بسم الله الرحمن الرحيم
سوڈان میں جنگ کے المیے: حقیقت اور حل
تحریر: استاد ناصر رضا
(ترجمہ)
سوڈان میں جاری جنگ، اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کے بیان کردہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیے کے طور پر، اپنے چوتھے سال کے چوتھے مہینے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس جنگ نے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد کی جانیں لے لی ہیں، لاکھوں کو زخمی اور معذور کیا ہے، اور لاکھوں کو ہجرت پر مجبور کر کے ان کے گھروں سے نکال دیا ہے۔ 'مسلح تصادم کے مقامات اور واقعات کے ڈیٹا پروجیکٹ' (ACLED) کی رپورٹوں کے مطابق، ان میں سے تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ افراد اندرونِ ملک ہی بے گھر ہیں، جبکہ 45 لاکھ افراد نے پڑوسی ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔ دوسری طرف، بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کی اپریل 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد میں سے 30 لاکھ اور پڑوسی ممالک سے تقریباً 6 لاکھ پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔اس کے اثرات معاشی زندگی پر بھی پڑے، جہاں بیروزگاری کی شرح جنگ سے پہلے کے 32 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی ہے، اور بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO) کی رپورٹوں کے مطابق، اس دوران 50 لاکھ افراد اپنی ذاتی آمدنی کے ذریعے سے محروم ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی اپریل 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، 30 سے 60 لاکھ کے درمیان لوگ انتہائی سخت ترین قرار دیے جانے والے مصائب اور نامساعد حالات کا شکار ہیں، اور غلے کی پیداوار میں 22 فیصد تک گراوٹ آئی ہے۔
اسی تاریخ کو اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 42 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے، جن میں سے 8 لاکھ 25 ہزار بچے علاج معالجے کے بغیر انتہائی جان لیوا حالت میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اپریل 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد لوگ صحت کی خدمات کے محتاج ہیں، اور ابھی تک 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال ہیں جنہیں 217 سے زائد مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 2,052 طبی ماہرین اور ملازمین جاں بحق جبکہ 810 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں کی عمارتوں کو لوٹا اور تباہ کیا گیا جن میں 60 فیصد فارمیسیاں اور ادویات کے گودام بھی شامل ہیں، اور 3,493 صنعتی تنصیبات کو بھی تباہی اور لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کہ ملک کے مجموعی صنعتی شعبے کا 90 فیصد بنتا ہے۔
جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے، تو جنگ نے 1 کروڑ 70 لاکھ طلبہ کو تعلیمی عمل سے باہر کر دیا ہے، جن میں سے 80 لاکھ بچے ایسے ہیں جو دنیا کے بدترین تعلیمی بحرانوں میں سے ایک کے باعث اپنے حقِ تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، جیسا کہ یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ کیونکہ تمام اسکول اور یونیورسٹیاں یا تو تباہ و برباد اور لوٹ لی گئی ہیں، یا پھر انہیں پناہ گزینوں کے کیمپوں اور عسکری چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ 'الجزیرہ نیٹ' کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریاستِ خرطوم میں تقریباً 120 یونیورسٹیاں اور یونیورسٹی کالجز لوٹ مار اور تباہی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ دیگر ریاستوں میں بھی چھ یونیورسٹیاں متاثر ہوئیں جن میں سے چار دارفور میں واقع ہیں۔
سوڈان کی سماجی امور کی وزیر نے 'فرانس پریس' (AFP) کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت نے اکتوبر 2025ء تک عصمت دری کے 1,800 واقعات درج کیے ہیں، جن میں دارفور اور کردفان کے علاقے شامل نہیں ہیں! جبکہ سرکاری رپورٹوں میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ اس درندگی کا نشانہ بننے والوں میں ایک سال تک کے معصوم بچے بھی شامل ہیں!! اس کے علاوہ خواتین اور بچوں کو جنگی قیدی (لونڈیاں اور غلام) بنانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جنہیں پڑوسی ممالک میں فروخت کیا گیا۔اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے ہماہنگیِ انسانی امور (OCHA) کے مطابق اپریل 2026ء میں سوڈان میں 3 کروڑ 37 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، یعنی (ہر تین میں سے دو افراد)، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بناتا ہے۔
جہاں تک سکیورٹی اور سیاسی سطح کا تعلق ہے، تو امریکہ—جس نے اپنے دو مہروں البرہان اور حمیدتی کے درمیان یہ جنگ بھڑکائی ہے—اس بات کا حریص نظر آتا ہے کہ یہ جنگ 'فورتھ جنریشن وارفیئر' (چوتھی نسل کی جنگ) کے طرز پر جاری رہے، جہاں وہ ایک علاقے میں آگ بجھاتا ہے تو دوسرے میں سلگا دیتا ہے، جیسا کہ گندی جنگوں کے گاڈ فادر میکس مینوارنگ نے کہا تھا: "ہم بحران کا انتظام چلاتے ہیں، اس کا حل پیش نہیں کرتے" تاکہ ریاست کو بتدریج کمزور اور کھوکھلا کرنے کا ان کا مقصد پورا ہو جائے؛ چنانچہ نہ تو اس جنگ کا عسکری طور پر خاتمہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی حل پیش کیے جاتے ہیں، بلکہ وہ حیلے بہانوں سے کام لیتا ہے تاکہ خطہ دارفور کو الگ کر کے اور باقی ملک کو تقسیم کر کے ملک میں اپنے مفادات حاصل کر لے۔ اس کا مظاہرہ سودانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جنوبی سوڈان کے اس اقدام کی مبارکباد دینے سے واضح ہوا جس کے تحت اس نے 'ابیی' کے علاقے کو اپنے انتخابی حلقوں میں شامل کر لیا، اور جنوبی سوڈان کو ریپڈ سپورٹ فورسز (قوات الدعم السريع) کی مدد کرنے کے الزام سے بری کر دیا، بجائے اس کے کہ وہ اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتی۔
ہم اپنے ملکوں میں امریکہ اور مغربی ممالک کے اس تماشے کو نہیں روک سکتے، اور نہ ہی مسلمانوں کے درمیان تفرقے اور انتشار کے بیجوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں، سوائے اس کے کہ ہم اسلام کے عقیدے اور اس کے احکام کی طرف رجوع کریں؛ کیونکہ عقیدہ ہی ہمیں متحد کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (بلاشبہ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں) [سورۃ الحجرات:آیت 10]۔ اور اسلام کے احکام ہم پر کافروں کی سرپرستی (موالات) اور امت کے مسائل پر ان کے تسلط کو حرام ٹھہراتے ہیں، اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امت اپنی غصب شدہ حاکمیت (سلطان) کو واپس حاصل نہ کر لے، تاکہ وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرے جو اس میں دین کو عقیدے اور شریعت کے طور پر نافذ کرے، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کی ریاست میں۔
ولایہ سودان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ
Latest from
- متفرقات الرايہ – شمارہ 612
- بحرانوں کی تند و تیز ہوائیں خطۂ کردستان کو جھنجھوڑ رہی ہیں تو پھر نجات اور خلاصی کی راہ کیا ہے؟
- وسطی ایشیا پلس آذربائیجان کونسل کے مقاصد
- مراکشی نوجوانوں کی سبتہ اور ملیلیہ کی جانب اجتماعی ہجرت کے المیے کا ایک جائزہ
- سیسی خالی کارتوسوں جیسے پیغامات کے ساتھ جولائی کے انقلاب کی یاد تازہ کر رہاہے




