنے اور اسے غیر مسلح کرنے میں ناکامی کے بعد۔

 

اس لحاظ سے، لبنان کے ساتھ ایک آزادانہ مسئلے کے طور پر سلوک نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے دو مخالف علاقائی منصوبوں کے درمیان "اثر و رسوخ کی تجربہ گاہ" کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی وسیع تر مذاکراتی عمل میں اس کا نام سامنے آسکتا ہے، چاہے اسے واضح یا حتمی طور پر کسی بھی ممکنہ معاہدے میں شامل نہ کیا گیا ہو۔ یہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ یہودی وجود کو لبنان میں اپنی جارحیت جاری رکھنے کے لیے کیوں ہری جھنڈی دکھائی گئی، اس امید کے ساتھ کہ متوقع زمینی پیش رفت سے مذاکرات متاثر ہوں گے۔

 

اسٹریٹجک لحاظ سے، امریکہ کو اب ایک ایسی بڑی طاقت کے کلاسیکی مخمصے کا سامنا ہے جو تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے: یعنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں بمقابلہ محدود فیصلہ کن کارروائی۔ اس سے بیک وقت یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کا تحفظ کرے، اپنے مخالفین کو روکے، مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنائے اور ہمہ گیر جنگ میں گرنے سے روکے۔ ان سب سے پہلے اور بعد میں، اسے ایک نو زائیدہ یہودی وجود کا تحفظ کرنا ہے جس کا وجود ہی خطرے میں ہے۔ مقاصد کی اس قسم کی کثرت ایک قسم کا 'اسٹریٹجک دباؤ' پیدا کرتی ہے، جہاں ہر نپا تلا قدم فیصلہ کن نتائج پیدا کرنے کے بجائے خطرے کے انتظام (رسک مینجمنٹ) میں بدل جاتا ہے۔

 

اس کے برعکس، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر خلا کو مکمل طور پر پُر کرنے کے قابل کوئی متبادل طاقت ابھر رہی ہے، بشمول چین کے۔ بلکہ یہ موجودہ بین الاقوامی نظام میں یک قطبی عالمی نظام کے بتدریج بکھرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا کا مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں طاقت کے مراکز بکھرے ہوئے ہیں، بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور اتحاد اس قدر گتھم گتھا ہو گئے ہیں کہ کوئی بھی مطلق بالادستی اب قاعدے کے بجائے ایک استثنا ہے۔

 

چنانچہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے فوری خاتمے کی علامت کے طور پر نہیں بلکہ اس چیز کے بتدریج سکڑنے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جسے غیر مشروط امریکی برتری کا بلبلہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ بلبلہ ابھی پھٹا نہیں ہے، لیکن تلخ حقائق کے بوجھ تلے بتدریج اپنی ہوا کھو رہا ہے: ختم نہ ہونے والی جنگیں، ڈٹے ہوئے مخالفین، غیر مستحکم منڈیاں اور وہ اتحادی جو ہر بحران کے ساتھ اپنے موقف پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر یہ بتاتے ہیں کہ ایران کے ساتھ اپنے مذاکرات میں امریکہ جس سب سے بڑی کامیابی کی امید کر سکتا ہے وہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے، خاص طور پر جوہری مسئلے کی پیچیدگیوں کے پیش نظر۔

 

مختصراً یہ کہ دنیا طاقت کے خلا کی طرف نہیں بڑھ رہی، بلکہ دنیا طاقت کی نئی تقسیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تاہم، یہ ماننے کا دور کہ کرہ ارض کی پوری تال کو منظم کرنے کے قابل کوئی واحد طاقت موجود ہے، اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اس تبدیلی میں، سلطنتیں ضروری نہیں کہ کسی ایک جنگ میں شکست کھا جائیں، بلکہ وہ بتدریج اس طرح ختم ہوتی ہیں کہ ہر آنے والی جنگ پچھلی جنگ کے مقابلے میں کم فیصلہ کن ہوتی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، تکبر اس زوال کو تیز کرنے والا سب سے بڑا عامل ہے۔

 

تاہم، مغربی غلبے کا زوال تاریخ کے خاتمے کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بڑے سوال کا آغاز ہے: وہ کون سا وژن (تصور) ہے جو تسلط، تصادم اور صارفییت (consumerism) کی ماری ہوئی اس دنیا کو نجات دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اس اسٹریٹجک تہذیبی خلا کے عین مرکز میں، اسلام ایک ایسے تہذیبی منصوبے کے طور پر ابھرتا ہے جو انسانیت، طاقت، عدل اور بین الاقوامی تعلقات کا ایک منفرد اور مختلف تصور پیش کرتا ہے۔

 

ایک ایسے دور میں جہاں جنگوں، بحرانوں اور داخلی تضادات کے بوجھ تلے مغربی یقین و استحکام دم توڑ رہا ہے، تاریخی اور جغرافیائی سرگرمیوں کے مرکز میں اسلام کی واپسی کی بات محض ماضی کی یاد یا کوئی جذباتی لگاؤ نہیں بلکہ ایک ایسا امکان ہے جسے خود دنیا کی تبدیلیوں نے ناگزیر بنا دیا ہے۔ امت کے اندر بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری کے پیشِ نظر، یہ افق رسول اللہ ﷺ کی ان بشارتوں سے جڑا ہوا ہے جو " نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ" کی واپسی کے متعلق ہیں؛ جس کا مطلب عدل کے حقیقی مفہوم کو زندہ کرنا اور امت کی وحدت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی دنیا کے سامنے ہو رہا ہے جو اپنا اخلاقی اور روحانی توازن کھو چکی ہے، جس کی فکری اور تہذیبی بنیادیں ہل چکی ہیں، اور جس کا اپنے سیاسی و معاشی اداروں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ چنانچہ، آج اصل سوال یہ نہیں ہے کہ "دنیا پر حکمرانی کون کر رہا ہے؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "کون سا تہذیبی منصوبہ اسے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟"

Last modified onجمعہ, 05 جون 2026 21:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک